📖 سنن أبي داود (Sunan Abi Dawud) • تمام کتب ↗

كِتَاب الْمَنَاسِكِ

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

کتاب #18 • کل احادیث: 326
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: باب فَرْضِ الْحَجِّ
باب: حج کی فرضیت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحَجُّ فِي كُلِّ سَنَةٍ أَوْ مَرَّةً وَاحِدَةً؟ قَالَ: " بَلْ مَرَّةً وَاحِدَةً فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هُوَ أَبُو سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، كَذَا قَالَ عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْدٍ، وَ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ جَمِيعًا: عَنْ الزُّهْرِيِّ، وقَالَ عُقَيْلٌ: عَنْ سِنَانٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال (فرض) ہے یا ایک بار؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ہر سال نہیں) بلکہ ایک بار ہے اور جو ایک سے زائد بار کرے تو وہ نفل ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوسنان سے مراد ابوسنان دؤلی ہیں، اسی طرح عبدالجلیل بن حمید اور سلیمان بن کثیر نے زہری سے نقل کیا ہے، اور عقیل سے ابوسنان کے بجائے صرف سنان منقول ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1721]
💡 وضاحت:
۱؎: حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے، جس کی فرضیت ۵ یا ۶ ہجری میں ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ وله شاھد عند مسلم (1337)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/المناسک 1 (2621)، سنن ابن ماجہ/المناسک 2 (2886)، (تحفة الأشراف: 6556)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/255، 290، 301، 303، 323، 325، 352، 370، 371)، سنن الدارمی/الحج 4 (1829) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ روایت صحیح ہے ورنہ اس کی سند میں واقع سفیان بن حسین کی زھری سے روایت میں ضعف ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ ابْنٍ لِأَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَزْوَاجِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورَ الْحُصْرِ".
ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں اپنی ازواج مطہرات سے فرماتے سنا: یہی حج ہے پھر چٹائیوں کے پشت ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1722]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کے بعد تمہیں گھروں میں ہی رہنا ہے تم پر کوئی اور حج واجب نہیں، مؤلف نے اس حدیث سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ حج زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ أخرجه أحمد (5/ 218 ح 21905) وابو يعلي الموصلي (1444 وفيه روايته: عن زيد بن أسلم عن ابن لأبي واقد الليثي صاحب رسول الله ﷺ عن أبيه) وصححه الحافظ في فتح الباري (4/ 74 وقال: وإسناد حديث أبي واقد صحيح)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15517)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/218، 219، 6/324) (صحیح) (ابوواقد رضی اللہ عنہ کے لڑکے کا نام واقد ہے)
2: باب فِي الْمَرْأَةِ تَحُجُّ بِغَيْرِ مَحْرَمٍ
باب: عورت کا محرم کے بغیر حج کرنا جائز نہیں ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَةٍ مِنْهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک رات کی مسافت کا سفر کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1723]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں ایک رات کی قید اتفاقی ہے، مقصد یہ نہیں کہ اس سے کم کا سفر غیر محرم کے ساتھ جائز ہے، محرم شوہر ہے یا وہ شخص جس سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام ہو، مثلاً باپ، دادا، نانا، بیٹا، بھائی، چچا، ماموں، بھتیجا، بھانجا، داماد وغیرہ وغیرہ، یا رضاعت سے ثابت ہونے والے رشتہ دار۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1339)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 74 (1339)، (تحفة الأشراف: 13035، 14316)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیرالصلاة 4 (1088)، سنن الترمذی/الرضاع 15 (1669)، سنن ابن ماجہ/المناسک 7 (2899)، موطا امام مالک/الاستئذان 14(37)، مسند احمد (2/236، 340، 347، 423، 437، 445، 493) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَالنُّفَيْلِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِيهِ، ثُمَّ اتَّفَقُوا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ يَوْمًا وَلَيْلَةً"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَذْكُرْ الْقَعْنَبِيُّ وَ النُّفَيْلِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، وَ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مَالِكٍ، كَمَا قَالَ الْقَعْنَبِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک دن اور ایک رات کا سفر کرے۔ پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی جو اوپر گزری۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1724]
قال الشيخ الألباني: صحيح فذكر معناه
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1339)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12960، 13010، 14317)، انظر حدیث رقم (1723) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " بَرِيدًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر انہوں نے اسی جیسی روایت ذکر کی البتہ اس میں (دن رات کی مسافت کے بجائے) «بريدا» کہا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1725]
💡 وضاحت:
۱؎: «برید» : چار فرسخ کا ہوتا ہے، اور ایک فرسخ تین میل کا، اس طرح «برید» بارہ میل کا ہوا۔
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ صححه ابن خزيمة (2527 وسنده صحيح، 2526) وانظر الحديث السابق (1724)
تخریج دارالدعوہ: انظرحدیث رقم: (1723)، (تحفة الأشراف: 12960) (شاذ) (جریر نے یوم یا لیلة کی جگہ برید کی روایت کی ہے جو جماعت کی روایت کے مخالف ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادٌ، أَنَّ أَبَا مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعًا حَدَّثَاهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا إِلَّا وَمَعَهَا أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ زَوْجُهَا أَوِ ابْنُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا".
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ تین یا اس سے زیادہ دنوں کی مسافت کا سفر کرے سوائے اس صورت کے کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہو یا اس کا بھائی یا اس کا شوہر یا اس کا بیٹا یا اس کا کوئی محرم ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1726]
💡 وضاحت:
۱؎: جیسے: نانا، دادا، چچا، ماموں، بھتیجا، اور بھانجا وغیرہ جو سب کے سب سگے ہوں، یا رضاعی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1340)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 74 (1340)، سنن الترمذی/الرضاع 15 (1169)، سنن ابن ماجہ/المناسک 7 (2898)، (تحفة الأشراف: 4004)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضل الصلاة في مسجد مکة والمدینة 6 (1197)، وجزاء الصید 26 (1864)، والصوم 67 (1995)، مسند احمد (3/54)، سنن الدارمی/الاستئذان 46 (2720) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: عورت تین دن کا سفر نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1727]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1087) صحيح مسلم (1338)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 4 (1086)، صحیح مسلم/الحج 74 (1338)، (تحفة الأشراف: 8147) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُرْدِفُ مَوْلَاةً لَهُ، يُقَالُ لَهَا: صَفِيَّةُ، تُسَافِرُ مَعَهُ إِلَى مَكَّةَ".
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی لونڈی کو جسے صفیہ کہا جاتا تھا اپنے ساتھ سواری پر بیٹھا کر مکہ لے جاتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1728]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ أخرجه البيھقي (5/226) سفيان الثوري تابعه عقبة بن خالد
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود (صحیح)
3: باب ‏"‏ لاَ صَرُورَةَ ‏"‏ فِي الإِسْلاَمِ
باب: «صرورت» (حج اور نکاح نہ کرنا) اسلام میں نہیں ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ الْأَحْمَرَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں «صرورة» نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1729]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عمر بن عطاء اختلف في تعينه و ھو ابن وراز وھو ضعيف (تق: 4949) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6162)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/312) (ضعیف) (اس کے راوی عمر بن عطاء بن دراز ضعیف ہیں)
4: باب التَّزَوُّدِ فِي الْحَجِّ
باب: سفر حج میں زاد راہ لینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ يَعْنِي أَبَا مَسْعُودٍ الرَّازِيَّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْرَمِيُّ وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانُوا يَحُجُّونَ وَلَا يَتَزَوَّدُونَ"، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: " كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ أَوْ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يَحُجُّونَ وَلَا يَتَزَوَّدُونَ، وَيَقُولُونَ: نَحْنُ الْمُتَوَكِّلُونَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى سورة البقرة آية 197، الْآيَةَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لے جاتے۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اہل یمن یا اہل یمن میں سے کچھ لوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لیتے اور کہتے: ہم متوکل (اللہ پر بھروسہ کرنے والے) ہیں تو اللہ نے آیت کریمہ «وتزودوا فإن خير الزاد التقوى» ۱؎ (زاد راہ ساتھ لے لو اس لیے کہ بہترین زاد راہ یہ ہے کہ آدمی سوال سے بچے) نازل فرمائی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1730]
💡 وضاحت:
وضاحت ۱؎: سورة البقرة: (۱۹۸)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1523)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 6 (1523)، سنن النسائی/الکبری/السیر (8790)، (تحفة الأشراف: 6166) (صحیح)
5: باب التِّجَارَةِ فِي الْحَجِّ
باب: حج میں تجارت کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198، قَالَ: " كَانُوا لَا يَتَّجِرُونَ بِمِنًى فَأُمِرُوا بِالتِّجَارَةِ إِذَا أَفَاضُوا مِنْ عَرَفَاتٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے راوی کہتے ہیں انہوں نے یہ آیت «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» ۱؎ تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو پڑھی اور بتایا کہ عرب کے لوگ منیٰ میں تجارت نہیں کرتے تھے تو انہیں عرفات سے واپسی پر منیٰ میں تجارت کا حکم دیا گیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1731]
💡 وضاحت:
۱؎: سورة البقرة: (۱۹۸)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ يزيد بن أبي زياد ضعيف ¤ وحديث البخاري (1770) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6428)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 150 (1770) والبیوع 1 (2050) وتفسیر القرآن 34 (2098) (صحیح)
6: باب
باب:۔۔۔۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِهْرَانَ أَبِي صَفْوَانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حج کا ارادہ کرے تو اسے جلدی انجام دے لے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1732]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ تاخیر کی صورت میں اسے مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور وہ ایک فرض کا تارک ہو کر اس دنیا سے رخصت ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (2523) ¤ أخرجه أحمد (1/225 وسنده حسن، أبو صفوان وثقه الحاكم وابن حبان)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6501)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 1 (2883)، مسند احمد (1/225، 323، 355)، سنن الدارمی/الحج 1 (1825) (حسن)
7: باب الْكَرِيِّ
باب: حج میں جانوروں کو کرایہ کے لیے لے جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ التَّيْمِيُّ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا أُكَرِّي فِي هَذَا الْوَجْهِ وَكَانَ نَاسٌ يَقُولُونَ لِي: إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ، فَلَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي رَجُلٌ أُكَرِّي فِي هَذَا الْوَجْهِ وَإِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ لِي إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَلَيْسَ تُحْرِمُ وَتُلَبِّي وَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَتُفِيضُ مِنْ عَرَفَاتٍ وَتَرْمِي الْجِمَارَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ لَكَ حَجًّا، جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مِثْلِ مَا سَأَلْتَنِي عَنْهُ، فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأَ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ، وَقَالَ: " لَكَ حَجٌّ".
ابوامامہ تیمی کہتے ہیں کہ میں لوگوں کو سفر حج میں کرائے پر جانور دیتا تھا، لوگ کہتے تھے کہ تمہارا حج نہیں ہوتا، تو میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ملا اور ان سے عرض کیا: ابوعبدالرحمٰن! میں حج میں لوگوں کو جانور کرائے پر دیتا ہوں اور لوگ مجھ سے کہتے ہیں تمہارا حج نہیں ہوتا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم احرام نہیں باندھتے؟ تلبیہ نہیں کہتے؟ بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے؟ عرفات جا کر نہیں لوٹتے؟ رمی جمار نہیں کرتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، تو انہوں نے کہا: تمہارا حج درست ہے، ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ سے اسی طرح کا سوال کیا جو تم نے مجھ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا اور اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ آیت کریمہ «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں کہ تم اپنے رب کا فضل ڈھونڈو نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا بھیجا اور اسے یہ آیت پڑھ کر سنائی اور فرمایا: تمہارا حج درست ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1733]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ صححه ابن خزيمة (3051 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8575)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/155) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ النَّاسَ فِي أَوَّلِ الْحَجِّ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ بِمِنًى وَ عَرَفَةَ وَ سُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَمَوَاسِمِ الْحَجِّ فَخَافُوا الْبَيْعَ وَهُمْ حُرُمٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198 فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ"، قَالَ: فَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا فِي الْمُصْحَفِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ شروع شروع میں منیٰ، عرفہ اور ذوالمجاز کے بازاروں اور حج کے موسم میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے پھر انہیں حالت احرام میں خرید و فروخت کرنے میں تامل ہوا، تو اللہ نے «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم‏» تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو نازل کیا یعنی حج کے موسم میں۔ عطا کہتے ہیں: مجھ سے عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ وہ (ابن عباس) اسے «في مواسم الحج» اپنے مصحف میں پڑھا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1734]
💡 وضاحت:
۱؎: «في مواسم الحج» کا لفظ اس روایت کے مطابق ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مصحف میں اس آیت کا ٹکڑا تھا، مگر یہ قرات شاذ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ أخرجه الحاكم (1/449 وسنده حسن) وللحديث شاھد عند البخاري (1770)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5872) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: كَلَامًا مَعْنَاهُ، أَنَّهُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ النَّاسَ فِي أَوَّلِ مَا كَانَ الْحَجُّ كَانُوا يَبِيعُونَ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَى قَوْلِهِ: " مَوَاسِمِ الْحَجِّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ حج کے ابتدائی زمانے میں خرید و فروخت کرتے تھے پھر انہوں نے اسی مفہوم کی روایت ان کے قول «مواسم الحج» تک ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1735]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (1734)
تخریج دارالدعوہ: انظرما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5872) (صحیح) (اس سند میں واقع عبید مولی ابن عباس مجہول ہیں جبکہ پہلی سند میں واقع عبید لیثی ہیں اور ثقہ ہیں)
8: باب فِي الصَّبِيِّ يَحُجُّ
باب: نابالغ بچوں کے حج کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّوْحَاءِ فَلَقِيَ رَكْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، قَالَ: " مَنِ الْقَوْمُ؟" فَقَالُوا: الْمُسْلِمُونَ، فَقَالُوا: فَمَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: " رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، فَفَزِعَتِ امْرَأَةٌ فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ مِحَفَّتِهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: " نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام روحاء میں تھے کہ آپ کو کچھ سوار ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور پوچھا: کون لوگ ہو؟، انہوں نے جواب دیا: ہم مسلمان ہیں، پھر ان لوگوں نے پوچھا: آپ کون ہو؟ لوگوں نے انہیں بتایا کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو ایک عورت گھبرا گئی پھر اس نے اپنے بچے کا بازو پکڑا اور اسے اپنے محفے ۱؎ سے نکالا اور بولی: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہو جائے گا ۲؎؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور اجر تمہارے لیے ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1736]
💡 وضاحت:
۱؎: ہودج کی طرح عورتوں کی سواری پر ایک سیٹ ہوتی ہے جسے محفّہ کہتے ہیں۔
۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ کا حج صحیح ہے چونکہ اس کا ولی اس کی جانب سے کم سنی کی وجہ سے اعمال حج ادا کرتا ہے، اس لئے وہ ثواب کا مستحق ہو گا، واضح رہے اس سے حج کی فرضیت ساقط نہیں ہو گی، بلکہ بلوغت کے بعد استطاعت کی صورت میں اس پر حج فرض ہے، اور بچپن کا حج اس کے لئے نفل ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1336)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 72 (1336)، سنن النسائی/المناسک 15 (2648)، (تحفة الأشراف: 6336)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 81 (244)، مسند احمد (1/244، 288، 343، 344) (صحیح)
9: باب فِي الْمَوَاقِيتِ
باب: میقات کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ وَبَلَغَنِي أَنَّهُ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لیے جحفہ اور اہل نجد کے لیے قرن کو میقات ۱؎ مقرر کیا، اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لیے یلملم ۲؎ کو میقات مقرر کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1737]
💡 وضاحت:
۱؎: میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر احرام باندھ کر حج یا عمرہ کی نیت کرتا ہے۔
۲؎: یلملم ایک پہاڑ ہے جو مکہ سے دو دن کے فاصلہ پر واقع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1525) صحيح مسلم (1182)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 8 (1525)، صحیح مسلم/الحج 2 (1182)، سنن الترمذی/الحج 17 (831)، سنن النسائی/المناسک 17 (2652)، سنن ابن ماجہ/المناسک 13 (2914)، (تحفة الأشراف: 8326)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 8 (22)، مسند احمد (2/48، 55، 65)، سنن الدارمی/المناسک 5 (1831) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَا: " وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بِمَعْنَاهُ، وَقَالَ أَحَدُهُمَا: " وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ"، وَقَالَ أَحَدُهُمَا: " أَلَمْلَمَ"، قَالَ: فَهُنَّ لَهُمْ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ. قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: مِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ، قَالَ: وَكَذَلِكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات مقرر کیا پھر ان دونوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، ان دونوں (راویوں میں سے) میں سے ایک نے کہا: اہل یمن کے لیے یلملم، اور دوسرے نے کہا: «ألملم» ، اس روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان لوگوں کی میقاتیں ہیں اور ان کے علاوہ لوگوں کی بھی جو ان جگہوں سے گزر کر آئیں اور حج و عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں، اور جو لوگ ان کے اندر رہتے ہوں۔ ابن طاؤس (اپنی روایت میں) کہتے ہیں: ان کی میقات وہ ہے جہاں سے وہ سفر شروع کریں یہاں تک کہ اہل مکہ مکہ ہی ۱؎ سے احرام باندھیں گے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1738]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ حاجی یا معتمر اگر مکہ یا مذکورہ مواقیت کے اندر رہتا ہو تو اس کا حکم عام لوگوں سے مختلف ہے اس کے لئے میقات پر جانا ضروری نہیں بلکہ اپنے گھر سے نکلتے وقت ہی احرام باندھ لینا اس کے لئے کافی ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1526) صحيح مسلم (1181)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 18 (1845)، صحیح مسلم/الحج 2 (1183)، سنن النسائی/الحج 20 (2655)، 23 (2658)، (تحفة الأشراف: 5738، 18827)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/238، 249) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامَ الْمَدَائِنِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعَافِيُّ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ أَفْلَحَ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَقَّتَ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق ۱؎ کو میقات مقرر کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1739]
💡 وضاحت:
۱؎: سنن ترمذی کی ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اہل عراق کے لئے ذات عرق کو میقات عمر رضی اللہ عنہ نے متعین کیا تھا، لیکن یہ روایت ضعیف ہے، علماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث نہیں معلوم تھی، آپ نے اپنے اجتہاد سے یہ میقات مقرر کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی میقات کے عین مطابق ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2531) ¤ أخرجه النسائي (2654 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الحج 19 (2654)، 22 (2657)، (تحفة الأشراف: 17438) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ الْعَقِيقَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مشرق کے لیے عقیق کو میقات مقرر کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1740]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (832) ¤ يزيد بن أبي زياد ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 17 (832)، (تحفة الأشراف: 6443) (ضعیف) (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں، نیز محمد بن علی کا اپنے دادا ابن عباس سے سماع نہیں ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُحَنَّسَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْأَخْنَسِيِّ، عَنْ جَدَّتِهِ حُكَيْمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ مِنْ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، أَوْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ"، شَكَّ عَبْدُ اللَّهِ أَيَّتُهُمَا قَالَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: يَرْحَمُ اللَّهُ وَكِيعًا أَحْرَمَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، يَعْنِي إِلَى مَكَّةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو مسجد الاقصیٰ سے مسجد الحرام تک حج اور عمرہ کا احرام باندھے تو اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، یا اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی، راوی عبداللہ کو شک ہے کہ انہوں نے دونوں میں سے کیا کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اللہ وکیع پر رحم فرمائے کہ انہوں نے بیت المقدس سے مکہ تک کے لیے احرام باندھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1741]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3001،3002) ¤ حكيمة وثقها ابن حبان وحده،والحديث ضعفه البخاري وغيره وھو الراجح ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 49 (3001، 3002)، (تحفة الأشراف: 18253)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/299) (ضعیف) (اس کی راویہ حکیمہ لین الحدیث ہیں، نی زیہ حدیث تمام صحیح روایات کے مخالف ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنِي زُرَارَةُ بْنُ كُرَيْمٍ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو السَّهْمِيّ حَدَّثَهُ، قَالَ: " أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِمِنًى أَوْ بِعَرَفَاتٍ وَقَدْ أَطَافَ بِهِ النَّاسُ، قَالَ: فَتَجِيءُ الْأَعْرَابُ فَإِذَا رَأَوْا وَجْهَهُ، قَالُوا: هَذَا وَجْهٌ مُبَارَكٌ، قَالَ: وَ وَقَّتَ ذَاتَ عِرْقٍ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ".
حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ منیٰ میں تھے یا عرفات میں، اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر رکھا تھا، تو اعراب (دیہاتی) آتے اور جب آپ کا چہرہ دیکھتے تو کہتے یہ برکت والا چہرہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق کو میقات مقرر کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1742]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ عتبة بن عبد الملك السھمي صحح له الحاكم والذهبي (4/232 ح 7567) وللحديث شاھد انظر الحديث السابق (1739)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3279)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/485) (حسن)
10: باب الْحَائِضِ تُهِلُّ بِالْحَجِّ
باب: حائضہ عورت حج کا تلبیہ پکارے اور احرام باندھ لے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بِالشَّجَرَةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ تَغْتَسِلَ فَتُهِلَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا (ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی) کو مقام شجرہ میں محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی (ولادت کی) وجہ سے نفاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ (اسماء سے کہو کہ) وہ غسل کر لے پھر تلبیہ پکارے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1743]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1209)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 16 (1209)، سنن ابن ماجہ/المناسک 12 (2911)، (تحفة الأشراف: 17502)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الحیض 24 (215)، والحج 57 (2762)، موطا امام مالک/الحج 41(127، 128)، سنن الدارمی/المناسک 11 (1845)، 34 (1892) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْحَائِضُ وَالنُّفَسَاءُ إِذَا أَتَتَا عَلَى الْوَقْتِ تَغْتَسِلَانِ وَتُحْرِمَانِ وَتَقْضِيَانِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ". قَالَ أَبُو مَعْمَرٍ فِي حَدِيثِهِ: " حَتَّى تَطْهُرَ"، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ عِيسَى عِكْرِمَةَ وَمُجَاهِدًا، قَالَ: عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَمْ يَقُلْ: ابْنُ عِيسَى كُلَّهَا، قَالَ: " الْمَنَاسِكَ إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حائضہ اور نفاس والی عورتیں جب میقات پر آ جائیں تو غسل کریں، احرام باندھیں اور حج کے تمام مناسک ادا کریں سوائے بیت اللہ کے طواف کے ۱؎۔ ابومعمر نے اپنی حدیث میں «حتى تطهر» یہاں تک کہ پاک ہو جائیں کا اضافہ کیا۔ ابن عیسیٰ نے عکرمہ اور مجاہد کا ذکر نہیں کیا، بلکہ یوں کہا: «عن عطاء عن ابن عباس» اور ابن عیسیٰ نے «كلها» کا لفظ بھی نقل نہیں کیا بلکہ صرف «المناسك إلا الطواف بالبيت» مناسک پورے کریں بجز خانہ کعبہ کے طواف کے کہا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1744]
💡 وضاحت:
۱؎: حیض اور نفاس والی عورت حیض یا نفاس سے پاک ہونے کے بعد طواف قدوم اور طواف عمرہ کرے گی، طواف میں جو تاخیر ہوگی اس سے اس کے حج میں کوئی نقض واقع نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (945) ¤ خصيف ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 100 (945)، (تحفة الأشراف: 5893)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/363) (صحیح)
11: باب الطِّيبِ عِنْدَ الإِحْرَامِ
باب: احرام کے وقت خوشبو لگانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِإِحْلَالِهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ احرام باندھتے تو احرام باندھنے سے پہلے اور احرام کھولنے کے بعد اس سے پہلے کہ آپ طواف کریں خوشبو لگایا کرتی تھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1745]
💡 وضاحت:
۱؎: حالت احرام میں کسی قسم کی خوشبو کا استعمال درست نہیں، لیکن اگر یہی خوشبو احرام باندھتے وقت لگائی جائے تو مستحب ہے، چاہے یہ خوشبو بدن یا کپڑے میں احرام کے بعد بھی باقی رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1539) صحيح مسلم (1189)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الغسل 12(267)، 14 (270)، والحج 18 (1539)، 143 (1754)، واللباس 73 (5922)، 74 (5923)، 79 (5928)، 81 (5930)، صحیح مسلم/الحج 7 (1189)، سنن النسائی/الحج 41 (2686)، سنن ابن ماجہ/المناسک 18 (2926)، موطا امام مالک/الحج 7 (17)، مسند احمد 6/98، 106، 130، 162، 181، 186، 192، سنن الدارمی/المناسک 10 (1844)، (تحفة الأشراف: 17518، 17518)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 77 (917) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ احرام باندھے ہوئے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1746]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1190)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 7 (1190)، سنن النسائی/الحج 41 (2694)، (تحفة الأشراف: 15925)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/38، 186، 212، 191، 224، 228، 245) (صحیح)
12: باب التَّلْبِيدِ
باب: سر کے بال کی تلبید (یعنی گوند وغیرہ سے جما لینے) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبیہ پڑھتے سنا اور آپ اپنے سر کی تلبید ۱؎ کئے ہوئے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1747]
💡 وضاحت:
۱؎: تلبيد: بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لینے کو تلبید کہتے ہیں، تاکہ وہ گرد وغبار نیز بکھرنے سے محفوظ رہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1540) صحيح مسلم (1184)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 19 (1540)، واللباس 69 (5914)، صحیح مسلم/الحج 3 (1184)، سنن النسائی/المناسک 40 (2684)، سنن ابن ماجہ/المناسک 72 (3047)، (تحفة الأشراف: 6976)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/121، 131) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَبَّدَ رَأْسَهُ بِالْعَسَلِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کے بال شہد سے جمائے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1748]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن إسحاق عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8414) (ضعیف) (ابن اسحاق مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
13: باب فِي الْهَدْىِ
باب: ہدی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ الْمَعْنَى، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ، حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَهْدَى عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي هَدَايَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَلًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ فِي رَأْسِهِ بُرَةُ فِضَّةٍ"، قَالَ ابْنُ مِنْهَالٍ: " بُرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ"، زَادَ النُّفَيْلِيُّ: " يَغِيظُ بِذَلِكَ الْمُشْرِكِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سال ہدی ۱؎ کے لیے جو اونٹ بھیجا ان میں ایک اونٹ ابوجہل کا ۲؎ تھا، اس کے سر میں چاندی کا چھلا پڑا تھا، ابن منہال کی روایت میں ہے کہ سونے کا چھلا تھا، نفیلی کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کو غصہ دلا رہے تھے ۳؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1749]
💡 وضاحت:
۱؎: ہدی: حج میں ذبح کے لئے لے جانے والے جانور کو کہتے ہیں۔
۲؎: یہ اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ میں بطور غنیمت ملا تھا۔
۳؎: تاکہ یہ تأثر دیا جائے کہ مشرکین کے سردار کا اونٹ مسلمانوں کے قبضے میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن بلفظ فضة
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (2640) ¤ وللحديث شواھد عند مالك (1/337) وابن ماجه (3100، 3101) وغيرھما
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6406)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 98 (3100) مسند احمد (1/261، 273) (حسن) بلفظ: ’’فضة‘‘
14: باب فِي هَدْىِ الْبَقَرِ
باب: گائے بیل کی ہدی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَحَرَ عَنْ آلِ مُحَمَّدٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَقَرَةً وَاحِدَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آل ۱؎ کی طرف سے ایک گائے کی قربانی کی ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1750]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں آل سے مراد ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ہیں۔
۲؎: ایک گائے یا اونٹ میں سات آدمی کی شرکت ہو سکتی ہے، اس حج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات ہی ازواج مطہرات ہوں گی، یا بخاری ومسلم کے لفظ «ضحى» (قربانی کی) سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور ہدی نہیں بلکہ بطور قربانی ذبح کیا، تو پورے گھر والوں کی طرف سے گائے ذبح کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ وللحديث شاھد عند النسائي في الكبريٰ (4129 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الأضاحي 5 (3135)، (تحفة الأشراف: 17924)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 115 (1709)، والأضاحي 3 (5548)، صحیح مسلم/الحج 62 (1319)، موطا امام مالک/الحج 58(179)، مسند احمد (6/248) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ذَبَحَ عَمَّنْ اعْتَمَرَ مِنْ نِسَائِهِ بَقَرَةً بَيْنَهُنَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ان تمام ازواج مطہرات کی طرف سے جنہوں نے عمرہ کیا تھا (حجۃ الوداع کے موقعہ پر) ایک گائے ذبح کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1751]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3133) ¤ يحيي بن أبي كثير مدلس وعنعن ¤ وحديث البخاري (1709) و مسلم (125 / 1211،1319) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الأضاحي 5 (3133)، سنن النسائی/الکبری /الحج (4128)، (تحفة الأشراف: 15386) (صحیح)
15: باب فِي الإِشْعَارِ
باب: اشعار کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَةٍ فَأَشْعَرَهَا مِنْ صَفْحَةِ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ ثُمَّ سَلَتَ عَنْهَا الدَّمَ وَقَلَّدَهَا بِنَعْلَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحلیفہ میں ظہر پڑھی پھر آپ نے ہدی کا اونٹ منگایا اور اس کے کوہان کے داہنی جانب اشعار ۱؎ کیا، پھر اس سے خون صاف کیا اور اس کی گردن میں دو جوتیاں پہنا دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی جب آپ اس پر بیٹھ گئے اور وہ مقام بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پڑھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1752]
💡 وضاحت:
۱؎: ہدی کے اونٹ کی کوہان پر داہنے جانب چیر کر خون نکالنے اور اسے اس کے آس پاس مل دینے کا نام اشعار ہے، یہ بھی ہدی کے جانوروں کی علامت اور پہچان ہے۔
۲؎: اشعار مسنون ہے، اس کا انکار صرف امام ابوحنیفہ نے کیا ہے، وہ کہتے ہیں: یہ مثلہ ہے جو درست نہیں ، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ مثلہ نہیں ہے، مثلہ ناک کان وغیرہ کاٹنے کو کہتے ہیں، اشعار فصد یا حجامت کی طرح ہے، جو صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1243)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجج 32 (1243)، سنن الترمذی/الحج 67 (906)، سنن النسائی/الحج 64 (2776)، 67 (2784)، 70 (2793)، سنن ابن ماجہ/المناسک 96 (3097)، (تحفة الأشراف: 6459)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 23 (1549)، مسند احمد (1/216، 254، 280، 339، 344، 347، 373)، سنن الدارمی/المناسک 68 (1953) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَى أَبِي الْوَلِيدِ، قَالَ: " ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ بِيَدِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هَمَّامٌ، قَالَ: " سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا بِأُصْبُعِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مِنْ سُنَنِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ الَّذِي تَفَرَّدُوا بِهِ.
اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث ابوالولید کے روایت کے مفہوم کی طرح مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: «ثم سلت الدم بيده» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے خون صاف کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہمام کی روایت میں «سلت الدم عنها بإصبعه» کے الفاظ ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف اہل بصرہ کی سنن میں سے ہے جو اس میں منفرد ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1753]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (1752)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6459) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، أَنَّهُمَا قَالَا: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَلَمَّا كَانَ بِذِي الُحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ".
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما اور مروان دونوں سے روایت ہے، وہ دونوں کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال نکلے جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو ہدی ۱؎ کو قلادہ پہنایا اور اس کا اشعار کیا اور احرام باندھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1754]
💡 وضاحت:
۱؎: ہدی اس جانور کو کہتے ہیں جو حج تمتع یا حج قران میں مکہ میں ذبح کیا جاتا ہے، نیز اس جانور کو بھی ہدی کہتے ہیں جس کو غیر حاجی حج کے موقع سے مکہ میں ذبح کرنے کے لئے بھیجتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ أخرجه النسائي (2772)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 106(1694)، والمغازي 36 (4157، 4158)، سنن النسائی/الحج 62 (2773)، (تحفة الأشراف: 11250)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 323، 327، 328، 331) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَهْدَى غَنَمًا مُقَلَّدَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی بکریاں قلادہ پہنا کر ہدی میں بھیجیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1755]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1701) صحيح مسلم (1321)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 106 (1701)، م /الحج 64 (1321)، سنن الترمذی/الحج 70 (909)، سنن النسائی/الحج 69 (2789)، سنن ابن ماجہ/المناسک 95 (3096)، (تحفة الأشراف: 15944، 15995)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/41، 42، 208) (صحیح)
16: باب تَبْدِيلِ الْهَدْىِ
باب: ہدی تبدیل کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ خَالُ مُحَمَّدٍ بْنِ سَلَمَةَ رَوَى عَنْهُ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَهْمِ بْنِ الْجَارُودِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَهْدَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَجِيبًا فَأَعْطَى بِهَا ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَهْدَيْتُ نَجِيبًا فَأَعْطَيْتُ بِهَا ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ أَفَأَبِيعُهَا وَأَشْتَرِي بِثَمَنِهَا بُدْنًا، قَالَ: " لَا انْحَرْهَا إِيَّاهَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لِأَنَّهُ كَانَ أَشْعَرَهَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک بختی اونٹ ہدی کیا پھر انہیں اس کی قیمت تین سو دینار دی گئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میں نے بختی اونٹ ہدی کیا اس کے بعد مجھے اس کی قیمت تین سو دینار مل رہی ہے، کیا میں اسے بیچ کر اس کی قیمت سے (ہدی کے لیے) ایک اونٹ خرید لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں اسی کو نحر کرو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ممانعت (نہی) اس لیے تھی کہ وہ اس کا اشعار کر چکے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1756]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ جھم بن الجا رود و ثقه ابن حبان وحده وجھله ابن خزيمة وغيره فھو مجهول،انظر التحرير (983) وقال البخاري:”لايعرف له سماع من سالم‘‘ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6748)، وقد أخرجہ: (حم (2/145) (ضعیف) (ایک تو جہم لین الحدیث ہیں، دوسرے سالم سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے)
17: باب مَنْ بَعَثَ بِهَدْيِهِ وَأَقَامَ
باب: ہدی بھیج کر خود مقیم رہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حِلًّا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے لیے قلادے بٹے پھر آپ نے انہیں اشعار کیا اور قلادہ ۱؎ پہنایا پھر انہیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور خود مکہ میں مقیم رہے اور کوئی چیز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال تھی آپ پر حرام نہیں ہوئی ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1757]
💡 وضاحت:
۱؎: قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ یا رسی وغیرہ لٹکانے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ لوگ ان جانوروں کو اللہ کے گھر کے لئے خاص جان کر ان سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔
۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مقیم کے لئے بھی ہدی بھیجنا درست ہے اور صرف ہدی بھیج دینے سے وہ محرم نہیں ہو گا، اور نہ اس پر کوئی چیز حرام ہو گی جو محرم پر ہوتی ہے، جب تک کہ وہ احرام کی نیت کر کے احرام پہن کر خود حج کو نہ جائے، اور بعض لوگوں کی رائے ہے کہ وہ بھی مثل محرم کے ہو گا اس کے لئے بھی ان تمام چیزوں سے اس وقت تک بچنا ضروری ہو گا جب تک کہ ہدی قربان نہ کردی جائے، لیکن صحیح جمہور کا مذہب ہی ہے، جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1699) صحيح مسلم (1321)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 106 (1696)، 107(1698)، 108 (1699)، 109 (1700)، 110 (1701)، والوکالة 14 (2317)، والأضاحي 15 (5566)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، سنن النسائی/الحج 62 (2774)، 68 (2785)، سنن ابن ماجہ/المناسک 94 (3094)، 96 (3098)، وانظر أیضا حدیث رقم: (1755)، (تحفة الأشراف: 17433)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 69 (908)، موطا امام مالک/الحج 15(51)، مسند احمد (6/35، 36، 78، 85، 91، 102، 127، 174، 180، 185، 191، 200) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ الْهَمَدَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهْدِي مِنْ الْمَدِينَةِ فَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِهِ ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ".
عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی بھیجتے تو میں آپ کی ہدی کے قلادے بٹتی اس کے بعد آپ کسی چیز سے اجتناب نہیں کرتے جس سے محرم اجتناب کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1758]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1698) صحيح مسلم (1321)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج (1698)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، سنن النسائی/الحج 65 (2777)، سنن ابن ماجہ/الحج 94 (3094)، (تحفة الأشراف: 16582، 17923)، وقد أخرجہ: (6/62) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ، زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُمَا جَمِيعًا وَلَمْ يَحْفَظْ حَدِيثَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ هَذَا وَلَا حَدِيثَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ هَذَا، قَالَا: قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَدْيِ، فَأَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَهَا بِيَدِي مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدَنَا ثُمَّ أَصْبَحَ فِينَا حَلَالًا يَأْتِي مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ".
ام المؤمنین (عائشہ) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی روانہ کئے تو میں نے اپنے ہاتھ سے اس اون سے ان کے قلادے بٹے جو ہمارے پاس تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال ہو کر ہم میں صبح کی آپ نے وہ تمام کام کئے جو ایک حلال (غیر مُحرم) آدمی اپنی بیوی سے کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1759]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1699) صحيح مسلم (1321)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج (1705)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، سنن النسائی/الحج 65 (2778)، (تحفة الأشراف: 15918، 17466) (صحیح)
18: باب فِي رُكُوبِ الْبُدْنِ
باب: ہدی کے اونٹوں پر سوار ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ: " ارْكَبْهَا"، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، فَقَالَ: " ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہدی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ، وہ بولا: یہ ہدی کا اونٹ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ، تمہارا برا ہو ۱؎، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری یا تیسری بار میں فرمایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1760]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور زجر و توبیخ کے فرمایا، کیوں کہ سواری کی اجازت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے دے چکے تھے، اور آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ یہ ہدی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہدی کے جانور پر سواری درست ہے، بعض لوگوں نے کہا کہ بوقت ضرورت و حاجت جائز ہے، اور بعض لوگوں نے کہا کہ جب جی چاہے سوار ہو سکتا ہے، خواہ حاجت ہو یا نہ ہو، اور بعض نے سوار ہونے کو واجب کہا ہے، کیوں کہ اس میں زمانہ جاہلیت کے طریقہ کی مخالفت ہے، وہ لوگ ایسے جانوروں کی ان کے درجہ سے زیادہ قدر و منزلت کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1689) صحيح مسلم (1322)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 103 (1689)، والوصایا 12 (2755)، والأدب 95 (6160)، صحیح مسلم/الحج 65 (1322)، سنن النسائی/الحج 74 (2801)، (تحفة الأشراف: 13801)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 100 (3103)، موطا امام مالک/الحج 45 (139)، مسند احمد (2/254، 278، 312، 464، 474، 478) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا".
