جامع الترمذي حدیث نمبر: 3773
Jami at-Tirmidhi 3773
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
31: باب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ
باب: حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: " إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ يُصْلِحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ.
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر چڑھ کر فرمایا : ” میرا یہ بیٹا سردار ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اور «ابني هذا» سے مراد حسن بن علی ہیں رضی الله عنہما ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3773]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی میرا یہ نواسہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کا سبب بنے گا، چنانچہ خلافت کے مسئلہ کو لے کر جب مسلمانوں کے دو گروہ ہو گئے، ایک گروہ معاویہ رضی الله عنہ کے ساتھ اور دوسرا حسن رضی الله عنہ کے ساتھ تھا، تو حسن رضی الله عنہ نے خلافت سے دستبرداری کا اعلان کر کے مسلمانوں کو قتل و خونریزی سے بچا کر اس امت پر بڑا احسان کیا اور یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے «جزاہ اللہ عن المسلمین خیر الجزاء» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الروض النضير (923)، الإرواء (1597)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلح 9 (2704)، والمناقب 25 (3629)، وفضائل الصحابة 22 (3746)، والفتن 20 (7109)، سنن ابی داود/ السنة 13 (4662)، سنن النسائی/الجمعة 27 (1411) (تحفة الأشراف: 11658)، و مسند احمد (5/37، 44، 49، 51) (صحیح)