جامع الترمذي حدیث نمبر: 3635
Jami at-Tirmidhi 3635
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
8: باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، لَمْ يَكُنْ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو جس کے بال کان کی لو کے نیچے ہوں سرخ جوڑے ۱؎ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا ، آپ کے بال آپ کے دونوں کندھوں سے لگے ہوتے تھے ۲؎ ، اور آپ کے دونوں کندھوں میں کافی فاصلہ ہوتا تھا ۳؎ ، نہ آپ پستہ قد تھے نہ بہت لمبے ۴؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3635]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ کے بالوں کی مختلف اوقات میں کئی حالت ہوا کرتی تھی، کبھی آدھے کانوں تک، کبھی کانوں کے لؤوں تک، کبھی آدھی گردن تک، اور کبھی کندھوں کو چھوتے ہوئے۔
۲؎: مردوں کے لال کپڑے پہننے کے سلسلے میں علماء درمیان مختلف روایات کی وجہ سے اختلاف ہے، زیادہ تر لوگ کہتے ہیں کہ آپ کا یہ جوڑا ایسا تھا کہ اس کا تانہ لال رنگ تھا، یہ بالکل خالص لال نہیں تھا، کیونکہ آپ نے خود خالص لال سے مردوں کے لیے منع کیا ہے، (دیکھئیے کتاب اللباس میں مردوں کے لیے لال کپڑے پہننے کا باب)۔
۳؎: یعنی آپ کے کندھے کافی چوڑے تھے۔
۴؎: ناٹا اور لمبا ہونا دونوں معیوب صفتیں ہیں، آپ درمیانی قد کے تھے، عیب سے مبرا، ماشاء اللہ۔
۲؎: مردوں کے لال کپڑے پہننے کے سلسلے میں علماء درمیان مختلف روایات کی وجہ سے اختلاف ہے، زیادہ تر لوگ کہتے ہیں کہ آپ کا یہ جوڑا ایسا تھا کہ اس کا تانہ لال رنگ تھا، یہ بالکل خالص لال نہیں تھا، کیونکہ آپ نے خود خالص لال سے مردوں کے لیے منع کیا ہے، (دیکھئیے کتاب اللباس میں مردوں کے لیے لال کپڑے پہننے کا باب)۔
۳؎: یعنی آپ کے کندھے کافی چوڑے تھے۔
۴؎: ناٹا اور لمبا ہونا دونوں معیوب صفتیں ہیں، آپ درمیانی قد کے تھے، عیب سے مبرا، ماشاء اللہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ومضى (1794)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1724 (صحیح)