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ہدی پر سوار ہونے کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، جب تم اس کے لیے مجبور کر دئیے جاؤ تو اس پر سوار ہو جاؤ بھلائی کے ساتھ یہاں تک کہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1761]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے امام ابوحنیفہ کے مذہب کی تائید ہوتی ہے، جنہوں نے سوار ہونے کے لئے حاجت و ضرورت کی قید لگائی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1324)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 65 (1324)، سنن النسائی/الحج 76 (2804)، (تحفة الأشراف: 2808)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/317، 324، 325، 348) (صحیح)
19: باب فِي الْهَدْىِ إِذَا عَطِبَ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ
باب: ہدی کا جانور اپنے مقام (مکہ) پر پہنچنے سے پہلے ہلاک ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَاجِيَةَ الْأَسْلَمِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِهَدْيٍ، فَقَالَ: " إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَيْءٌ فَانْحَرْهُ، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ، ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ".
ناجیہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہدی بھیجا اور فرمایا: اگر ان میں سے کوئی مرنے لگے تو اس کو نحر کر لینا پھر اس کی جوتی اسی کے خون میں رنگ کر اسے لوگوں کے واسطے چھوڑ دینا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1762]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2642) ¤ أخرجه الترمذي (910 وسنده صحيح) وابن ماجه (3106 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (2577 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 71 (910)، سنن النسائی/الکبری /الأطعمة (6639)، سنن ابن ماجہ/المناسک 101 (3106)، (تحفة الأشراف: 11581)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 47(148)، مسند احمد (4/334)، سنن الدارمی/المناسک 66 (1950) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا الْأَسْلَمِيَّ وَبَعَثَ مَعَهُ بِثَمَانِ عَشْرَةَ بَدَنَةً، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ أُزْحِفَ عَلَيَّ مِنْهَا شَيْءٌ؟ قَالَ: " تَنْحَرُهَا، ثُمَّ تَصْبُغُ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اضْرِبْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، أَوْ قَالَ: مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَوْلُهُ: " وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِكَ"، وَقَالَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ: " ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا مَكَانَ اضْرِبْهَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ: إِذَا أَقَمْتَ الْإِسْنَادَ وَالْمَعْنَى كَفَاكَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں اسلمی کو ہدی کے اٹھارہ اونٹ دے کر بھیجا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کوئی (چلنے سے) عاجز ہو جائے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے نحر کر دینا پھر اس کے جوتے کو اسی کے خون میں رنگ کر اس کی گردن کے ایک جانب چھاپ لگا دینا اور اس میں سے کچھ مت کھانا ۱؎ اور نہ ہی تمہارے ساتھ والوں میں سے کوئی کھائے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: «من أهل رفقتك» یعنی تمہارے رفقاء میں سے کوئی نہ کھائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالوارث کی حدیث میں «اضربها» کے بجائے «ثم اجعله على صفحتها» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ کو کہتے سنا: جب تم نے سند اور معنی درست کر لیا تو تمہیں کافی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1763]
💡 وضاحت:
۱؎: تاکہ یہ الزام نہ آئے کہ ہدی کے جانور کو کھانا چاہتا تھا، اس لئے نحر (ذبح) کر ڈالا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1325)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 66 (1325)، سنن النسائی/الکبری /الحج (4136)، وانظر أیضا ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6503)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/217، 244، 279) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَيَعْلَى ابْنَا عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ فَنَحَرَ ثَلَاثِينَ بِيَدِهِ، وَأَمَرَنِي فَنَحَرْتُ سَائِرَهَا".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی کے اونٹوں کا نحر کیا تو اپنے ہاتھ سے تیس (۳۰) اونٹ نحر کئے پھر مجھے حکم دیا تو باقی سارے میں نے نحر کئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1764]
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن إسحاق سمعه من رجل،مجهول،عن ابن أبي نجيح به(أحمد 1/ 260) ¤ وابن أبي نجيح مدلس ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10221) (منکر) (یہ روایت صحیح مسلم کی روایت کے خلاف ہے جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (63) اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کئے، باقی علی رضی اللہ عنہ نے کئے)
---: باب
باب:۔۔۔۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، وَهَذَا لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُحَيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ"، قَالَ عِيسَى: قَالَ ثَوْرٌ: وَهُوَ الْيَوْمُ الثَّانِي، وَقَالَ: وَقُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٌ خَمْسٌ أَوْ سِتٌّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ، فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا، قَالَ: فَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَّةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا، فَقُلْتُ: مَا قَالَ؟، قَالَ: " مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ".
عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک سب سے عظیم دن یوم النحر ہے پھر یوم القر ہے ۱؎، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانچ یا چھ اونٹنیاں لائی گئیں، تو ان میں سے ہر ایک آگے بڑھنے لگی کہ آپ نحر کی ابتداء اس سے کریں جب وہ گر گئیں تو آپ نے آہستہ سے کچھ کہا جو میں نہ سمجھ سکا تو میں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چاہے اس میں سے گوشت کاٹ لے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1765]
💡 وضاحت:
۱؎: عیسیٰ کہتے ہیں: ثور نے کہا: وہ دوسرا دن ہے، یعنی گیارہویں ذی الحجہ کا دن۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2643) ¤ صححه ابن خزيمة (2866، 2917، 2966 وسندھم صحيح)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8977)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/الحج (4098)، مسند احمد (4/350) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَزْدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ غُرْفَةَ بْنَ الْحَارِثِ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأُتِيَ بِالْبُدْنِ، فَقَالَ: " ادْعُوا لِي أَبَا حَسَنٍ"، فَدُعِيَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: " خُذْ بِأَسْفَلِ الْحَرْبَةِ"، وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَاهَا ثُمَّ طَعَنَ بِهَا فِي الْبُدْنِ فَلَمَّا فَرَغَ رَكِبَ بَغْلَتَهُ وَأَرْدَفَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
عرفہ بن حارث کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، ہدی کے اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوالحسن (علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) کو بلاؤ، چنانچہ آپ کے پاس علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم برچھی کا نچلا سرا پکڑو، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کا سرا پکڑا پھر اونٹوں کو نحر کیا جب فارغ ہو گئے تو اپنے خچر پر سوار ہوئے اور علی کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1766]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد اللّٰه بن الحارث الأزدي(الكندي) لم يوثقه غير ابن حبان وجھله ابن القطان الفاسي فھو مجهول،انظر التحرير (3267) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11019) (ضعیف) (اس کے راوی عبداللہ بن حارث کندی ازدی لین الحدیث ہیں)
20: باب كَيْفَ تُنْحَرُ الْبُدْنُ
باب: اونٹ کیسے نحر کئے جائیں؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ" كَانُوا يَنْحَرُونَ الْبَدَنَةَ مَعْقُولَةَ الْيُسْرَى قَائِمَةً عَلَى مَا بَقِيَ مِنْ قَوَائِمِهَا".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (ابن جریج کہتے ہیں: نیز مجھے عبدالرحمٰن بن سابط نے (مرسلاً) خبر دی ہے) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام اونٹ کا بایاں پاؤں باندھ کر اور باقی پیروں پر کھڑا کر کے اسے نحر کرتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1767]
💡 وضاحت:
۱؎: اونٹ کو سینہ پر مار کر ذبح کرتے ہیں اس لیے نحر کا لفظ استعمال ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو الزبيرمدلس وابن جريج مدلس عنعنا ¤ وحديث ابن سابط مرسل ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2868) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: " كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمِنًى فَمَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَنْحَرُ بَدَنَتَهُ وَهِيَ بَارِكَةٌ، فَقَالَ: ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
یونس کہتے ہیں مجھے زیاد بن جبیر نے خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں میں منیٰ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ ان کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو اپنا اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا انہوں نے کہا: کھڑا کر کے (بایاں پیر) باندھ کر نحر کرو، یہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1768]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1713) صحيح مسلم (1320)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 118 (1713)، صحیح مسلم/الحج 63 (1320)، سنن النسائی/الکبری/ الحج (4134)، (تحفة الأشراف: 6722)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/3، 86، 139) سنن الدارمی/المناسک 70 (1955) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَقْسِمَ جُلُودَهَا وَجِلَالَهَا، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا شَيْئًا"، وَقَالَ: " نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے ہدی کے اونٹوں کے پاس کھڑا ہو کر ان کی کھالیں اور جھولیں تقسیم کروں اور مجھے حکم دیا کہ اس میں سے قصاب کو کچھ بھی نہ دوں اور فرمایا: اسے ہم اپنے پاس سے (اجرت) دیں گے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1769]
قال الشيخ الألباني: صحيح ق وليس عند خ
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1716) صحيح مسلم (1317)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 120 (1716)، 121(1717)، صحیح مسلم/الحج 61 (1317)، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (4146، 4147)، سنن ابن ماجہ/المناسک 97 (3099)، (تحفة الأشراف: 10219)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 79، 123، 132، 143، 154، 159)، سنن الدارمی/المناسک 89 (1983) (صحیح)
21: باب فِي وَقْتِ الإِحْرَامِ
باب: احرام کے وقت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي خُصَيْفُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَزَرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ، عَجِبْتُ لِاخْتِلَافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِهْلَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَوْجَبَ، فَقَالَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِذَلِكَ، إِنَّهَا إِنَّمَا كَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةً وَاحِدَةً فَمِنْ هُنَاكَ اخْتَلَفُو اخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، فَلَمَّا صَلَّى فِي مَسْجِدِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْهِ أَوْجَبَ فِي مَجْلِسِهِ، فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَحَفِظْتُهُ عَنْهُ، ثُمَّ رَكِبَ فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا كَانُوا يَأْتُونَ أَرْسَالًا فَسَمِعُوهُ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ يُهِلُّ، فَقَالُوا: إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ، ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، فَقَالُوا: إِنَّمَا أَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ، وَايْمُ اللَّهِ، لَقَدْ أَوْجَبَ فِي مُصَلَّاهُ وَأَهَلَّ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ وَأَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ". قَالَ سَعِيدٌ: فَمَنْ أَخَذَ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَهَلَّ فِي مُصَلَّاهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ.
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ابوالعباس! مجھے تعجب ہے کہ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے کے سلسلے میں اختلاف رکھتے ہیں کہ آپ نے احرام کب باندھا؟ تو انہوں نے کہا: اس بات کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی حج کیا تھا اسی وجہ سے لوگوں نے اختلاف کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کی نیت کر کے مدینہ سے نکلے، جب ذی الحلیفہ کی اپنی مسجد میں آپ نے اپنی دو رکعتیں ادا کیں تو اسی مجلس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا اور دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد حج کا تلبیہ پڑھا، لوگوں نے اس کو سنا اور میں نے اس کو یاد رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا، بعض لوگوں نے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبیہ پڑھتے ہوئے پایا، اور یہ اس وجہ سے کہ لوگ الگ الگ ٹکڑیوں میں آپ کے پاس آتے تھے، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر اٹھی تو انہوں نے آپ کو تلبیہ پکارتے ہوئے سنا تو کہا: آپ نے تلبیہ اس وقت کہا ہے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، جب مقام بیداء کی اونچائی پر چڑھے تو تلبیہ کہا تو بعض لوگوں نے اس وقت اسے سنا تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت تلبیہ کہا ہے جب آپ بیداء کی اونچائی پر چڑھے حالانکہ اللہ کی قسم آپ نے وہیں تلبیہ کہا تھا جہاں آپ نے نماز پڑھی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تلبیہ کہا جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی ہوئی اور پھر آپ نے بیداء کی اونچائی چڑھتے وقت تلبیہ کہا۔ سعید کہتے ہیں: جس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کو لیا تو اس نے اس جگہ پر جہاں اس نے نماز پڑھی اپنی دونوں رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد تلبیہ کہا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1770]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ خصيف: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5503)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/260) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی خصیف کا حافظہ کمزور تھا، مگر حدیث میں مذکور تفصیل صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ، يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ یہی وہ بیداء کا مقام ہے جس کے بارے میں تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غلط بیان کرتے ہو کہ آپ نے تو مسجد یعنی ذی الحلیفہ کی مسجد کے پاس ہی سے تلبیہ کہا تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1771]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1541) صحيح مسلم (1186)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 2 (1515)، 20 (1541)، والجھاد 53 (2865)، صحیح مسلم/الحج 3، 4 (1186)، سنن الترمذی/الحج 8 (818)، سنن النسائی/الحج 56 (2758)، وانظر أیضا ما بعدہ، (تحفة الأشراف: 7020)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 14 (2916)، موطا امام مالک/الحج 9 (30)، مسند احمد (2/10، 17، 18، 29، 36، 37، 66، 154)، سنن الدارمی/المناسک 82 (1970) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: " يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا، قَالَ: مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ؟ قَالَ: رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ، وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى كَانَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَمَّا الْأَرْكَانُ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعْرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا، وَأَمَّا الْإِهْلَالُ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ".
عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! میں نے آپ کو چار کام ایسے کرتے دیکھا ہے جنہیں میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا ہے؟ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہیں ابن جریج؟ وہ بولے: میں نے دیکھا کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کو چھوتے ہیں، اور دیکھا کہ آپ ایسی جوتیاں پہنتے ہیں جن کے چمڑے میں بال نہیں ہوتے، اور دیکھا آپ زرد خضاب لگاتے ہیں، اور دیکھا کہ جب آپ مکہ میں تھے تو لوگوں نے چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لیا لیکن آپ نے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کے آنے تک احرام نہیں باندھا، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رہی رکن یمانی اور حجر اسود کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف انہیں دو کو چھوتے دیکھا ہے، اور رہی بغیر بال کی جوتیوں کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی جوتیاں پہنتے دیکھی ہیں جن میں بال نہیں تھے اور آپ ان میں وضو کرتے تھے، لہٰذا میں بھی انہی کو پہننا پسند کرتا ہوں، اور رہی زرد خضاب کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زرد رنگ کا خضاب لگاتے دیکھا ہے، لہٰذا میں بھی اسی کو پسند کرتا ہوں، اور احرام کے بارے میں یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک لبیک پکارتے نہیں دیکھا جب تک کہ آپ کی سواری آپ کو لے کر چلنے کے لیے کھڑی نہ ہو جاتی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1772]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (166) صحيح مسلم (1187)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 30 (166)، والحج 28 (1552) (مختصرا) 59 (1609) (مختصرا)، واللباس 37 (5851)، صحیح مسلم/الحج 5 (1187)، سنن الترمذی/الشمائل 10 (74)، سنن النسائی/الطھارة 95 (117)، سنن ابن ماجہ/اللباس 34 (3626)، (تحفة الأشراف: 7316)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 9(31)، مسند احمد (2/17، 26،110) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ بَاتَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ حَتَّى أَصْبَحَ فَلَمَّا رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَاسْتَوَتْ بِهِ أَهَلَّ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت اور ذی الحلیفہ میں عصر دو رکعت ادا کی، پھر ذی الحلیفہ میں رات گزاری یہاں تک کہ صبح ہو گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھے اور وہ آپ کو لے کر سیدھی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1773]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1546) صحيح مسلم (690)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 24 (1546)، صحیح مسلم/المسافرین 1 (690)، سنن النسائی/الصلاة 11 (378، 470)، سنن الترمذی/الصلاة 274 (546)، (تحفة الأشراف: 1573)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/237، 378) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ، فَلَمَّا عَلَا عَلَى جَبَلِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر اپنی سواری پر بیٹھے جب بیداء کے پہاڑ پر چڑھے تو تلبیہ پڑھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1774]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (2663) ¤ الحسن البصري مدلس وعنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الحج 25 (2663)، 56 (2756)، 143 (2934)، (تحفة الأشراف: 524)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/207)، سنن الدارمی/الحج 12 (1848) (صحیح لغیرہ) (اس حدیث کے روای حسن بصری ہیں جو مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اس کی اصل سابقہ حدیث نمبر: (1773) ہے، اس سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَتْ: قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: " كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ طَرِيقَ الْفُرْعِ أَهَلَّ إِذَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، وَإِذَا أَخَذَ طَرِيقَ أُحُدٍ أَهَلَّ إِذَا أَشْرَفَ عَلَى جَبَلِ الْبَيْدَاءِ".
عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص کہتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرع کا راستہ (جو مکہ کو جاتا ہے) اختیار کرتے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری آپ کو لے کر سیدھی ہو جاتی تو آپ تلبیہ پڑھتے اور جب آپ احد کا راستہ اختیار کرتے تو بیداء کی پہاڑی پر چڑھتے وقت تلبیہ پڑھتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1775]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن إسحاق عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3956) (ضعیف) (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
22: باب الاِشْتِرَاطِ فِي الْحَجِّ
باب: حج میں شرط لگانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ أَأَشْتَرِطُ؟ قَالَ: نَعَمْ"، قَالَتْ: فَكَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ: " قُولِي: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، وَمَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں حج میں شرط لگانا چاہتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، (لگا سکتی ہو)، انہوں نے کہا: تو میں کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو! «لبيك اللهم لبيك، ومحلي من الأرض حيث حبستني» حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں، اور میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1776]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ أخرجه الترمذي (941 وسنده حسن) ورواه مسلم (1208)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 17 (941)، سنن النسائی/الحج 60 (2767)، (تحفة الأشراف: 5754، 6214، 6232)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 15 (1208)، سنن ابن ماجہ/المناسک 24 (2936)، مسند احمد (1/337، 352)، سنن الدارمی/المناسک 15 (1852) (حسن صحیح)
23: باب فِي إِفْرَادِ الْحَجِّ
باب: حج افراد کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَفْرَدَ الْحَجَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1777]
💡 وضاحت:
۱؎: حج کے مہینے میں میقات سے صرف حج کی نیت سے احرام باندھنے کو افراد کہتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں صحیح یہ ہے کہ آپ نے حج قِران کیا تھا، اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدی کے جانور تھے، ورنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا تھا کہ جن کے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہو وہ عمرہ پورا کر کے احرام کھول دیں، یعنی حج قران کو حج تمتع میں بدل دیں، دیکھئے حدیث نمبر: (۷۹۵)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1211)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن الترمذی/الحج 10 (820)، سنن النسائی/الحج 48 (2716)، سنن ابن ماجہ/المناسک 37 (2964)، (تحفة الأشراف: 17517)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 11(37)، مسند احمد (6/243)، سنن الدارمی/المناسک 16 (1853) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، قَالَ: " مَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ"، قَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ: " فَإِنِّي لَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ: وَأَمَّا أَنَا فَأُهِلُّ بِالْحَجِّ فَإِنَّ مَعِي الْهَدْيَ، ثُمَّ اتَّفَقُوا، فَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ قُلْتُ: وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ خَرَجْتُ الْعَامَ، قَالَ: ارْفِضِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، قَالَ مُوسَى: وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ: وَاصْنَعِي مَا يَصْنَعُ الْمُسْلِمُونَ فِي حَجِّهِمْ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الصَّدَرِ أَمَرَ، يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَذَهَبَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، زَادَ مُوسَى: فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ فَقَضَى اللَّهُ عُمْرَتَهَا وَحَجَّهَا. قَالَ هِشَامٌ: وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْيٌ. قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ مُوسَى فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ: فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْبَطْحَاءِ طَهُرَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ذی الحجہ کا چاند نکلنے کو ہوا تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو حج کا احرام باندھنا چاہے وہ حج کا احرام باندھے، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا باندھے۔ موسیٰ نے وہیب والی روایت میں کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہدی نہ لے چلتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا۔ اور حماد بن سلمہ کی حدیث میں ہے: رہا میں تو میں حج کا احرام باندھتا ہوں کیونکہ میرے ساتھ ہدی ہے۔ آگے دونوں راوی متفق ہیں (ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں) میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں تھی، آپ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ مجھے حیض آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیوں رو رہی ہو؟، میں نے عرض کیا: میری خواہش یہ ہو رہی ہے کہ میں اس سال نہ نکلتی (تو بہتر ہوتا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا عمرہ چھوڑ دو، سر کھول لو اور کنگھی کر لو۔ موسیٰ کی روایت میں ہے: اور حج کا احرام باندھ لو، اور سلیمان کی روایت میں ہے: اور وہ تمام کام کرو جو مسلمان اپنے حج میں کرتے ہیں۔ تو جب طواف زیارت کی رات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کو حکم دیا چنانچہ وہ انہیں مقام تنعیم لے کر گئے۔ موسیٰ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے اس عمرے کے عوض (جو ان سے چھوٹ گیا تھا) دوسرے عمرے کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس طرح اللہ نے ان کے عمرے اور حج دونوں کو پورا کر دیا۔ ہشام کہتے ہیں: اور اس میں ان پر اس سے کوئی ہدی لازم نہیں ہوئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: موسیٰ نے حماد بن سلمہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ جب بطحاء ۱؎ کی رات آئی تو عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1778]
💡 وضاحت:
۱؎: بطحاء سے مراد منیٰ ہے، یعنی قیام منیٰ کے ایام کی کسی رات میں وہ پاک ہو گئیں، علامہ عینی کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا حیض تین ذی الحجہ بروز سنیچر مقام سرف میں شروع ہوا تھا، اور دسویں ذی الحجہ کو سنیچر کے روز پاک ہوئیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ أخرجه النسائي (2718 وسنده صحيح) ورواه البخاري (317) ومسلم (1211)
تخریج دارالدعوہ: حدیث سلیمان بن حرب عن حماد بن زید قد أخرجہ: سنن النسائی/الحج 185 (2993)، 186 (2994)، (تحفة الأشراف: 16863، 16882)، وحدیث موسی بن اسماعیل عن حماد بن سلمة وموسی بن اسماعیل عن وہیب، قد تفرد بہما أبو داود، (تحفة الأشراف: 17295)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 1 (294)، 7 (305)، 15(316)، 16 (317)، 18 (319)، الحج/31 (1556)، 33 (1560)، 34 (1562)، 77 (1638)، 115 (1709)، 124 (1720)، 145 (1757)، العمرة 7 (1786)، 9 (1788)، الجھاد 105 (2952)، المغازي 77 (4395)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن النسائی/الطھارة 183 (291) سنن ابن ماجہ/الحج 36 (2963) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، وَ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يُحِلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمَ النَّحْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہم میں کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا، اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا، اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا، چنانچہ جن لوگوں نے حج کا یا حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا انہوں نے یوم النحر (یعنی دسویں ذی الحجہ) تک احرام نہیں کھولا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1779]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1562) صحيح مسلم (1211)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البخاری 34 (1562)، المغازی 78 (4408)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن النسائی/الحج 48 (2717)، سنن ابن ماجہ/ الحج 37 (2965)، (تحفة الأشراف: 16389)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/36، 104، 107، 243) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. زَادَ: " فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَحَلَّ".
اس سند سے بھی ابوالاسود سے اسی طریق سے اسی کے مثل مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: رہے وہ لوگ جنہوں نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا تو ان لوگوں نے (عمرہ کر کے) احرام کھول دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1780]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1562) صحيح مسلم (1211)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16389) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا"، فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ"، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ: " هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ"، قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَ مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ نَحْوَهُ، لَمْ يَذْكُرُوا: طَوَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَطَوَافَ الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے ساتھ ہدی ہو تو وہ عمرے کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے پھر وہ حلال نہیں ہو گا جب تک کہ ان دونوں سے ایک ساتھ حلال نہ ہو جائے، چنانچہ میں مکہ آئی، میں حائضہ تھی، میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور نہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، لہٰذا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: اپنا سر کھول لو، کنگھی کر لو، حج کا احرام باندھ لو، اور عمرے کو ترک کر دو، میں نے ایسا ہی کیا، جب میں نے حج ادا کر لیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میرے بھائی) عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ مقام تنعیم بھیجا (تو میں وہاں سے احرام باندھ کر آئی اور) میں نے عمرہ ادا کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے عمرے کی جگہ پر ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: چنانچہ جنہوں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، پھر ان لوگوں نے احرام کھول دیا، پھر جب منیٰ سے لوٹ کر آئے تو حج کا ایک اور طواف کیا، اور رہے وہ لوگ جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابراہیم بن سعد اور معمر نے ابن شہاب سے اسی طرح روایت کیا ہے انہوں نے ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے عمرہ کے طواف کا احرام باندھا، اور ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1781]
💡 وضاحت:
۱؎: اسی طرح حج افراد کا احرام باندھنے والوں نے بھی ایک ہی طواف کیا، واضح رہے کہ مفرد ہو یا متمتع یا قارن سب کے لئے طوافِ زیارت فرض ہے، اور متمتع پر صفا و مروہ کی دو سعی واجب ہے، جب کہ قارن کے لئے صرف ایک سعی کافی ہے، خواہ طواف قدوم (یا عمرہ) کے وقت کرلے یا طواف زیارت کے بعد، یہی مسئلہ مفرد حاجی کے لئے بھی ہے، واضح رہے کہ بعض حدیثوں میں سعی کے لئے بھی طواف کا لفظ وارد ہوا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1556) صحيح مسلم (1211)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الحج 31 (1556)، 77 (1638)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن النسائی/ الحج 58 (2765)، (تحفة الأشراف: 16591)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 74 (223)، مسند احمد (6/35، 177) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ؟" فَقُلْتُ: حِضْتُ، لَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ حَجَجْتُ، فَقَالَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ! إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ"، فَقَالَ: " انْسُكِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ"، فَلَمَّا دَخَلْنَا مَكَّةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ"، قَالَتْ: وَذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْبَطْحَاءِ وَطَهُرَتْ عَائِشَةُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَرْجِعُ صَوَاحِبِي بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِالْحَجِّ؟ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَذَهَبَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فَلَبَّتْ بِالْعُمْرَةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا یہاں تک کہ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: عائشہ! تم کیوں رو رہی ہو؟، میں نے کہا: مجھے حیض آ گیا کاش میں نے (امسال) حج کا ارادہ نہ کیا ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی ذات پاک ہے، یہ تو بس ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے واسطے لکھ دی ہے، پھر فرمایا: تم حج کے تمام مناسک ادا کرو البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرو ۱؎ پھر جب ہم مکہ میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اسے عمرہ بنانا چاہے تو وہ اسے عمرہ بنا لے ۲؎ سوائے اس شخص کے جس کے ساتھ ہدی ہو، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو اپنی ازواج مطہرات کی جانب سے گائے ذبح کی۔ جب بطحاء کی رات ہوئی اور عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میرے ساتھ والیاں حج و عمرہ دونوں کر کے لوٹیں گی اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا وہ انہیں لے کر مقام تنعیم گئے پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہاں سے عمرہ کا تلبیہ پڑھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1782]
💡 وضاحت:
۱؎: طواف ایک ایسی عبادت ہے جس میں طہارت شرط ہے اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو طواف سے روک دیا، طواف کے علاوہ حائضہ حج کے تمام ارکان ادا کرے گی۔
۲؎: جیسا کہ مذکور ہوا یہ جملہ جو اس روایت میں ہے صحیح نہیں ہے، صحیح جملہ یوں ہے: تم اپنے حج کو عمرہ بنا ڈالو سوائے اس شخص۔۔۔ الخ
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله من شاء أن يجعلها عمرة والصواب اجعلوها عمرة م
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1211)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، (تحفة الأشراف: 17477)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/219) (صحیح) (لیکن یہ جملہ من شاء أن يجعلها...الخ صحیح نہیں ہے جو اس روایت میں ہے، صحیح جملہ یوں ہے اجعلوها عمرة یعنی حکم دیا کہ عمرہ بنا ڈالو)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يُحِلَّ، فَأَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم (مکہ) آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جو اپنے ساتھ ہدی نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے ۱؎، چنانچہ وہ تمام لوگ حلال ہو گئے جو ہدی لے کر نہیں آئے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1783]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اپنا احرام کھول دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1561) صحيح مسلم (1211)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الحج 34 (1561)، صحیح مسلم/ الحج 17 (1211)، سنن النسائی/ الکبری، الحج (3785)، (تحفة الأشراف: 15984)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/189، 191، 192، 210) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهَلِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمَّا سُقْتُ الْهَدْيَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: وَلَحَلَلْتُ مَعَ الَّذِينَ أَحَلُّوا مِنَ الْعُمْرَةِ"، قَالَ: أَرَادَ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ النَّاسِ وَاحِدًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے پہلے یہ بات معلوم ہو گئی ہوتی جواب معلوم ہوئی ہے تو میں ہدی نہ لاتا، محمد بن یحییٰ ذہلی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اور میں ان لوگوں کے ساتھ حلال ہو جاتا جو عمرہ کے بعد حلال ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ سب لوگوں کا معاملہ یکساں ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1784]
💡 وضاحت:
۱؎: کہ جو حج کا احرام باندھ کر آئے اور ہدی ساتھ نہ لائے تو وہ طواف اور سعی کرکے احرام کھول دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں لوگوں کی آسانی کے لئے ایسا حکم فرمایا تاکہ اس سے مشرکین کی مخالفت ہو، بعض لوگوں کو اس میں تردد ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض ہوئے، اس حدیث کی بنا پر بعض ائمہ کے یہاں حج تمتع ہی واجب اور افضل ہے، (ملاحظہ ہو: زاد المعاد)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ رواه البخاري (7229)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16742)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/247) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " أَقْبَلْنَا مُهِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا، وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِسَرِفَ عَرَكَتْ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ وَ بِالصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ"، قَالَ: فَقُلْنَا: حِلُّ مَاذَا؟ فَقَالَ: " الْحِلُّ كُلُّهُ"، فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي، فَقَالَ: " مَا شَأْنُكِ؟" قَالَتْ: شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلُلْ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الْآنَ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاغْتَسِلِي، ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ"، فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْبَيْتِ وَ بِالصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ: " قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حِينَ حَجَجْتُ، قَالَ: " فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنْ التَّنْعِيمِ وَذَلِكَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج افراد کا احرام باندھ کر آئے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا عمرے کا احرام باندھ کر آئیں، جب وہ مقام سرف میں پہنچیں تو انہیں حیض آ گیا یہاں تک کہ جب ہم لوگ مکہ پہنچے تو ہم نے کعبۃ اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جن کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول دیں، ہم نے کہا: کیا کیا چیزیں حلال ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز حلال ہے، چنانچہ ہم نے عورتوں سے صحبت کی، خوشبو لگائی، اپنے کپڑے پہنے حالانکہ عرفہ میں صرف چار راتیں باقی تھیں، پھر ہم نے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو احرام باندھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہیں روتے پایا، پوچھا: کیا بات ہے؟، وہ بولیں: مجھے حیض آ گیا لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن میں نے نہیں کھولا اور نہ میں بیت اللہ کا طواف ہی کر سکی ہوں، اب لوگ حج کے لیے جا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ (حیض) ایسی چیز ہے جسے اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دیا ہے لہٰذا تم غسل کر لو پھر حج کا احرام باندھ لو، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اور سارے ارکان ادا کئے جب حیض سے پاک ہو گئیں تو بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو گئیں، وہ بولیں: اللہ کے رسول! میرے دل میں خیال آتا ہے کہ میں بیت اللہ کا طواف (قدوم) نہیں کر سکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبدالرحمٰن! انہیں لے جاؤ، اور تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ، یہ واقعہ حصبہ ۱؎ کی رات کا تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1785]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ذی الحجہ کی چودہویں رات کو، جس رات کو محصب میں اترتے ہیں یا تیرہویں رات کو اگر بارہویں تاریخ کو منیٰ سے واپسی ہو، محصب: ایّام تشریق کے بعد منیٰ سے لوٹتے وقت راستے میں مکہ سے قریب ایک مقام کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1213)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 16 (1210)، 17 (1213)، سنن النسائی/الحج 58 (2764)، سنن ابن ماجہ/المناسک 12 (2911)، (تحفة الأشراف: 2908)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 41(126)، مسند احمد (3/394)، سنن الدارمی/المناسک 11 (1845) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ بِبَعْضِ هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: عِنْدَ قَوْلِهِ: " وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ ثُمَّ حُجِّي وَاصْنَعِي مَا يَصْنَعُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ وَلَا تُصَلِّي".
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آگے اسی قصہ کا کچھ حصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ اپنے قول «وأهلي بالحج» یعنی حج کا احرام باندھ لو کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر حج کرو اور وہ تمام کام کرو جو ایک حاجی کرتا ہے البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا اور نماز نہ پڑھنا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1786]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1213)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/ الحج 17 (1213)، (تحفة الأشراف: 2812)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/309) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَا يُخَالِطُهُ شَيْءٌ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَطُفْنَا وَسَعَيْنَا، ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُحِلَّ، وَقَالَ: لَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ"، ثُمَّ قَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مُتْعَتَنَا هَذِهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ هِيَ لِلْأَبَدِ"، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا فَلَمْ أَحْفَظْهُ حَتَّى لَقِيتُ ابْنَ جُرَيْجٍ فَأَثْبَتَهُ لِي.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا احرام باندھا اس میں کسی اور چیز کو شامل نہیں کیا، پھر ہم ذی الحجہ کی چار راتیں گزرنے کے بعد مکہ آئے تو ہم نے طواف کیا، سعی کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم دے دیا اور فرمایا: اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا، پھر سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! یہ ہمارا متعہ (حج کا متعہ) اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں) بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے ۱؎۔ اوزاعی کہتے ہیں: میں نے عطا بن ابی رباح کو اسے بیان کرتے سنا تو میں اسے یاد نہیں کر سکا یہاں تک کہ میں ابن جریج سے ملا تو انہوں نے مجھے اسے یاد کرا دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1787]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے امام احمد کے اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ جو حج کا احرام باندھ کر آئے اور ہدی ساتھ نہ لائے وہ طواف اور سعی کرکے احرام کھول سکتا ہے، یعنی حج کو عمرہ میں تبدیل کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (7367) صحيح مسلم (1216)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الحج 41 (2980)، (تحفة الأشراف: 2426، 2459)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 17 (1216)، سنن النسائی/الحج 77 (2807) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا طَافُوا بِالْبَيْتِ وَ بِالصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلُوهَا عُمْرَةً، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيَ"، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ قَدِمُوا فَطَافُوا بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام ذی الحجہ کی چار راتیں گزرنے کے بعد (مکہ) آئے، جب انہوں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب اسے عمرہ بنا لو سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی ہو، پھر جب یوم الترویہ (آٹھواں ذی الحجہ) ہوا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا، جب یوم النحر (دسواں ذی الحجہ) ہوا تو وہ لوگ (مکہ) آئے اور انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی نہیں کی ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1788]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ پہلی سعی کافی تھی البتہ جو شخص حج سے پہلے سعی نہ کر سکا ہو اس کو طواف زیارت کے بعد سعی کرنا ضروری ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ أخرجه أحمد (3/362) والنسائي في الكبريٰ (4171)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2473)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/362) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ، عَنْ عَطَاءٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ هَدْيٌ إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ طَلْحَةَ، وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ مِنْ الْيَمَنِ وَمَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً يَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيُحِلُّوا إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَالُوا: أَنَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذُكُورُنَا تَقْطُرُ؟ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے حج کا احرام باندھا ان میں سے اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے پاس ہدی کے جانور نہیں تھے اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے ساتھ ہدی لے کر آئے تھے تو انہوں نے کہا: میں نے اسی کا احرام باندھا ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ حج کو عمرہ میں بدل لیں یعنی وہ طواف کر لیں پھر بال کتروا لیں اور پھر احرام کھول دیں سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی ہو، تو لوگوں نے عرض کیا: کیا ہم منیٰ کو اس حال میں جائیں کہ ہمارے ذکر منی ٹپکا رہے ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: اگر مجھے پہلے سے یہ معلوم ہوتا جو اب معلوم ہوا ہے تو میں ہدی نہ لاتا، اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1789]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1651)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 81 (1651)، (تحفة الأشراف: 2405)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/305) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ هَدْيٌ فَلْيُحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ، وَقَدْ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مُنْكَرٌ، إِنَّمَا هُوَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عمرہ ہے، ہم نے اس سے فائدہ اٹھایا لہٰذا جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ پوری طرح سے حلال ہو جائے، اور عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو گیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ (مرفوع حدیث) منکر ہے، یہ ابن عباس کا قول ہے نہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1790]
💡 وضاحت:
۱؎: ابوداود کا یہ قول صحیح نہیں ہے، اس کو کئی راویوں نے مرفوعا روایت کیا ہے جن میں امام احمد بن حنبل بھی ہیں (منذری)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1241)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 31 (1241)، سنن النسائی/الحج 77 (2817)، (تحفة الأشراف: 6387)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیرالصلاة 3 (1085)، والحج/23 (1545)، 34 (1564)، والشرکة 15 (2505)، ومناقب الأنصار 26 (3832)، سنن الترمذی/الحج 89 (932)، مسند احمد (1/236، 253، 259، 341)، سنن الدارمی/المناسک 38 (1898) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا النَّهَّاسُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَهَلَّ الرَّجُلُ بِالْحَجِّ ثُمَّ قَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَ بِالصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ فَقَدْ حَلَّ، وَهِيَ عُمْرَةٌ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، دَخَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ خَالِصًا، فَجَعَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةً.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب آدمی حج کا احرام باندھ کر مکہ آئے اور بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لے تو وہ حلال ہو گیا اور یہ عمرہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ایک شخص سے انہوں نے عطا سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ خالص حج کا احرام باندھ کر مکہ میں داخل ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عمرہ سے بدل دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1791]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ النھاس ضعيف (تق: 7197) يروي عن عطاء عن ابن عباس أشياء منكرة كما قال يحيي القطان (الجرح والتعديل 8/ 511 وسنده صحيح) ¤ وحديث ابن جريج عن رجل ينظر فيه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 71
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5965) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ شَوْكَرٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، قَالَ ابْنُ مَنِيعٍ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْمَعْنَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ"، وَقَالَ ابْنُ شَوْكَرٍ: " وَلَمْ يُقَصِّرْ"، ثُمَّ اتَّفَقَا، " وَلَمْ يُحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْهَدْيِ، وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ وَأَنْ يَسْعَى وَيُقَصِّرَ ثُمَّ يُحِلَّ"، زَادَ ابْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ: " أَوْ يَحْلِقَ ثُمَّ يُحِلَّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا جب آپ (مکہ) آئے تو آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی (ابن شوکر کی روایت میں ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال نہیں کتروائے (پھر ابن شوکر اور ابن منیع دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کی وجہ سے احرام نہیں کھولا، اور حکم دیا کہ جو ہدی لے کر نہ آیا ہو طواف اور سعی کر لے اور بال کتروا لے پھر احرام کھول دے، (ابن منیع کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے): یا سر منڈوا لے پھر احرام کھول دے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1792]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ يزيد: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 71
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6429)، وقد أخرجہ: (حم 1/241، 338) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عِيسَى الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمسَيِّبِ، " أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَشَهِدَ عِنْدَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ يَنْهَى عَنْ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ".
