جامع الترمذي حدیث نمبر: 3686
Jami at-Tirmidhi 3686
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
18: باب فِي مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضى الله عنه
باب: عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ.
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف مشرح بن ہاعان کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3686]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمر رضی الله عنہ نہایت فہم و فراست اور الٰہی الہام سے بہرہ ور ہیں وہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، ورنہ کسی اور سے پہلے عمر ہی ہوتے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، الصحيحة (327)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9966)، و مسند احمد (4/154) (حسن)