جامع الترمذي حدیث نمبر: 3853
Jami at-Tirmidhi 3853
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
54: باب فِي مَنَاقِبِ مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ رضى الله عنه
باب: مصعب بن عمیر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ نَحْوَهُ.
ہم سے ہناد نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا ، اور ابن ادریس نے اعمش سے ، اعمش نے ابووائل شفیق بن سلمہ سے اور ابووائل نے خباب بن ارت رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3853M]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ کے حکم سے ہجرت کی، ورنہ ہجرت میں آپ کے ساتھ صرف ابوبکر رضی الله عنہ تھے، یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے آپ کے آگے پیچھے ہجرت کی اور بالآخر سب مدینہ پہنچے۔
۲؎: یعنی اللہ کے اپنے اوپر آپ خود سے واجب کرنے پر، ورنہ آپ پر کون کوئی چیز واجب کر سکتا ہے، یا آپ نے ایسا اس لیے کہا کہ اللہ نے اس کا خود ہی وعدہ فرمایا ہے، اور اللہ کا وعدہ سچا پکا ہوتا ہے۔
۳؎: یعنی فتوحات سے قبل ہی ان کا انتقال ہو گیا تو اموال غنیمت سے استفادہ کرنے کا ان کو موقع نہیں ملا، ورنہ صحابہ نے خاص مال غنیمت کی نیت سے ہجرت نہیں کی تھی۔
۴؎: چونکہ مصعب کا انتقال فراخی ہونے سے پہلے ہوا تھا اس لیے سرکاری بیت المال میں بھی اتنی گنجائش نہیں تھی کہ ان کے کفن دفن کا انتظام کیا جاتا۔
۲؎: یعنی اللہ کے اپنے اوپر آپ خود سے واجب کرنے پر، ورنہ آپ پر کون کوئی چیز واجب کر سکتا ہے، یا آپ نے ایسا اس لیے کہا کہ اللہ نے اس کا خود ہی وعدہ فرمایا ہے، اور اللہ کا وعدہ سچا پکا ہوتا ہے۔
۳؎: یعنی فتوحات سے قبل ہی ان کا انتقال ہو گیا تو اموال غنیمت سے استفادہ کرنے کا ان کو موقع نہیں ملا، ورنہ صحابہ نے خاص مال غنیمت کی نیت سے ہجرت نہیں کی تھی۔
۴؎: چونکہ مصعب کا انتقال فراخی ہونے سے پہلے ہوا تھا اس لیے سرکاری بیت المال میں بھی اتنی گنجائش نہیں تھی کہ ان کے کفن دفن کا انتظام کیا جاتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح أحكام الجنائز (57 - 58)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)