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے ان کے پاس گواہی دی کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں حج سے پہلے عمرہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1793]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ انظر الحديث الآتي (2372) والموطأ (590 بتحقيقي)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15582) (ضعیف) (سعید بن مسیب کا سماع عمر فاروق سے ثابت نہیں، نیز یہ حدیث صحیح احادیث کے خلاف ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ خَيْوَانَ بْنِ خَلْدَةَ مِمَّنْ قَرَأَ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بنَ أَبي سُفْيَانَ، قَالَ لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَذَا وَكَذَا وَعَنْ رُكُوبِ جُلُودِ النُّمُورِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؟ فَقَالُوا: أَمَّا هَذَا، فَلَا، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهَا مَعَهُنَّ وَلَكِنَّكُمْ نَسِيتُمْ".
ابوشیخ ہنائی خیوان بن خلدہ (جو اہل بصرہ میں سے ہیں اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں) سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں فلاں چیز سے روکا ہے اور چیتوں کی کھال پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، پھر معاویہ نے پوچھا: تو کیا یہ بھی معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قران) حج اور عمرہ دونوں کو ملانے سے منع فرمایا ہے؟ لوگوں نے کہا: رہی یہ بات تو ہم اسے نہیں جانتے، تو انہوں نے کہا: یہ بھی انہی (ممنوعات) میں سے ہے لیکن تم لوگ بھول گئے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1794]
💡 وضاحت:
۱؎: قران بعض علماء کے نزدیک افضل ہے، پھر تمتع، پھر افراد، اور بعض کے نزدیک افراد سب سے افضل ہے، پھر قران پھر تمتع، اور صحیح قول یہ ہے کہ تمتع سب سے افضل ہے، امام ابن قیم اور علامہ البانی کے بقول تمتع کے سوا حج کی دونوں قسمیں (یعنی افراد اور قران) منسوخ ہیں، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جو بات مجھے اب معلوم ہوئی ہے وہ اگر پہلے معلوم ہوتی تو میں بھی ہدی کے جانور لے کر نہیں آتا، (تاکہ میں بھی اپنے حج کو عمرہ بنا دیتا) ، تو اب امت کے لئے یہ پیغام ملا کہ آئندہ کوئی ہدی لے کر آئے ہی نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا النهي عن القران فهو شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قتادة عنعن وتابعه بھيس بن فھدان عندالطبراني (19 / 354) ببعضه وفيه محمد بن صالح بن الوليد النرسي: ولم أجد من وثقه ¤ والحديث السابق (الأصل: 1793) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 71
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الحج 50 مختصراً (2735)، (تحفة الأشراف: 11456)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/92، 95، 98، 99)، (ضعیف) (اس کی سند میں اضطراب ہے، نیز صحیح روایات کے خلاف ہے)
24: باب فِي الإِقْرَانِ
باب: حج قران کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُمْ سَمِعُوهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا، يَقُولُ: " لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے انہیں کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھتے سنا آپ فرما رہے تھے: «لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا» ۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1795]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1251)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 34 (1251)، سنن النسائی/الحج 49 (2730)، (تحفة الأشراف: 781، 1653)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 126(2986)، والمغازي 61 (4353)، سنن الترمذی/الحج 11(821)، سنن ابن ماجہ/المناسک 14 (2917)، 38 (2968، 2969)، مسند احمد (3/99، 282)، سنن الدارمی/المناسک 78 (1964) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَاتَ بِهَا، يَعْنِي بِذِي الُحُلَيْفَةِ، حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ حَمِدَ اللَّهُ وَسَبَّحَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهِمَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَ النَّاسَ فَحَلُّوا حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، أَهَلُّوا بِالْحَجِّ وَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا". قَالَ أَبُو دَاوُد: الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ، يَعْنِي أَنَسًا، مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ: بَدَأَ بِالْحَمْدِ وَالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات ذی الحلیفہ میں گزاری، یہاں تک کہ صبح ہو گئی پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سواری آپ کو لے کر بیداء پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تحمید، تسبیح اور تکبیر بیان کی، پھر حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا، اور لوگوں نے بھی ان دونوں کا احرام باندھا، پھر جب ہم لوگ (مکہ) آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو (احرام کھولنے کا) حکم دیا، انہوں نے احرام کھول دیا، یہاں تک کہ جب یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) آیا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اونٹنیاں کھڑی کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جو بات اس روایت میں منفرد ہے وہ یہ کہ انہوں نے (یعنی انس رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے «الحمدلله، سبحان الله والله أكبر» کہا پھر حج کا تلبیہ پکارا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1796]
💡 وضاحت:
۱؎: اور باقی اونٹوں کو علی رضی اللہ عنہ نے ذبح (نحر) کیا، کل سو اونٹ تھے، جو ذبح کئے گئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1551)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 24، (1547)، 25 (1548)، 27 (1551)، 119 (1715)، الجہاد 104 (2951)، 126 (2986)، صحیح مسلم/صلاة المسافرین 1 (690)، سنن النسائی/الضحایا 13 (4392)، ویأتي ہذا الحدیث برقم (2793)، (تحفة الأشراف: 947) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْيَمَنِ، قَالَ: فَأَصَبْتُ مَعَهُ أَوَاقِيَ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَجَدْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَدْ لَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَقَدْ نَضَحَتِ الْبَيْتَ بِنَضُوحٍ، فَقَالَتْ: مَا لَكَ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَحَلُّوا، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: إِنِّي أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: " كَيْفَ صَنَعْتَ؟" فَقَالَ: قُلْتُ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَإِنِّي قَدْ سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ"، قَالَ: فَقَالَ لِي: " انْحَرْ مِنَ الْبُدْنِ سَبْعًا وَسِتِّينَ، أَوْ سِتًّا وَسِتِّينَ، وَأَمْسِكْ لِنَفْسِكَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، أَوْ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، وَأَمْسِكْ لِي مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ مِنْهَا بَضْعَةً".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر مقرر کر کے بھیجا، میں ان کے ساتھ تھا تو مجھے ان کے ساتھ (وہاں) کئی اوقیہ سونا ملا، جب آپ یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہیں، اور گھر میں خوشبو بکھیر رکھی ہے، وہ کہنے لگیں: آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا تو انہوں نے احرام کھول دیا ہے، علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے فاطمہ سے کہا: میں نے وہ نیت کی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ نے مجھ سے پوچھا: تم نے کیا نیت کی ہے؟، میں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور میں نے قِران کیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم سڑسٹھ (۶۷) ۱؎ یا چھیاسٹھ (۶۶) اونٹ (میری طرف سے) نحر کرو اور تینتیس (۳۳) یا چونتیس (۳۴) اپنے لیے روک لو، اور ہر اونٹ میں سے ایک ایک ٹکڑا گوشت میرے لیے رکھ لو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1797]
💡 وضاحت:
۱؎: ابوداود کی روایت میں اسی طرح وارد ہے جو وہم سے خالی نہیں، قیاس یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم (۶۷) یا (۶۶) اونٹ میری طرف سے نحر کرو اور باقی اپنی طرف سے کرنے کے لئے روک لو، اس معنی کے اعتبار سے علی رضی اللہ عنہ سارے اونٹوں کے نحر کرنے والے ہوں گے، حالانکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ ان میں سے اکثر کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نحر کیا تھا، لہٰذا تم نحر کرو کے معنی یہ ہوں گے کہ انہیں نحر کے لئے تیار کرو اور انہیں منحر میں لے چلو تاکہ میں اپنے ہاتھ سے انہیں نحر کروں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (2726،2746) ¤ أبو إسحاق عنعن ¤ ولأ صل الحديث شواھد كثيرة ¤ و حديث البخاري (4353) و مسلم (1232) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 71
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الحج 52 (2746)، (تحفة الأشراف: 10026)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي 61 (4354) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ: " أَهْلَلْتُ بِهِمَا مَعًا"، فَقَالَ عُمَرُ: " هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابووائل کہتے ہیں کہ صبی بن معبد سے کہا: میں نے (حج و عمرہ) دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں اپنے نبی کی سنت پر عمل کی توفیق ملی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1798]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ أخرجه النسائي (2720 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الحج 49 (2720، 2721، 2722)، سنن ابن ماجہ/المناسک 38 (2970)، (تحفة الأشراف: 10466)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/14، 25، 34، 37، 53) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ: كُنْتُ رَجُلًا أَعْرَابِيًّا نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمْتُ فَأَتَيْتُ رَجُلًا مِنْ عَشِيرَتِي، يُقَالُ لَهُ: هُذَيْمُ بْنُ ثُرْمُلَةَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا هَنَاهْ، إِنِّي حَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ وَإِنِّي وَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَكْتُوبَيْنِ عَلَيَّ، فَكَيْفَ لِي بِأَنْ أَجْمَعَهُمَا؟ قَالَ: اجْمَعْهُمَا وَاذْبَحْ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، فَأَهْلَلْتُ بِهِمَا مَعًا، فَلَمَّا أَتَيْتُ الْعُذَيْبَ لَقِيَنِي سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ وَ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَأَنَا أُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: مَا هَذَا بِأَفْقَهَ مِنْ بَعِيرِهِ؟ قَالَ: فَكَأَنَّمَا أُلْقِيَ عَلَيَّ جَبَلٌ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي كُنْتُ رَجُلًا أَعْرَابِيًّا نَصْرَانِيًّا وَإِنِّي أَسْلَمْتُ وَأَنَا حَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ وَإِنِّي وَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَكْتُوبَيْنِ عَلَيَّ فَأَتَيْتُ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي، فَقَالَ لِي: اجْمَعْهُمَا وَاذْبَحْ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، وَإِنِّي أَهْلَلْتَ بِهِمَا مَعًا، فَقَالَ لِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابووائل کہتے ہیں کہ صبی بن معبد نے عرض کیا کہ میں ایک نصرانی بدو تھا میں نے اسلام قبول کیا تو اپنے خاندان کے ایک شخص کے پاس آیا جسے ہذیم بن ثرملہ کہا جاتا تھا میں نے اس سے کہا: ارے میاں! میں جہاد کا حریص ہوں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ حج و عمرہ میرے اوپر فرض ہیں، تو میرے لیے کیسے ممکن ہے کہ میں دونوں کو ادا کر سکوں، اس نے کہا: دونوں کو جمع کر لو اور جو ہدی میسر ہو اسے ذبح کرو، تو میں نے ان دونوں کا احرام باندھ لیا، پھر جب میں مقام عذیب پر آیا تو میری ملاقات سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان سے ہوئی اور میں دونوں کا تلبیہ پکار رہا تھا، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: یہ اپنے اونٹ سے زیادہ سمجھ دار نہیں، تو جیسے میرے اوپر پہاڑ ڈال دیا گیا ہو، یہاں تک کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے ان سے عرض کیا: امیر المؤمنین! میں ایک نصرانی بدو تھا، میں نے اسلام قبول کیا، میں جہاد کا خواہشمند ہوں لیکن دیکھ رہا ہوں کہ مجھ پر حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں، تو میں اپنی قوم کے ایک آدمی کے پاس آیا اس نے مجھے بتایا کہ تم ان دونوں کو جمع کر لو اور جو ہدی میسر ہو اسے ذبح کرو، چنانچہ میں نے دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تمہیں اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کی توفیق ملی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1799]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ أخرجه النسائي (2720 وسنده صحيح) ورواه ابن ماجه (2970 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10466) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ عِنْدِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: وَهُوَ بِالْعَقِيقِ، وَقَالَ: صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ، وَقَالَ: عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ" وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ: " وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آج رات میرے پاس میرے رب عزوجل کی جانب سے ایک آنے والا (جبرائیل) آیا (آپ اس وقت وادی عقیق ۱؎ میں تھے) اور کہنے لگا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھو، اور کہا: عمرہ حج میں شامل ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ولید بن مسلم اور عمر بن عبدالواحد نے اس حدیث میں اوزاعی سے یہ جملہ «وقل عمرة في حجة» (کہو! عمرہ حج میں ہے) نقل کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اس حدیث میں علی بن مبارک نے یحییٰ بن ابی کثیر سے «وقل عمرة في حجة» کا جملہ نقل ۲؎ کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1800]
💡 وضاحت:
۱؎: عقيق: مدینہ سے چار میل کی دوری پر ایک وادی ہے، اور اب شہر میں داخل ہے۔
۲؎: یہ جملہ احادیث میں تین طرح سے وارد ہوا ہے، مسکین کی روایت میں جسے انہوں نے اوزاعی سے روایت کیا ہے «قال عمرة في حجة» ماضی کے صیغہ کے ساتھ، اور ولید بن مسلم اور عبدالواحد کی روایت میں «وقل عمرة في حجة» امر کے صیغہ کے ساتھ، اور بخاری کی روایت میں «وقل عمرة في حجة» ہے «عمرة» اور «حجة» کے درمیان واو عاطفہ کے ساتھ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ وقل عمرة في حجة وهو الأولى
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1534)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 16 (1534)، سنن ابن ماجہ/المناسک 40 (2976)، (تحفة الأشراف: 10513)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/24) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِعُسْفَانَ، قَالَ لَهُ: سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلَجِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ لَنَا قَضَاءَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ أَدْخَلَ عَلَيْكُمْ فِي حَجِّكُمْ هَذَا عُمْرَةً فَإِذَا قَدِمْتُمْ فَمَنْ تَطَوَّفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ فَقَدْ حَلَّ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ".
سبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم عسفان میں پہنچے تو آپ سے سراقہ بن مالک مدلجی نے کہا: اللہ کے رسول! آج ایسا بیان فرمائیے جیسے ان لوگوں کو سمجھاتے ہیں جو ابھی پیدا ہوئے ہوں (بالکل واضح) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے عمرہ کو تمہارے حج میں داخل کر دیا ہے لہٰذا جب تم مکہ آ جاؤ تو جو بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لے تو وہ حلال ہو گیا سوائے اس کے جس کے ساتھ ہدی کا جانور ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1801]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3811)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/404)، سنن الدارمی/المناسک 38 (1899)، (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ. ح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ خَلَّادٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْمَعْنَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: " قَصَّرْتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ عَلَى الْمَرْوَةِ، أَوْ رَأَيْتُهُ يُقَصِّرُ عَنْهُ عَلَى الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ". قَالَ ابْنُ خَلَّادٍ: إِنَّ مُعَاوِيَةَ لَمْ يَذْكُرْ أَخْبَرَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے مروہ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تیر کی دھار سے کاٹے، (یا یوں ہے) میں نے آپ کو دیکھا کہ مروہ پر تیر کے پیکان سے آپ کے بال کترے جا رہے ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1802]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح بخاری میں صرف اتنا ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تیر کی دھار سے کاٹے، اس جملے سے کوئی اشکال نہیں پیدا ہوتا، مگر صحیح مسلم و دیگر کے الفاظ مروہ پر سے یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قارن تھے تو عمرہ کے بعد مروہ پر بال کاٹنے کا کیا مطلب؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معاملہ عمرہ جعرانہ کا ہے نہ کہ حجۃ الوداع کا، جیسا کہ علماء نے تصریح کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق وليس عند خ قوله أو رأتيه وهو الأصح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1730) صحيح مسلم (1246)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 127 (1730) (إلی قولہ: ’’بمشقص‘‘)، صحیح مسلم/الحج 33 (1246)، سنن النسائی/الحج 50 (2738)، 183 (2990)، (تحفة الأشراف: 11423)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/96، 97، 98، 102) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَعْنَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ، قَالَ لَهُ: " أَمَا عَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصِ أَعْرَابِيٍّ عَلَى الْمَرْوَةِ"، زَادَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ: لِحَجَّتِهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تمہیں نہیں معلوم کہ میں نے مروہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایک اعرابی کے تیر کی پیکان سے کترے۔ حسن کی روایت میں «لحجته» (آپ کے حج میں) ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1803]
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله أو لحجته فإنه شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ أنظر الحديث السابق (1802)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11423) (صحیح) ( لحجته کا لفظ صحیح نہیں بلکہ منکر ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، أَخْبَرَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: " أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِحَجٍّ".
مسلم قری سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا اور آپ کے صحابہ کرام نے حج کا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1804]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1238)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 30 (1239)، سنن النسائی/الحج 77 (2816)، (تحفة الأشراف: 6462)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/240) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَأَهْدَى وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْيَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَالَ لِلنَّاسِ: " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَهُ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَ بِالصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ، وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ"، وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ، فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يُحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، وَفَعَلَ النَّاسُ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنَ النَّاسِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں عمرے کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا تو آپ نے ہدی کے جانور تیار کئے، اور ذی الحلیفہ سے اپنے ساتھ لے کر گئے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرے کا تلبیہ پکارا پھر حج کا (یعنی پہلے «لبيك بعمرة» کہا پھر «لبيك بحجة» کہا) ۱؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی عمرے کو حج میں ملا کر تمتع کیا، تو لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے ہدی تیار کیا اور اسے لے گئے، اور بعض نے ہدی نہیں بھیجا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تو لوگوں سے فرمایا: تم میں سے جو ہدی لے کر آیا ہو تو اس کے لیے (احرام کی وجہ سے) حرام ہوئی چیزوں میں سے کوئی چیز حلال نہیں جب تک کہ وہ اپنا حج مکمل نہ کر لے، اور تم لوگوں میں سے جو ہدی لے کر نہ آیا ہو تو اسے چاہیئے کہ بیت اللہ کا طواف کرے، صفا و مروہ کی سعی کرے، بال کتروائے اور حلال ہو جائے، پھر حج کا احرام باندھے اور ہدی دے جسے ہدی نہ مل سکے تو ایام حج میں تین روزے رکھے اور سات روزے اس وقت جب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر آ جائے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ آئے تو آپ نے طواف کیا، سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا، پھر پہلے تین پھیروں میں تیز چلے اور آخری چار پھیروں میں عام چال، بیت اللہ کے طواف سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیم پر دو رکعتیں پڑھیں، پھر سلام پھیرا اور پلٹے تو صفا پر آئے اور صفا و مروہ میں سات بار سعی کی، پھر (آپ کے لیے محرم ہونے کی وجہ سے) جو چیز حرام تھی وہ حلال نہ ہوئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حج پورا کر لیا اور یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو اپنا ہدی نحر کر دیا، پھر لوٹے اور بیت اللہ کا طواف (افاضہ) کیا پھر ہر حرام چیز آپ کے لیے حلال ہو گئی اور لوگوں میں سے جنہوں نے ہدی دی اور اسے ساتھ لے کر آئے تو انہوں نے بھی اسی طرح کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1805]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعدد بیانات ہیں، ان کے درمیان تطبیق کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع میں صرف حج کا احرام باندھا، پھر وحی آ گئی تو عمرہ کو بھی شامل کر لیا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدی ساتھ لے کر نہیں گئے ہوتے تو پہلے عمرہ کرتے پھر حلال ہو کر حج کرتے (یعنی حج تمتع کرتے) جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا، خلاصہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج قران کیا تھا جیسا کہ دسیوں صحابہ کا بیان ہے، اس تفصیل کے مطابق ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عمرہ کا احرام پھر حج کا احرام باندھا خلاف واقعہ ہے جو ان کے اپنے علم کے مطابق ہے (ابتدائے امر کے مطابق ہے)، یا پھر ان کے بیان کی وہی تاویل ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے یعنی: یہاں تمتع سے مراد لغوی تمتع ہے نہ کہ اصطلاحی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق لكن قوله وبدأ رسول الله صلى الله عليه وسلم فأهل بالعمرة ثم أهل بالحج شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1691) صحيح مسلم (1227)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 104 (1691)، صحیح مسلم/الحج 24 (1227)،سنن النسائی/الحج 50 (2733)، (تحفة الأشراف: 6878)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 12(824)، سنن ابن ماجہ/المناسک 14 (2916)، مسند احمد (2/139)، سنن الدارمی/المناسک 84 (1972) (صحیح) (وبدأ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فأهل بالعمرة ثم أهل بالحج) یہ جملہ ابن قیم، ابن حجر، اور البانی کے یہاں شاذ ہے، (ملاحظہ ہو: فتح الباری، وزاد المعاد، وصحیح ابی داود 6؍ 68)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ قَدْ حَلُّوا وَلَمْ تُحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ فَقَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ الْهَدْيَ".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن آپ نے اپنے عمرے کا احرام نہیں کھولا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے سر میں تلبید کی تھی اور ہدی کو قلادہ پہنایا تھا تو میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہدی نحر نہ کر لوں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1806]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1566) صحيح مسلم (1229)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 34 (1566)، والمغازي 77 (4398)، واللباس 69 (5916)، صحیح مسلم/الحج 25 (1229)، سنن النسائی/الحج 40 (2681)، سنن ابن ماجہ/المناسک 72 (3046)، (تحفة الأشراف: 15800)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 58 (180)، مسند احمد (6/283، 284، 275) (صحیح)
25: باب الرَّجُلُ يُهِلُّ بِالْحَجِّ ثُمَّ يَجْعَلُهَا عُمْرَةً
باب: آدمی حج کا احرام باندھے پھر اسے عمرہ میں بدل دے اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ يَعْنِي ابْنَ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ كَانَ يَقُولُ فِيمَنْ حَجَّ ثُمَّ فَسَخَهَا بِعُمْرَةٍ: " لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ إِلَّا لِلرَّكْبِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سلیم بن اسود سے روایت ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں جو حج کی نیت کرے پھر اسے عمرے سے فسخ کر دے کہا کرتے تھے: یہ صرف اسی قافلہ کے لیے (مخصوص) تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1807]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ابوذر رضی اللہ عنہ کا اپنا خیال تھا نہ کہ واقعہ، جیسا کہ پچھلی حدیثوں سے واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن إسحاق عنعن ¤ ولأصل الحديث شواھد عند مسلم (1224) والحميدي (133،134) وغيرهما و فيھا غنية عن ھذا الحديث الضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 71
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11920)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 23 (1224)، سنن النسائی/الحج 77 (2812)، سنن ابن ماجہ/المناسک 42 (2985) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةٌ، أَوْ لِمَنْ بَعْدَنَا؟ قَالَ: " بَلْ لَكُمْ خَاصَّةٌ".
بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کا (عمرے کے ذریعے) فسخ کرنا ہمارے لیے خاص ہے یا ہمارے بعد والوں کے لیے بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ یہ تمہارے لیے خاص ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1808]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ أخرجه ابن ماجه (2984 وسنده حسن) الحارث بن بلال حسن الحديث وثقه الحاكم والذهبي وابن الجارود
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الحج 77 (2810)، سنن ابن ماجہ/المناسک 42 (2984)، (تحفة الأشراف: 2027)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/369)، سنن الدارمی/المناسک 37 (1897) (ضعیف) (اس کے راوی حارث لین الحدیث ہیں، اور ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے، اس لئے منکر ہے)
26: باب الرَّجُلِ يَحُجُّ عَنْ غَيْرِهِ
باب: حج بدل کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ تَسْتَفْتِيهِ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ"، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ کے پاس فتویٰ پوچھنے آئی تو فضل اسے دیکھنے لگے اور وہ فضل کو دیکھنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا منہ اس عورت کی طرف سے دوسری طرف پھیرنے لگے ۱؎، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر (عائد کردہ) فریضہ حج نے میرے والد کو اس حالت میں پایا ہے کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں، اونٹ پر نہیں بیٹھ سکتے کیا میں ان کی جانب سے حج کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور یہ واقعہ حجۃ الوداع میں پیش آیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1809]
💡 وضاحت:
۱؎: فضل بن عباس رضی اللہ عنہما خوبصورت اور جوان تھے اور وہ عورت بھی حسین تھی، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا رخ دوسری طرف پھیر دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1513) صحيح مسلم (1334)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 1 (1513)، وجزاء الصید 23 (1854)، 24 (1855)، والمغازي 77 (4399)، والاستئذان 2 (6228)، صحیح مسلم/الحج 71 (1334)، سنن النسائی/الحج 8 (2634)، 9 (2636)، 12 (2642)، (تحفة الأشراف: 5670، 6522)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 85 (928)، سنن ابن ماجہ/المناسک 10 (2909)، موطا امام مالک/الحج30 (97)، مسند احمد (1/219، 251، 329، 346، 359)، سنن الدارمی/الحج 23 (1873) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بِمَعْنَاهُ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ حَفْصٌ فِي حَدِيثِهِ: رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، أَنْهِ قَال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ، قَالَ: " احْجُجْ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ".
ابورزین رضی اللہ عنہ بنی عامر کے ایک فرد کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج کی طاقت رکھتے ہیں نہ عمرہ کرنے کی اور نہ سواری پر سوار ہونے کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے والد کی جانب سے حج اور عمرہ کرو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1810]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2528) ¤ أخرجه الترمذي (930 وسنده صحيح) والنسائي (2622 وسنده صحيح) وابن ماجه (2906 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (3040)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 87 (930)، سنن النسائی/الحج 2 (2622)، 10 (2638)، سنن ابن ماجہ/المناسک 10 (2906)، (تحفة الأشراف: 11173)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/10، 11، 12) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَ إِسْحَاقُ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا، يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، قَالَ: " مَنْ شُبْرُمَةُ؟" قَالَ: أَخٌ لِي، أَوْ قَرِيبٌ لِي، قَالَ: " حَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ"، قَالَ: لَا، قَالَ: " حُجَّ عَنْ نَفْسِكَ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے سنا: «لبيك عن شبرمة» حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: شبرمہ کون ہے؟، اس نے کہا: میرا بھائی یا میرا رشتے دار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے اپنا حج کر لیا ہے؟، اس نے جواب دیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اپنا حج کرو پھر (آئندہ) شبرمہ کی طرف سے کرنا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1811]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض علماء کے نزدیک حج بدل (دوسرے کی طرف سے حج کرنا) درست ہے، خواہ اپنی طرف سے حج نہ کر سکا ہو، بعض ائمہ کے نزدیک اگر وہ اپنی طرف سے حج نہیں کر سکا ہے تو دوسرے کی طرف سے حج بدل درست نہ ہو گا، اور یہی صحیح مذہب ہے، اس لئے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جو «لبيك عن شبرمة» کہہ رہا تھا حکم دیا: «حج عن نفسك ثم حج عن شبرمة» : پہلے اپنی طرف سے حج کرو پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (2529) ¤ وللحديث شاھد حسن لذاته عند الطبراني في الصغير (226/1) وشاھد آخر عند البيهقي (179/5، 180) والطحاوي في مشكل الآثار (381/6 تحت ح2548) وسنده صحيح موقوف وله حكم الرفع
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 9 (2903)، (تحفة الأشراف: 5564) (صحیح)
27: باب كَيْفَ التَّلْبِيَةُ
باب: تلبیہ (لبیک کہنے) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، " أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ"، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِي تَلْبِيَتِهِ: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا: «لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك» حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ستائش، نعمتیں اور فرماروائی تیری ہی ہے تیرا ان میں کوئی شریک نہیں۔ راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر تلبیہ میں اتنا مزید کہتے «لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير بيديك والرغباء إليك والعمل» حاضر ہوں تیری خدمت میں، حاضر ہوں، حاضر ہوں، نیک بختی حاصل کرتا ہوں، خیر تیرے ہاتھ میں ہے، تیری ہی طرف رغبت اور عمل ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1812]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1549) صحيح مسلم (1184)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 26 (1549)، واللباس 69(5951)، صحیح مسلم/الحج 3 (1184)، سنن النسائی/الحج 54 (2748، 2749)، (تحفة الأشراف: 8344)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 13 (825)، سنن ابن ماجہ/المناسک 15 (2918)، موطا امام مالک/الحج 9(28)، مسند احمد (2/3، 28، 28، 34، 41، 43، 47، 48، 53، 76، 77، 79، 131)، سنن الدارمی/المناسک 13 (1849) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ التَّلْبِيَةَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَالنَّاسُ يَزِيدُونَ ذَا الْمَعَارِجِ وَنَحْوَهُ مِنَ الْكَلَامِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ فَلَا يَقُولُ لَهُمْ شَيْئًا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا، پھر انہوں نے تلبیہ کا اسی طرح ذکر کیا جیسے ابن عمر کی حدیث میں ہے اور کہا: لوگ (اپنی طرف سے اللہ کی تعریف میں) «ذا المعارج» اور اس جیسے کلمات بڑھاتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنتے تھے لیکن آپ ان سے کچھ نہیں فرماتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1813]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خاموشی اور سکوت تلبیہ کے مخصوص الفاظ پر اضافہ کے جواز کی دلیل ہے، اگرچہ افضل وہی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً ثابت ہے اور جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مداومت کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ صححه ابن خزيمة (2626 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 15 (2919) (کلاھما بدون قولہ: ’’والناس یزیدون الخ)، (تحفة الأشراف: 2604)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 19(1540) (في سیاق حجة النبي صلی اللہ علیہ وسلم الطویل) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي وَمَنْ مَعِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالْإِهْلَالِ، أَوْ قَالَ: بِالتَّلْبِيَةِ يُرِيدُ أَحَدَهُمَا".
سائب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ ۱؎ اور ساتھ والوں کو «الإهلال» یا فرمایا «التلبية» میں آواز بلند کرنے کا حکم دوں ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1814]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے پتہ چلا کہ مردوں کے لئے تلبیہ میں آواز بلند کرنا مستحب ہے، «أصحابي» کی قید سے اس حکم سے عورتیں خارج ہو گئی ہیں ان کے لئے بہتر یہی ہے کہ بلند آواز سے تلبیہ نہ پکاریں۔
۲؎: اہلال اور تلبیہ دونوں ایک ہی معنی میں ہے، راوی کو شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلال کہا یا تلبیہ، مراد یہ ہے کہ دونوں میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایک ہی لفظ کہا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2549) ¤ أخرجه الترمذي (829 وسنده صحيح) والنسائي (2754 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 15 (829)، سنن النسائی/الحج 55 (2754)، سنن ابن ماجہ/المناسک 16 (2922)، (تحفة الأشراف: 3788)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 10 (34)، مسند احمد (4/55، 56)، سنن الدارمی/المناسک 14 (1850) (صحیح)
28: باب مَتَى يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ
باب: لبیک پکارنا کب بند کرے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ".
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1815]
💡 وضاحت:
۱؎: «حتى رمى جمرة العقبة» سے احمد اور اسحاق نے استدلال کیا ہے کہ تلبیہ کہنا جمرہ عقبہ کی رمی پوری کر لینے کے بعد موقوف کیا جائے گا، لیکن صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں «لم يزل يلبي حتى بلغ الجمرة» کے الفاظ آئے ہیں جس سے جمہور علماء نے استدلال کیا ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی کی پہلی کنکری کے ساتھ ہی تلبیہ بند کر دیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1685) صحيح مسلم (1280)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 22 (1543)، 93(1670)، 101(1685)، صحیح مسلم/الحج 45 (1280)، سنن الترمذی/الحج 78 (918)، سنن النسائی/الحج 216 (3057)، 228 (3081)، 229 (3084)، (تحفة الأشراف: 11050)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 69 (3040)، مسند احمد (1/210، 211، 212، 213، 214)، سنن الدارمی/المناسک 60(1943) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ مِنَّا الْمُلَبِّي وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف نکلے ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے اور کچھ «الله أكبر» کہہ رہے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1816]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1284)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 46 (1284)، (تحفة الأشراف: 7271)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الحج 191 (3001)، مسند احمد (2/22)، سنن الدارمی/المناسک 48 (1918) (صحیح)
29: باب مَتَى يَقْطَعُ الْمُعْتَمِرُ التَّلْبِيَةَ
باب: عمرہ کرنے والا تلبیہ کب بند کرے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُلَبِّي الْمُعْتَمِرُ حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَ هَمَّامٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، مَوْقُوفًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرہ کرنے والا حجر اسود کا استلام کرنے تک لبیک پکارے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالملک بن ابی سلیمان اور ہمام نے عطاء سے، عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1817]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث سندا ضعیف ہے، مگر بہت سارے علماء کا یہی قول ہے، بعض لوگ کہتے ہیں: مکہ کے مکانات پر نظر پڑتے ہی تلبیہ بند کر دے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ خانہ کعبہ پر نظر پڑتے ہی تلبیہ بند کر دے، اور یہ دعا پڑھے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام الخ» ۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (919) ¤ محمد بن أبي ليلي ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 71
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 79 (919)، (تحفة الأشراف: 5912) موقوفًا، و (5958) (ضعیف) (اس کے راوی’’محمد بن أبی لیلی‘‘ ضعیف ہیں)
30: باب الْمُحْرِمِ يُؤَدِّبُ غُلاَمَهُ
باب: محرم اپنے غلام کو جرم پر سزا دے تو کیسا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلْنَا، فَجَلَسَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي وَكَانَتْ زِمَالَةُ أَبِي بَكْرٍ وَزِمَالَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً مَعَ غُلَامٍ لِأَبِي بَكْرٍ، فَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ يَنْتَظِرُ أَنْ يَطْلُعَ عَلَيْهِ فَطَلَعَ وَلَيْسَ مَعَهُ بَعِيرُهُ، قَالَ: أَيْنَ بَعِيرُكَ؟ قَالَ: أَضْلَلْتُهُ الْبَارِحَةَ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَعِيرٌ وَاحِدٌ تُضِلُّهُ؟ قَالَ: فَطَفِقَ يَضْرِبُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ، وَيَقُولُ: " انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ مَا يَصْنَعُ"، قَالَ ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ: فَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ، يَقُولَ: " انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ مَا يَصْنَعُ" وَيَتَبَسَّمُ.
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو نکلے، جب ہم مقام عرج میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، ہم بھی اترے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں، اور میں اپنے والد کے پہلو میں بیٹھی۔ اس سفر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کے سامان اٹھانے کا اونٹ ایک ہی تھا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام کے پاس تھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ اس انتظار میں بیٹھے کہ وہ غلام آئے جب وہ آیا تو اس کے ساتھ اونٹ نہ تھا، انہوں نے پوچھا: تیرا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا کل رات وہ گم ہو گیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: ایک ہی اونٹ تھا اور وہ بھی تو نے گم کر دیا، پھر وہ اسے مارنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے اور فرما رہے تھے: دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے؟ (ابن ابی رزمہ نے کہا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ کچھ نہیں فرما رہے تھے کہ دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے اور آپ مسکرا رہے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1818]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3392) ¤ ابن إسحاق عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 71
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 21 (2933)، (تحفة الأشراف: 15715) (حسن)
31: باب الرَّجُلِ يُحْرِمُ فِي ثِيَابِهِ
باب: آدمی سلے ہوئے کپڑے میں احرام باندھ لے تو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ أَثَرُ خَلُوقٍ، أَوْ قَالَ: صُفْرَةٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟" قَالَ: " اغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الْخَلُوقِ، أَوْ قَالَ: أَثَرَ الصُّفْرَةِ، وَاخْلَعِ الْجُبَّةَ عَنْكَ وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا صَنَعْتَ فِي حَجَّتِكَ".
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ جعرانہ میں تھے، اس کے بدن پر خوشبو یا زردی کا نشان تھا اور وہ جبہ پہنے ہوئے تھا، پوچھا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کس طرح عمرہ کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی، جب وحی اتر چکی تو آپ نے فرمایا: عمرے کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ فرمایا: خلوق کا نشان، یا زردی کا نشان دھو ڈالو، جبہ اتار دو، اور عمرے میں وہ سب کرو جو حج میں کرتے ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1819]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1789) صحيح مسلم (1180) ¤ مشكوة المصابيح (2528)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 17 (1536) والعمرة 10(1789)، وجزاء الصید 19(1847)، والمغازي 56 (4329)، وفضائل القرآن 2 (4985)، صحیح مسلم/الحج 1 (1180)، سنن الترمذی/الحج 20(836)، سنن النسائی/الحج 29 (2669)، 44 (2710)، (تحفة الأشراف: 11836)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/222، 224) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، وَهُشيْمٌ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ فِيهِ: فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْلَعْ جُبَّتَكَ"، فَخَلَعَهَا مِنْ رَأْسِهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
اس سند سے بھی یعلیٰ سے یہی قصہ مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا جبہ اتار دو، چنانچہ اس نے اپنے سر کی طرف سے اسے اتار دیا، اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1820]
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ومن رأسه فإنه منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عطاء عن يعلي منقطع ¤ والحجاج بن أرطاة ضعيف مدلس (الفتح المبين في تحقيق طبقات المدلسين ص 70 وتحفة الأقوياء:75) و قال النووي: ضعيف عند الجمھور (المجموع شرح المھذب 1/ 274) و قال ابن حجر: فإن الأكثر علي تضعيفه (التلخيص الحبير 2/ 226 ح 962) ¤ و الحديث السابق (الأصل: 1819) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 72
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، سنن الترمذی/الحج 20 (835) سنن النسائی/الکبری/ فضائل القرآن (7981)، (من 1820 حتی 1822)، (تحفة الأشراف: 11836، 11844)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/224) (صحیح) (حدیث میں واقع یہ لفظ من رأسه منکر ہے) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 6؍ 84)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمَدَانِيُّ الرَّمْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ فِيهِ: " فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْزِعَهَا نَزْعًا وَيَغْتَسِلَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا" وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
اس سند سے بھی یعلیٰ بن منیہ ۱؎ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: «فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينزعها نزعا ويغتسل مرتين أو ثلاثا» یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اتار دے اور غسل کرے دو بار یا تین بار آپ نے فرمایا پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1821]
💡 وضاحت:
۱؎: منیہ یعلیٰ کی والدہ ہیں ان کے والد کا نام امیّہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (1819)، (تحفة الأشراف: 11836) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرِمٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ، وَقَدْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَهُوَ مُصَفِّرٌ لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ، وَسَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ.
