📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: فضائل و مناقب (كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: شام اور یمن کی فضیلت کا بیان
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 3953 Jami at-Tirmidhi 3953
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
75: باب فِي فَضْلِ الشَّأْمِ وَالْيَمَنِ
باب: شام اور یمن کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنُ ابْنَةِ أَزْهَرَ السَّمَّانِ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا "، قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا "، قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا، قَالَ: " هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ، وَبِهَا، أَوْ قَالَ: مِنْهَا، يَخْرُجُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما ، اے اللہ ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما “ ، لوگوں نے عرض کیا : اور ہمارے نجد میں ، آپ نے فرمایا : ” اے اللہ ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما ، اور ہمارے یمن میں برکت عطا فرما “ ، لوگوں نے عرض کیا : اور ہمارے نجد میں ، آپ نے فرمایا : ” یہاں زلزلے اور فتنے ہیں ، اور اسی سے شیطان کی سینگ نکلے گی “ ، ( یعنی شیطان کا لشکر اور اس کے مددگار نکلیں گے ) ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی ابن عون کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث بطریق : «سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3953]
💡 وضاحت:
۱؎: محقق شارحین حدیث نے قطعی دلائل اور تاریخی حقائق سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس حدیث میں مذکور نجد سے مراد عراق ہے، تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ دینی فتنے زیادہ تر عراق سے اٹھے، لغت میں نجد اونچی زمین (سطح مرتفع) کو کہا جاتا ہے، سعودیہ میں واقع نجد کو بھی اسی وجہ سے نجد کہا جاتا ہے، اس اعتبار سے عراق پر بھی نجد کا لفظ صادق آتا ہے، اور حسی و معنوی دینی فتنوں کے عراق سے ظہور نے یہ ثابت کر دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہی عراق اور مضافات کا علاقہ تھا، بدعتی فرقوں نے اس حدیث کا مصداق شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب نجدی کی تحریک کو قرار دیا ہے، «شتان مابین الیزیدین» سلف صالحین کے عقیدہ اور فہم شریعت کے مطابق چلائی گئی تحریک چاہے مذمومہ نجد ہی سے کیوں نہ ہو اس حدیث کا مصداق کیسے ہو سکتی ہے؟ اگر نجدی تحریک مراد ہو گی تو اصل اسلام ہی مراد ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح تخريج فضائل الشام (8)، الصحيحة (2246)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاستسقاء 27 (1037)، والفتن 16 (7094) (تحفة الأشراف: 7745) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #3953
3951 3952 3953 3954 3955

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3954 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَال: سَمِعْتُ...
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کاغذ کے پرزوں سے قرا...
#3955 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ س...
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” باز آ جائیں وہ قومیں...
#3956 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ الْمَدَنِيُّ , حَدَّثَنِي أَبِي، ...
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ نے تم سے جاہلیت...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