جامع الترمذي حدیث نمبر: 3800
Jami at-Tirmidhi 3800
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
35: باب مَنَاقِبِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رضى الله عنه
باب: عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْشِرْ عَمَّارُ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي الْيَسَرِ، وَحُذَيْفَةَ، قَالَ: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمار ! تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث علاء بن عبدالرحمٰن کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ام سلمہ ، عبدالرحمٰن بن عمرو ، ابویسر اور حذیفہ رضی الله عنہم احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3800]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں اس بات کی گواہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ہے کہ قتل ہونے کے وقت عمار حق والی جماعت کے ساتھ ہوں گے اور ان کے قاتل اس بابت حق پر نہیں ہوں گے، اور اس حق و ناحق سے مراد اعتقادی (توحید و شرک کا) حق و ناحق نہیں مراد ہے بلکہ اس وقت سیاسی طور پر حق و ناحق پر ہونے کی گواہی ہے، عمار اس وقت علی رضی الله عنہ کے ساتھ جو اس وقت خلیقہ برحق تھے، اور فریق مخالف معاویہ رضی الله عنہ تھے جو علی رضی الله عنہ سے خلافت کے سیاسی مسئلہ پر جنگ کر رہے تھے، اس میں عمار رضی الله عنہ کی شہادت ہوئی تھی، یہ جنگ صفین کا واقعہ ہے اس واقعہ میں معاویہ رضی الله عنہ جو علی رضی الله عنہ سے برسرپیکار ہو گئے تھے، یہ ان کی اجتہادی غلطی تھی جو معاف ہے، (رضی الله عنہم اجمعین)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (710)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، وھو جماعة من الصحابة غیرہ (تحفة الأشراف: 14081) (صحیح)