یعلیٰ بن امیہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جعرانہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے عمرہ کا احرام اور جبہ پہنے ہوئے تھا، اور اس کی داڑھی و سر کے بال زرد تھے، اور راوی نے یہی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1822]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1180)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (1819)، (تحفة الأشراف: 11836) (صحیح)
32: باب مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ
باب: محرم کون کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَتْرُكُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ: " لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ وَلَا الْبُرْنُسَ وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا لِمَنْ لَا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ، فَمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ آپ نے فرمایا: نہ کرتا پہنے، نہ ٹوپی، نہ پائجامہ، نہ عمامہ (پگڑی)، نہ کوئی ایسا کپڑا جس میں ورس ۱؎ یا زعفران لگا ہو، اور نہ ہی موزے، سوائے اس شخص کے جسے جوتے میسر نہ ہوں، تو جسے جوتے میسر نہ ہوں وہ موزے ہی پہن لے، انہیں کاٹ ڈالے تاکہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1823]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک قسم کی خوشبو دار گھاس ہے جس سے کپڑے وغیرہ رنگے جاتے ہیں۔
۲؎: امام احمد کے نزدیک خف (چمڑے کا موزہ) کاٹنا ضروری نہیں، دیگر ائمہ کے نزدیک کاٹنا ضروری ہے، دلیل ان کی یہی حدیث ہے، اور امام احمد کی دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وہ حدیث ہے جس میں کاٹنے کا ذکر نہیں ہے، جب کہ وہ میدان عرفات کے موقع کی حدیث ہے، یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کی ناسخ ہے، اور ورس اور زعفران سے منع اس لئے کیا گیا کہ اس میں خوشبو ہوتی ہے، یہی حکم ہر اس رنگ کا ہے جس میں خوشبو ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5806) صحيح مسلم (1177)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 53 (134)، والصلاة 9 (366)، والحج 21 (1542)، وجزاء الصید 13 (1838)، 15(1842)، واللباس 8 (5794)، 13 (5803)، 15 (5806)، صحیح مسلم/الحج 1 (1177)، سنن النسائی/الحج 28 (2668)، (تحفة الأشراف: 6817، 8325)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 18 (833)، سنن ابن ماجہ/المناسک 19 (2929)، موطا امام مالک/الحج 3(8)، 4 (9)، مسند احمد (2/4، 8، 22، 29، 32، 34، 41، 54، 56، 59، 63، 65، 77، 119)، سنن الدارمی/المناسک 9 (1839) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ.
اس سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1824]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1542) صحيح مسلم (1177)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الحج 18 (1539)، صحیح مسلم/الحج 1 (1177)، سنن النسائی/ الحج 30 (2670)، سنن ابن ماجہ/ المناسک 19 (2929)، (2932)، (تحفة الأشراف: 8325)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 3 (8)، مسند احمد (2/63)، دی/ المناسک 9 (1839) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ: " وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْحَرَامُ وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ: حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ عَلَى مَا قَالَ اللَّيْثُ، وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَ مَالِكٌ وَ أَيُّوبُ مَوْقُوفًا، وَ إِبْرَاهِيمُ بنُ سَعِيدٍ المَدِيِنيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " الْمُحْرِمَةُ لَا تَنْتَقِبُ وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَدِينِيُّ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، لَيْسَ لَهُ كَبِيرُ حَدِيثٍ.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے، راوی نے البتہ اتنا اضافہ کیا ہے کہ محرم عورت منہ پر نہ نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حاتم بن اسماعیل اور یحییٰ بن ایوب نے اس حدیث کو موسی بن عقبہ سے، اور موسیٰ نے نافع سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے لیث نے کہا ہے، اور اسے موسیٰ بن طارق نے موسیٰ بن عقبہ سے ابن عمر پر موقوفاً روایت کیا ہے، اور اسی طرح اسے عبیداللہ بن عمر اور مالک اور ایوب نے بھی موقوفاً روایت کیا ہے، اور ابراہیم بن سعید المدینی نے نافع سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ محرم عورت نہ تو منہ پر نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابراہیم بن سعید المدینی ایک شیخ ہیں جن کا تعلق اہل مدینہ سے ہے ان سے زیادہ احادیث مروی نہیں، یعنی وہ قلیل الحدیث ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1825]
💡 وضاحت:
۱؎: احرام کی حالت میں عورتوں کو اپنے چہرے پر’ ’ نقاب لگانا منع ہے، مگر حدیث میں جس نقاب کا ذکر ہے وہ چہرے پر باندھا جاتا تھا، برصغیر ہند و پاک کے موجودہ برقعوں کا نقاب چادر کے پلو کی طرح ہے جس کو ازواج مطہرات مردوں کے گزرنے کے وقت چہرے پر لٹکا لیا کرتی تھیں (دیکھئے حدیث نمبر: ۱۸۳۳)، اس لئے اس نقاب کو بوقت ضرورت عورتیں چہرے پر لٹکا سکتی ہیں، اور چوں کہ اس وقت حج میں ہر وقت اجنبی (غیر محرم) مردوں کا سامنا پڑتا ہے، اس لئے ہر وقت اس نقاب کو چہرے پر لٹکائے رکھ سکتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1838)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الصید 13 (1838)، سنن النسائی/الحج 33 (2674)، سنن الترمذی/الحج 18 (833)، (تحفة الأشراف: 8275)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/119) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَدِينِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُحْرِمَةُ لَا تَنْتَقِبُ وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: محرم عورت نہ تو منہ پر نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1826]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ الحديث السابق (1825) شاھد له
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7470)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/41) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَإِنَّ نَافِعًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى النِّسَاءَ فِي إِحْرَامِهِنَّ عَنْ الْقُفَّازَيْنِ وَالنِّقَابِ وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذَلِكَ مَا أَحَبَّتْ مِنْ أَلْوَانِ الثِّيَابِ مُعَصْفَرًا أَوْ خَزًّا أَوْ حُلِيًّا أَوْ سَرَاوِيلَ أَوْ قَمِيصًا أَوْ خُفًّا". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، إِلَى قَوْلِهِ: " وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ" وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے عورتوں کو حالت احرام میں دستانے پہننے، نقاب اوڑھنے، اور ایسے کپڑے پہننے سے جن میں ورس یا زعفران لگا ہو منع فرمایا، البتہ ان کے علاوہ جو رنگین کپڑے چاہے پہنے جیسے زرد رنگ والے کپڑے، یا ریشمی کپڑے، یا زیور، یا پائجامہ، یا قمیص، یا کرتا، یا موزہ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عبدہ بن سلیمان اور محمد بن سلمہ نے ابن اسحاق سے ابن اسحاق نے نافع سے حدیث «وما مس الورس والزعفران من الثياب» تک روایت کیا ہے اور اس کے بعد کا ذکر ان دونوں نے نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1827]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2689)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 13 (1838تعلیقاً)، (تحفة الأشراف: 8405)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 18 (833)، مسند احمد (2/22، 32، 119) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ وَجَدَ الْقُرَّ، فَقَالَ: " أَلْقِ عَلَيَّ ثَوْبًا يَا نَافِعُ، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا، فَقَالَ: تُلْقِي عَلَيَّ هَذَا وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهُ الْمُحْرِمُ".
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سردی محسوس کی تو انہوں نے کہا: نافع! میرے اوپر کپڑا ڈال دو، میں نے ان پر برنس ڈال دی، تو انہوں نے کہا: تم میرے اوپر یہ ڈال رہے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو اس کے پہننے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1828]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2692) ¤ أخرجه الحميدي (696 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7585)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/141، 148) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَا يَجِدُ الْإِزَارَ، وَالْخُفُّ لِمَنْ لَا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيثُ أَهْلِ مَكَّةَ وَمَرْجِعُهُ إِلَى الْبَصْرَةِ إِلَى جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَالَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْهُ ذِكْرُ السَّرَاوِيلِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْقَطْعَ فِي الْخُفِّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پاجامہ وہ پہنے جسے ازار نہ ملے اور موزے وہ پہنے جسے جوتے نہ مل سکیں۔ (ابوداؤد کہتے ہیں یہ اہل مکہ کی حدیث ہے ۱؎ اس کا مرجع بصرہ میں جابر بن زید ہیں ۲؎ اور جس چیز کے ساتھ وہ منفرد ہیں وہ سراویل کا ذکر ہے اور اس میں موزے کے سلسلہ میں کاٹنے کا ذکر نہیں)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1829]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ سلیمان بن حرب مکی ہیں اور مصنف نے انہیں سے روایت کی ہے۔
۲؎: کیونکہ اس سند کا محور جن پر یہ سند گھومتی ہے جابر بن زید ہیں اور وہ بصری ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1841) صحيح مسلم (1178)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 15 (1841)، 16 (1843)، واللباس 14 (5804)، 37 (3853)، صحیح مسلم/الحج 1 (1178)، سنن الترمذی/الحج19 (834)، سنن النسائی/الحج 32 (2672، 2673)، 37 (2680)، والزینة 100 (5327)، سنن ابن ماجہ/المناسک 20 (2931)، (تحفة الأشراف: 5375)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/215، 221، 228، 279، 337)، سنن الدارمی/المناسک 9 (1840) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْجُنَيْدِ الدَّامِغَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهَا، قَالَتْ: " كُنَّا نَخْرُجُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَنُضَمِّدُ جِبَاهَنَا بِالسُّكِّ الْمُطَيَّبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ فَإِذَا عَرِقَتْ إِحْدَانَا سَالَ عَلَى وَجْهِهَا، فَيَرَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَنْهَاهَا".
عائشہ بنت طلحہ کا بیان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلتے تو ہم اپنی پیشانی پر خوشبو کا لیپ لگاتے تھے جب پسینہ آتا تو وہ خوشبو ہم میں سے کسی کے منہ پر بہہ کر آ جاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھتے لیکن منع نہ کرتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1830]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ خوشبو احرام سے پہلے کی ہوتی تھی اس لئے منع کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17878)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/79) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: ذَكَرْتُ لِابْنِ شِهَابٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ، يَعْنِي يَقْطَعُ الْخُفَّيْنِ لِلْمَرْأَةِ الْمُحْرِمَةِ، ثُمَّ حَدَّثَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ" رَخَّصَ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُفَّيْنِ"، فَتَرَكَ ذَلِكَ.
محمد بن اسحاق کہتے ہیں میں نے ابن شہاب سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایسا ہی کرتے تھے یعنی محرم عورت کے موزوں کو کاٹ دیتے ۱؎، پھر ان سے صفیہ بنت ابی عبید نے بیان کیا کہ ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں کے سلسلے میں عورتوں کو رخصت دی ہے تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1831]
💡 وضاحت:
۱؎: اس باب کی پہلی روایت کے عموم سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ سمجھا تھا کہ یہ حکم مرد اورعورت دونوں کو شامل ہے اسی لئے وہ محرم عورت کے موزوں کو کاٹ دیتے تھے، بعد میں جب انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا والی روایت سنی تو اپنے اس فتویٰ سے رجوع کر لیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17867)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/29، 35، 6/35) (حسن) (محمد بن اسحاق کی یہ روایت معنعن نہیں ہے بلکہ اسے انہوں نے زہری سے بالمشافہہ اخذ کیا ہے، اس لئے حسن ہے)
33: باب الْمُحْرِمِ يَحْمِلُ السِّلاَحَ
باب: محرم ہتھیار ساتھ رکھے اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: " لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ، صَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا إِلَّا بِجُلْبَانِ السِّلَاحِ"، فَسَأَلْتُهُ: مَا جُلْبَانُ السِّلَاحِ؟، قَالَ: " الْقِرَابُ بِمَا فِيهِ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والوں سے صلح کی تو آپ نے ان سے اس شرط پر مصالحت کی کہ مسلمان مکہ میں جلبان السلاح کے ساتھ ہی داخل ہوں گے ۱؎ تو میں نے ان سے پوچھا: «جلبان السلاح» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: «جلبان السلاح» میان کا نام ہے اس چیز سمیت جو اس میں ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1832]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان کی تلواریں میان کے اندر ہی رہیں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2298) صحيح مسلم (1783)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 17 (1844)، والصلح 6 (2698)، والجزیة 19 (3184)، والمغازي 43 (4251)، صحیح مسلم/الجہاد 34 (1783)، (تحفة الأشراف: 1871)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/29، 4/289، 291)، سنن الدارمی/السیر 64 (2549) (صحیح)
34: باب فِي الْمُحْرِمَةِ تُغَطِّي وَجْهَهَا
باب: محرم عورت اپنا منہ ڈھانپے اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمَاتٌ، فَإِذَا حَاذَوْا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلَى وَجْهِهَا، فَإِذَا جَاوَزُونَا كَشَفْنَاهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سوار ہمارے سامنے سے گزرتے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوتے، جب سوار ہمارے سامنے آ جاتے تو ہم اپنے نقاب اپنے سر سے چہرے پر ڈال لیتے اور جب وہ گزر جاتے تو ہم اسے کھول لیتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1833]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (2935) ¤ يزيد بن أبي زياد ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 72
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 23 (2935)، (تحفة الأشراف: 17577)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/30) (حسن) (اس کے راوی یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں، لیکن اس باب میں اسماء کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الالبانی 433)
35: باب فِي الْمُحْرِمِ يُظَلَّلُ
باب: محرم پر سایہ کرنا کیسا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ حَدَّثَتْهُ، قَالَتْ: " حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ وَ بِلَالًا وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ لِيَسْتُرَهُ مِنَ الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ".
ام حصین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کیا تو میں نے اسامہ اور بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان میں سے ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے تھے، اور دوسرے اپنا کپڑا اٹھائے تھے تاکہ وہ آپ پر دھوپ سے سایہ کر سکیں ۱؎ یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1834]
💡 وضاحت:
۱؎: محرم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا سر کھولے رکھے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سخت دھوپ میں چھتری یا خیمہ سے فائدہ نہ اٹھائے، گاڑیوں میں سفر نہ کرے، یہ چیزیں اس کے سر سے چپکی اور متصل نہیں رہتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1298)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 51 (1298)، سنن النسائی/الحج 220 (3062)، (تحفة الأشراف: 18310)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/402) (صحیح)
36: باب الْمُحْرِمِ يَحْتَجِمُ
باب: محرم پچھنا لگوائے تو کیسا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور آپ حالت احرام میں تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1835]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1835) صحيح مسلم (1202)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 11 (1835)، الصوم 32 (1938)، الطب 12 (5695)، 15(5700)، صحیح مسلم/الحج 11 (1202)، سنن الترمذی/الحج 22 (839)، الصوم 61 (775)، سنن النسائی/الحج 92 (2849)، (تحفة الأشراف: 5737)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 87 (3081)، مسند احمد (1/215، 221، 222، 236، 248، 249، 260، 283، 286، 292، 306، 315، 333، 346، 351، 372، 374)، سنن الدارمی/المناسک 20(1860) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي رَأْسِهِ مِنْ دَاءٍ كَانَ بِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیماری کی وجہ سے جو آپ کو تھی اپنے سر میں پچھنا لگوایا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1836]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5700) ¤ مشكوة المصابيح (4543)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب 15 (5700)، سنن النسائی/ الکبری/ الطب (7599)، (تحفة الأشراف: 6226)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/236، 249، 259، 272) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ، قَالَ: ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ أَرْسَلَهُ، يَعْنِي عَنْ قَتَادَةَ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنے قدم کی پشت پر پچھنا لگوایا، آپ احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد کو کہتے سنا کہ ابن ابی عروبہ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے یعنی قتادہ سے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1837]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر پچھنے (سینگی) لگانے میں بال اتروانا پڑے تو فدیہ لازم ہوگا، اسی لئے بعض علماء نے سرے سے محرم کے لئے پچھنا لگوانے کو مکروہ جانا ہے، ورنہ حقیقت میں حالت احرام میں پچھنا لگوانا مکروہ نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (2852) ¤ قتادة مدلس وعنعن ¤ وللحديث شاھد ضعيف يأتي(3863) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 72
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الشمائل 49 (348)، سنن النسائی/الحج 94 (2852)، (تحفة الأشراف: 1335)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/164، 267) (صحیح)
37: باب يَكْتَحِلُ الْمُحْرِمُ
باب: محرم سرمہ لگائے تو کیسا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: " اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ عَيْنَيْهِ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، قَالَ سُفْيَانُ: وَهُوَ أَمِيرُ الْمَوْسِمِ مَا يَصْنَعُ بِهِمَا؟ قَالَ: اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر کی دونوں آنکھیں دکھنے لگیں تو انہوں نے ابان بن عثمان کے پاس (پوچھنے کے لیے اپنا آدمی) بھیجا کہ وہ اپنی آنکھوں کا کیا علاج کریں؟ (سفیان کہتے ہیں: ابان ان دونوں حج کے امیر تھے) تو انہوں نے کہا: ان دونوں پر ایلوا کا لیپ لگا لو، کیونکہ میں نے عثمان سے سنا ہے وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر رہے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1838]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1204)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 12 (1204)، سنن الترمذی/الحج 106 (952)، سنن النسائی/الحج 45 (2712)، (تحفة الأشراف: 9777)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/59، 65، 68، 69)، سنن الدارمی/المناسک 83 (1971) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
اس سند سے بھی نبیہ بن وہب سے یہی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1839]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ أنظر الحديث السابق (1838)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9777) (صحیح)
38: باب الْمُحْرِمِ يَغْتَسِلُ
باب: محرم غسل کرے تو کیسا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ اخْتَلَفَا بِالْأَبْوَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، فَأَرْسَلَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فَوَجَدَهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يُسْتَرُ بِثَوْبٍ، قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ قَالَ: فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ، ثُمَّ قَالَ: لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ اصْبُبْ، قَالَ: فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ حَرَّكَ أَبُو أَيُّوبَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن حنین سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کے مابین مقام ابواء میں اختلاف ہو گیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم سر دھو سکتا ہے، مسور نے کہا: محرم سر نہیں دھو سکتا، تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں (ابن حنین کو) ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو آپ نے انہیں دو لکڑیوں کے درمیان کپڑے کی آڑ لیے ہوئے نہاتے پایا، ابن حنین کہتے ہیں: میں نے سلام کیا تو انہوں نے پوچھا: کون؟ میں نے کہا: میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے آپ کے پاس عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھیجا ہے کہ میں آپ سے معلوم کروں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں اپنے سر کو کیسے دھوتے تھے؟ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اسے اس قدر جھکایا کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا، پھر ایک آدمی سے جو ان پر پانی ڈال رہا تھا، کہا: پانی ڈالو تو اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا، پھر ایوب نے اپنے ہاتھوں سے سر کو ملا، اور دونوں ہاتھوں کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے اور بولے ایسا ہی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1840]
💡 وضاحت:
۱؎: حالت احرام میں صرف پانی سے سر کا دھونا جائز ہے کسی بھی ایسی چیز سے اجتناب ضروری ہے جس سے جؤوں کے مرنے کا خوف ہو اسی طرح سر دھلتے وقت بالوں کو اتنا زور سے نہ ملے کہ وہ گرنے لگیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1840) صحيح مسلم (1205)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 14 (1840)، صحیح مسلم/الحج 13 (1205)، سنن النسائی/الحج 27 (2666)، سنن ابن ماجہ/المناسک 22 (2934)، موطا امام مالک/الحج 2 (4)، (تحفة الأشراف: 3463)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/416، 418، 421)، سنن الدارمی/المناسک 6 (1834)، (صحیح)
39: باب الْمُحْرِمِ يَتَزَوَّجُ
باب: محرم شادی کرے تو کیسا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ أَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ يَسْأَلُهُ وَ أَبَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ وَهُمَا مُحْرِمَانِ: إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُنْكِحَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ ابْنَةَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ تَحْضُرَ ذَلِكَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ، وَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبِي عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنْكِحُ".
نبیہ بن وہب جو بنی عبدالدار کے فرد ہیں سے روایت ہے کہ عمر بن عبیداللہ نے انہیں ابان بن عثمان بن عفان کے پاس بھیجا، ابان اس وقت امیر الحج تھے، وہ دونوں محرم تھے، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں طلحہ بن عمر کا شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے نکاح کر دوں، میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اس میں شریک رہو، ابان نے اس پر انکار کیا اور کہا کہ میں نے اپنے والد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: محرم نہ خود نکاح کرے اور نہ کسی دوسرے کا نکاح کرائے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1841]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1409)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح 5 (1409)، سنن الترمذی/الحج 23 (840)، سنن النسائی/الحج 91 (2845)، والنکاح 38 (3277)، سنن ابن ماجہ/النکاح 45 (1966)، الحج 22 (2934)، (تحفة الأشراف: 9776)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الحج 22 (70)، مسند احمد (1/57، 64، 69، 73)، سنن الدارمی/المناسک 21 (1864) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، ويَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَ مِثْلَهُ، زَادَ: " وَلَا يَخْطُبُ".
اس سند سے بھی عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا پھر راوی نے اسی کے مثل ذکر کیا البتہ اس میں انہوں نے «ولا يخطب» (نہ شادی کا پیغام دے) کے لفظ کا اضافہ کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1842]
💡 وضاحت:
۱؎: احرام کی حالت میں نہ تو محرم خود اپنا نکاح کر سکتا ہے نہ ہی دوسرے کا نکاح کرا سکتا ہے، عثمان رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اس سلسلے میں قانون کی حیثیت رکھتی ہے، جس میں کسی اور بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے، رہا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان (جو حدیث نمبر: ۱۸۴۴ میں آرہا ہے) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالت احرام میں نکاح کیا تو یہ ان کا وہم ہے (دیکھئے نمبر: ۱۸۴۵)، خود ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا اور ان کا نکاح کرانے والے ابورافع رضی اللہ عنہ کا بیان اس کے برعکس ہے کہ یہ نکاح مقام سرف میں حلال رہنے کی حالت میں ہوا، تو صاحب معاملہ کا بیان زیادہ معتبر ہوتا ہے، دراصل ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مکہ نہ جا کر صرف ہدی (منی میں ذبح کیا جانے والا جانور) بھیج دینے کو بھی احرام سمجھا، حالاں کہ یہ احرام نہیں ہوتا، اور یہ نکاح اس حالت میں ہو رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کرکے ہدی بھیج دی اور گھر رہ گئے، اور بقول عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر احرام کی کوئی بات لاگو نہیں کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (1841)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9776) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ابْنِ أَخِي مَيْمُونَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ حَلَالَانِ بِسَرِفَ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا، اور ہم اس وقت مقام سرف میں حلال تھے (یعنی احرام نہیں باندھے تھے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1843]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1411)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح 5 (1411)، سنن الترمذی/الحج 24 (845)، سنن النسائی/ الکبری/ النکاح (5404)، سنن ابن ماجہ/النکاح 45 (1964)، (تحفة الأشراف: 18082)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/332، 333، 335)، سنن الدارمی/ المناسک 21 (1865) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالت احرام میں نکاح کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1844]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4258)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 12 (1837)، والمغازي 43 (4258)، والنکاح 30 (5114)، سنن الترمذی/الحج 24 (843)، (تحفة الأشراف:5990)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 5 (1410)، سنن النسائی/الحج 90 (2843، 2844)، والنکاح 37 (3273)، سنن ابن ماجہ/النکاح 45 (1965)، مسند احمد (1/22، 245، 354، 360، 383)، سنن الدارمی/المناسک 21 (1863) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: وَهِمَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي تَزْوِيجِ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.
سعید بن مسیب کہتے ہیں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے) حالت احرام میں نکاح کے سلسلے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کو وہم ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1845]
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ”رجل“ لم أعرفه،والثوري عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 72
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:5990) (صحیح)
40: باب مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ
باب: محرم کون کون سا جانور قتل کر سکتا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ، فَقَالَ: " خَمْسٌ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِهِنَّ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحِلِّ وَالْحُرُمِ: الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْحِدَأَةُ وَالْغُرَابُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کون کون سا جانور قتل کر سکتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ہیں جنہیں حل اور حرم دونوں جگہوں میں مارنے میں کوئی حرج نہیں: بچھو، چوہیا، چیل، کوا اور کاٹ کھانے والا کتا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1846]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1199)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 9 (1199)، سنن النسائی/الحج 88 (2838)، سنن ابن ماجہ/المناسک 91 (3088)، (تحفة الأشراف: 6825)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 7 (1826)، وبدء الخلق 16 (3315)، موطا امام مالک/الحج 28(88، 89)، مسند احمد (2/8، 32، 37، 48، 50، 52، 54، 57، 65، 77)، سنن الدارمی/ المناسک 19 (1857) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَمْسٌ قَتْلُهُنَّ حَلَالٌ فِي الْحُرُمِ: الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْحِدَأَةُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں حرم میں بھی مارنا حلال ہے: سانپ، بچھو، کوا، چیل، چوہیا، اور کاٹ کھانے والا کتا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1847]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ الحديث السابق (1846) شاھد له
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12866) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ، قَالَ: " الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفُوَيْسِقَةُ وَيَرْمِي الْغُرَابَ وَلَا يَقْتُلُهُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحِدَأَةُ وَالسَّبُعُ الْعَادِي".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: محرم کون کون سا جانور مار سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: سانپ، بچھو، چوہیا کو (مار سکتا ہے) اور کوے کو بھگا دے، اسے مارے نہیں، اور کاٹ کھانے والے کتے، چیل اور حملہ کرنے والے درندے کو (مار سکتا ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1848]
قال الشيخ الألباني: ضعيف وقوله يرمي الغربا ولا يقتله منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (838) ابن ماجه (3089) ¤ يزيد: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 72
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 21 (838)، سنن ابن ماجہ/المناسک 91 (3089)، (تحفة الأشراف: 4133)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/104، 3/3، 32، 79) (ضعیف) وقولہ: ’’یرمي الغراب ولا یقتلہ‘‘ منکر (یزید ضعیف ہیں)
41: باب لَحْمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ
باب: محرم کے لیے شکار کا گوشت کھانا کیسا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ الْحَارِثُ خَلِيفَةَ عُثْمَانَ عَلَى الطَّائِفِ فَصَنَعَ لِعُثْمَانَ طَعَامًا فِيهِ مِنَ الْحَجَلِ وَالْيَعَاقِيبِ وَلَحْمِ الْوَحْشِ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَجَاءَهُ الرَّسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْبِطُ لِأَبَاعِرَ لَهُ فَجَاءَهُ وَهُوَ يَنْفُضُ الْخَبَطَ عَنْ يَدِهِ، فَقَالُوا لَهُ: كُلْ، فَقَالَ: " أَطْعِمُوهُ قَوْمًا حَلَالًا فَإِنَّا حُرُمٌ"، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنْشُدُ اللَّهَ مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ أَشْجَعَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى إِلَيْهِ رَجُلٌ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ؟ قَالُوا: نَعَمْ.
عبداللہ بن حارث سے روایت ہے (حارث طائف میں عثمان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ تھے) وہ کہتے ہیں حارث نے عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا تیار کیا، اس میں چکور ۱؎، نر چکور اور نیل گائے کا گوشت تھا، وہ کہتے ہیں: انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا چنانچہ قاصد ان کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ اپنے اونٹوں کے لیے چارہ تیار کر رہے ہیں، اور اپنے ہاتھ سے چارا جھاڑ رہے تھے جب وہ آئے تو لوگوں نے ان سے کہا: کھاؤ، تو وہ کہنے لگے: لوگوں کو کھلاؤ جو حلال ہوں (احرام نہ باندھے ہوں) میں تو محرم ہوں تو انہوں نے کہا: میں قبیلہ اشجع کے ان لوگوں سے جو اس وقت یہاں موجود ہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے نیل گائے کا پاؤں ہدیہ بھیجا تو آپ نے کھانے سے انکار کیا کیونکہ آپ حالت احرام میں تھے؟ لوگوں نے کہا: ہاں ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1849]
💡 وضاحت:
۱؎: تیتر کے قسم کا ایک پہاڑی خوبصورت و خوش آواز پرندہ ہے، یہ چاندنی رات میں خوب چہچہاتا ہے اس لئے اسے چاند کا عاشق کہتے ہیں۔
۲؎: محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنا یا کھانا دونوں ممنوع ہے، اسی طرح اگر کسی غیر محرم آدمی نے خشکی کا شکار خاص کر محرم کے لئے کیا ہو تو بھی محرم کو اس کا کھانا ممنوع ہے، البتہ اگر حلال آدمی نے شکار اپنے لئے کیا ہو اور کسی محرم نے اس میں اشارہ کنایہ تک سے بھی تعاون نہیں کیا ہو، پھر اس میں سے کسی محرم کو ہدیہ پیش کیا ہو تو ایسے شکار کا کھانا جائز ہے، اس باب میں جتنی بھی روایات آئی ہیں ان سب کا یہی خلاصہ ہے، اور اس لحاظ سے ان میں کوئی تعارض نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ حميد الطويل مدلس (طبقات المدلسين 3/71) وعنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 72
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10165)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/100، 103) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ إِلَيْهِ عَضُوُ صَيْدٍ فَلَمْ يَقْبَلْهُ؟ وَقَالَ: " إِنَّا حُرُمٌ"، قَالَ: نَعَمْ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: زید بن ارقم! کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کا دست ہدیہ دیا گیا تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا، اور فرمایا: ہم احرام باندھے ہوئے ہیں؟، انہوں نے جواب دیا: ہاں (معلوم ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1850]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ أخرجه النسائي (2823 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الحج 79 (2823)، (تحفة الأشراف: 3677)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 8 (1195)، مسند احمد (4/367، 369، 371) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الْإِسْكَنْدَرَانِيَّ الْقَارِيَّ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ". قَالَ أَبُو دَاوُد: إِذَا تَنَازَعَ الْخَبَرَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْظَرُ بِمَا أَخَذَ بِهِ أَصْحَابُهُ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: خشکی کا شکار تمہارے لیے اس وقت حلال ہے جب تم خود اس کا شکار نہ کرو اور نہ تمہارے لیے اس کا شکار کیا جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب دو روایتیں متعارض ہوں تو دیکھا جائے گا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل کس کے موافق ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1851]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (846) نسائي (2830) ¤ المطلب لم يسمع ھذا الحديث من جابر رضي اللّٰه عنه كما قال أبو حاتم الرازي (المراسيل ص 210) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 72
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 25 (846)، سنن النسائی/الحج 81 (2830)، (تحفة الأشراف: 3098)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/362، 387، 389) (ضعیف) (عمرو بن أبی عمرو اور مطلب میں کلام ہے لیکن اگلی حدیث سے اس کے معنی کی تائید ہو رہی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، قَالَ: فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا، فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ تَعَالَى".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، مکہ کا راستہ طے کرنے کے بعد اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے وہ پیچھے رہ گئے، انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا، پھر اچانک انہوں نے ایک نیل گائے دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور ساتھیوں سے کوڑا مانگا، انہوں نے انکار کیا، پھر ان سے برچھا مانگا تو انہوں نے پھر انکار کیا، پھر انہوں نے نیزہ خود لیا اور نیل گائے پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ساتھیوں نے اس میں سے کھایا اور بعض نے انکار کیا، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ملے تو آپ سے اس بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک کھانا تھا جو اللہ نے تمہیں کھلایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1852]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2914) صحيح مسلم (1196)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 2 (1821)، 5 (1824)، والھبة 3 (2570)، والجہاد 46 (2854)، 88 (2914)، والأطعمة 19 (5407)، والذبائح 10 (5490)، 11 (5491)، صحیح مسلم/الحج 8 (1196)، سنن الترمذی/الحج 25 (847)، سنن النسائی/الحج 78 (2818)، سنن ابن ماجہ/المناسک 93 (3093)، (تحفة الأشراف:12131)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 24(76)، مسند احمد (5/300، 307)، سنن الدارمی/المناسک 22 (1867) (صحیح)
42: باب فِي الْجَرَادِ لِلْمُحْرِمِ
باب: محرم کے لیے ٹڈی کا شکار جائز ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ جَابَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْجَرَادُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹڈیاں سمندر کے شکار میں سے ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1853]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جس طرح سمندر کا شکار محرم کے لئے جائز ہے اسی طرح ٹڈی کا شکار بھی جائز ہے (مگر یہ حدیث ضعیف ہے)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2701) ¤ ميمون بن جابان وثقه العجلي وابن حبان والذهبي في الكاشف فحديثه لا ينزل عن درجة الحسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14675، 19238) (ضعیف) (اس کے راوی میمون لین الحدیث ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَصَبْنَا صِرْمًا مِنْ جَرَادٍ، فَكَانَ رَجُلٌ مِنَّا يَضْرِبُ بِسَوْطِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ هَذَا لَا يَصْلُحُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ" إِنَّمَا هُوَ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ". سَمِعْت أَبَا دَاوُد، يَقُولُ: أَبُو الْمُهَزِّمِ ضَعِيفٌ وَالْحَدِيثَانِ جَمِيعًا وَهْمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں ٹڈیوں کا ایک جھنڈ ملا، ہم میں سے ایک شخص انہیں اپنے کوڑے سے مار رہا تھا، اور وہ احرام باندھے ہوئے تھا تو اس سے کہا گیا کہ یہ درست نہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ تو سمندر کے شکار میں سے ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابومہزم ضعیف ہیں اور دونوں روایتیں راوی کا وہم ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1854]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ ترمذي (850) ابن ماجه (3222) ¤ أبو المھزم: متروك (تق: 8397) وقال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 10 / 287) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 27 (850)، سنن ابن ماجہ/الصید 9 (3222)، (تحفة الأشراف: 14832)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/306، 364، 374، 407) (ضعیف جدا) (اس کے راوی ابو المہزم ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ جَابَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: " الْجَرَادُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ".
کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ٹڈیاں سمندر کے شکار میں سے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1855]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ ميمون بن جابان وثقه العجلي وابن حبان والذهبي في الكاشف فحديثه لا ينزل عن درجة الحسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14675، 19238) (ضعیف) (اس کے راوی میمون ضعیف ہیں)
43: باب فِي الْفِدْيَةِ
باب: محرم کے فدیہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الطَّحَّانِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ: " قَدْ آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟" قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْلِقْ ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں تمہارے سر کی جوؤں نے ایذا دی ہے؟ کہا: ہاں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سر منڈوا دو، پھر ایک بکری ذبح کرو، یا تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1856]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث آیت کریمہ «فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضاً أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ» (سورۃ بقرۃ: ۱۹۶) کی تفسیر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1814) صحيح مسلم (1201)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المحصر 5 (1814)، 6 (1815)، 7 (1816)، 8 (1817)، والمغازي 35 (4159)، وتفسیر البقرة 32 (4517)، والمرضی 16 (5665)، والطب 16 (5703)، وکفارات الأیمان 1 (6808)، صحیح مسلم/الحج10 (1201)، سنن الترمذی/الحج 107(953)، سنن النسائی/الحج 96 (2854)، (تحفة الأشراف: 11114)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 86 (3079)، موطا امام مالک/الحج 78 (237)، مسند احمد (4/ 242، 243، 244) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " إِنْ شِئْتَ فَانْسُكْ نَسِيكَةً، وَإِنْ شِئْتَ فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ لِسِتَّةِ مَسَاكِينَ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: اگر تم چاہو تو ایک بکری ذبح کر دو اور اگر چاہو تو تین دن کے روزے رکھو، اور اگر چاہو تو تین صاع کھجور چھ مسکینوں کو کھلا دو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1857]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (1856)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11114) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ. ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: " أَمَعَكَ دَمٌ؟" قَالَ: لَا، قَالَ: " فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ تَصَدَّقْ بِثَلَاثَةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے، پھر انہوں نے یہی قصہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے ساتھ دم دینے کا جانور ہے؟، انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تو تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ، اس طرح کہ ہر دو مسکین کو ایک صاع مل جائے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1858]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (1856)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11111)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/241، 243) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، وَكَانَ قَدْ أَصَابَهُ فِي رَأْسِهِ أَذًى فَحَلَقَ، " فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهْدِيَ هَدْيًا بَقَرَةً".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (اور انہیں سر میں (جوؤوں کی وجہ سے) تکلیف پہنچی تھی تو انہوں نے سر منڈوا دیا تھا)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک گائے قربان کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1859]
قال الشيخ الألباني: ضعيف وقوله بقرة منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ رجل من الأنصار مجھول ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1856، (تحفة الأشراف: 11114) (ضعیف) (وقولہ: ’’بقرة‘‘ منکر) (اس کا ایک راوی مجہول ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: أَصَابَنِي هَوَامُّ فِي رَأْسِي وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى تَخَوَّفْتُ عَلَى بَصَرِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى فِيَّ: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ سورة البقرة آية 196 الْآيَةَ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: " احْلِقْ رَأْسَكَ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ فَرَقًا مِنْ زَبِيبٍ، أَوِ انْسُكْ شَاةً"، فَحَلَقْتُ رَأْسِي ثُمَّ نَسَكْتُ.
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال میرے سر میں جوئیں پڑ گئیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا یہاں تک کہ مجھے اپنی بینائی جانے کا خوف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے میرے سلسلے میں «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه» کی آیت نازل فرمائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور مجھ سے فرمایا: تم اپنا سر منڈوا لو اور تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو ایک فرق ۱؎ منقٰی کھلاؤ، یا پھر ایک بکری ذبح کرو چنانچہ میں نے اپنا سر منڈوایا پھر ایک بکری کی قربانی دے دی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1860]
💡 وضاحت:
۱؎: فرق: ایک پیمانہ ہے جس میں چار صاع کی گنجائش ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن لكن ذكر الزبيب منكر والمحفوظ التمر كما في أحاديث العباس
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الحكم بن عتيبة مدلس و عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1856، (تحفة الأشراف: 11114) (حسن) (لیکن منقی کا ذکر منکر ہے صحیح روایت کھجور کی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، زَادَ: " أَيُّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ".
