جامع الترمذي حدیث نمبر: 3645
Jami at-Tirmidhi 3645
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
12: باب فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ هُوَ ابْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: " كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا، وَكُنْتُ إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ وَلَيْسَ بِأَكْحَلَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ هَذَا الْوَجْهِ.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں پنڈلیاں مناسب باریکی ۱؎ لیے ہوئے تھیں اور آپ کا ہنسنا صرف مسکرانا تھا ، اور جب میں آپ کو دیکھتا تو کہتا کہ آپ آنکھوں میں سرمہ لگائے ہوئے ہیں ، حالانکہ آپ سرمہ نہیں لگائے ہوتے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3645]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ کی پنڈلیاں اتنی بھی باریک نہیں تھیں کہ جسم کے دوسرے اعضاء سے بے جوڑ ہو گئی ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف المصدر نفسه // مختصر الشمائل (193)، ضعيف الجامع الصغير (4474) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3645) إسناده ضعيف ¤ حجاج بن أرطاة: ضعيف مدلس و عنعن (تقدم: 527) وللحديث شواهد غير ”حموشه“
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2144) (ضعیف) (سند میں حجاج بن ارطاة کثیر الخطا والتدلیس راوی ہیں)