جامع الترمذي حدیث نمبر: 3672
Jami at-Tirmidhi 3672
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
16: باب فِي مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رضى الله عنهما كِلَيْهِمَا
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ هُوَ ابْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَأْمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَأْمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ "، فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ: مَا كُنْتُ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا : ” ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں “ ، اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے کہا : اللہ کے رسول ! ابوبکر جب آپ کی جگہ ( نماز پڑھانے ) کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو قرأت نہیں سنا سکیں گے ۱؎ ، اس لیے آپ عمر کو حکم دیجئیے کہ وہ نماز پڑھائیں ، پھر آپ نے فرمایا : ” ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں “ ۔ عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : تو میں نے حفصہ سے کہا : تم ان سے کہو کہ ابوبکر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو رونے کے سبب قرأت نہیں سنا سکیں گے ، اس لیے آپ عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، تو حفصہ نے ( ایسا ہی ) کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم وہی تو ہو جنہوں نے یوسف علیہ السلام کو تنگ کیا ، ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، تو حفصہ نے عائشہ سے ( بطور شکایت ) کہا کہ مجھے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں پہنچی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود ، ابوموسیٰ اشعری ، ابن عباس ، سالم بن عبید اور عبداللہ بن زمعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3672]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ ابوبکر پر رقت طاری ہو جائے گی اور وہ رونے لگیں گے پھر رونے کی وجہ سے اپنی قرأت لوگوں کو نہیں سنا سکیں گے، اور بعض روایات کے مطابق اس کا سبب عائشہ نے یہ بیان کیا، اور بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی موجودگی میں آپ کی جگہ پر کھڑے ہونے پر ابوبکر اپنے غم ضبط نہیں کر پائیں گے اس طرح لوگوں کو نماز نہیں پڑھا پائیں گے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1232)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 39 (664)، و46 (679)، و67 (712)، و70 (716)، والاعتصام (7303)، صحیح مسلم/الصلاة 21 (418)، سنن النسائی/الإمامة 40 (834)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 142 (1232) (تحفة الأشراف: 17153)، و مسند احمد (6/34، 96، 97، 210، 224)، وسنن الدارمی/المقدمة 14 (83) (صحیح)