جامع الترمذي حدیث نمبر: 3806
Jami at-Tirmidhi 3806
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
38: باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضى الله عنه
باب: عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مُوسَى يَقُولُ: " لَقَدْ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنَ الْيَمَنِ , وَمَا نُرَى حِينًا إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا نَرَى مِنْ دُخُولِهِ , وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق.
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی دونوں یمن سے آئے تو ہم ایک عرصہ تک یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ اہل بیت ہی کے ایک فرد ہیں ، کیونکہ ہم انہیں اور ان کی والدہ کو کثرت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ان کے گھر میں ) آتے جاتے دیکھتے تھے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- سفیان ثوری نے بھی اسے ابواسحاق سے روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3806]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ازحد قربت اور برابر ساتھ رہنے کی دلیل ہے جو ان کے فضل و شرف کی بات ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ابن مسعود کی ہر روایت اور فتوی ضرور ہی تمام صحابہ کی روایتوں اور فتاوی پر مقدم ہو گا، کیونکہ امہات المؤمنین تک کی بعض روایات یا تو منسوخ ہیں یا انہیں گھر سے باہر کے بعض احوال کا علم نہیں ہو سکا تھا، اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 27 (3763)، والمغازي 74 (4384)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 22 (2460) (تحفة الأشراف: 8979) (صحیح)