جامع الترمذي حدیث نمبر: 3698
Jami at-Tirmidhi 3698
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
19: باب فِي مَنَاقِبِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضى الله عنه
باب: عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ , وَرَفِيقِي يَعْنِي فِي الْجَنَّةِ عُثْمَانُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے ، اور میرے رفیق یعنی جنت میں عثمان ہوں گے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ، اس کی سند قوی نہیں اور یہ منقطع ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3698]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (109) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (21) عن أبي هريرة، بسند آخر، ضعيف الجامع الصغير (4738) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3698) إسناده ضعيف ¤ شيخ من بني ذهرة: لم أعرفه وشيخه الحارث بن عبدالرحمن بن أبى ذباب ”لم يدرك طلحة“ (تحفة الأشراف 212/4) وللحديث شاهد ضعيف جدًا عند ابن ماجه: 109
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4996) (ضعیف) (اس کی سند میں زہری شیخ مبہم ہے، اور سند میں انقطاع ہے، اس لیے کہ حارث بن عبدالرحمن الدوسی المدنی کی وفات (146ھ) میں ہوئی اور طلحہ بن عبیداللہ کی شہادت (36ھ) میں ہوئی، اور وہ طلحہ بن عبیداللہ سے مرسلاً روایت کرتے ہیں، نیز یحیی بن الیمان صدوق راوی ہیں، لیکن بہت غلطیاں کرتے ہیں، اور حافظہ میں تغیر بھی آ گیا تھا)