جامع الترمذي حدیث نمبر: 3697
Jami at-Tirmidhi 3697
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
19: باب فِي مَنَاقِبِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضى الله عنه
باب: عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا , وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ , وَصِدِّيقٌ , وَشَهِيدَانِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے اور ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی الله عنہم بھی تو وہ ان کے ساتھ ہل اٹھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹھہرا رہ اے احد ! تیرے اوپر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3697]
💡 وضاحت:
۱؎: دو شہید سے مراد: عمر و عثمان رضی الله عنہما ہیں جن دونوں کی شہادت کی گواہی بزبان رسالت مآب ہو ان کی مقبول بارگاہ الٰہی ہونے کا منکر اپنے ایمان کی خیر منائے۔ وہ ”مومن“ کہاں مسلمان بھی نہ رہا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (875)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3675)، و6 (3686)، و7 (3699)، سنن ابی داود/ السنة 9 (4651) (تحفة الأشراف: 1172)، و مسند احمد (3/112) (صحیح)