اس سند سے بھی کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے «أى ذلك فعلت أجزأ عنك» اس میں سے تو جو بھی کر لو گے تمہارے لیے کافی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1861]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ وھو في الموطأ (1/417)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1856، (تحفة الأشراف: 11114) (صحیح)
44: باب الإِحْصَارِ
باب: حج سے روک لیے جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ"، قَالَ عِكْرِمَةُ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَا: صَدَقَ.
حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے، یا لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا، اب اس پر اگلے سال حج ہو گا ۱؎۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1862]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج و عمرہ کی نیت سے گھر سے نکلنے والے کو اگر اچانک کوئی مرض لاحق ہو جائے تو وہ وہیں پر حلال ہو جائے گا، لیکن آئندہ سال اس کو حج کرنا ہو گا، اگر یہ حج فرض حج ہو تو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2713) ¤ يحيي بن أبي كثير صرح بالسماع عند ابن ماجه (3077 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 96 (940)، سنن النسائی/الحج 102(2863)، سنن ابن ماجہ/المناسک 85 (3078)، (تحفة الأشراف: 3294، 6241)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/450)، سنن الدارمی/المناسک 57 (1936) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، وَسَلَمَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرِجَ أَوْ مَرِضَ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ: قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ.
حجاج بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے یا بیمار ہو جائے، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، سلمہ بن شبیب نے «عن معمر» کے بجائے «أنبأنا معمر» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1863]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2713) ¤ انظر الحديث السابق (1862) فھو شاھد له
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3294، 6241) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَاضِرٍ الْحِمْيَرِيَّ يُحَدِّثُ أَبِي مَيْمُونَ بْنَ مِهْرَانَ، قَالَ: خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا عَامَ حَاصَرَ أَهْلُ الشَّامِ ابْنَ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ وَبَعَثَ مَعِي رِجَالٌ مِنْ قَوْمِي بِهَدْيٍ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى أَهْلِ الشَّامِ مَنَعُونَا أَنْ نَدْخُلَ الْحَرَمَ، فَنَحَرْتُ الْهَدْيَ مَكَانِي ثُمَّ أَحْلَلْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ خَرَجْتُ لِأَقْضِيَ عُمْرَتِي، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " أَبْدِلِ الْهَدْيَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُبَدِّلُوا الْهَدْيَ الَّذِي نَحَرُوا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ".
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے ابوحاضر حمیری سے سنا وہ میرے والد میمون بن مہران سے بیان کر رہے تھے کہ جس سال اہل شام مکہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا محاصرہ کئے ہوئے تھے میں عمرہ کے ارادے سے نکلا اور میری قوم کے کئی لوگوں نے میرے ساتھ ہدی کے جانور بھی بھیجے، جب ہم اہل شام (مکہ کے محاصرین) کے قریب پہنچے تو انہوں نے ہمیں حرم میں داخل ہونے سے روک دیا، چنانچہ میں نے اسی جگہ اپنی ہدی نحر کر دی اور احرام کھول دیا اور لوٹ آیا، جب دوسرا سال ہوا تو میں اپنا عمرہ قضاء کرنے کے لیے نکلا، چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور میں نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ قضاء کے عمرہ میں حدیبیہ کے سال جس ہدی کی نحر کر لی تھی اس کا بدل دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تھا کہ وہ عمرہ قضاء میں اس ہدی کا بدل دیں جو انہوں نے حدیبیہ کے سال نحر کی تھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1864]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (2712) ¤ محمد بن إسحاق بن يسار صرح بالسماع عند البيھقي في دلائل النبوة (4/ 320) و للحديث شاھد قوي عند الحاكم (1/ 485)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5873) (ضعیف) (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کی ہے)
45: باب دُخُولِ مَكَّةَ
باب: مکہ میں داخل ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ بَاتَ بِذِي طَوًى حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ ثُمَّ يَدْخُلَ مَكَّةَ نَهَارًا، وَيَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ فَعَلَهُ.
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ آتے تو ذی طویٰ میں رات گزارتے یہاں تک کہ صبح کرتے اور غسل فرماتے، پھر دن میں مکہ میں داخل ہوتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتے کہ آپ نے ایسے ہی کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1865]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ افضل یہ ہے کہ مکہ میں دن میں داخل ہو، مگر یہ قدرت اور امکان پر منحصر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1553، 1573) صحيح مسلم (1259)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 89 (484)، والحج 38 (1573)، 39 (1574)، 148(1767)، 149(1769)، صحیح مسلم/الحج 38 (1259)، سنن النسائی/الحج 103 (2862)، (تحفة الأشراف: 7513)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 31 (854)، سنن ابن ماجہ/المناسک 26 (2940)، موطا امام مالک/الحج 2(6)، مسند احمد (2/ 87)، سنن الدارمی/المناسک 80 (1968) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَرْمَكِيُّ، حَدَّثَنَا مَعِنٌ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَابْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ يَحْيَى. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنْ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا"، قَالَا: عَنْ يَحْيَى، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنْ كَدَاءَ مِنْ ثَنِيَّةِ الْبَطْحَاءِ وَيَخْرُجُ مِنْ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى"، زَادَ الْبَرْمَكِيُّ: " يَعْنِي ثَنِيَّتَيْ مَكَّةَ"، وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَتَمُّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ علیا (بلند گھاٹی) سے داخل ہوتے، (یحییٰ کی روایت میں اس طرح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ بطحاء کی جانب سے مقام کداء سے داخل ہوتے) اور ثنیہ سفلی (نشیبی گھاٹی) سے نکلتے۔ برمکی کی روایت میں اتنا زائد ہے یہ مکہ کی دو گھاٹیاں ہیں اور مسدد کی حدیث زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1866]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1575) صحيح مسلم (1257)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 40 (1576)، 41 (1577)، صحیح مسلم/الحج 37 (1257)، سنن النسائی/الحج 105 (2866)، (تحفة الأشراف: 7869، 8140، 8380)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج30 (853)، سنن ابن ماجہ/المناسک 26 (2940)، مسند احمد (2/14، 19)، سنن الدارمی/المناسک 81 (1969) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شجرہ (جو ذی الحلیفہ میں تھا) کے راستے سے (مدینہ سے) نکلتے تھے اور معرس (مدینہ سے چھ میل پر ایک موضع ہے) کے راستہ سے (مدینہ میں) داخل ہوتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1867]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کی باب سے مناسبت یہ ہے کہ جب مکہ میں داخل ہونے اوراس سے نکلنے کی بات آئی تو مدینہ سے نکلنے اور داخل ہونے کی بابت بھی ایک حدیث باب میں ذکر کر دیا، اور اس سے یہ بھی مستنبط کرنا ہے کہ مدینہ ہی نہیں کسی بھی بستی میں داخل ہونے یا اس سے نکلنے کے راستے میں فرق کرنا چاہئے، جیسا کہ اس حدیث پر امام نووی نے صحیح مسلم میں باب باندھا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ أخرجه أحمد (2/142 وسنده صحيح) وانظر الحديث السابق (1866)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7870)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 37 (1257)، مسند احمد (2/29-30) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ وَدَخَلَ فِي الْعُمْرَةِ مِنْ كُدًى"، قَالَ: وَكَانَ عُرْوَةُ يَدْخُلُ مِنْهُمَا جَمِيعًا، وَكَانَ أَكْثَرُ مَا كَانَ يَدْخُلُ مِنْ كُدًى، وَكَانَ أَقْرَبَهُمَا إِلَى مَنْزِلِهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ کے بلند مقام کداء ۱؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عمرہ کے وقت کُدی ۲؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عروہ دونوں ہی جانب سے داخل ہوتے تھے، البتہ اکثر کدی کی جانب سے داخل ہوتے اس لیے کہ یہ ان کے گھر سے قریب تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1868]
💡 وضاحت:
۱؎: كداء: مکہ مکرمہ کا وہ جانب جو مقبرۃ المعلی کی طرف ہے اور بلند ہے۔
۲؎: كدى: وہ جانب ہے جو باب العمرہ کی طرف نشیب میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1578) صحيح مسلم (1258)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 41 (1578)، والمغازي 49 (4290)، صحیح مسلم/الحج 37 (1257)، (تحفة الأشراف: 16797)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 30 (853)، مسند احمد (6/58، 201) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنْ أَعْلَاهَا وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوتے تو اس کی بلندی کی طرف سے داخل ہوتے اور اس کے نشیب سے نکلتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1869]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1577) صحيح مسلم (1258)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 41 (1577)، صحیح مسلم/الحج 37 (1258)، ن الکبری/ الحج 29 (4241)، سنن الترمذی/الحج 30 (853)، (تحفة الأشراف: 16923)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/40) (صحیح)
46: باب فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا رَأَى الْبَيْتَ
باب: خانہ کعبہ (بیت اللہ) کو دیکھ کر ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُعِينٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قَزْعَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الرَّجُلِ يَرَى الْبَيْتَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا إِلَّا الْيَهُودَ، وَقَدْ حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَكُنْ يَفْعَلُهُ".
مہاجر مکی کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاتا ہو تو انہوں نے کہا: میں سوائے یہود کے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھتا تھا، اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، لیکن آپ ایسا نہیں کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1870]
💡 وضاحت:
۱؎:صحیح احادیث اور آثار سے بیت اللہ پرنظر پڑتے وقت ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2574) ¤ المھاجر المكي وثقه ابن حبان و ابن خزيمة فھو حسن الحديث، أخرجه الترمذي (855 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 32 (855)، سنن النسائی/الحج 122 (2898)، سنن الدارمی/المناسک 75 (1961)، (تحفة الأشراف: 3116) (ضعیف) (اس کے راوی مہاجر بن عکرمہ لین الحدیث ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ، يَعْنِي يَوْمَ الْفَتْحِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں (یعنی فتح مکہ کے روز)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1871]
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون الركعتين
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، صحيح مسلم (1780)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13562)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجہاد 31 (1780)، مسند احمد (2/538) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، وَهَاشِمٌ يَعْنِيَ ابْنَ الْقَاسِمِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَكَّةَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ أَتَى الصَّفَا فَعَلَاهُ حَيْثُ يَنْظُرُ إِلَى الْبَيْتِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ مَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرَهُ وَيَدْعُوهُ"، قَالَ: وَ الْأَنْصَارُ تَحْتَهُ، قَالَ هَاشِمٌ: فَدَعَا وَحَمِدَ اللَّهَ وَدَعَا بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مکہ میں داخل ہوئے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس آئے اور اس کا بوسہ لیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھے جہاں سے بیت اللہ کو دیکھ رہے تھے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لگے اور اس کا ذکر کرتے رہے اور اس سے دعا کرتے رہے جتنی دیر تک اللہ نے چاہا، راوی کہتے ہیں: اور انصار آپ کے نیچے تھے، ہاشم کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اللہ کی حمد بیان کی اور جو دعا کرنا چاہتے تھے کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1872]
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون قوله والأنصار تحته
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، صحيح مسلم (1780) ¤ مشكوة المصابيح (2575)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم (1871)، (تحفة الأشراف: 13562) (صحیح) (حدیث میں واقع جملہ والأنصار تحته پر کلام ہے)
47: باب فِي تَقْبِيلِ الْحَجَرِ
باب: حجر اسود کو چومنا۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى الْحَجَرِ فَقَبَّلَهُ، فَقَالَ: " إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ".
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے چوما، اور کہا: میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1873]
💡 وضاحت:
۱؎: حجر اسود کے سلسلے میں طواف کرنے والے شخص کو اختیار ہے کہ تین باتوں چومنا، چھونا ہاتھ یا چھڑی سے، (اشارہ کرنا) میں سے جو ممکن ہو کرلے ہر ایک کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1597) صحيح مسلم (1270)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 50 (1597)، 57 (1605)، 60 (1610)، صحیح مسلم/الحج 41 (1270)، سنن الترمذی/الحج 37 (860)، سنن النسائی/الحج 147 (2940)، (تحفة الأشراف: 10473)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 27 (2943)، موطا امام مالک/الحج 36 (115)، مسند احمد (1/21، 26، 34، 35، 39، 46، 51، 53، 54)، سنن الدارمی/المناسک 42 (1906) (صحیح)
48: باب اسْتِلاَمِ الأَرْكَانِ
باب: ارکان کعبہ کے استلام (چھونے اور چومنے) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مِنْ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کے کسی رکن کو چھوتے نہیں دیکھا سوائے حجر اسود اور رکن یمانی کے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1874]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے رکن یمانی کے سلسلے میں یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے ہاتھ سے چھوتے تھے، اس کا چومنا یا اس کی طرف چھڑی یا ہاتھ سے اشارہ کرنا ثابت نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1609) صحيح مسلم (1267)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 57 (1606)، 59 (1611)، صحیح مسلم/الحج 40 (1268)، سنن النسائی/الحج 157 (2952)، (تحفة الأشراف: 6906، 6988)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 27 (2946)، مسند احمد (2/86، 89، 114، 115، 120) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، " أَنَّهُ أُخْبِرَ بِقَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، إِنَّ الْحِجْرَ بَعْضُهُ مِنْ الْبَيْتِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّ عَائِشَةَ إِنْ كَانَتْ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي لَأَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتْرُكِ اسْتِلَامَهُمَا إِلَّا أَنَّهُمَا لَيْسَا عَلَى قَوَاعِدِ الْبَيْتِ، وَلَا طَافَ النَّاسُ وَرَاءَ الْحِجْرِ إِلَّا لِذَلِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول معلوم ہوا کہ حطیم کا ایک حصہ بیت اللہ میں شامل ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کی قسم! میرا گمان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو گا، میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (رکن عراقی اور رکن شامی) کا استلام بھی اسی لیے چھوڑا ہو گا کہ یہ بیت اللہ کی اصلی بنیادوں پر نہ تھے اور اسی وجہ سے لوگ حطیم ۱؎ کے پیچھے سے طواف کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1875]
💡 وضاحت:
۱؎: چونکہ حطیم (کعبے کا ایک طرف چھوٹا ہوا حصہ ہے جو گول دائرے میں دیوار سے گھیر دیا گیا ہے) بھی بیت اللہ کا ایک حصہ ہے، اس لئے طواف اس کے باہر سے کرنا چاہئے، اگر کوئی طواف میں حطیم کو چھوڑ دے تو طواف درست نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله ولا طاف الناس
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ أصله متفق عليه انظر صحيح البخاري (4484) وصحيح مسلم (1333)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6958)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 59 (1608)، صحیح مسلم/الحج 40 (1335)، سنن النسائی/الحج 156 (2951)، سنن ابن ماجہ/المناسک 27 (2946)، مسند احمد (2/86، 114، 115)، سنن الدارمی/المناسک 25 (1880) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَعُ أَنْ يَسْتَلِمَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ وَالْحَجَرَ فِي كُلِّ طَوْفَةٍ"، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کسی بھی چکر میں ترک نہیں کرتے تھے، راوی کہتے ہیں اور عبداللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1876]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ أخرجه النسائي (2950 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/ الحج 156 (2950)، (تحفة الأشراف: 7761) (حسن)
49: باب الطَّوَافِ الْوَاجِبِ
باب: طواف واجب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1877]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1607) صحيح مسلم (1272)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 58 (1607)، 61 (1612)، 62 (1613)، 74 (1632)، الطلاق 24 (5293)، صحیح مسلم/الحج 42 (1272)، سنن النسائی/المساجد 21 (714)، الحج 159 (2957)، 160 (2958)، سنن ابن ماجہ/المناسک 28 (2948)، (تحفة الأشراف: 5837)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 40 (865)، مسند احمد (/214، 237، 248، 304)، سنن الدارمی/المناسک 30 (1887) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْيَامِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: " لَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ طَافَ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ فِي يَدِهِ، قَالَتْ: وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ".
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ میں اطمینان ہوا تو آپ نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے، اور میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1878]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ أخرجه ابن ماجه (2947 وسنده حسن) وحسنه المزي
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 28 (2947)، (تحفة الأشراف: 15909) (حسن) سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حسن ہے ملاحظہ ہو صحیح أبی داود (1641)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَعْرُوفٍ يَعْنِي ابْنَ خَرَّبُوذَ الْمَكِّيَّ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ، قَال: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ ثُمَّ يُقَبِّلُهُ"، زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ: " ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ فَطَافَ سَبْعًا عَلَى رَاحِلَتِهِ".
ابوطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر بیٹھ کر بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا، آپ حجر اسود کا استلام اپنی چھڑی سے کرتے پھر اسے چوم لیتے، (محمد بن رافع کی روایت میں اتنا زیادہ ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا و مروہ کی طرف نکلے اور اپنی سواری پر بیٹھ کر سعی کے سات چکر لگائے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1879]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1265)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 39 (1275)، سنن ابن ماجہ/المناسک 28(2949)، (تحفة الأشراف: 5051)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/454) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: " طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَ بِالصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیٹھ ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کی سعی کی، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلندی پر ہوں، اور لوگ آپ کو دیکھ سکیں، اور آپ سے پوچھ سکیں، کیونکہ لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1880]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1273)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 42 (1273)، سنن النسائی/الحج 173 (2978)، (تحفة الأشراف: 2803)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/317، 334) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ وَهُوَ يَشْتَكِي فَطَافَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَنَاخَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے آپ کو کچھ تکلیف تھی چنانچہ آپ نے اپنی سواری پر بیٹھ کر طواف کیا ۱؎، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس آتے تو چھڑی سے اس کا استلام کرتے، جب آپ طواف سے فارغ ہو گئے تو اونٹ کو بٹھا دیا اور (طواف کی) دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1881]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کی بخاری نے (حج ۷۴ میں) خالدالحذاء کے طریق سے روایت کی ہے مگر اس میں «وهو يشتكي» (تکلیف تھی) کا لفظ نہیں ہے، خالد ثقہ ہیں جب کہ یزید ضعیف ہیں، اسی لئے امام بخاری نے ان کی روایت نہیں لی ہے، مگر تبویب سے اشارہ اسی طرف کیا ہے، بہرحال سواری پر طواف کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں بلاسبب افضل نہیں ہے، خصوصا مسجد اور مطاف بن جانے کے بعد اب یہ ممکن نہیں رہا، نیز دیکھئے حاشیہ حدیث نمبر (۱۸۸۲)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ يزيد ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6248)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/214، 304) (ضعیف) (اس کے راوی یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ: " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ"، قَالَتْ: فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِ: الطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے طواف کر لو ۱؎، تو میں نے طواف کیا اور آپ خانہ کعبہ کے پہلو میں اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اور «الطور * وكتاب مسطور» کی تلاوت فرما رہے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1882]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیماری اور کمزوری کی حالت میں سوار ہو کر طواف کرنا درست ہے، اور آج کل سواری پر طواف چوں کہ ناممکن ہے اس لئے اس کی جگہ پر مخصوص لوگ حجاج کو چارپائی پر بٹھا کر طواف کراتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (464) صحيح مسلم (1276)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 78 (464)، الحج 64 (1619)، 71 (1626)، 74 (1633)، تفسیر سورة الطور 1 (4853)، صحیح مسلم/الحج 42 (1276)، سنن النسائی/الحج 138 (2928)، سنن ابن ماجہ/المناسک 34 (2961)، (تحفة الأشراف: 18262)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 40 (123)، مسند احمد (6/290، 319) (صحیح)
50: باب الاِضْطِبَاعِ فِي الطَّوَافِ
باب: طواف میں اضطباع کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى، قَالَ: " طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَبِعًا بِبُرْدٍ أَخْضَرَ".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہری چادر میں اضطباع کر کے طواف کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1883]
💡 وضاحت:
۱؎: اضطباع کی شکل یہ ہے کہ محرم چادر کو دائیں بغل کے نیچے سے گزار کر بائیں کندھے پر ڈال دے اور دایاں کندھا ننگا رکھے، اور یہ صرف پہلے طواف میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (859) ابن ماجه (2954) ¤ ابن جريج وسفيان الثوري مدلسان وعنعنا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 36 (859)، سنن ابن ماجہ/المناسک 30 (2954)، (تحفة الأشراف: 11839)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/222، 223، 224)، سنن الدارمی/المناسک 28 (1885) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ الْجِعْرَانَةِ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ وَجَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ قَدْ قَذَفُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمُ الْيُسْرَى".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے طواف میں رمل ۱؎ کیا اور اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے نکال کر اپنے بائیں کندھوں پر ڈالا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1884]
💡 وضاحت:
۱؎: اکڑ کر مونڈھے ہلاتے ہوئے چلنا جیسے سپاہی جنگ کے لئے چلتا ہے، اور یہ صرف پہلے تین چکروں میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2585)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5538)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/295، 306، 371) (صحیح)
51: باب فِي الرَّمَلِ
باب: طواف میں رمل کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: " يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: وَمَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا؟ قَالَ: صَدَقُوا، قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَبُوا: لَيْسَ بِسُنَّةٍ، إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ: دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ، فَلَمَّا صَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَجِيئُوا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ، قُلْتُ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، فَقَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: مَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا؟ قَالَ: صَدَقُوا، قَدْ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ، وَكَذَبُوا: لَيْسَ بِسُنَّةٍ كَانَ النَّاسُ لَا يُدْفَعُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُصْرَفُونَ عَنْهُ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْمَعُوا كَلَامَهُ وَلِيَرَوْا مَكَانَهُ وَلَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ".
ابوطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا اور یہ سنت ہے، انہوں نے کہا: لوگوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی، میں نے دریافت کیا: لوگوں نے کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ اور غلط؟ فرمایا: انہوں نے یہ سچ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا لیکن یہ جھوٹ اور غلط کہا کہ رمل سنت ہے (واقعہ یہ ہے) کہ قریش نے حدیبیہ کے موقع پر کہا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑ دو وہ اونٹ کی موت خود ہی مر جائیں گے، پھر جب ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پر مصالحت کر لی کہ آپ آئندہ سال آ کر حج کریں اور مکہ میں تین دن قیام کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مشرکین بھی قعیقعان کی طرف سے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: تین پھیروں میں رمل کرو، اور یہ سنت نہیں ہے ۱؎، میں نے کہا: آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی اور یہ سنت ہے، وہ بولے: انہوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی، میں نے دریافت کیا: کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ؟ وہ بولے: یہ سچ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان اپنے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی لیکن یہ جھوٹ اور غلط ہے کہ یہ سنت ہے، دراصل لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نہ جا رہے تھے اور نہ سرک رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی تاکہ لوگ آپ کی بات سنیں اور لوگ آپ کو دیکھیں اور ان کے ہاتھ آپ تک نہ پہنچ سکیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1885]
💡 وضاحت:
۱؎: مراد ایسی سنت نہیں ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقرب کے لئے بطور عبادت کی ہو، بلکہ مسلمانوں کو یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے دیا تھا تاکہ وہ کافروں کے سامنے اپنے طاقتور اور توانا ہونے کا مظاہرہ کر سکیں، کیونکہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ مدینہ کے بخار نے انہیں کمزور کر رکھا ہے، لیکن بہرحال اب یہ طواف کی سنتوں میں سے ہے جس کے ترک پر دم نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ رواه مسلم (1264) بسند آخر عن أبي الطفيل به
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 39 (1264)، (تحفة الأشراف: 5776)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 29 (2953)، مسند احمد (1/ 229، 233، 297، 298، 369، 372، 373) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمُ الْحُمَّى وَلَقُوا مِنْهَا شَرًّا، فَأَطْلَعَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا قَالُوهُ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ الثَّلَاثَةَ، وَأَنْ يَمْشُوا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، فَلَمَّا رَأَوْهُمْ رَمَلُوا، قَالُوا: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَكَرْتُمْ أَنَّ الْحُمَّى قَدْ وَهَنَتْهُمْ، هَؤُلَاءِ أَجْلَدُ مِنَّا"، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا إِبْقَاءً عَلَيْهِمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے اور لوگوں کو مدینہ کے بخار نے کمزور کر دیا تھا، تو مشرکین نے کہا: تمہارے پاس وہ لوگ آ رہے ہیں جنہیں بخار نے ضعیف بنا دیا ہے، اور انہیں بڑی تباہی اٹھانی پڑی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس گفتگو سے مطلع کر دیا، تو آپ نے حکم دیا کہ لوگ (طواف کعبہ کے) پہلے تین پھیروں میں رمل کریں اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام چال چلیں، تو جب مشرکین نے انہیں رمل کرتے دیکھا تو کہنے لگے: یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم لوگوں نے یہ کہا تھا کہ انہیں بخار نے کمزور کر دیا ہے، یہ لوگ تو ہم لوگوں سے زیادہ تندرست ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تمام پھیروں میں رمل نہ کرنے کا حکم صرف ان پر نرمی اور شفقت کی وجہ سے دیا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1886]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ فی الواقع یہ لوگ کمزور اور دبلے پتلے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1602) صحيح مسلم (1266)
تخریج دارالدعوہ: * تخريج:صحیح البخاری/الحج 55 (1602)، والمغازي 44 (4256)، صحیح مسلم/الحج 39 (1266)، سنن النسائی/الکبری/ الحج (3942)، (تحفة الأشراف: 5438)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 39 (863)، مسند احمد (1/221، 255، 306،310، 311، 373) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: " فِيمَ الرَّمَلَانُ الْيَوْمَ وَالْكَشْفُ عَنِ الْمَنَاكِبِ، وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ وَنَفَى الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ مَعَ ذَلِكَ، لَا نَدَعُ شَيْئًا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: اب رمل اور مونڈھے کھولنے کی کیا ضرورت ہے؟ اب تو اللہ نے اسلام کو مضبوط کر دیا ہے اور کفر اور اہل کفر کا خاتمہ کر دیا ہے، اس کے باوجود ہم ان باتوں کو نہیں چھوڑیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1887]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ شرع کی جس بات کی علت و حکمت سمجھ میں نہ آئے اس کو علی حالہ چھوڑ دینا چاہئے، کیونکہ ایسی صورت میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ یہ اللہ کے رسول کی اتباع ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ أخرجه ابن ماجه (2952 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 29(2952)، (تحفة الأشراف: 10391)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/45) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف کرنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا اور کنکریاں مارنا، یہ سب اللہ کی یاد قائم کرنے کے لیے مقرر کئے گئے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1888]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ أخرجه الترمذي (902 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (2882، 2970 وسندھما حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 64 (902)، (تحفة الأشراف: 17533)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/64، 75، 138)، سنن الدارمی/المناسک 36 (1895) (ضعیف) (اس کے راوی عبیداللہ ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْطَبَعَ فَاسْتَلَمَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ، وَكَانُوا إِذَا بَلَغُوا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ وَتَغَيَّبُوا مِنْ قُرَيْشٍ مَشَوْا ثُمَّ يَطْلُعُونَ عَلَيْهِمْ يَرْمُلُونَ، تَقُولُ قُرَيْشٌ: كَأَنَّهُمُ الْغِزْلَانُ"، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكَانَتْ سُنَّةً.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع کیا، پھر استلام کیا، اور تکبیر بلند کی، پھر تین پھیروں میں رمل کیا، جب لوگ (یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) رکن یمانی پر پہنچتے اور قریش کی نظروں سے غائب ہو جاتے تو عام چال چلتے پھر جب ان کے سامنے آتے تو رمل کرتے، قریش کہتے تھے: گویا یہ ہرن ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تو یہ فعل سنت ہو گیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1889]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ صححه ابن خزيمة (2707 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (2953 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5777، 5779) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ الْجِعْرَانَةِ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَمَشَوْا أَرْبَعًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے تین پھیروں میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1890]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ رواه ابن ماجه (2953 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (1884)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/ الحج 29 (2953)، (تحفة الأشراف: 5777)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/247، 295، 305، 306، 314) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ".
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا، اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1891]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1262)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 39 (1262)، (تحفة الأشراف: 7906)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 63 (1616)، سنن النسائی/الحج 150 (2943)، سنن الترمذی/الحج 33 (856)، سنن ابن ماجہ/المناسک 29 (2950)، موطا امام مالک/الحج 34(108)، مسند احمد (2/100، 114)، سنن الدارمی/المناسک 27 (1882) (صحیح)
52: باب الدُّعَاءِ فِي الطَّوَافِ
باب: طواف میں دعا کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ: " رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ".
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں رکن (یعنی رکن یمانی اور حجر اسود) کے درمیان «ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» (سورۃ البقرہ: ۹۶) کہتے سنا، اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1892]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2581) ¤ أخرجه أحمد (3/411) والنسائي في الكبريٰ (3943) وصححه ابن خزيمة (2721 وسنده حسن) ابن جريج صرح بالسماع
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5316)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (3934)، مسند احمد (3/411) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ فَإِنَّهُ يَسْعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَيَمْشِي أَرْبَعًا ثُمَّ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہی سب سے پہلے جب حج و عمرہ کا طواف کرتے تو آپ تین پھیروں میں دوڑ کر چلتے اور باقی چار میں معمولی چال چلتے، پھر دو رکعتیں پڑھتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1893]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1616) صحيح مسلم (1261)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الحج 63 (1616)، صحیح مسلم/ الحج 39 (1261)، سنن النسائی/ الحج 151 (2944)، (تحفة الأشراف: 8453)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/114) (صحیح)
53: باب الطَّوَافِ بَعْدَ الْعَصْرِ
باب: عصر کے بعد طواف کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَالْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ وَيُصَلِّي أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ". قَالَ الْفَضْلُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس گھر (کعبہ) کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے کسی کو مت روکو، رات اور دن کے جس حصہ میں بھی وہ کرنا چاہے کرنے دو۔ فضل کی روایت کے میں ہے: «إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا بني عبد مناف لا تمنعوا أحدا» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! کسی کو مت روکو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1894]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (1045) ¤ أخرجه الترمذي (868 وسنده صحيح) والنسائي (2927 وسنده صحيح وسفيان صرح بالسماع عنده، 586 وسنده صحيح وأبو الزبير صرح بالسماع عنده) وابن ماجه (1254 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 42 (868)، سنن النسائی/المواقیت 41 (586)، والحج 137 (2927)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 149 (1256)، (تحفة الأشراف: 3187)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/80، 81، 84)، سنن الدارمی/المناسک 79 (1967) (صحیح)
54: باب طَوَافِ الْقَارِنِ
باب: قران کرنے والے کے طواف کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: " لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَهُ الْأَوَّلَ".
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے (جنہوں نے قران کیا تھا) صفا اور مروہ کے درمیان صرف ایک ہی سعی کی اپنے پہلے طواف کے وقت۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1895]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1215)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 17 (1213)، سنن النسائی/الحج 182 (2989)، (تحفة الأشراف: 2802)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 102 (947)، سنن ابن ماجہ/المناسک 39 (2972)، مسند احمد (3/317) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، " أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ لَمْ يَطُوفُوا حَتَّى رَمَوْا الْجَمْرَةَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے جو آپ کے ساتھ تھے، اس وقت تک طواف نہیں کیا جب تک کہ ان لوگوں نے رمی جمار نہیں کر لیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1896]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (1781)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16601)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (4172، 4173) (صحیح) (یہ سابقہ حدیث نمبر: 1781 کا ایک ٹکڑا ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، أَخْبَرَنِي الشَّافِعِيُّ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا: " طَوَافُكِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ يَكْفِيكِ لِحَجَّتِكِ وَعُمْرَتِكِ"، قَالَ الشَّافِعِيُّ: كَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ: عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَرُبَّمَا قَالَ: عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: بیت اللہ کا تمہارا طواف اور صفا و مروہ کی سعی حج و عمرہ دونوں کے لیے کافی ہے۔ شافعی کہتے ہیں: سفیان نے اس روایت کو کبھی عطاء سے اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، اور کبھی عطاء سے مرسلاً روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1897]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ وللحديث شاھد عند مسلم (1211)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17381) (صحیح)
55: باب الْمُلْتَزَمِ
باب: ملتزم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ، قَالَ: " لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قُلْتُ: لَأَلْبَسَنَّ ثِيَابِي، وَكَانَتْ دَارِي عَلَى الطَّرِيقِ، فَلَأَنْظُرَنَّ كَيْفَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ مِنْ الْكَعْبَةِ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَقَدِ اسْتَلَمُوا الْبَيْتَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الْحَطِيمِ، وَقَدْ وَضَعُوا خُدُودَهُمْ عَلَى الْبَيْتِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَهُمْ".
عبدالرحمٰن بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو میں نے کہا: میں اپنے کپڑے پہنوں گا (میرا گھر راستے میں تھا) پھر میں دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں، تو میں گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کعبۃ اللہ کے اندر سے نکل چکے ہیں اور سب لوگ بیت اللہ کے دروازے سے لے کر حطیم تک کعبہ سے چمٹے ہوئے ہیں، انہوں نے اپنے رخسار بیت اللہ سے لگا دئیے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کے بیچ میں ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1898]
💡 وضاحت:
۱؎: ملتزم: کعبہ کا وہ حصہ جو حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان واقع ہے، لوگ اس سے چمٹ کر دعا مانگتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ يزيد ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9703)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/430، 431) (ضعیف) (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ 2138)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " طُفْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، فَلَمَّا جِئْنَا دُبُرَ الْكَعْبَةِ، قُلْتُ: أَلَا تَتَعَوَّذُ؟ قَالَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَأَقَامَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ فَوَضَعَ صَدْرَهُ وَوَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَكَفَّيْهِ هَكَذَا وَبَسَطَهُمَا بَسْطًا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ".
شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا، جب ہم لوگ کعبہ کے پیچھے آئے تو میں نے کہا: کیا آپ پناہ نہیں مانگیں گے؟ اس پر انہوں نے کہا: ہم پناہ مانگتے ہیں اللہ کی آگ سے، پھر وہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، اور حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان کھڑے رہے اور اپنا سینہ، اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلیاں اس طرح رکھیں اور انہوں نے انہیں پوری طرح پھیلایا، پھر بولے: اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1899]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملتزم سے چمٹے ہوئے تھے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (2962) ¤ المثني بن الصباح:”ضعيف،اختلط بأخرة،وكان عابدًا“ (تق: 6471) وقال الھيثمي: وضعفه ا لجمھور (مجمع الزوائد 2/5) وقال: وھو متروك عند الجمھور(مجمع الزوائد 297/4 وانظر 70/5،123،157/4) ¤ ولأصل الحديث شواھد موقوفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 35 (2962)، (تحفة الأشراف: 8776) (حسن) (اس کے راوی مثنی ضعیف ہیں، لیکن شواہد اور متابعات کی وجہ سے تقویت پا کر یہ حسن ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ عَمْرٍو الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُودُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَيُقِيمُهُ عِنْدَ الشُّقَّةِ الثَّالِثَةِ مِمَّا يَلِي الرُّكْنَ الَّذِي يَلِي الْحَجَرَ مِمَّا يَلِي الْبَابَ، فَيَقُولُ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: أُنْبِئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي هَا هُنَا، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُومُ فَيُصَلِّي".
عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لے کر جاتے (جب ان کی بینائی ختم ہو گئی) اور ان کو اس تیسرے کونے کے پاس کھڑا کر دیتے جو اس رکن کعبہ کے قریب ہے جو حجر اسود کے قریب ہے اور دروازے سے ملا ہوا ہے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما ان سے کہتے: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ نماز پڑھتے تھے؟ وہ کہتے: ہاں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کھڑے ہوتے اور نماز پڑھتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1900]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (2921) ¤ محمد بن عبد اللّٰه بن السائب: مجهول (تق: 6022) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الحج 133 (2921)، (تحفة الأشراف: 5317)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/410) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن عبداللہ بن سائب مجہول ہیں)
56: باب أَمْرِ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
باب: صفا اور مروہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158؟ فَمَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: كَلَّا، لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ، كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْأَنْصَارِ، كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ، سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158.
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا اور میں ان دنوں کم سن تھا: مجھے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إن الصفا والمروة من شعائر الله» کے سلسلہ میں بتائیے، میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ان کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ہرگز نہیں، اگر ایسا ہوتا جیسا تم کہہ رہے ہو تو اللہ کا قول «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» کے بجائے «فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما» تو اس پر ان کی سعی نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہوتا، یہ آیت دراصل انصار کے بارے میں اتری، وہ مناۃ (یعنی زمانہ جاہلیت کا بت) کے لیے حج کرتے تھے اور مناۃ قدید ۱؎ کے سامنے تھا، وہ لوگ صفا و مروہ کے بیچ سعی کرنا برا سمجھتے تھے، جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1901]
💡 وضاحت:
۱؎: مناة قديد: مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک دیہات کا نام ہے۔
۲؎: بلاشبہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں (سورة البقرة: ۱۵۸)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1790) صحيح مسلم (1277)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 79 (1643)، والعمرة10 (1790)، وتفسیرالبقرة 21(4495)، وتفسیر النجم 3 (4861)، سنن النسائی/الحج 168 (2971)، (تحفة الأشراف: 16820، 17151)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 43 (1277)، سنن الترمذی/تفسیر سورة البقرة (2969)، سنن ابن ماجہ/المناسک 43 (2986)، موطا امام مالک/الحج 42 (129)، مسند احمد (6/144، 162، 227) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَهُ مَنْ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ"، فَقِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ: أَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ؟ قَالَ: لَا.
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی، آپ کے ساتھ کچھ ایسے لوگ تھے جو آپ کو آڑ میں لیے ہوئے تھے، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1902]
قال الشيخ الألباني: صحيح خ ولـ م جملة الدخول فقط
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1600) صحيح مسلم (1332)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 53 (1600)، سنن ابن ماجہ/المناسک 44 (2990)، (تحفة الأشراف: 5155، 5156)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 68 (1332)، مسند احمد (4/353، 355، 381)، سنن الدارمی/المناسک 77 (1963) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، بِهَذَا الْحَدِيثِ، زَادَ: " ثُمَّ أَتَى الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ فَسَعَى بَيْنَهُمَا سَبْعًا ثُمَّ حَلَقَ رَأْسَهُ".
اس سند سے بھی عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر آپ صفا و مروہ آئے اور ان کے درمیان سات بار سعی کی، پھر اپنا سر منڈایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1903]
قال الشيخ الألباني: صحيح دون الحلق
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ شريك القاضي عنعن وتفرد بقوله ”ثم حلق رأسه“ وباقي الحديث صحيح ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5155، 5156) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي أَرَاكَ تَمْشِي وَالنَّاسُ يَسْعَوْنَ، قَالَ: " إِنْ أَمْشِ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَإِنْ أَسْعَ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ".
