جامع الترمذي حدیث نمبر: 3736
Jami at-Tirmidhi 3736
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
21: باب
باب
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ ابْنِ أَخِي يَحْيَى بْنِ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يَبْغَضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ ". قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ: أَنَا مِنَ الْقَرْنِ الَّذِينَ دَعَا لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” تم سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور منافق ہی بغض رکھتا ہے “ ۱؎ ۔ عدی بن ثابت کہتے ہیں : میں اس طبقے کے لوگوں میں سے ہوں ، جن کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3736]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے شرعی محبت اور عداوت مراد ہے، مثلاً ایک آدمی علی سے تو محبت رکھتا ہے مگر ابوبکر و عمر رضی الله عنہما سے بغض رکھتا ہے تو اس کی محبت ایمان کی علامت نہیں ہو گی، اور جہاں تک بغض کا معاملہ ہے، تو صرف علی رضی الله عنہ سے بھی بغض ایمان کی نفی کے لیے کافی ہے، خواہ وہ ابوبکر و عمر و عثمان رضی الله عنہم سے محبت ہی کیوں نہ رکھتا ہو۔
۲؎: یعنی: ارشاد نبوی ”اے اللہ تو اس سے محبت رکھ جو علی سے محبت رکھتا ہے“، کہ مصداق میں اس دعائے نبوی کے افراد میں شامل ہوں کیونکہ میں علی رضی الله عنہ سے محبت رکھتا ہوں۔
۲؎: یعنی: ارشاد نبوی ”اے اللہ تو اس سے محبت رکھ جو علی سے محبت رکھتا ہے“، کہ مصداق میں اس دعائے نبوی کے افراد میں شامل ہوں کیونکہ میں علی رضی الله عنہ سے محبت رکھتا ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (114)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 33 (78)، سنن النسائی/الإیمان 19 (5021)، و20 (5025)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (114) (تحفة الأشراف: 10092) و مسند احمد (1/84، 95) (صحیح)