جامع الترمذي حدیث نمبر: 3760
Jami at-Tirmidhi 3760
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَال: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ فِي الْعَبَّاسِ: " إِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ". وَكَانَ عُمَرُ كَلَّمَهُ فِي صَدَقَتِهِ. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے عباس رضی الله عنہ کے سلسلہ میں فرمایا : ” بلاشبہہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے “ عمر رضی الله عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے صدقہ کے سلسلہ میں کوئی بات کی تھی ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3760]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ کو زکاۃ کا مال جمع کرنے کے لیے بھیجا تو کچھ لوگوں نے دینے سے انکار کر دیا، ان میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی الله عنہ بھی تھے، انہی کے سلسلہ میں آپ نے عمر سے فرمایا: «و أما العباس فھی علي ومثلھا معھا» یعنی جہاں تک میرے چچا عباس کا مسئلہ ہے تو ان کا حق میرے اوپر ہے اور اسی کے مثل مزید اور، ساتھ ہی آپ نے وہ بات بھی کہی جو حدیث میں مذکور ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح بما قبله (3759)، الإرواء (3 / 348 - 349)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10112) (صحیح) (شواہد کی بنا پر حدیث صحیح ہے، دیکھئے: حدیث نمبر (3761) والصحیحة 806)