کثیر بن جمہان سے روایت ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! میں آپ کو (عام چال چلتے) دیکھتا ہوں جب کہ لوگ دوڑتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اگر میں عام چال چلتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے دیکھا ہے اور اگر میں دوڑ کر کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سعی (دوڑتے) کرتے دیکھا ہے اور میں بہت بوڑھا شخص ہوں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1904]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ زھير بن معاوية سمع من عطاء بن السائب قبل اختلاطه وكثير بن جمھان حسن الحديث وثقه الجمھور
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 39 (864)، سنن النسائی/الحج 174 (2979)، سنن ابن ماجہ/المناسک 43 (2988)، (تحفة الأشراف: 7373، 7379)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/53) (صحیح)
57: باب صِفَةِ حَجَّةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا طریقہ۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّقَيْلِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيَّانِ وَرُبَّما زَادَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ الْكَلِمَةَ وَالشَّيْءَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ سَأَلَ عَنِ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ، فَقُلْتُ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِي فَنَزَعَ زِرِّي الْأَعْلَى ثُمَّ نَزَعَ زِرِّي الْأَسْفَلَ ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ وَأَهْلًا يَا ابْنَ أَخِي، سَلْ عَمَّا شِئْتَ فَسَأَلْتُهُ وَهُوَ أَعْمَى، وَجَاءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَقَامَ فِي نِسَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا، يَعْنِي ثَوْبًا مُلَفَّقًا، كُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَى مَنْكِبِهِ رَجَعَ طَرَفَاهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا فَصَلَّى بِنَا وَرِدَاؤُهُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى الْمِشْجَبِ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بِيَدِهِ: فَعَقَدَ تِسْعًا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ فِي الْعَاشِرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَعْمَلَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ، فَقَالَ: اغْتَسِلِي وَاسْتَذْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِي، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ، قَالَ جَابِرٌ: نَظَرْتُ إِلَى مَدِّ بَصَرِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا وَعَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ فَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا بِهِ، فَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّوْحِيدِ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهَذَا الَّذِي يُهِلُّونَ بِهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْهُ وَلَزِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلْبِيَتَهُ، قَالَ جَابِرٌ: لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ، لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَقَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، قَالَ: فَكَانَ أَبِي، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ نُفَيْلٍ وَ عُثْمَانُ: وَلَا أَعْلَمُهُ ذَكَرَهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ سُلَيْمَانُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بِ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا، فَلَمَّا دَنَا مِنْ الصَّفَا قَرَأَ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ فَكَبَّرَ اللَّهَ وَوَحَّدَهُ، وَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ وَقَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ رَمَلَ فِي بَطْنِ الْوَادِي حَتَّى إِذَا صَعَدَ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَصَنَعَ عَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلَ مَا صَنَعَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرُ الطَّوَافِ عَلَى الْمَرْوَةِ، قَالَ: إِنِّي لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُحْلِلْ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً، فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي الْأُخْرَى، ثُمَّ قَالَ: دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ هَكَذَا مَرَّتَيْنِ، لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ، لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ، قَالَ: وَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ الْيَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِمَّنْ حَلَّ وَلَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ، فَأَنْكَرَ عَلِيٌّ ذَلِكَ عَلَيْهَا، وَقَالَ: مَنْ أَمَرَكِ بِهَذَا؟ فَقَالَتْ: أَبِي، فَكَانَ عَلِيٌّ، يَقُولُ بِالْعِرَاقِ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَى فَاطِمَةَ فِي الْأَمْرِ الَّذِي صَنَعَتْهُ مُسْتَفْتِيًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي ذَكَرَتْ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي أَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي أَمَرَنِي بِهَذَا، فَقَالَ: صَدَقَتْ صَدَقَتْ، مَاذَا قُلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَإِنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ فَلَا تَحْلِلْ، قَالَ: وَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ مِائَةً فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَوَجَّهُوا إِلَى مِنًى أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِمِنًى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ لَهُ مِنْ شَعْرٍ فَضُرِبَتْ بِنَمِرَةٍ فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةٍ فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِلَتْ لَهُ فَرَكِبَ حَتَّى أَتَى بَطْنَ الْوَادِي، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا إِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُهُ دِمَاؤُنَا دَمُ، قَالَ عُثْمَانُ: دَمُ ابْنُ رَبِيعَةَ، وقَالَ سُلَيْمَانُ: دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وقَالَ بَعْضُ هَؤُلَاءِ: كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ، فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُهُ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ، اتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَإِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ: كِتَابَ اللَّهِ وَأَنْتُمْ مَسْئُولُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟، قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ، ثُمَّ قَالَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُبُهَا إِلَى النَّاسِ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى الصَّخَرَاتِ وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا حِينَ غَابَ الْقُرْصُ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ خَلْفَهُ فَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ حَتَّى إِنَّ رَأْسَهَا لَيُصِيبُ مَوْرِكَ رَحْلِهِ وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى: السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ، السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ، كُلَّمَا أَتَى حَبْلًا مِنَ الْحِبَالِ أَرْخَى لَهَا قَلِيلًا حَتَّى تَصْعَدَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَجَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ، قَالَ عُثْمَانُ: وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ثُمَّ اتَّفَقُوا، ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، فَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ، قَالَ سُلَيْمَانُ: بِنِدَاءٍ وَإِقَامَةٍ، ثُمَّ اتَّفَقُوا، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَرَقِيَ عَلَيْهِ، قَالَ عُثْمَانُ وَ سُلَيْمَانُ: فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ، زَادَ عُثْمَانُ: وَوَحَّدَهُ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا ثُمَّ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ: وَكَانَ رَجُلًا حَسَنَ الشَّعْرِ أَبْيَضَ وَسِيمًا، فَلَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ الظُّعُنُ يَجْرِينَ فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ وَصَرَفَ الْفَضْلُ وَجْهَهُ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ وَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ وَصَرَفَ الْفَضْلُ وَجْهَهُ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ يَنْظُرُ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا فَحَرَّكَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّذِي يُخْرِجُكَ إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ فَرَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ بِيَدِهِ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ، وَأَمَرَ عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ، يَقُولُ: مَا بَقِيَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ، ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا، قَالَ سُلَيْمَانُ: ثُمَّ رَكِبَ، ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ فَصَلَّى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُمْ يَسْقُونَ عَلَى زَمْزَمَ، فَقَالَ: انْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ".
جعفر بن محمد اپنے والد محمد (محمد باقر) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے آنے والوں کے بارے میں (ہر ایک سے) پوچھا یہاں تک کہ جب مجھ تک پہنچے تو میں نے کہا: میں محمد بن علی بن حسین ہوں، تو انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سر کی طرف بڑھایا، اور میرے کرتے کے اوپر کی گھنڈی کھولی، پھر نیچے کی کھولی، اور پھر اپنی ہتھیلی میرے دونوں چھاتیوں کے بیچ میں رکھی، میں ان دنوں جوان تھا، پھر کہا: خوش آمدید، اے میرے بھتیجے! جو چاہو پوچھو، میں نے ان سے سوالات کئے، وہ نابینا ہو چکے تھے اور نماز کا وقت آ گیا، تو وہ ایک کپڑا اوڑھ کر کھڑے ہو گئے (یعنی ایک ایسا کپڑا جو دہرا کر کے سلا ہوا تھا)، جب اسے اپنے کندھے پر ڈالتے تو چھوٹا ہونے کی وجہ سے وہ کندھے سے گر جاتا، چنانچہ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی اور ان کی چادر ان کے بغل میں تپائی پر رکھی ہوئی تھی، میں نے عرض کیا: مجھے اللہ کے رسول کے حج کا حال بتائیے، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور نو کی گرہ بنائی پھر بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو سال تک (مدینہ میں) حج کئے بغیر رہے، پھر دسویں سال لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کو جانے والے ہیں، چنانچہ مدینہ میں لوگ کثرت سے آ گئے ۱؎، ہر ایک کی خواہش تھی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں حج کرے، اور آپ ہی کی طرح سارے کام انجام دے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ کے ساتھ ہم بھی نکلے، ہم لوگ ذی الحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے یہاں محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کی ولادت ہوئی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا: میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم غسل کر لو، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو، اور احرام پہن لو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ذو الحلیفہ کی) مسجد میں نماز پڑھی، پھر قصواء (نامی اونٹنی) پر سوار ہوئے، یہاں تک کہ جب بیداء میں اونٹنی کو لے کر سیدھی ہو گئی (جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) تو میں نے تاحد نگاہ دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوار بھی ہیں پیدل بھی، اسی طرح معاملہ دائیں جانب تھا، اسی طرح بائیں جانب، اور اسی طرح آپ کے پیچھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان میں تھے ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہو رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا معنی سمجھتے تھے، چنانچہ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے ویسے ہی ہم بھی کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید پر مشتمل تلبیہ: «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» پکارا، اور لوگ وہی تلبیہ پکارتے رہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پکارا کرتے تھے ۲؎، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس میں سے کسی بھی لفظ سے منع نہیں کیا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا تلبیہ ہی برابر کہتے رہے۔ ہماری نیت صرف حج کی تھی، ہمیں پتہ نہیں تھا کہ عمرہ بھی کرنا پڑے گا ۳؎، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا پھر تین پھیروں میں رمل کیا، اور چار پھیروں میں عام چال چلے، پھر مقام ابراہیم کے پاس آئے اور یہ آیت پڑھی: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ۴؎، اور مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے بیچ میں رکھا۔ (محمد بن جعفر) کہتے ہیں: میرے والد کہتے تھے (ابن نفیل اور عثمان کی روایت میں ہے) کہ میں یہی جانتا ہوں کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے (اور سلیمان کی روایت میں ہے) میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے کہا: رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں رکعتوں میں «قل هو الله أحد» اور «قل يا أيها الكافرون» پڑھا ۵؎، پھر بیت اللہ کی طرف لوٹے اور حجر اسود کا استلام کیا، اس کے بعد (مسجد کے) دروازے سے صفا کی طرف نکل گئے جب صفا سے قریب ہوئے تو «إن الصفا والمروة من شعائر الله» پڑھا اور فرمایا: ہم بھی وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا سے ابتداء کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا، تو اللہ کی بڑائی اور وحدانیت بیان کی اور فرمایا: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير لا إله إلا الله وحده أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» پھر اس کے درمیان میں دعا مانگی اور اس طرح تین بار کہا، پھر مروہ کی طرف اتر کر آئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم ڈھلکنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطن وادی ۶؎ میں رمل کیا یہاں تک کہ جب چڑھنے لگے تو عام چال چلے، یہاں تک کہ مروہ آئے تو وہاں بھی وہی کیا جو صفا پہ کیا تھا، جب طواف کا آخری پھیرا مروہ پہ ختم ہوا تو فرمایا: اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا جو کہ بعد میں معلوم ہوا تو میں ہدی نہ لاتا اور میں اسے عمرہ بنا دیتا، لہٰذا تم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو تو وہ حلال ہو جائے، اور اسے عمرہ بنا لے۔ سبھی لوگ حلال ہو گئے اور بال کتروا لیے سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی تھی۔ پھر سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا یہ (عمرہ) صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیش کے لیے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے میں داخل کیں اور فرمایا: عمرہ حج میں اسی طرح داخل ہو گیا، اسے دو مرتبہ فرمایا: (صرف اسی سال کے لیے) نہیں، بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لیے (صرف اسی سال کے لیے) نہیں، بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لیے، اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے اونٹ لے کر آئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان لوگوں میں سے پایا جنہوں نے احرام کھول ڈالا تھا، وہ رنگین کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھیں، اور سرمہ لگا رکھا تھا، علی رضی اللہ عنہ کو یہ ناگوار لگا، وہ کہنے لگے: تمہیں کس نے اس کا حکم دیا تھا؟ وہ بولیں: میرے والد نے۔ علی رضی اللہ عنہ (اپنے ایام خلافت میں) عراق میں کہا کرتے تھے کہ میں ان کاموں سے جن کو فاطمہ نے کر رکھا تھا غصہ میں بھرا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پوچھنے کے لیے آیا جو فاطمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بتائی تھی، اور جس پر میں نے ناگواری کا اظہار کیا تھا، تو انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد نے اس کا حکم دیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا، اس نے سچ کہا، تم نے حج کی نیت کرتے وقت کیا کہا تھا؟، عرض کیا: میں نے یوں کہا تھا: اے اللہ! میں اسی کا احرام باندھتا ہوں جس کا تیرے رسول نے باندھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ تو ہدی ہے اب تم بھی احرام نہ کھولنا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہدی کے جانوروں کی مجموعی تعداد جو علی رضی اللہ عنہ یمن سے لے کر آئے تھے اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے لے کر آئے تھے کل سو (۱۰۰) تھی، چنانچہ تمام لوگوں نے احرام کھول دیا، اور بال کتروائے سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی تھی۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب یوم الترویہ (ذو الحجہ کا آٹھواں دن) آیا تو سب لوگوں نے منیٰ کا رخ کیا اور حج کا احرام باندھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوار ہوئے، اور منیٰ پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں ادا کیں۔ پھر کچھ دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے بالوں سے بنا ہوا ایک خیمہ کا حکم دیا، تو وادی نمرہ میں خیمہ لگایا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، قریش کو اس بات میں شک نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ میں مشعر حرام ۷؎ کے پاس ٹھہریں گے جیسے جاہلیت میں قریش کیا کرتے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ عرفات جا پہنچے ۸؎ تو دیکھا کہ خیمہ نمرہ میں لگا دیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو قصواء کو لانے کا حکم فرمایا، اس پر کجاوہ باندھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے یہاں تک کہ وادی کے اندر آئے، تو لوگوں کو خطاب کیا اور فرمایا: تمہاری جانیں اور تمہارے مال تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن، تمہارے اس مہینے، اور تمہارے اس شہر میں۔ سنو! جاہلیت کے زمانے کی ہر بات میرے قدموں تلے پامال ہو گئی (یعنی لغو اور باطل ہو گئی اور اس کا اعتبار نہ رہا) جاہلیت کے سارے خون معاف ہیں اور سب سے پہلا خون جسے میں معاف کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ یا ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا ہے- وہ بنی سعد میں دودھ پی رہا تھا- اسے ہذیل کے لوگوں نے قتل کر دیا تھا (وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا زاد بھائی تھا) اور جاہلیت کے تمام سود ختم ہیں سب سے پہلا سود جسے میں ختم کرتا ہوں وہ اپنا سود ہے یعنی عباس بن عبدالمطلب کا کیونکہ سود سبھی ختم ہیں خواہ وہ کسی کے بھی ہوں۔ اور عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اس لیے کہ تم نے انہیں اللہ کی امان کے ساتھ اپنے قبضہ میں لیا ہے، اور تم نے اللہ کے حکم سے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے، ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر اس شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو، اب اگر وہ ایسا کریں تو انہیں بس اس قدر مارو کہ ہڈی نہ ٹوٹنے پائے، اور انہیں تم سے دستور کے مطابق کھانا لینے اور کپڑا لینے کا حق ہے۔ میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو اس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہو گے، وہ اللہ کی کتاب ہے۔ (اچھا بتاؤ) تم سے قیامت کے روز میرے بارے میں سوال کیا جائے گا تو تمہارا جواب کیا ہو گا؟ لوگوں نے کہا: ہم گواہی دیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا حکم پہنچا دیا، حق ادا کر دیا، اور نصیحت کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا، پھر لوگوں کی طرف جھکایا، اور فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی اور انہوں نے پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی یہاں تک کہ میدان عرفات آئے تو اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ صخرات (بڑے پتھروں) کی جانب کیا، اور حبل المشاۃ کو اپنے سامنے کیا، اور قبلہ رخ ہوئے، اور شام تک ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور سورج کی ٹکیہ غائب ہونے کے بعد زردی کچھ کم ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا، پھر عرفات سے لوٹے، قصواء کی باگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھینچ کر رکھی تھی یہاں تک کہ اس کا سر پالان کے سر سے چھو جایا کرتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ کے اشارہ سے لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ: لوگو! اطمینان سے چلو!، لوگو! اطمینان سے چلو!، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بلندی پر آتے تو باگ ڈھیلی چھوڑ دیتے تاکہ وہ چڑھ سکے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ملا کر پڑھیں۔ عثمان کہتے ہیں: دونوں کے بیچ میں کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی پھر سارے راوی متفق ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی یہاں تک کہ صبح خوب اچھی طرح روشن ہو گئی، سلیمان کہتے ہیں (یہ نماز) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اذان اور ایک اقامت سے (پڑھی)، پھر سارے راوی متفق ہیں)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قصواء پر سوار ہوئے یہاں تک کہ مشعر حرام کے پاس آئے، اس پر چڑھے، (عثمان اور سلیمان کہتے ہیں) پھر قبلہ رخ ہوئے اور اللہ کی تحمید، تکبیر اور تہلیل کی، (عثمان نے یہ اضافہ کیا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید بیان کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی اس کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چل پڑے، اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، وہ نہایت عمدہ بال والے گورے خوبصورت شخص تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے تو آپ کا گزر ایسی عورتوں پر ہوا جو ہودجوں میں بیٹھی ہوئی جا رہی تھیں، فضل ان کی طرف دیکھنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ فضل کے چہرے پر رکھ دیا تو فضل نے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنا ہاتھ دوسری جانب موڑ دیا تو فضل نے اپنا رخ اور جانب موڑ لیا اور دیکھنے لگے، یہاں تک کہ جب وادی محسر میں آئے تو اپنی سواری کو ذرا حرکت دی (یعنی ذرا تیز چلایا) پھر درمیانی راستے ۹؎ سے چلے جو جمرہ عقبہ پہنچاتا ہے یہاں تک کہ جب اس جمرے کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے تو اسے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری پر تکبیر کہی، کنکری اتنی بڑی تھی کہ انگلی میں رکھ کر پھینک رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی کے اندر سے کنکریاں ماریں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نحر کرنے کی جگہ کو آئے، اور اپنے ہاتھ سے (۶۳) اونٹنیاں نحر کیں، اور پھر علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو باقی انہوں نے نحر کیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی اپنے ہدی میں شریک کر لیا (یعنی اپنے ہدی کے اونٹوں میں سے کچھ اونٹ انہیں بھی نحر کرنے کے لیے دے دیئے) پھر ہر اونٹ میں سے گوشت کا ایک ایک ٹکڑا لینے کا حکم دیا، تو وہ سب ٹکڑے ایک دیگ میں رکھ کر پکائے گئے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور علی رضی اللہ عنہ) دونوں نے ان کا گوشت کھایا اور ان کا شوربہ پیا، (سلیمان کہتے ہیں) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف چلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں ۱۰؎ ظہر پڑھی۔ پھر بنی عبدالمطلب کے پاس آئے، وہ لوگ آب زمزم پلا رہے تھے فرمایا: اے بنی عبدالمطلب! پانی کھینچو، اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمہارے سقایہ پر لوگ تم پر غالب آ جائیں گے ۱۱؎ تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی کھینچتا، ان لوگوں نے ایک ڈول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1905]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض لوگوں نے یہ تعداد (۹۰) ہزار لکھی ہے، اور بعض نے ایک لاکھ تیس ہزار کہا ہے۔
۲؎: زمانہ جاہلیت میں تلبیہ میں «لبيك اللهم لبيك لا شريك لكکے بعدإلا شريكًا هو لك تملكه» بڑھا کر کہا جاتا تھا۔
۳؎: یعنی عمرہ کا بالکل قصد نہیں تھا، یا عمرہ کو حج کے مہینوں میں جائز ہی نہیں سمجھتے تھے۔
۴؎: اور مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنالو (سورۃ البقرۃ:۱۲۵)۔
۵؎: پہلی رکعت میں «قل يا أيها الكافرون» پڑھی اور دوسری میں «قل هو الله أحد» ۔
۶؎: حرم مکی کی تعمیر جدید میں دو سبز نشان سے اس وادی کی حد مقرر کر دی گئی ہے، جن کو میلین اخضرین کہا جاتا ہے۔
۷؎: مشعر حرام: مزدلفہ میں ایک مشہور پہاڑی کا نام ہے اسے قزح بھی کہا جاتا ہے۔
۸؎: زمانہ جاہلیت میں قریش مزدلفہ میں ٹھہر جاتے تھے، عرفات نہیں جاتے تھے، اور باقی لوگ عرفات جاتے تھے، ان کا خیال تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریش کی اتباع کریں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نہیں ٹھہرے اور عرفات چل دیئے۔
۹؎: اس کو طریق مازمین (دو پہاڑوں کا نام ہے) کہتے ہیں، عرفات سے اسی راستہ سے واپس ہونا سنت ہے، یہ اس راستہ کے علاوہ ہے جس سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات گئے تھے، راستہ کی یہ تبدیلی نیک فال کے طور پر بھی ہے۔
۱۰؎: یہی راجح قول ہے اس کے برخلاف ایک روایت آتی ہے جس میں ظہر منیٰ میں پڑھنے کا ذکر ہے، علماء نے دونوں میں تطبیق اس طرح دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زوال سے پہلے طواف افاضہ کیا پھر مکہ میں اول وقت پر ظہر پڑھی پھر منیٰ واپس آئے تو وہاں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ظہر پڑھی، اور بعد والی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل ہو گئی۔
۱۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اگر میں بھی پانی نکالنے میں لگ جاؤں تو لوگ اس کو بھی حج کی ایک ذمہ داری سمجھ لیں گے، اور اس کے لئے بھیڑ لگائیں گے، پھر تم ڈر کی وجہ سے اس خدمت سے علاحدہ ہو جاؤ گے کیونکہ تم لوگوں سے نہیں لڑ سکو گے، اور وہ تم پر غالب آ جائیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1218)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 19 (1218)، سنن النسائی/الحج 46 (2713)، 51 (2741)، 52 (2744)، 73 (2800)، سنن ابن ماجہ/المناسک 84 (3074)، (تحفة الأشراف: 2593)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/320، 331، 333، 340، 373، 388، 394، 397)، سنن الدارمی/المناسک 11(1846) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ بِعَرَفَةَ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا وَإِقَامَتَيْنِ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ أَسْنَدَهُ حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فِي الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ، وَوَافَقَ حَاتِمَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَلَى إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، إِلَّا أَنَّهُ، قَالَ: " فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعَتَمَةَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ".
جعفر بن محمد اپنے والد محمد باقر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں ظہر اور عصر ایک اذان سے پڑھی، ان کے درمیان کوئی نفل نہیں پڑھی، البتہ اقامت دو تھیں، اور مغرب و عشاء جمع (مزدلفہ) میں ایک اذان اور دو اقامتوں سے پڑھی، ان کے درمیان بھی کوئی نفل نہیں پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حاتم بن اسماعیل نے ایک لمبی حدیث میں مسنداً بیان کیا ہے اور حاتم بن اسماعیل کی طرح اسے محمد بن علی الجعفی نے جعفر سے، اور جعفر نے اپنے والد محمد سے، محمد نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ نے مغرب اور عشاء ایک اذان اور ایک اقامت سے پڑھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1906]
💡 وضاحت:
۱؎: اور یہ روایت سنداً و واقعۃً ضعیف ہے، صحیح یہی ہے کہ دونوں نماز ایک اذان اور دو اقامتوں سے ادا کیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح م عن جابر وهو الصواب وهو الذي قبله
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (1905)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19320) (ضعیف) یہ حدیث معلق ہے، اس کی ابتدائی سند کو ابوداود نے ذکر نہیں کیا ہے، اور اس میں اقامة کا لفظ شاذ ہے، اقامتین محفوظ ہے، جیسا کہ گزرا (ملاحظہ ہو: 1905- 1906)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ نَحَرْتُ هَا هُنَا وَ مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ" وَوَقَفَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ: " قَدْ وَقَفْتُ هَا هُنَا وَ عَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ" وَوَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقَالَ: " قَدْ وَقَفْتُ هَا هُنَا وَ مُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو یہاں (منیٰ میں) نحر کیا ہے اور منیٰ پورا کا پورا نحر کرنے کی جگہ ہے، اور عرفات میں وقوف کیا تو فرمایا: میں نے یہاں وقوف کیا ہے لیکن پورا میدان عرفات وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ ہے، اور مزدلفہ میں وقوف تو فرمایا: میں یہاں ٹھہرا ہوں لیکن پورا مزدلفہ وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1907]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1218)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/ الحج 19 (1218)، سنن النسائی/ الحج 51 (2741)، (تحفة الأشراف: 2596) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرٍ بِإِسْنَادِهِ، زَادَ: " فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ".
اس سند سے بھی جعفر سے یہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: «فانحروا في رحالكم» کہ تم لوگ اپنی قیام گاہوں میں نحر کرو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1908]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1218)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2596) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ وَأَدْرَجَ فِي الْحَدِيثِ عِنْدَ قَوْلِهِ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، قَالَ: " فَقَرَأَ فِيهِمَا بِالتَّوْحِيدِ و قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ"، وَقَالَ فِيهِ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْكُوفَةِ: قَالَ أَبِي: هَذَا الْحَرْفُ لَمْ يَذْكُرْهُ جَابِرٌ، فَذَهَبْتُ مُحَرِّشًا، وَذَكَرَ قِصَّةَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
اس سند سے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں یعقوب نے «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھنے کے بعد یہ ادراج کیا ہے کہ آپ نے ان دونوں رکعتوں میں توحید (یعنی «قل هو الله أحد» ) اور «قل يا أيها الكافرون» پڑھیں، اور اس میں یہ ادراج بھی کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں کہا یعقوب کہتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا: جابر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول ذکر نہیں کیا: (میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فاطمہ رضی اللہ عنہا کے خلاف غصہ دلانے چلا)، اور یعقوب نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ذکر کیا، میرے والد جعفر کا کہنا ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اس حرف یعنی «فذهبت محرشا» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1909]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (1905) وھذا طرف منه
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم (1905)، (تحفة الأشراف: 2593) (صحیح)
58: باب الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفات میں وقوف (ٹھہرنے) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَتْ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمُسَ، وَكَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ، قَالَتْ: فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ، أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفَ بِهَا ثُمَّ يُفِيضُ مِنْهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش اور ان کے ہم مذہب لوگ مزدلفہ میں ہی ٹھہرتے تھے اور لوگ انہیں حمس یعنی بہادر و شجاع کہتے تھے جب کہ سارے عرب کے لوگ عرفات میں ٹھہرتے تھے، تو جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات آنے اور وہاں ٹھہرنے پھر وہاں سے مزدلفہ لوٹنے کا حکم دیا اور یہی حکم اس آیت میں ہے: «‏‏‏‏ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» (سورۃ البقرہ: ۱۹۹) تم لوگ وہاں سے لوٹو جہاں سے سبھی لوگ لوٹتے ہیں - یعنی عرفات سے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1910]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4520) صحيح مسلم (1219)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 91 (1665)، وتفسیر البقرة 35 (4520)، م /الحج 21 (1219)، سنن النسائی/ الحج 202 (3015)، (تحفة الأشراف: 17195)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 53 (884)، سنن ابن ماجہ/المناسک 58 (3018) (صحیح)
59: باب الْخُرُوجِ إِلَى مِنًى
باب: مکہ سے منیٰ جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَالْفَجْرَ يَوْمَ عَرَفَةَ بِمِنًى".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو ظہر اور یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کو فجر منیٰ میں پڑھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1911]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ وله شواھد عند ابن ماجه (3005 وسنده حسن) وانظر الحديث الآتي (1913)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 50 (880)، (تحفة الأشراف: 6465)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/255، 296، 297، 303)، دی/المناسک 46 (1913) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رَفِيعٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ فَقَالَ: بِمِنًى، قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ، ثُمَّ قَالَ: افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ".
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور کہا: مجھے آپ وہ بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو یاد ہو کہ آپ نے ظہر یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو کہاں پڑھی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں، میں نے عرض کیا تو لوٹنے کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کہاں پڑھی؟ فرمایا: ابطح میں، پھر کہا: تم وہی کرو جو تمہارے امراء کریں ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1912]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس طرح کے چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں امیر کی مخالفت نہ کرو کیوں کہ ان کی مخالفت بسا اوقات فتنوں اور فساد کا موجب ہوتی ہے، خصوصاً جب کہ امراء ظالم ہوں ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع تو ہر حال میں بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1763) صحيح مسلم (1309)
تخریج دارالدعوہ: * تخريج:صحیح البخاری/الحج 83 (1653)، 146 (1763)، صحیح مسلم/الحج 58 (1308)، سنن الترمذی/الحج 116 (964)، سنن النسائی/الحج 190 (3000)، (تحفة الأشراف: 988)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/100)، سنن الدارمی/المناسک 46 (1914) (صحیح)
60: باب الْخُرُوجِ إِلَى عَرَفَةَ
باب: (منیٰ سے) عرفات جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " غَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ صَبِيحَةَ يَوْمِ عَرَفَةَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَنَزَلَ بِنَمِرَةَ وَهِيَ مَنْزِلُ الْإِمَامِ الَّذِي يَنْزِلُ بِهِ بِعَرَفَةَ، حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ صَلَاةِ الظُّهْرِ رَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهَجِّرًا فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ رَاحَ فَوَقَفَ عَلَى الْمَوْقِفِ مِنْ عَرَفَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کو فجر پڑھ کر منیٰ سے چلے یہاں تک کہ عرفات آئے تو نمرہ میں اترے اور نمرہ عرفات میں امام کے اترنے کی جگہ ہے، جب ظہر کا وقت آنے کو ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نمرہ سے) عین دوپہر میں چلے اور ظہر اور عصر کو جمع کیا، پھر لوگوں میں خطبہ دیا ۱؎ پھر چلے اور عرفات میں موقف میں وقوف کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1913]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کے برخلاف جابر رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث میں نماز سے پہلے خطبہ کا ذکر ہے، دونوں حدیثوں میں تطبیق یہ دی جاتی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کو عام نصیحت پر محمول کر لیا جائے، اور جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کو عرفہ کے مسنون خطبہ پر، یا یہ کہا جائے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما والی روایت میں راوی کو وہم ہو گیا ہے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8416)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/129) (حسن)
61: باب الرَّوَاحِ إِلَى عَرَفَةَ
باب: (نمرہ سے) عرفات کے لیے نکلنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " لَمَّا أَنْ قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ أَيَّةُ سَاعَةٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُوحُ فِي هَذَا الْيَوْمِ؟ قَالَ: إِذَا كَانَ ذَلِكَ رُحْنَا فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ يَرُوحَ، قَالُوا: لَمْ تَزِغْ الشَّمْسُ، قَالَ: أَزَاغَتْ؟ قَالُوا: لَمْ تَزِغْ، أَوْ زَاغَتْ، قَالَ: فَلَمَّا قَالُوا: قَدْ زَاغَتْ، ارْتَحَلَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس (پوچھنے کے لیے آدمی) بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج (یعنی عرفہ) کے دن (نماز اور خطبہ کے لیے) کس وقت نکلتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا جب یہ وقت آئے گا تو ہم خود چلیں گے، پھر جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چلنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا: ابھی سورج ڈھلا نہیں، انہوں نے پوچھا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا، پھر جب لوگوں نے کہا کہ سورج ڈھل گیا تو وہ چلے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1914]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3009) ¤ سعيد بن حسان الحجازي مجھول الحال لم يوثقه غير ابن حبان ¤ وحديث مسلم (1218) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 54 (3009)، (تحفة الأشراف: 7073)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 87 (1660)، موطا امام مالک/الحج 64 (195)، مسند احمد (2/25) (حسن)
62: باب الْخُطْبَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفات میں منبر پر خطبہ دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِعَرَفَةَ".
بنی ضمرہ کے ایک آدمی اپنے والد یا اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں منبر پر (خطبہ دیتے) دیکھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1915]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ رجل من بني ضمرة لم أعرفه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15700)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/194، 369، 430) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی رَجُلٌ مبہم ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْحَيِّ، عَنْ أَبِيهِ نُبَيْطٍ، أَنَّهُ" رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِعَرَفَةَ عَلَى بَعِيرٍ أَحْمَرَ يَخْطُبُ".
نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں سرخ اونٹ پر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1916]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (3010) ابن ماجه (1286) ¤ رجل من الحي مجھول ¤ والحديث الآتي (الأصل: 1917) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الحج 198 (3010)، 199 (3011)، (تحفة الأشراف: 11589)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 158(1286)، مسند احمد (4/ 305، 306) (صحیح) (مؤلف کے علاوہ دوسروں کے یہاں سند میں عن رجل کا اضافہ نہیں ہے اور سلمہ کا اپنے والد سے سماع ثابت ہے اس لئے یہ حدیث صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ، قَالَ هَنَّادٌ: عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ الْعَدَّاءِ بْنِ هَوْذَةَ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ عَرَفَةَ عَلَى بَعِيرٍ قَائِمٌ فِي الرِّكَابَيْنِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ وَكِيعٍ، كَمَا قَالَ هَنَّادٌ.
خالد بن عداء بن ہوذہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں عرفہ کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹ پر دونوں رکابوں کے درمیان کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ ۱؎ دیتے دیکھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن العلاء نے وکیع سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ہناد نے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1917]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی صحیح ہے اور باب کی پہلی حدیث جس میں میدان عرفات میں منبر پر خطبہ دینے کا تذکرہ ہے وہ سند کے اعتبار سے کمزور ہے، واضح رہے کہ اس وقت وہاں منبر تھا ہی نہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دیتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2597)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9849)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/30) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ أَبُو عَمْرٍو، عَنْ الْعَدَّاءِ، بِمَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی عداء بن خالد سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1918]
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ انظر الحديث السابق (1917)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9849) (صحیح)
63: باب مَوْضِعِ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفات میں وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ، قَالَ: " أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ وَنَحْنُ بِعَرَفَةَ فِي مَكَانٍ يُبَاعِدُهُ عَمْرُو عَنِ الْإِمَامِ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ، يَقُولُ لَكُمْ: قِفُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ، فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ".
یزید بن شیبان کہتے ہیں ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے ہم عرفات میں تھے (وہ ایسی جگہ تھی جسے عمرو (عمرو بن عبداللہ) امام سے دور سمجھتے تھے)، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، آپ کا فرمان ہے کہ اپنے مشاعر (نشانیوں کی جگہوں) پر ٹھہرو ۱؎ اس لیے کہ تم اپنے والد ابراہیم کے وارث ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1919]
💡 وضاحت:
۱؎: مشاعر سے مراد مناسک حج کے مقامات اور قدیم مواقف ہیں، یعنی ان جگہوں پر تم بھی ٹھہرو کیونکہ ان جگہوں پر وقوف تمہارے باپ ابراہیم کے زمانہ ہی سے بطور وراثت چلا آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2595) ¤ أخرجه الترمذي (883 وسنده صحيح) والنسائي (3017 وسنده حسن) وابن ماجه (3011 وسنده صحيح) سفيان بن عيينة صرح بالسماع عند الحميدي (577)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 53 (883)، سنن ابن ماجہ/المناسک 55 (3011) سنن النسائی/ الحج 202 (3017)، (تحفة الأشراف: 15526)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/137) (صحیح)
64: باب الدَّفْعَةِ مِنْ عَرَفَةَ
باب: عرفات سے لوٹنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ. ح وحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ الْمَعْنَى، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ، وَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ"، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَيْهَا عَادِيَةً حَتَّى أَتَى جَمْعًا، زَادَ وَهْبٌ: ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ، وَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ، فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ"، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَيْهَا حَتَّى أَتَى مِنًى.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے، آپ پر اطمینان اور سکینت طاری تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف اسامہ رضی اللہ عنہ تھے، آپ نے فرمایا: لوگو! اطمینان و سکینت کو لازم پکڑو اس لیے کہ گھوڑوں اور اونٹوں کا دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے انہیں (گھوڑوں اور اونٹوں کو) ہاتھ اٹھائے دوڑتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمع (مزدلفہ) آئے، (وہب کی روایت میں اتنا زیادہ ہے): پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو بٹھایا اور فرمایا: لوگو! گھوڑوں اور اونٹوں کو دوڑانا نیکی نہیں ہے تم اطمینان اور سکینت کو لازم پکڑو۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر میں نے کسی اونٹ اور گھوڑے کو اپنے ہاتھ اٹھائے (دوڑتے) نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ آئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1920]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الأعمش والحكم بن عتيبة مدلسان وعنعنا ¤ وحديث البخاري (1678) ومسلم (1293) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:6470)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 22 (1544)، صحیح مسلم/الحج 45 (1282)، سنن الترمذی/الحج 78 (918)، سنن النسائی/الحج 204 (3022)، مسند احمد (1/235، 251، 269، 277، 326، 353، 371) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ. ح. وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ زُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي كَيْفَ فَعَلْتُمْ أَوْ صَنَعْتُمْ عَشِيَّةَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمُعَرَّسِ فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ بَالَ، وَمَا قَالَ زُهَيْرٌ: أَهْرَاقَ الْمَاءَ ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ جِدًّا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةُ، قَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامَكَ، قَالَ: رَكِبَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ وَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ وَصَلَّى، ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ". زَادَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ: رَدِفَهُ الْفَضْلُ وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ.
