جامع الترمذي حدیث نمبر: 3647
Jami at-Tirmidhi 3647
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
12: باب فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبِ ". قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِسِمَاكٍ: مَا ضَلِيعُ الْفَمِ؟ قَالَ: وَاسِعُ الْفَمِ، قُلْتُ: مَا أَشْكَلُ الْعَيْنَيْنِ؟ قَالَ: طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبِ؟ قَالَ: قَلِيلُ اللَّحْمِ؟. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کشادہ منہ والے تھے ، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں ۔ شعبہ کہتے ہیں : میں نے سماک سے پوچھا : «ضليع الفم» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : اس کے معنی کشادہ منہ کے ہیں ، میں نے پوچھا «أشكل العينين» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : اس کے معنی بڑی آنکھ والے کے ہیں ، وہ کہتے ہیں : میں نے پوچھا : «منهوش العقب» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : کم گوشت کے ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3647]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (7)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)