جامع الترمذي حدیث نمبر: 3774
Jami at-Tirmidhi 3774
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
31: باب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ
باب: حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَال: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ , فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا , وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: " صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15 فَنَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ , فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین رضی الله عنہما دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے ، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا ، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا ، پھر فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ۱؎ ” تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں ، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا ، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3774]
💡 وضاحت:
۱؎: التغابن: ۱۵۔
۲؎: جہاں یہ بچوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال شفقت کی دلیل ہے، وہیں حسن اور حسین رضی الله عنہما کے آپ کے نزدیک مقام و مرتبہ کی بھی بات ہے۔
۲؎: جہاں یہ بچوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال شفقت کی دلیل ہے، وہیں حسن اور حسین رضی الله عنہما کے آپ کے نزدیک مقام و مرتبہ کی بھی بات ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3600)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الصلاة 233 (1109)، سنن النسائی/الجمعة 30 (1414)، والعیدین 27 (1586)، سنن ابن ماجہ/اللباس 20 (3600) (تحفة الأشراف: 1958)، و مسند احمد (5/354) (صحیح)