کریب کہتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا: جس شام کو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو کر آئے تھے آپ نے کیا کیا کیا؟ وہ بولے: ہم اس گھاٹی میں آئے جہاں لوگ اپنے اونٹ رات کو قیام کے لیے بٹھاتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی بیٹھا دی، پھر پیشاب کیا، (زہیر نے یہ نہیں کہا کہ پانی بہایا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگایا اور وضو کیا، جس میں زیادہ مبالغہ نہیں کیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نماز، (پڑھی جائے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز آگے چل کر (پڑھیں گے)۔ اسامہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے یہاں تک کہ مزدلفہ آئے، وہاں آپ نے مغرب پڑھی پھر لوگوں نے اپنی سواریاں اپنے ٹھکانوں پر بٹھائیں یہاں تک کہ عشاء کی اقامت ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی، پھر لوگوں نے اونٹوں سے اپنے بوجھ اتارے، (محمد کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ کریب کہتے ہیں) پھر میں نے پوچھا: صبح ہوئی تو آپ لوگوں نے کیسے کیا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سوار ہوئے، اور میں پیدل قریش کے لوگوں کے ساتھ ساتھ چلا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1921]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1280)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/ الحج 207 (3033)، سنن ابن ماجہ/المناسک 59 (3019)، (تحفة الأشراف: 116)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 35 (139)، والحج 95 (1666)، صحیح مسلم/الحج 47 (1280)، سنن الترمذی/الحج 54 (885)، موطا امام مالک/الحج 65 (197)، مسند احمد (5/200، 202، 208،210)، سنن الدارمی/المناسک 51 (1922) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَى نَاقَتِهِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ الْإِبِلَ يَمِينًا وَشِمَالًا لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ، وَيَقُولُ: السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ، وَدَفَعَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر (ارکان عرفات سے فراغت کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیچھے سوار کر لیا اور درمیانی چال سے اونٹ ہانکنے لگے، لوگ دائیں اور بائیں اپنے اونٹوں کو مار رہے تھے آپ ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور فرماتے تھے: لوگو! اطمینان سے چلو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے اس وقت لوٹے جب سورج ڈوب گیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1922]
قال الشيخ الألباني: حسن دون قوله لا يلتفت والمحفوظ يلتفت وصححه الترمذي
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (885) وانظر الحديث الآتي (1935) ¤ سفيان الثوري مدلس وعنعن ¤ وحديث أحمد (1/ 76) سنده حسن وھو يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 554 (885)، (تحفة الأشراف: 10229)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/72، 75، 76، 81) (حسن) (مگر لا یلتفت کا لفظ صحیح نہیں ہے، صحیح لفظ یلتفت ہے جیسا کہ ترمذی میں ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا جَالِسٌ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ؟ قَالَ: " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ"، قَالَ هِشَامٌ: النَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ.
عروہ کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں عرفات سے لوٹتے وقت کیسے چلتے تھے؟ فرمایا: تیز چال چلتے تھے، اور جب راستہ پا جاتے تو دوڑتے۔ ہشام کہتے ہیں: «نص» ، «عنق» سے بھی زیادہ تیز چال کو کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1923]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1666) صحيح مسلم (1286)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 93 (1666)، والجہاد 136 (2999)، والمغازي 77 (4413)، صحیح مسلم/الحج 47 (1286)، سنن النسائی/الحج 205 (3026)، 214 (3054)، سنن ابن ماجہ/المناسک 58 (3017)، (تحفة الأشراف: 104)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 57(176)، مسند احمد (5/205، 210)، سنن الدارمی/المناسک 51 (1922) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: " كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا وَقَعَتِ الشَّمْسُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر تھا جب سورج ڈوب گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1924]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 117) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کی روایت ہے کہ انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے جب گھاٹی میں آئے تو اترے، پیشاب کیا اور وضو کیا لیکن بھرپور وضو نہیں کیا، میں نے آپ سے عرض کیا: نماز (کا وقت ہو گیا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز آگے چل کر پڑھیں گے، پھر آپ سوار ہوئے جب مزدلفہ پہنچے تو اترے وضو کیا اور اچھی طرح سے وضو کیا، پھر نماز کی تکبیر کہی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھی پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنے قیام گاہ میں بٹھایا پھر عشاء کی اقامت ہوئی تو آپ نے عشاء پڑھی اور درمیان میں کچھ نہیں پڑھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1925]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن، صحيح بخاري (1672) صحيح مسلم (1280 بعد ح 1285) ¤ مشكوة المصابيح (2616) ¤ 1925 ب: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 35 (139)، والحج 95 (1666)، صحیح مسلم/الحج 47 (1280)، سنن النسائی/ الحج 206 (3027، 3028)، سنن الترمذی/الحج 54 (885)، (تحفة الأشراف: 115)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/199، 208، 210) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
جناب شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (عرفات سے) روانہ ہوا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں نے زمین کو نہیں چھوا حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1925M]
65: باب الصَّلاَةِ بِجَمْعٍ
باب: مزدلفہ میں نماز پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء مزدلفہ میں ایک ساتھ پڑھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1926]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (703 بعد ح 1287)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 47 (703)، سنن النسائی/ الصلاة 18 (482)، 20 (484، 485)، سنن النسائی/ الصلاة 18 (482)، 20 (484، 485)، المواقیت 49 (607)، والأذان 19 (658)، والحج 207 (3033)، (تحفة الأشراف: 6914)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 96 (1674)، سنن الترمذی/الحج 56 (888)، سنن ابن ماجہ/المناسک 60 (3020)، موطا امام مالک/الحج 65 (196)، مسند احمد (2/ 3، 62، 79، 81) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ: " بِإِقَامَةٍ إِقَامَةِ جَمْعٍ بَيْنَهُمَا"، قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ وَكِيعٌ: " صَلَّى كُلَّ صَلَاةٍ بِإِقَامَةٍ".
اس سند سے بھی زہری سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ ایک ہی اقامت سے دونوں کو جمع کیا۔ احمد کہتے ہیں: وکیع نے کہا: ہر نماز الگ الگ اقامت سے پڑھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1927]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1673)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الحج 96 (1673)، سنن النسائی/ الأذان 20 (661)، الحج 207 (3031)، (تحفة الأشراف: 6923)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/56، 157)، دی/ المناسک 52 (1926) (صحیح) (ہر صلاة کے لئے الگ الگ اقامت والی روایت ہی صحیح ہے، جیسا کہ جابر کی طویل حدیث میں گزرا)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ. ح وحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنَى، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ ابْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ حَمَّادٍ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: " بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَلَمْ يُنَادِ فِي الْأُولَى وَلَمْ يُسَبِّحْ عَلَى إِثْرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا"، قَالَ مَخْلَدٌ: " لَمْ يُنَادِ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا".
اس سند سے بھی زہری سے ابن حنبل کی سند سے انہوں نے حماد سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: ہر نماز کے لیے ایک الگ اقامت کہی اور پہلی نماز کے لیے اذان نہیں دی اور نہ ان دونوں میں سے کسی کے بعد نفل پڑھی۔ مخلد کہتے ہیں: ان دونوں میں سے کسی نماز کے لیے اذان نہیں دی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1928]
قال الشيخ الألباني: صحيح خ دون قوله لم يناد وهو الصواب
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (1927)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6923) (صحیح) (اذان والا جملہ صحیحین میں نہیں ہے، اور صحیح مسلم میں جابر کی روایت کے مطابق ایک اذان ثابت ہے، نیز ابن عمر رضی اللہ عنہ کی آنے والی حدیث نمبر (1933) میں اذان واقامت کی تصریح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَالِكُ بْنُ الْحَارِثِ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: صَلَّيْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مغرب تین رکعت اور عشاء دو رکعت پڑھی، تو مالک بن حارث نے ان سے کہا: یہ کون سی نماز ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ دونوں اسی جگہ ایک تکبیر سے پڑھیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1929]
قال الشيخ الألباني: صحيح بزيادة لكل صلاة
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (887) ¤ أبو إسحاق مدلس وعنعن ¤ والحديث السابق (الأصل: 1927) يغني عنه ¤ وانظر الحديث الآتي (الأصل: 1930) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/ الحج 56 (887)، (تحفة الأشراف: 7285)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/18، 33، 78، 152) (صحیح) (ہر صلاة کے لئے الگ الگ اقامت کی زیادتی کے ساتھ یہ روایت صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَا: " صَلَّيْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِالْمُزْدَلِفَةِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ كَثِيرٍ".
سعید بن جبیر اور عبداللہ بن مالک سے روایت ہے وہ دونوں کہتے ہیں: ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب و عشاء ایک اقامت سے پڑھیں، پھر راوی نے ابن کثیر کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1930]
قال الشيخ الألباني: صحيح بالزيادة المذكورة آنفا
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1288)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/ الحج 47 (1288)، سنن الترمذی/ الحج 56 (888)، سنن النسائی/ الحج 207 (3033)، (تحفة الأشراف: 7052)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/280، 2/2، 3، 33، 59، 62، 79، 81) (صحیح) (اس میں قاضی شریک بن عبداللہ ضعیف ہیں، لیکن ان کی متابعت موجود ہے، اذان اور ہر صلاة میں اقامت کے اثبات کے ساتھ جیسے تفصیل گزری)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: " أَفَضْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ، فَلَمَّا بَلَغْنَا جَمْعًا صَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ثَلَاثًا وَاثْنَتَيْنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لَنَا ابْنُ عُمَرَ: هَكَذَا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ".
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم (عرفات سے) ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ لوٹے، جب ہم جمع یعنی مزدلفہ پہنچے تو آپ نے ہمیں مغرب اور عشاء، تین رکعت مغرب کی اور دو رکعت عشاء کی ایک اقامت ۱؎ سے پڑھائی، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ہم سے کہا: اسی طرح ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ پڑھائی تھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1931]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کے برخلاف جابر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اذان اور دو تکبیر سے دونوں نمازیں ادا کیں اور یہی راجح ہے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح م لكن قوله بإقامة واحدة شاذ إلا أن يزاد لكل صلاة
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1288)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم (1930)، (تحفة الأشراف: 7052) (صحیح) (’’ایک اقامت‘‘ والی روایت شاذ ہے، ہر صلاة کے لئے الگ الگ اقامت ثابت ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَقَامَ بِجَمْعٍ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ صَنَعَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ هَذَا، وَقَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ هَذَا فِي هَذَا الْمَكَانِ".
سلمہ بن کہیل کہتے ہیں میں نے سعید بن جبیر کو دیکھا انہوں نے مزدلفہ میں اقامت کہی پھر مغرب تین رکعت پڑھی اور عشاء دو رکعت، پھر آپ نے کہا: میں نے دیکھا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس مقام پر اسی طرح کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مقام پر اسی طرح کرتے دیکھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1932]
قال الشيخ الألباني: صحيح م وفيه الشذوذ المذكور في الذي قبله
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1288)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم (1930)، (تحفة الأشراف: 7052) (صحیح) (اس میں بھی ایک اقامت شاذ ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " أَقْبَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ فَلَمْ يَكُنْ يَفْتُرُ مِنَ التَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، أَوْ أَمَرَ إِنْسَانًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: الصَّلَاةُ، فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عِلَاجُ بْنُ عَمْرٍو بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ فِي ذَلِكَ: فَقَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا".
سلیم بن اسود ابوالشعثاء محاربی کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عرفات سے مزدلفہ آیا وہ تکبیر و تہلیل سے تھکتے نہ تھے، جب ہم مزدلفہ آ گئے تو انہوں نے اذان کہی اور اقامت، یا ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ اذان اور اقامت کہے، پھر ہمیں مغرب تین رکعت پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: عشاء پڑھ لو چنانچہ ہمیں عشاء دو رکعت پڑھائی پھر کھانا منگوایا۔ اشعث کہتے ہیں: اور مجھے علاج بن عمرو نے میرے والد کی حدیث کے مثل حدیث کی خبر دی ہے جو انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لوگوں نے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1933]
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن قوله ف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7091) (صحیح) (اس میں دونوں نمازیں کے لئے اذان ثابت و محفوظ ہے، (1928) کی حدیث میں اذان کا انکار ہے، جو شاذ و ضعیف ہے جیسا کہ گزرا، نیز اس روایت میں دوسری اقامت کی جگہ الصلاة کا لفظ ہے جو شاذ ہے، محفوظ دوسری مرتبہ اقامت کا لفظ ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنَ زَيَادٍ، وَأَبَا عَوَانَةَ، وَأَبَا مُعَاوِيَةَ حَدَّثُوهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِوَقْتِهَا، إِلَّا بِجَمْعٍ فَإِنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ مِنَ الْغَدِ قَبْلَ وَقْتِهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ وقت پر ہی نماز پڑھتے دیکھا سوائے مزدلفہ کے، مزدلفہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کو جمع کیا اور دوسرے دن فجر وقت معمول سے کچھ پہلے پڑھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1934]
💡 وضاحت:
۱؎: ترجمہ سے اس حدیث کا صحیح معنی واضح ہو گیا، بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ غلس کے بعد اسفار میں نماز پڑھتے تھے صرف اس دن غلس میں پڑھی، لیکن دیگر صحیح روایات کی روشنی میں اس حدیث کا صحیح مطلب یہ ہے کہ: غلس ہی میں فوراً پڑھ لی، عام حالات کی طرح تھوڑا انتظار نہیں کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1682) صحيح مسلم (1289)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 99 (1682)، صحیح مسلم/الحج 48 (1289)، سنن النسائی/المواقیت 49 (606)، والحج 207 (3030)، 210 (3041)، (تحفة الأشراف: 9384)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/384، 426، 434) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " فَلَمَّا أَصْبَحَ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ، فَقَالَ: هَذَا قُزَحُ وَهُوَ الْمَوْقِفُ وَ جَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَنَحَرْتُ هَا هُنَا وَ مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (مزدلفہ میں) جب آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو آپ قزح میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: یہ قزح ہے اور یہ موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے، اور مزدلفہ پورا موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے، میں نے یہاں نحر کیا ہے اور منیٰ پورا نحر کرنے کی جگہ ہے لہٰذا تم اپنے اپنے ٹھکانوں میں نحر کر لو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1935]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (885) ابن ماجه (3010) ¤ سفيان الثوري عنعن ¤ وانظر الحديث السابق: 1922 ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 54 (885)، سنن ابن ماجہ/المناسک 55 (3010)، (تحفة الأشراف: 10229) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَقَفْتُ هَا هُنَا بِعَرَفَةَ وَ عَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَوَقَفْتُ هَا هُنَا بِجَمْعٍ وَ جَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَنَحَرْتُ هَا هُنَا وَ مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عرفات میں اس جگہ ٹھہرا ہوں لیکن عرفات پورا جائے وقوف ہے، میں مزدلفہ میں یہاں ٹھہرا ہوں لیکن مزدلفہ پورا جائے وقوف ہے، میں نے یہاں پر نحر کیا اور منیٰ پورا جائے نحر ہے لہٰذا تم اپنے ٹھکانوں میں نحر کرو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1936]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ رواه مسلم (1218)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/ الحج 19 (1218)، سنن النسائی/ الحج 51 (2741)، (تحفة الأشراف: 2596)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المناسک 50 (1921) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا عرفات جائے وقوف ہے پورا منیٰ جائے نحر ہے اور پورا مزدلفہ جائے وقوف ہے مکہ کے تمام راستے چلنے کی جگہیں ہیں اور ہر جگہ نحر درست ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1937]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2596) ¤ أخرجه ابن ماجه (3048 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/ المناسک 73 (3048)، (تحفة الأشراف: 2397)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/326) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُفِيضُونَ حَتَّى يَرَوْا الشَّمْسَ عَلَى ثَبِيرٍ، فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے لوگ مزدلفہ سے نہیں لوٹتے تھے جب تک کہ سورج کو ثبیر ۱؎ پر نہ دیکھ لیتے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے ہی (مزدلفہ سے) چل پڑے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1938]
💡 وضاحت:
۱؎: ثبير: مزدلفہ میں ایک مشہور پہاڑی کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3838)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 100 (1684)، ومناقب الأنصار 26 (3838)، سنن الترمذی/الحج 60 (896)، سنن النسائی/الحج 213 (3050)، سنن ابن ماجہ/المناسک 61 (3022)، (تحفة الأشراف: 10616)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/14، 29، 39، 42، 50، 52)، سنن الدارمی/المناسک 55 (1932) (صحیح)
66: باب التَّعْجِيلِ مِنْ جَمْعٍ
باب: مزدلفہ سے منیٰ جلدی واپس لوٹ جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: " أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعْفَةِ أَهْلِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے لوگوں میں سے کمزور جان کر مزدلفہ کی رات کو پہلے بھیج دیا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1939]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ سے رات ہی میں منیٰ روانہ کر دینا جائز ہے، تا کہ وہ بھیڑ بھاڑ سے پہلے کنکریاں مار کر فارغ ہو جائیں، لیکن سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ ماریں، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1678) صحيح مسلم (1293)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 98 (1678)، وجزاء الصید 25 (1856)، صحیح مسلم/الحج 49 (1293)، سنن النسائی/الحج 208 (3032)، (تحفة الأشراف: 5864)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 58 (292، 893)، سنن ابن ماجہ/المناسک 62 (3025)، مسند احمد (1/221، 222، 245، 272، 334، 346) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ فَجَعَلَ يَلْطَخُ أَفْخَاذَنَا، وَيَقُولُ: أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: اللَّطْخُ: الضَّرْبُ اللَّيِّنُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہم چھوٹے بچوں کو گدھوں پر سوار کر کے مزدلفہ کی رات پہلے ہی روانہ کر دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری رانوں پر دھیرے سے مارتے تھے اور فرماتے تھے: اے میرے چھوٹے بچو! جمرہ پر کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ آفتاب طلوع نہ ہو جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «لطح» کے معنی آہستہ مارنے کے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1940]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (3066) ابن ماجه (3025) ¤ الحسن العرني ثقة أرسل عن ابن عباس (تق: 1252) ¤ ولبعض الحديث شواھد بعضھا حسنة عند الطحاوي (مشكل الآثار 9/ 119ح 3494) وغيره ¤ والحديث الآتي (الأصل: 1941) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الحج 222 (3066)، سنن ابن ماجہ/ المناسک 62 (3025)، (تحفة الأشراف: 5396)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 58 (893)، مسند احمد (1/234، 311، 343) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَدِّمُ ضُعَفَاءَ أَهْلِهِ بِغَلَسٍ وَيَأْمُرُهُمْ يَعْنِي لَا يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کمزور اور ضعیف لوگوں کو اندھیرے ہی میں منیٰ روانہ کر دیتے تھے اور انہیں حکم دیتے تھے کہ کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ آفتاب نہ نکل آئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1941]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ وللحديث شواھد حسن عند الطحاوي في مشكل الآثار (9/119 ح 3494 وسنده حسن) والبخاري (1678) وغيرھما
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/ الحج 222 (3067)، (تحفة الأشراف: 5888) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمِّ سَلَمَةَ لَيْلَةَ النَّحْرِ فَرَمَتِ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ مَضَتْ فَأَفَاضَتْ وَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ الْيَوْمَ الَّذِي يَكُونُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي عِنْدَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ کو نحر کی رات (دسویں رات) کو (منیٰ کی طرف) روانہ فرما دیا انہوں نے فجر سے پہلے کنکریاں مار لیں پھر مکہ جا کر طواف افاضہ کیا، اور یہ وہ دن تھا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس رہا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1942]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن تھا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2614)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:16961) (ضعیف) (اس میں ضحاک ضعیف الحفظ ہیں، اور سند ومتن میں اضطراب ہے، ثقات کے روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود 2؍ 177)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ، عَنْ أَسْمَاءَ، " أَنَّهَا رَمَتِ الْجَمْرَةَ، قُلْتُ: إِنَّا رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ بِلَيْلٍ، قَالَتْ: إِنَّا كُنَّا نَصْنَعُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے جمرہ کو کنکریاں ماریں، مخبر (راوی حدیث) کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: ہم نے رات ہی کو جمرے کو کنکریاں مار لیں، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1943]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ المخبر ومولي أسماء: عبد الله بن كيسان التيمي
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الحج 214 (3053)، (تحفة الأشراف: 15737)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 98 (1679)، صحیح مسلم/الحج 49 (1291)، موطا امام مالک/الحج 56 (172)، مسند احمد (6/347، 351) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے اطمینان و سکون کے ساتھ لوٹے اور لوگوں کو حکم دیا کہ اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو ہاتھ کی دونوں انگلیوں کے سروں کے درمیان آ سکیں اور وادی محسر میں آپ نے اپنی سواری کو تیز کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1944]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2611) ¤ رواه مسلم (1299 مختصرًا جدًا) وللحديث شواھد صحيحة ما رواه النسائي (3023)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/ الحج 204 (3024)، سنن ابن ماجہ/ المناسک 61 (3023)، (تحفة الأشراف: 2747)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/301، 332، 367، 391)، سنن الدارمی/المناسک 59 (1940) (صحیح)
67: باب يَوْمِ الْحَجِّ الأَكْبَرِ
باب: حج اکبر کا دن کون سا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ الْغَازِ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ، فَقَالَ: " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟"، قَالُوا: يَوْمُ النَّحْرِ، قَالَ: " هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نحر کے روز (دسویں ذی الحجہ کو) حجۃ الوداع میں جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور لوگوں سے پوچھا: یہ کون سا دن ہے؟، لوگوں نے جواب دیا: یوم النحر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی حج اکبر کا دن ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1945]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی قرآن مجید میں جو «يوم الحج الأكبر» آیا ہے اس سے مراد یوم نحر ہی ہے، حج کو حج اکبر کہا جاتا ہے اور عمرہ کو حج اصغر، اور وہ جو عوام میں مشہور ہے کہ جمعہ کے دن یوم عرفہ پڑے تو حج اکبر ہے تو یہ بات بے دلیل اور بے اصل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الحج 132 (1742 تعلیقًا)، سنن ابن ماجہ/المناسک 76 (3058)، (تحفة الأشراف: 8514) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: " بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِيمَنْ يُؤَذِّنُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى أَنْ لَا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَيَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ وَالْحَجُّ الْأَكْبَرُ الْحَجُّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یوم النحر کو منیٰ ان لوگوں میں بھیجا جو پکار رہے تھے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف کرے گا، اور حج ا کبر کا دن یوم النحر ہے اور حج اکبر سے مراد حج ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1946]
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله ويوم الحج الأكبر
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3177) صحيح مسلم (1347)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 10 (369)، والحج 67 (1622)، صحیح البخاری/الجزیة 16 (3177)، والمغازي 66 (4363)، وتفسیر البرائة 2 (4656)، 3 (4655)، وتفسیر البرائة 4 (4657)، صحیح مسلم/الحج 78 (1347)، سنن النسائی/الحج 161 (2960)، مسند احمد (2/299)، (تحفة الأشراف: 6624) (صحیح)
68: باب الأَشْهُرِ الْحُرُمِ
باب: حرمت والے مہینوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فِي حَجَّتِهِ، فَقَالَ: " إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ: ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقِعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج میں خطبہ دیا تو فرمایا: زمانہ پلٹ کر ویسے ہی ہو گیا جیسے اس دن تھا جب اللہ نے آسمان اور زمین کی تخلیق فرمائی تھی، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار مہینے حرام ہیں: تین لگاتار ہیں، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب ہے ۱؎ جو جمادی الآخرہ اور شعبان کے بیچ میں ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1947]
💡 وضاحت:
۱؎: رجب کی نسبت قبیلہ مضر کی طرف اس لئے کی گئی ہے کہ یہ رجب کی حرمت کے سلسلہ میں زیادہ سخت تھے، اور دیگر عرب قبائل کے مقابلہ میں اس کی حرمت کا پاس و لحاظ زیادہ رکھتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، صحيح بخاري (4406) صحيح مسلم (1679) ¤ انظر الحديث الآتي (1948)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11700)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 132(1742)، وبدء الخلق 2 (3197)، والمغازي 77 (4403)، وتفسیر سورة التوبة 8 (4662)، والأضاحي 5 (5550)، والتوحید 24 (7447)، صحیح مسلم/القسامة 10 (1679)، سنن النسائی/ الکبری/ المحاربہ/ (3595)، مسند احمد (5/37)، سنن الدارمی/المناسک 72 (1957) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمَّاهُ ابْنُ عَوْنٍ، فَقَالَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
اس سند سے بھی ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عون نے اس حدیث میں ان کا نام لیا ہے اور یوں کہا ہے «عن عبدالرحمٰن بن أبي بكرة عن أبي بكرة» ۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1948]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4406) صحيح مسلم (1679)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11686) (صحیح)
69: باب مَنْ لَمْ يُدْرِكْ عَرَفَةَ
باب: جسے عرفات کا وقوف نہ مل سکے اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ، قَالَ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ، فَجَاءَ نَاسٌ أَوْ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، فَأَمَرُوا رَجُلًا فَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَيْفَ الْحَجُّ؟ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَنَادَى: الْحَجُّ، الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ، مَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَتَمَّ حَجُّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةٌ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا خَلْفَهُ فَجَعَلَ يُنَادِي بِذَلِكَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مِهْرَانُ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: " الْحَجُّ الْحَجُّ مَرَّتَيْنِ"، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: " الْحَجُّ مَرَّةً".
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ عرفات میں تھے، اتنے میں نجد والوں میں سے کچھ لوگ آئے، ان لوگوں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے آواز دی: اللہ کے رسول! حج کیوں کر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے پکار کر کہا: حج عرفات میں وقوف ہے ۱؎ جو شخص مزدلفہ کی رات کو فجر سے پہلے (عرفات میں) آ جائے تو اس کا حج پورا ہو گیا، منیٰ کے دن تین ہیں (گیارہ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ)، جو شخص دو ہی دن کے بعد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے اس پر کوئی گناہ نہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے بٹھا لیا وہ یہی پکارتا جاتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح مہران نے سفیان سے «الحج الحج» دو بار نقل کیا ہے اور یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان سے «الحج» ایک ہی بار نقل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1949]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اصل حج عرفات میں وقوف ہے کیونکہ اس کے فوت ہو جانے سے حج فوت ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2714) ¤ أخرجه الترمذي (889 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (2823 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 57 (889)، سنن النسائی/الحج 203 (3019)، 211 (3047)، سنن ابن ماجہ/المناسک 57 (3015)، (تحفة الأشراف: 9735)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/309، 310، 335)، سنن الدارمی/المناسک 54 (1929) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَوْقِفِ، يَعْنِي بِجَمْعٍ، قُلْتُ: جِئْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ جَبَلِ طَيِّئٍ أَكْلَلْتُ مَطِيَّتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَدْرَكَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ وَأَتَى عَرَفَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ".
عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ موقف یعنی مزدلفہ میں تھے، میں نے عرض کیا: میں طی کے پہاڑوں سے آ رہا ہوں، میں نے اپنی اونٹنی کو تھکا مارا، اور خود کو بھی تھکا دیا، اللہ کی قسم راستے میں کوئی ایسا ٹیکرہ نہیں آیا جس پر میں ٹھہرا نہ ہوں، تو میرا حج درست ہوا یا نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہمارے ساتھ اس نماز کو پا لے اور اس سے پہلے رات یا دن کو عرفات میں ٹھہر چکا ہو تو اس کا حج پورا ۱؎ ہو گیا، اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1950]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ عرفات میں ٹھہرنا ضروری ہے اور اس کا وقت (۹) ذی الحجہ کو سورج ڈھلنے سے لے کر دسویں تاریخ کے طلوع فجر تک ہے، ان دونوں وقتوں کے بیچ اگر تھوڑی دیر کے لئے بھی عرفات میں وقوف مل جائے تو اس کا حج ادا ہو جائے گا۔
۲؎: نسائی کی ایک روایت میں ہے «فقد قضى تفثه وتم حجه» ، یعنی حالت احرام میں پراگندہ رہنے کی مدت اس نے پوری کر لی، اب وہ اپنا سارا میل کچیل جو چھوڑ رکھا تھا دور کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 57 (891)، سنن النسائی/الحج 211 (3042، 3043، 3044)، سنن ابن ماجہ/المناسک 57 (3016)، (تحفة الأشراف:9900)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/15، 261، 262)، سنن الدارمی/المناسک 54 (1930) (صحیح)
70: باب النُّزُولِ بِمِنًى
باب: منیٰ میں اترنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِمِنًى وَنَزَّلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ، فَقَالَ: " لِيَنْزِلْ الْمُهَاجِرُونَ هَا هُنَا، وَأَشَارَ إِلَى مَيْمَنَةِ الْقِبْلَةِ، وَ الْأَنْصَارُ هَا هُنَا، وَأَشَار إِلَى مَيْسَرَةِ الْقِبْلَةِ، ثُمَّ لِيَنْزِلِ النَّاسُ حَوْلَهُمْ".
عبدالرحمٰن بن معاذ سے روایت ہے وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں لوگوں سے خطاب کیا، اور انہیں ان کے ٹھکانوں میں اتارا، آپ نے فرمایا: مہاجرین یہاں اتریں اور قبلہ کے دائیں جانب اشارہ کیا، اور انصار یہاں اتریں، اور قبلے کے بائیں جانب اشارہ کیا، پھر باقی لوگ ان کے اردگرد اتریں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1951]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15629)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/61) (صحیح)
71: باب أَىِّ يَوْمٍ يَخْطُبُ بِمِنًى
باب: منیٰ میں خطبہ کس دن ہو؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلَيْنِ مِنْ بَنِي بَكْرٍ، قَالَا: " رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بَيْنَ أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَنَحْنُ عِنْدَ رَاحِلَتِهِ وَهِيَ خُطْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي خَطَبَ بِمِنًى".
بنی بکر کے دو آدمی کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ایام تشریق کے بیچ والے دن (بارہویں ذی الحجہ کو) خطبہ دے رہے تھے اور ہم آپ کی اونٹنی کے پاس تھے، یہ وہی خطبہ تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1952]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن أبي نجيح مدلس وعنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15685)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/370) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُصَيْنٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْهَانَ وَكَانَتْ رَبَّةُ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الرُّءُوسِ، فَقَالَ: " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " أَلَيْسَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ؟". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ قَالَ عَمُّ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ: " إِنَّهُ خَطَبَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ".
ربیعہ بن عبدالرحمٰن بن حصین کہتے ہیں مجھ سے میری دادی سراء بنت نبہان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور وہ جاہلیت میں گھر کی مالکہ تھیں (جس میں اصنام ہوتے تھے)، وہ کہتی ہیں: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الروس ۱؎ (ایام تشریق کے دوسرے دن بارہویں ذی الحجہ) کو خطاب کیا اور پوچھا: یہ کون سا دن ہے؟، ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا یہ ایام تشریق کا بیچ والا دن نہیں ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوحرہ رقاشی کے چچا سے بھی اسی طرح روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کے بیچ والے دن خطبہ دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1953]
💡 وضاحت:
۱؎: بارہویں ذی الحجہ کو یوم الرؤوس کہا جاتا تھا کیونکہ لوگ اپنی قربانی کے جانوروں کے سر اسی دن کھاتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ صححه ابن خزيمة (2973 وسنده حسن) ربيعة بن عبد الرحمن بن حصن وثقه ابن خزيمة وابن حبان فھو حسن الحديث
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو دواد، (تحفة الأشراف: 15891) (ضعیف) (اس کے راوی ربیع لین الحدیث ہیں)
72: باب مَنْ قَالَ خَطَبَ يَوْمَ النَّحْرِ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو خطبہ دیا اس قائلین کی دلیل کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي الْهِرْمَاسُ بْنُ زِيَادٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ يَوْمَ الْأَضْحَى بِمِنًى".
ہرماس بن زیاد باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنی اونٹنی عضباء پر عید الاضحی کے دن منیٰ میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1954]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ صححه ابن خزيمة (2953 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11726)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (4095)، مسند احمد (3/485) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيَّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ الْكَلَاعِيُّ، سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: " سَمِعْتُ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ".
سلیم بن عامر کلاعی کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے منیٰ میں یوم النحر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1955]
💡 وضاحت:
۱؎: ہرماس بن زیاد اور ابو امامہ رضی اللہ عنہما وغیرہ کی روایتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یوم النحر کو خطبہ مشروع ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یوم النحر کو خطبہ نہیں، اور یہ احادیث عام موعظت و نصیحت کے قبیل سے ہیں نہ کہ یہ خطبہ ہے جو حج کے شعائر میں سے ہے، ان روایات سے ان کے اس قول کی تردید ہوتی ہے کیونکہ ان احادیث کے رواۃ نے اسے خطبہ کا نام دیا ہے جیسے عرفات کے خطبہ کو خطبہ کہا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ أصله عند الترمذي (616 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4867) (صحیح)
73: باب أَىِّ وَقْتٍ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ
باب: یوم النحر (قربانی کے دن) میں کس وقت خطبہ دیا جائے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ الْمُزْنِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو الْمُزْنِيُ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى حِينَ ارْتَفَعَ الضُّحَى عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ، وَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُعَبِّرُ عَنْهُ وَالنَّاسُ بَيْنَ قَاعِدٍ وَقَائِمٍ".
رافع بن عمرو المزنی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں ایک سفید خچر پر سوار لوگوں کو خطبہ دیتے سنا جس وقت آفتاب بلند ہو چکا تھا اور علی رضی اللہ عنہ آپ کی طرف سے اسے لوگوں کو پہنچا ۱؎ رہے تھے اور دور والوں کو بتا رہے تھے، کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ کھڑے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1956]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر وہی کلمات بلند آواز سے دہرا رہے تھے تا کہ جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہیں وہ بھی اسے سن لیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2671) ¤ مروان بن معاوية الفزاري صرح بالسماع عند النسائي في الكبريٰ (4096) وتابعه يعلٰي بن عبيد، انظر الحديث الآتي (4073)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3597)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (4094) (صحیح)
74: باب مَا يَذْكُرُ الإِمَامُ فِي خُطْبَتِهِ بِمِنًى
باب: منیٰ کے خطبہ میں امام کیا بیان کرے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ: " خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِمِنًى فَفُتِحَتْ أَسْمَاعُنَا حَتَّى كُنَّا نَسْمَعُ مَا يَقُولُ وَنَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا، فَطَفِقَ يُعَلِّمُهُمْ مَنَاسِكَهُمْ حَتَّى بَلَغَ الْجِمَارَ فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: بِحَصَى الْخَذْفِ، ثُمَّ أَمَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَنَزَلُوا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ وَأَمَرَ الْأَنْصَارَ فَنَزَلُوا مِنْ وَرَاءِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ نَزَلَ النَّاسَ بَعْدَ ذَلِكَ".
عبدالرحمٰن بن معاذ تمیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے کان کھول دئیے گئے آپ جو بھی فرماتے تھے ہم اسے سن لیتے تھے، ہم اپنے ٹھکانوں میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ارکان حج سکھانا شروع کئے یہاں تک کہ جب آپ جمرات تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو رکھ کر اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگلیوں کے درمیان آ سکتی تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کو حکم دیا کہ وہ مسجد کے اگلے حصہ میں اتریں اور انصار کو حکم دیا کہ وہ لوگ مسجد کے پیچھے اتریں اس کے بعد سب لوگ اترے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1957]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ أخرجه النسائي (2999 وسنده صحيح) وانظر الحديث السابق (1951)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الحج 189(2999)، (تحفة الأشراف: 9734)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/61)، سنن الدارمی/المناسک 59 (1393) (صحیح)
75: باب يَبِيتُ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى
باب: منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي حَرِيزٌ، أَوْ أَبُو حَرِيزٍ الشَّكّ مِنْ يَحْيَى، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ فَرُّوخٍ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: " إِنَّا نَتَبَايَعُ بِأَمْوَالِ النَّاسِ فَيَأْتِي أَحَدُنَا مَكَّةَ فَيَبِيتُ عَلَى الْمَالِ؟ فَقَالَ: أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاتَ بِمِنًى وَظَلَّ".
حریز یا ابوحریز بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن فروخ کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم لوگوں کا مال بیچتے ہیں تو کیا ہم میں سے کوئی منیٰ کی راتوں میں مکہ میں جا کر مال کے پاس رہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو رات اور دن دونوں منیٰ میں رہا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1958]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لئے مکہ میں رات گزارنی خلاف سنت اور ناجائز ہے، بعض علماء کے یہاں صرف شدید ضرورت کے وقت اس کی اجازت ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ حريز أو أبو حريز: مجهول (تق: 1185) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6687) (ضعیف) (اس کے راوی حریز، یا ابوحریز حجازی مجہول ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاجیوں کو پانی پلانے کی وجہ سے منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1959]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1745) صحيح مسلم (1315)
تخریج دارالدعوہ: حدیث ابن نمیر أخرجہ صحیح البخاری/الحج 133 (1745)، صحیح مسلم/الحج 60 (1315)، سنن ابن ماجہ/المناسک 80 (3065)، مسند احمد (2/22)، وحدیث أبو أسامة أخرجہ: صحیح البخاری/ الحج 133 (1745 تعلیقاً)، صحیح مسلم/الحج 60 (1315)، سنن الدارمی/المناسک 91 (1986)، (تحفة الأشراف: 7824) (صحیح)
76: باب الصَّلاَةِ بِمِنًى
باب: منیٰ میں نماز کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ أَبَا مُعَاوِيَةَ، وَحَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ حَدَّثَاهُ وَحَدِيثُ أَبِي مُعَاوِيَةَ أَتَمُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: " صَلَّى عُثْمَانُ بِمِنًى أَرْبَعًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ، زَادَ عَنْ حَفْصٍ، وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا، زَادَ مِنْ هَا هُنَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ: ثُمَّ تَفَرَّقَتْ بِكُمُ الطُّرُقُ، فَلَوَدِدْتُ أَنْ لِي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَيْنِ مُتَقَبَّلَتَيْنِ، قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثَنِي مُعَاوِيَةَ بْنُ قُرَّةَ، عَنْ أَشْيَاخِهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ صَلَّى أَرْبَعًا، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: عِبْتَ عَلَى عُثْمَانَ ثُمَّ صَلَّيْتُ أَرْبَعًا، قَالَ: الْخِلَافُ شَرٌّ".
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ دو ہی رکعتیں پڑھیں (اور حفص کی روایت میں اتنا مزید ہے کہ) عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے شروع میں، پھر وہ پوری پڑھنے لگے، (ایک روایت میں ابومعاویہ سے یہ ہے کہ) پھر تمہاری رائیں مختلف ہو گئیں، میری تو خواہش ہے کہ میرے لیے چار رکعتوں کے بجائے دو مقبول رکعتیں ہی ہوں۔ اعمش کہتے ہیں: مجھ سے معاویہ بن قرہ نے اپنے شیوخ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے چار رکعتیں پڑھیں، تو ان سے کہا گیا: آپ نے عثمان پر اعتراض کیا، پھر خود ہی چار پڑھنے لگے؟ تو انہوں نے کہا: اختلاف برا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1960]
قال الشيخ الألباني: صحيح دون حديث معاوية بن قرة
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1084) صحيح مسلم (695)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تقصیرالصلاة 2 (1084)، والحج 84 (1657)، صحیح مسلم/المسافرین 2 (695)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة 3 (1450)، (تحفة الأشراف: 9383)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/378، 416، 422، 425، 464)، سنن الدارمی/المناسک 47 (1916) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، " أَنَّ عُثْمَانَ إِنَّمَا صَلَّى بِمِنًى أَرْبَعًا لِأَنَّهُ أَجْمَعَ عَلَى الْإِقَامَةِ بَعْدَ الْحَجِّ.
