جامع الترمذي حدیث نمبر: 3855
Jami at-Tirmidhi 3855
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
56: باب فِي مَنَاقِبِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ رضى الله عنه
باب: ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " يَا أَبَا مُوسَى لَقَدْ أُعْطِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَنَسٍ.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوموسیٰ تمہیں آل داود کی خوش الحانیوں ( اچھی آوازوں ) میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں بریدہ ، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3855]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک بار اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور عائشہ رضی الله عنہا ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کے گھر کے پاس سے گزرے ابوموسیٰ نہایت خوش الحانی سے قرآن کی تلاوت کر رہے تھے، صبح کو اسی واقعہ پر آپ نے ان کی بابت یہ فرمایا، «مزمار» (بانسری) گرچہ ایک آلہ ہے جس کے ذریعہ اچھی آواز نکالی جاتی ہے، مگر یہاں صرف اچھی آواز مراد ہے، داود علیہ السلام اپنی کتاب زبور کی تلاوت اس خوش الحانی سے فرماتے کہ اڑتی ہوئی چڑیاں فضا میں رک کر آپ کی تلاوت سننے لگتی تھیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل القرآن 31 (5048)، صحیح مسلم/المسافرین 34 (793) (تحفة الأشراف: 9068) (صحیح)