جامع الترمذي حدیث نمبر: 3863
Jami at-Tirmidhi 3863
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
60: باب فِيمَنْ سَبَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ خِدَاشٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مَنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ( یعنی بیعت رضوان میں شریک رہے ) وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے ، سوائے سرخ اونٹ والے کے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3863]
💡 وضاحت:
۱؎: کہا جاتا ہے کہ سرخ اونٹ والے سے جد بن قیس منافق مراد ہے اس کا اونٹ کھو گیا تھا اس سے کہا گیا آ کر بیعت کر لو تو اس نے کہا: میرا اونٹ مجھے مل جائے، یہ مجھے بیعت کرنے سے زیادہ محبوب ہے (مگر یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا صحیح نہیں ہے)۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الصحيحة تحت الحديث (2160) // ضعيف الجامع الصغير (4873) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3863) إسناده ضعيف ¤ أبو الزبير عنعن (تقدم:927) وتلميذه خداش: لين الحديث (تق:1705)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2702) (ضعیف) (سند میں خداش بن عیاش لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)