جامع الترمذي حدیث نمبر: 3612
Jami at-Tirmidhi 3612
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
1: باب فِي فَضْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْثَّوْرِيُّ، عَنْ لَيْثٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي كَعْبٌ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَسِيلَةُ؟ قَالَ: " أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ ". قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَكَعْبٌ لَيْسَ هُوَ بِمَعْرُوفٍ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرَ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وسیلہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ جنت کا سب سے اونچا درجہ ہے جسے صرف ایک ہی شخص پا سکتا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ، ¤ ۲- کعب غیر معروف شخص ہیں ، ہم لیث بن سلیم کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے ہیں جس نے ان سے روایت کی ہو ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3612]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں مذکورہ ”وسیلہ“ سے وہی وسیلہ مراد ہے، جس کی دعا ایک امتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر اذان کے بعد کرتا ہے، «اللہم آت محمد الوسیلۃ» ”اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ عطا فرما“ اس حدیث میں آپ نے جو امت کو اپنے لیے وسیلہ طلب کرنے کے لیے فرمایا خود ہی اس طلب کو اذان کی بعد والی دعا میں کر دیا، اذان سے باہر بھی آدمی نہ دعا کر سکتا ہے، یہ دعا کرنے سے خود آدمی کو دعا کا ثواب ملا کرے گا، آپ کو تو وسیلہ عطا کیا جانے والا ہی ہے، اسی لیے آپ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ اس سے سرفراز ہونے والا میں ہی ہوں گا تو یقیناً آپ ہی ہوں گے، اس حدیث سے آپ کی فضیلت واضح طور پر ظاہر ہو رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (5767)، وهو الآتى (3876)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14295) (صحیح) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف، اور کعب مدنی مجہول راوی ہیں، لیکن حدیث نمبر 3614 سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)