جامع الترمذي حدیث نمبر: 3917
Jami at-Tirmidhi 3917
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
68: باب فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ
باب: مدینہ کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ بِهَا، فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا "، وَفِي الْبَابِ عَنْ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مدینہ میں مر سکتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہیں مرے کیونکہ جو وہاں مرے گا میں اس کے حق میں سفارش کروں گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی ایوب سختیانی کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں سبیعہ بنت حارث اسلمیہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3917]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مدینہ میں رہنے کے لیے اسباب اختیار کرے، اگر کامیابی ہو گئی تو «فبہا» ورنہ یہ کوئی فرض کام نہیں ہے، نیز مدینہ میں اسی مرنے والے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت فرمائیں گے، جس کی وفات صحیح ایمان و عقیدہ پر ہوئی ہو، نہ کہ مشرک اور بدعتی کی شفاعت بھی کریں گے، آپ نے فرمایا ہے: ”آخرت کے لیے اٹھا کر رکھی گئی میری دعا اس کو فائدہ پہنچائے گی جس نے اللہ کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہیں کیا ہو گا (اس حدیث میں مدینہ کی ایک اہم فضیلت کا بیان ہے)“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3112)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الحج 10 (3112) (تحفة الأشراف: 7553) (صحیح)