زہری سے روایت ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعتیں صرف اس لیے پڑھیں کہ انہوں نے حج کے بعد وہاں اقامت کی نیت کی تھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1961]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الزھري لم يدرك عثمان رضي اللّٰه عنه (اتحاف المھرة 81/11) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75 ¤ رٌّ
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے، زہری نے عثمان رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى أَرْبَعًا لِأَنَّهُ اتَّخَذَهَا وَطَنًا".
ابراہیم کہتے ہیں عثمان رضی اللہ عنہ نے چار رکعتیں پڑھیں اس لیے کہ انہوں نے منیٰ کو وطن بنا لیا تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1962]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ إبراهيم النخعي لم يدرك عثمان رضي اللّٰه عنه،ولد سنة 46ھـ بعد شهادة عثمان رضي اللّٰه عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے، ابراہیم نخعی نے عثمان رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: " لَمَّا اتَّخَذَ عُثْمَانُ الْأَمْوَالَ بِالطَّائِفِ وَأَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا صَلَّى أَرْبَعًا، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ بِهِ الْأَئِمَّةُ بَعْدَهُ".
زہری کہتے ہیں جب عثمان رضی اللہ عنہ نے طائف میں اپنی جائیداد بنائی اور وہاں قیام کرنے کا ارادہ کیا تو وہاں چار رکعتیں پڑھیں، وہ کہتے ہیں: پھر اس کے بعد ائمہ نے اسی کو اپنا لیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1963]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث المتقدم (1961) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود (ضعیف) (سند میں زہری اور عثمان رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، " أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمِنًى مِنْ أَجْلِ الْأَعْرَابِ لِأَنَّهُمْ كَثُرُوا عَامَئِذٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ أَرْبَعًا لِيُعَلِّمَهُمْ أَنَّ الصَّلَاةَ أَرْبَعٌ".
زہری سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں نماز اس وجہ سے پوری پڑھی کہ اس سال بدوی لوگ بہت آئے تھے تو انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ نماز (اصل میں) چار رکعت ہی ہے (نہ کہ دو، جو قصر کی صورت میں پڑھی جاتی ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1964]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديثين السابقين (1961 و 1962) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود (حسن لغیرہ) (سند میں زہری اور عثمان رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن دوسرے متصل طریق سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہوئی، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 6؍ 206)
77: باب الْقَصْرِ لأَهْلِ مَكَّةَ
باب: اہل مکہ کے لیے قصر نماز کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي حَارِثَةُ بْنُ وَهْبٍ الْخُزَاعِيُّ وَكَانَتْ أُمُّهُ تَحْتَ عُمَرَ فَوَلَدَتْ لَهُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى وَالنَّاسُ أَكْثَرُ مَا كَانُوا، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: حَارِثَةُ بْنُ خُزَاعَةَ وَدَارُهُمْ بِمَكَّةَ.
ابواسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے حارثہ بن وہب خزاعی نے بیان کیا اور ان کی والدہ عمر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو ان سے عبیداللہ بن عمر کی ولادت ہوئی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے منیٰ میں نماز پڑھی، اور لوگ بڑی تعداد میں تھے، تو آپ نے ہمیں حجۃ الوداع میں دو رکعتیں پڑھائیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارثہ کا تعلق خزاعہ سے ہے اور ان کا گھر مکہ میں ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1965]
💡 وضاحت:
۱؎: محقق علماء کا قول یہ ہے کہ اہل مکہ بھی منیٰ اور عرفات میں قصر کریں گے، یہ حج کے مسائل میں سے ہے، یہاں مسافر اور مقیم کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1083) صحيح مسلم (696)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 2 (1083)، والحج 84 (1656)، صحیح مسلم/المسافرین 2 (696)، سنن الترمذی/الحج 52 (882)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة 2 (1446)، (تحفة الأشراف: 3284)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/306) (صحیح)
78: باب فِي رَمْىِ الْجِمَارِ
باب: رمی جمرات کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَهُوَ رَاكِبٌ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، وَرَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ يَسْتُرُهُ، فَسَأَلْتُ عَنِ الرَّجُلِ: فَقَالُوا: الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَازْدَحَمَ النَّاسُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ".
والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوار ہو کر بطن وادی سے جمرہ پر رمی کرتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر کنکری پر تکبیر کہتے تھے، ایک شخص آپ کے پیچھے تھا، وہ آپ پر آڑ کر رہا تھا، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں، اور لوگوں کی بھیڑ ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں سے کوئی کسی کو قتل نہ کرے (یعنی بھیڑ کی وجہ سے ایک دوسرے کو کچل نہ ڈالے) اور جب تم رمی کرو تو ایسی چھوٹی کنکریوں سے مارو جنہیں تم دونوں انگلیوں کے بیچ رکھ سکو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1966]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3028،3031) ¤ يزيد بن أبي زياد ضعيف ¤ والجمھور علي تضعيف حديثه (ھدي الساري ص 459) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 63 (3028)، (تحفة الأشراف: 18306)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/503، 5/270، 379، 6/379) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ رَاكِبًا، وَرَأَيْتُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ حَجَرًا فَرَمَى وَرَمَى النَّاسُ".
والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کے پاس سوار دیکھا اور میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں کنکریاں تھیں، تو آپ نے بھی رمی کی اور لوگوں نے بھی رمی کی ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1967]
💡 وضاحت:
۱؎: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جمرات کی رمی سواری پر درست ہے، لیکن موجودہ حالات میں منتظمین حج کے احکام کی روشنی میں مناسک حج، قربانی، اور رمی جمرات وغیرہ کے کام انجام دینا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (1966) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18306) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ بِإِسْنَادِهِ فِي مِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ، زَادَ: " وَلَمْ يَقُمْ عِنْدَهَا".
اس سند سے بھی یزید بن ابی زیاد سے اسی طریق سے اسی حدیث کے ہم مثل مروی ہے اس میں «ولم يقم عندها» اور اس کے پاس نہیں ٹھہرے کا جملہ زائد ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1968]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (1966) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1966، (تحفة الأشراف: 18306) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ" كَانَ يَأْتِي الْجِمَارَ فِي الْأَيَّامِ الثَّلَاثَةِ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ مَاشِيًا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا، وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ یوم النحر کے بعد تین دنوں میں جمرات کی رمی کے لیے پیدل چل کر آتے تھے اور پیدل ہی واپس جاتے اور وہ بتاتے تھے کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1969]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ رمی جمرات کے لئے پیدل چل کر آنا افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ أخرجه البيھقي (5/131 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7727)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 63 (899)، مسند احمد (2/114، 138، 156) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ، يَقُولُ: " لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی سواری پر یوم النحر کو رمی کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: تم لوگ اپنے حج کے ارکان سیکھ لو کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنے اس حج کے بعد کوئی حج کر سکوں گا یا نہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1970]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1297)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 53 (1297)، سنن النسائی/الحج 220 (3064)، (تحفة الأشراف: 2804)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 59 (894)، سنن ابن ماجہ/المناسک 75 (3053)، مسند احمد (3/313، 319، 400)، سنن الدارمی/المناسک 58 (1937) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى، فَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَبَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر بیٹھ کر یوم النحر کو چاشت کے وقت رمی کرتے دیکھا پھر اس کے بعد جو رمی کی (یعنی گیارہ، بارہ اور تیرہ کو) تو وہ زوال کے بعد کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1971]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1299)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/ الحج 53 (1299)، سنن الترمذی/ الحج 59 (894)، سنن النسائی/ الحج 221 (3065)، سنن ابن ماجہ/ 75 المناسک (3053)، (تحفة الأشراف: 2795)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/312، 399)، دی/ المناسک 58 (1937) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ وَبَرَةَ، قَالَ: " سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ: مَتَى أَرْمِي الْجِمَارَ؟ قَالَ: إِذَا رَمَى إِمَامُكَ فَارْمِ، فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ، فَقَالَ: كُنَّا نَتَحَيَّنُ زَوَالَ الشَّمْسِ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ رَمَيْنَا".
وبرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کنکریاں کب ماروں؟ آپ نے کہا: جب تمہارا امام کنکریاں مارے تو تم بھی مارو، میں نے پھر یہی سوال کیا، انہوں نے کہا: ہم سورج ڈھلنے کا انتظار کرتے تھے تو جب سورج ڈھل جاتا تو ہم کنکریاں مارتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1972]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1746)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 134 (1746)، (تحفة الأشراف: 8554) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، كُلُّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یوم النحر) کے آخری حصہ میں جس وقت ظہر پڑھ لی طواف افاضہ کیا، پھر منیٰ لوٹے اور تشریق کے دنوں تک وہاں ٹھہرے رہے، جب سورج ڈھل جاتا تو ہر جمرے کو سات سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، اور پہلے اور دوسرے جمرے پر دیر تک ٹھہرتے، روتے، گڑگڑاتے اور دعا کرتے اور تیسرے جمرے کو کنکریاں مار کر اس کے پاس نہیں ٹھہرتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1973]
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا قوله حين صلى الظهر فهو منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (2676) ¤ محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند ابن حبان (1013)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17523)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/90) (صحیح) (لیکن صلی الظہر - ظہر پڑھی- کا جملہ صحیح نہیں ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " لَمَّا انْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى جَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَ مِنًى عَنْ يَمِينِهِ وَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ"، وَقَالَ: هَكَذَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ جمرہ کبری (جمرہ عقبہ) کے پاس آئے تو بیت اللہ کو اپنے بائیں جانب اور منیٰ کو دائیں جانب کیا اور جمرے کو سات کنکریاں ماریں، اور کہا: اسی طرح اس ذات نے بھی کنکریاں ماری تھیں جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1974]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1748) صحيح مسلم (1296)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 135 (1747)، 138 (1750)، صحیح مسلم/الحج 50 (1296)، سنن الترمذی/الحج 64 (901)، سنن النسائی/المناسک 226 (3073، 3075)، سنن ابن ماجہ/المناسک 64 (3030)، (تحفة الأشراف: 9382)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/374، 408، 415، 427، 430، 432، 436، 456، 458) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ، يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْمُونَ الْغَدَ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ بِيَوْمَيْنِ وَيَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ".
عاصم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو (منیٰ میں) رات نہ گزارنے کی رخصت دی اور یہ کہ وہ یوم النحر کو رمی کریں، پھر اس کے بعد والے دن یعنی گیارہویں کو گیارہویں اور بارہویں دونوں دنوں کی رمی کریں، اور پھر روانگی کے دن (تیرہویں کو) رمی کریں گے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1975]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ أخرجه الترمذي (955 وسنده صحيح) والنسائي (3070 وسنده صحيح) وابن ماجه (3037 وسنده صحيح، 3036) وصححه ابن خزيمة (2975 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 108 (954 و 955)، سنن النسائی/الحج 225 (307)، سنن ابن ماجہ/المناسک 67 (3036، 3037)، (تحفة الأشراف: 5030)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 72 (218)، مسند احمد (5/450)، سنن الدارمی/المناسک 58 (1938) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ ابْنَيْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا".
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن ناغہ کریں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1976]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (1975)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5030) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجِمَارِ، قَالَ: " مَا أَدْرِي أَرَمَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتٍّ أَوْ بِسَبْعٍ".
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رمی جمرات کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1977]
💡 وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو معلوم نہ ہو سکا تھا، دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی روایات سے ہر جمرے کو س ات کنکریاں مارنا ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ أخرجه النسائي (3080 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الحج 227 (3080)، (تحفة الأشراف: 6541)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/372) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَمَى أَحَدُكُمْ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ، الْحَجَّاجُ لَمْ يَرَ الزُّهْرِيَّ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی جمرہ عقبہ کی رمی کر لے تو اس کے لیے سوائے عورتوں کے ہر چیز حلال ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف ہے، حجاج نے نہ تو زہری کو دیکھا ہے اور نہ ہی ان سے سنا ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1978]
💡 وضاحت:
۱؎: بیویوں سے صحبت یا بوس وکنار اس وقت جائز ہو گا جب حاجی طواف زیارت سے فارغ ہو جائے۔
۲؎: مسند احمد کی سند میں زہری کی جگہ ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم ہیں حجاج بن أرطاۃ کا ان سے سماع ثابت ہے، نیز حدیث کے دیگر شواہد بھی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الحجاج بن أرطاة ضعيف مدلس ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17926)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/143) (صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے)
79: باب الْحَلْقِ وَالتَّقْصِيرِ
باب: بال منڈانے اور کٹوانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: " اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: " وَالْمُقَصِّرِينَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم ارحم المحلقين» اے اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم کر، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور کٹوانے والوں پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم ارحم المحلقين» اے اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرما، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور کٹوانے والوں پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور کٹوانے والوں پر بھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1979]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بال منڈانا کتروانے سے زیادہ بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1727) صحيح مسلم (1301)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 147 (1727)، صحیح مسلم/الحج 55 (1301)، سنن ابن ماجہ/المناسک 71 (3043)، (تحفة الأشراف: 7947، 18354)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 47 (913)، موطا امام مالک/الحج 60(184)، مسند احمد (2/34، 79، 138، 151)، سنن الدارمی/المناسک 64 (1947) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الْإِسْكَنْدَرَانِيَّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈوایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1980]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4410) صحيح مسلم (1304)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازی 78 (4410)، صحیح مسلم/ الحج 55 (1304)، (تحفة الأشراف: 8454)، وقد أخرجہ: (2/88، 128) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ بِمِنًى فَدَعَا بِذِبْحٍ فَذُبِحَ، ثُمَّ دَعَا بِالْحَلَّاقِ فَأَخَذَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ فَحَلَقَهُ فَجَعَلَ يَقْسِمُ بَيْنَ مَنْ يَلِيهِ الشَّعْرَةَ وَالشَّعْرَتَيْنِ، ثُمَّ أَخَذَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْسَرِ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَا هُنَا أَبُو طَلْحَةَ، فَدَفَعَهُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی کی، پھر آپ منیٰ میں اپنی قیام گاہ لوٹ آئے، پھر قربانی کے جانور منگا کر انہیں ذبح کیا، اس کے بعد حلاق (سر مونڈنے والے کو بلایا)، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے داہنے حصے کو پکڑا، اور بال مونڈ دیئے ۱؎، پھر ایک ایک اور دو دو بال ان لوگوں میں تقسیم کئے جو آپ کے قریب تھے پھر بایاں جانب منڈوایا اور فرمایا: ابوطلحہ یہاں ہیں؟ اور وہ سب بال ابوطلحہ کو دے دیئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1981]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بال کٹوانے کے مقابلے میں منڈوانا زیادہ بہتر ہے، اور بال منڈوانے اور کتروانے میں یہ خیال رہے کہ اس کو داہنی جانب سے شروع کرے، مونڈنے والے کو بھی اس سنت کا خیال رکھنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1305)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 56 (1305)، سنن الترمذی/الحج 73 (912)، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (4116)، (تحفة الأشراف: 1456)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 33 (171)، مسند احمد (3/111،208، 214، 256) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ هِشَامٍ أَبُو نُعَيْمٍ الْحَلَبِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَ فِيهِ: قَالَ لِلْحَالِقِ: " ابْدَأْ بِشِقِّي الْأَيْمَنِ فَاحْلِقْهُ".
ہشام بن حسان سے اس سند سے بھی یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اس طرح ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلاق (سر مونڈنے والے) سے فرمایا: میرے دائیں جانب سے شروع کرو اور اسے مونڈو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1982]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (1981)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1456) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسْأَلُ يَوْمَ مِنًى، فَيَقُولُ: " لَا حَرَجَ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ: اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ، قَالَ: إِنِّي أَمْسَيْتُ وَلَمْ أَرْمِ، قَالَ: ارْمِ وَلَا حَرَجَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ کے دن پوچھا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: کوئی حرج نہیں، چنانچہ ایک شخص نے پوچھا: میں نے ذبح کرنے سے پہلے حلق کرا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذبح کر لو، کوئی حرج نہیں، دوسرے نے کہا: مجھے شام ہو گئی اور میں نے اب تک رمی نہیں کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمی اب کر لو، کوئی حرج نہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1983]
💡 وضاحت:
۱؎: حج میں نحر (قربانی) کے دن جمرہ کبری کو کنکری مارنا، ہدی کا جانور ذبح کرنا، بالوں کا حلق (منڈوانا) یا قصر (کٹوانا) پھر طواف افاضہ (طواف زیارہ) (یعنی کعبۃ اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی) میں ترتیب افضل ہے، مگر اس حدیث کی روشنی میں رمی، ذبح، حلق، اور طواف میں ترتیب باقی نہ رہ جائے تو دم لازم نہیں ہو گا، اور نہ ہی حج میں کوئی حرج واقع ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1735)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 24 (84)، والحج 125(1723)، 130 (1735)، والأیمان 15 (6666)، سنن النسائی/الحج 224 (3069)، سنن ابن ماجہ/المناسک 74 (3050)، (تحفة الأشراف: 6047)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 57 (1307)، مسند احمد (1/216، 258، 269، 291، 300، 311، 328) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ، قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ حَلْقٌ، إِنَّمَا عَلَى النِّسَاءِ التَّقْصِيرُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر حلق نہیں صرف «تقصير» (بال کٹانا) ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1984]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (2654) ¤ انظر الحديث الآتي (1985)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6576)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المناسک 63 (1946) (صحیح) (اگلی سند سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْبَغْدَادِيُّ ثِقَةٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ الْحَلْقُ، إِنَّمَا عَلَى النِّسَاءِ التَّقْصِيرُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر حلق نہیں بلکہ صرف «تقصير» (بال کٹانا) ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1985]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2654) ¤ ابن جريج صرح بالسماع عند الدارمي (1911) وحسنه الحافظ ابن حجر في التلخيص الحبير (2/261)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6576) (صحیح)
80: باب الْعُمْرَةِ
باب: عمرے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، وَيَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کرنے سے پہلے عمرہ کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1986]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1774)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العمرة 2 (1774)، (تحفة الأشراف: 7345) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " وَاللَّهِ مَا أَعْمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ فِي ذِي الْحِجَّةِ إِلَّا لِيَقْطَعَ بِذَلِكَ أَمْرَ أَهْلِ الشِّرْكِ، فَإِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ قُرَيْشٍ وَمَنْ دَانَ دِينَهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: إِذَا عَفَا الْوَبَرْ وَبَرَأَ الدَّبَرْ وَدَخَلَ صَفَرْ فَقَدْ حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ، فَكَانُوا يُحَرِّمُونَ الْعُمْرَةَ حَتَّى يَنْسَلِخَ ذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو ذی الحجہ میں عمرہ صرف اس لیے کرایا کہ مشرکین کا خیال ختم ہو جائے اس لیے کہ قریش کے لوگ نیز وہ لوگ جو ان کے دین پر چلتے تھے، کہتے تھے: جب اونٹ کے بال بڑھ جائیں اور پیٹھ کا زخم ٹھیک ہو جائے اور صفر کا مہینہ آ جائے تو عمرہ کرنے والے کا عمرہ درست ہو گیا، چنانچہ وہ ذی الحجہ اور محرم (اشہر حرم) کے ختم ہونے تک عمرہ کرنا حرام سمجھتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1987]
قال الشيخ الألباني: حسن ق نحوه دون قول ابن عباس في أوله والله أهل الشرك
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (1/261)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5722)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 34 (1564)، ومناقب الأنصار 26 (3832)، صحیح مسلم/الحج 31 (1240)، سنن النسائی/الحج 77 (2816)، 108 (2870)، مسند احمد (1/252، 261) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنِي رَسُولُ مَرْوَانَ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَى أُمِّ مَعْقَلٍ، قَالَتْ: كَانَ أَبُو مَعْقَلٍ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ، قَالَتْ أُمُّ مَعْقَلٍ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ عَلَيَّ حَجَّةً فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ حَتَّى دَخَلَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيَّ حَجَّةً وَإِنَّ لِأَبِي مَعْقَلٍ بَكْرًا، قَالَ أَبُو مَعْقَلٍ: صَدَقَتْ جَعَلْتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطِهَا فَلْتَحُجَّ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، فَأَعْطَاهَا الْبَكْرَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ كَبِرْتُ وَسَقِمْتُ، فَهَلْ مِنْ عَمَلٍ يُجْزِئُ عَنِّي مِنْ حَجَّتِي؟ قَالَ: " عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تُجْزِئُ حَجَّةً".
ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے مروان کے قاصد (جسے ام معقل رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا تھا) نے خبر دی ہے کہ ام معقل کا بیان ہے کہ ابو معقل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو نکلنے والے تھے جب وہ آئے تو ام معقل رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: آپ کو معلوم ہے کہ مجھ پر حج واجب ہے ۱؎، چنانچہ دونوں (ام معقل اور ابو معقل رضی اللہ عنہما) چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ام معقل نے کہا: اللہ کے رسول! ابو معقل کے پاس ایک اونٹ ہے اور مجھ پر حج واجب ہے؟ ابو معقل نے کہا: یہ سچ کہتی ہے، میں نے اس اونٹ کو اللہ کی راہ میں دے دیا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹ اسے دے دو کہ وہ اس پر سوار ہو کر حج کر لے، یہ بھی اللہ کی راہ ہی میں ہے، ابومعقل نے ام معقل کو اونٹ دے دیا، پھر وہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ اور بیمار عورت ہوں ۲؎ کوئی ایسا کام ہے جو حج کی جگہ میرے لیے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا (میرے ساتھ) حج کرنے کی جگہ میں کافی ہے ۳؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1988]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کا ارادہ کر رکھا تھا لیکن میرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت مقدر نہیں تھی اور میں نہیں جا سکی۔
۲؎: اس لئے مجھے نہیں معلوم کہ میں حج کب کر سکوں گی۔
۳؎: یعنی رمضان میں عمرہ کا ثواب میرے ساتھ حج کے ثواب کے برابر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله المرأة إني امرأة ... حجتي
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي في الكبريٰ (4227) ¤ رسول مروان: لم أعرفه وأصل الحديث صحيح،رواه أحمد (406/6) بسند حسن: ((عمرة في شهر رمضان تعدل حجة)) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18359)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 95 (939)، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (4227)، سنن ابن ماجہ/المناسک 45 (2993)، مسند احمد (6/405، 406) (حسن) (اس کے راوی ابراہیم حافظہ کے کمزور ہیں مگر حدیث نمبر (1990) سے اس کو تقویت مل رہی ہے، نیز رمضان میں عمرہ کے ثواب سے متعلق جملہ کے شواہد صحیحین میں بھی ہیں، ہاں عورت کا قول إني امرأة ... من حجتي؟ صحیح نہیں ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْقَلِ بْنِ أُمِّ مَعْقَلٍ الْأَسَدِيِّ أَسَدِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ مَعْقَلٍ، قَالَتْ: " لَمَّا حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ وَكَانَ لَنَا جَمَلٌ فَجَعَلَهُ أَبُو مَعْقِلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَصَابَنَا مَرَضٌ وَهَلَكَ أَبُو مَعْقِلٍ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ حَجِّهِ جِئْتُهُ، فَقَالَ: يَا أُمَّ مَعْقِلٍ، مَا مَنَعَكِ أَنْ تَخْرُجِي مَعَنَا؟ قَالَتْ: لَقَدْ تَهَيَّأْنَا فَهَلَكَ أَبُو مَعْقِلٍ وَكَانَ لَنَا جَمَلٌ هُوَ الَّذِي نَحُجُّ عَلَيْهِ فَأَوْصَى بِهِ أَبُو مَعْقِلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: فَهَلَّا خَرَجْتِ عَلَيْهِ، فَإِنَّ الْحَجَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَمَّا إِذْ فَاتَتْكِ هَذِهِ الْحَجَّةُ مَعَنَا فَاعْتَمِرِي فِي رَمَضَانَ، فَإِنَّهَا كَحَجَّةٍ، فَكَانَتْ تَقُولُ: الْحَجُّ حَجَّةٌ وَالْعُمْرَةُ عُمْرَةٌ، وَقَدْ قَالَ هَذَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَدْرِي أَلِيَ خَاصَّةً".
ام معقل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کیا تو ہمارے پاس ایک اونٹ تھا لیکن ابومعقل رضی اللہ عنہ نے اسے اللہ کی راہ میں دے دیا تھا ہم بیمار پڑ گئے، اور ابومعقل رضی اللہ عنہ چل بسے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کو تشریف لے گئے، جب اپنے حج سے واپس ہوئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام معقل! کس چیز نے تمہیں ہمارے ساتھ (حج کے لیے) نکلنے سے روک دیا؟، وہ بولیں: ہم نے تیاری تو کی تھی لیکن اتنے میں ابومعقل کی وفات ہو گئی، ہمارے پاس ایک ہی اونٹ تھا جس پر ہم حج کیا کرتے تھے، ابومعقل نے اسے اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسی اونٹ پر سوار ہو کر کیوں نہیں نکلیں؟ حج بھی تو اللہ کی راہ میں ہے، لیکن اب تو ہمارے ساتھ تمہارا حج جاتا رہا تم رمضان میں عمرہ کر لو، اس لیے کہ یہ بھی حج کی طرح ہے، ام معقل رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں حج حج ہے اور عمرہ عمرہ ہے ۱؎ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہی فرمایا اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ حکم میرے لیے خاص تھا (یا سب کے لیے ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1989]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی دونوں ایک مرتبہ میں نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله فكانت تقول
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن إسحاق عنعن ¤ وأصل الحديث صحيح،رواه الترمذي (935) بلفظ: ((عمرة في رمضان تعدل حجة)) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11857، 18361) (صحیح لغیرہ) (اس کے راوی محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے، نیز عیسیٰ لین الحدیث ہیں، لیکن ”رمضان میں عمرہ کا ثواب حج کے برابر ہے“ کے ٹکڑے کے شواہد صحیحین اور دیگر مصادر میں ہیں، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے، ہاں: آخری ٹکڑا: فكانت تقول إلخ کا شاہد نہیں ہے، اس لئے ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 6؍ 230)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا: أَحِجَّنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَمَلِكَ، فَقَالَ: مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ، قَالَتْ: أَحِجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ، قَالَ: ذَاكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي تَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَإِنَّهَا سَأَلَتْنِي الْحَجَّ مَعَكَ، قَالَتْ: أَحِجَّنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: أَحِجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ، فَقُلْتُ: ذَاكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَحْجَجْتَهَا عَلَيْهِ كَانَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: وَإِنَّهَا أَمَرَتْنِي أَنْ أَسْأَلَكَ مَا يَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقْرِئْهَا السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَبَرَكَاتِهِ وَأَخْبِرْهَا أَنَّهَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعِي يَعْنِي عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کیا، ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا: مجھے بھی اپنے اونٹ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرائیں، انہوں نے کہا: میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں، وہ کہنے لگی: مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کراؤ، تو انہوں نے کہا: وہ اونٹ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میری بیوی آپ کو سلام کہتی ہے، اس نے آپ کے ساتھ حج کرنے کی مجھ سے خواہش کی ہے، اور کہا ہے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرائیں، میں نے اس سے کہا: میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں، اس نے کہا: مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کرائیں، میں نے اس سے کہا: وہ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اگر تم اسے اس اونٹ پر حج کرا دیتے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں ہوتا۔ اس نے کہا: اس نے مجھے یہ بھی آپ سے دریافت کرنے کے لیے کہا ہے کہ کون سی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے سلام کہو اور بتاؤ کہ رمضان میں عمرہ کر لینا میرے ساتھ حج کر لینے کے برابر ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1990]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ صححه ابن خزيمة (3077) والحاكم (1/183، 184) وذكر البيھقي له علة (6/164) ولم أقف عليھا فھي غير قادحة
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 5374)، وقد أخرجہ: (صحیح البخاری/العمرة 4(1782)، صحیح مسلم/الحج 36 (221) بدون ذکر: ’’أن الحج في سبیل اللہ‘‘۔ (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اعْتَمَرَ عُمْرَتَيْنِ: عُمْرَةً فِي ذِي الْقِعْدَةِ، وَعُمْرَةً فِي شَوَّالٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عمرے کئے: ایک ذی قعدہ میں اور دوسرا شوال میں ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1991]
💡 وضاحت:
۱؎: کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس حدیث میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرے کی مجموعی تعداد کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ ان کی مراد یہ ہے کہ ایک سال کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عمرے کئے: ایک ذی قعدہ میں اور ایک شوال میں، لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ ایک سال کے اندر دو عمرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں کیا ہے، اور حج کے ساتھ والے عمرے کو چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے عمرے ذی قعدہ میں ہوئے ہیں، پھر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا «عمرۃ فی شوّال» کہنا ان کا وہم ہے، اور اگر اسے محفوظ مان لیا جائے تو اس کی تاویل یہ ہوگی اس عمرہ سے مراد عمرہ جعرانہ ہے جو اگرچہ ذی قعدہ ہی میں ہوا ہے، لیکن مکہ سے حنین کے لئے آپ شوال ہی میں نکلے تھے، اور واپسی پر جعرانہ سے احرام باندھ کر یہ عمرہ کیا تھا تو نکلنے کا لحاظ کرکے انہوں نے اس کی نسبت شوال کی طرف کر دی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن قوله في شوال يعني ابتداء وإلا فهي كانت في ذي القعدة أيضا
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ أخرجه البيھقي في دلائل النبوة (5/455) وصححه ابن الملقن في تحفة المحتاج (1058)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16889) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: " سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ كَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَرَّتَيْنِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: " لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اعْتَمَرَ ثَلَاثًا، سِوَى الَّتِي قَرَنَهَا بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ".
مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے؟ انہوں نے جواب دیا: دو بار ۱؎، اس پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمرے کے علاوہ جو آپ نے حجۃ الوداع کے ساتھ ملایا تھا تین عمرے کئے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1992]
💡 وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عمرہ حدیبیہ کو اور اسی طرح حج کے ساتھ والے عمرہ کو شمار نہیں کیا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق عنعن ¤ وأصل الحديث متفق عليه (خ 1775 م 1255) بغير ھذا اللفظ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 7384، 17574) (ضعیف) (اس کے راوی ابواسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت ہے، مگر اس میں مذکور عمروں کی تعداد صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ: عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَالثَّانِيَةَ حِينَ تَوَاطَئُوا عَلَى عُمْرَةٍ مَنْ قَابِلٍ، وَالثَّالِثَةَ مِنْ الْجِعْرَانَةِ، وَالرَّابِعَةَ الَّتِي قَرَنَ مَعَ حَجَّتِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے: ایک عمرہ حدیبیہ کا، دوسرا وہ عمرہ جسے آئندہ سال کرنے پر اتفاق کیا تھا، تیسرا عمرہ جعرانہ کا ۱؎، اور چوتھا وہ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1993]
💡 وضاحت:
۱؎: جعرانة: طائف اور مکہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے بعد یہیں سے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ أخرجه الترمذي (816 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 7 (816)، سنن ابن ماجہ/المناسک 50 (3003)، (تحفة الأشراف: 6168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/246، 321)، سنن الدارمی/المناسک 39 (1900) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ: كُلَّهُنَّ فِي ذِي الْقِعْدَةِ إِلَّا الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: أَتْقَنْتُ مِنْ هَا هُنَا مِنْ هُدْبَةَ، وَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَلَمْ أَضْبِطْهُ عُمْرَةً زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ أَوْ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ فِي ذِي الْقِعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنْ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقِعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور وہ تمام ذی قعدہ میں تھے سوائے اس کے جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہاں سے آگے کے الفاظ میں نے ابوالولید سے بھی سنے لیکن انہیں یاد نہیں رکھ سکا، البتہ ہدبہ کے الفاظ اچھی طرح یاد ہیں کہ: ایک حدیبیہ کے زمانے کا، یا حدیبیہ کا عمرہ، دوسرا ذی قعدہ میں قضاء کا عمرہ، تیسرا عمرہ ذی قعدہ میں جعرانہ کا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کا مال غنیمت تقسیم فرمایا، اور چوتھا وہ عمرہ جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1994]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1778) صحيح مسلم (1253)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العمرة 3 (1778)، صحیح مسلم/الحج 35 (1253)، سنن الترمذی/الحج 6 (815)، (تحفة الأشراف: 1393)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/256)، سنن الدارمی/المناسک 3 (1828) (صحیح)
81: باب الْمُهِلَّةِ بِالْعُمْرَةِ تَحِيضُ فَيُدْرِكُهَا الْحَجُّ
باب: عمرے کے احرام میں عورت کو حیض آ جائے پھر حج کا وقت آ جائے تو وہ عمرے کو چھوڑ کر حج کا تلبیہ پکارے، کیا اس پر عمرے کی قضاء لازم ہو گی؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَرْدِفْ أُخْتَكَ عَائِشَةَ فَأَعْمِرْهَا مِنْ التَّنْعِيمِ فَإِذَا هَبَطْتَ بِهَا مِنَ الْأَكَمَةِ فَلْتُحْرِمْ فَإِنَّهَا عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ".
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عبدالرحمٰن! اپنی بہن عائشہ کو بٹھا کر لے جاؤ اور انہیں تنعیم ۱؎ سے عمرہ کرا لاؤ، جب تم ٹیلوں سے تنعیم میں اترو تو چاہیئے کہ وہ احرام باندھے ہو، کیونکہ یہ مقبول عمرہ ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1995]
💡 وضاحت:
۱؎: تنعيم: ایک مقام ہے مکہ سے تین میل کے فاصلے پر، اب وہاں پر ایک مسجد بن گئی ہے جسے مسجد عائشہ کہتے ہیں، عمرہ کا احرام حرم سے باہر نکل کر باندھنا چاہئے، یہ مقام بہ نسبت دوسرے مقامات کے زیادہ قریب ہے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہیں سے عمرہ کرانے کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله فإذا هبطت
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9691)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمرة 6 (1784)، والجھاد 125 (2985)، صحیح مسلم/الحج 17 (1212)، سنن الترمذی/الحج 91 (934)، سنن ابن ماجہ/المناسک 48 (2999)، مسند احمد (1/197، 198)، سنن الدارمی/المناسک 41 (1904) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُزَاحِمِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسِيدٍ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِعْرَانَةِ فَجَاءَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَرَكَعَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَحْرَمَ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى رَاحِلَتِهِ فَاسْتَقْبَلَ بَطْنَ سَرِفَ حَتَّى لَقِيَ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ فَأَصْبَحَ بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ".
محرش کعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں داخل ہوئے تو مسجد آئے اور وہاں اللہ نے جتنی چاہا نماز پڑھی، پھر احرام باندھا، پھر اپنی سواری پر جم کر بیٹھ گئے اور وادی سرف کی طرف بڑھے یہاں تک کہ مدینہ کے راستہ سے جا ملے، پھر آپ نے صبح مکہ میں اس طرح کی جیسے کوئی رات کو مکہ میں رہا ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1996]
قال الشيخ الألباني: صحيح دون ركوعه في المسجد فإنه منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ أخرجه الترمذي (935 وسنده صحيح) مزاحم بن أبي مزاحم وثقه ابن حبان والذهبي في الكاشف والترمذي بتحسين حديثه فھو حسن الحديث
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 92 (935)، سنن النسائی/الحج 104 (2866، 2867)، (تحفة الأشراف: 11220)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/426، 427، 4/69، 5/380) سنن الدارمی/المناسک 41 (1903) (صحیح) دون رکوعہ في المسجد، فإنہ منکر
82: باب الْمَقَامِ فِي الْعُمْرَةِ
باب: عمرے میں مکہ میں قیام کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، وَعَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَقَامَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ ثَلَاثًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ قضاء میں تین دن قیام فرمایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1997]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن إسحاق وابن أبي نجيح مدلسان وعنعنا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6376) (صحیح)
83: باب الإِفَاضَةِ فِي الْحَجِّ
باب: طواف افاضہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى يَعْنِي رَاجِعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو طواف افاضہ کیا پھر منی میں ظہر ادا کی یعنی (طواف سے) لوٹ کر۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1998]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1308)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 58 (1308)، (تحفة الأشراف: 8024)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (4168)، مسند احمد (2/34) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ يُحَدِّثَانِهِ جَمِيعًا ذَاكَ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلَيَّ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ، فَصَارَ إِلَيَّ وَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَهْبٍ: " هَلْ أَفَضْتَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟" قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْزِعْ عَنْكَ الْقَمِيصَ"، قَالَ: فَنَزَعَهُ مِنْ رَأْسِهِ وَنَزَعَ صَاحِبُهُ قَمِيصَهُ مِنْ رَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا، يَعْنِي مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْتُمْ مِنْهُ إِلَّا النِّسَاءَ، فَإِذَا أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا هَذَا الْبَيْتَ صِرْتُمْ حُرُمًا كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطُوفُوا بِهِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری وہ رات جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے یوم النحر کی شام تھی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اتنے میں وہب بن زمعہ اور ان کے ساتھ ابوامیہ کی اولاد کا ایک شخص دونوں قمیص پہنے میرے یہاں آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہب سے پوچھا: ابوعبداللہ! کیا تم نے طواف افاضہ کر لیا؟ وہ بولے: قسم اللہ کی! نہیں اللہ کے رسول، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنی قمیص اتار دو، چنانچہ انہوں نے اپنی قمیص اپنے سر سے اتار دی اور ان کے ساتھی نے بھی اپنے سر سے اپنی قمیص اتار دی پھر بولے: اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے کہ جب تم جمرہ کو کنکریاں مار لو تو تمہارے لیے وہ تمام چیزیں حلال ہو جائیں گی جو تمہارے لیے حالت احرام میں حرام تھیں سوائے عورتوں کے، پھر جب شام کر لو اور بیت اللہ کا طواف نہ کر سکو تو تمہارا احرام باقی رہے گا، اسی طرح جیسے رمی جمرات سے پہلے تھا یہاں تک کہ تم اس کا طواف کر لو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1999]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یوم النحر کو طواف زیارت کرنے کی تاکید ثابت ہوتی ہے، اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس دن کسی نے طواف نہیں کیا تو وہ دوبارہ احرام میں واپس لوٹ آئے گا، جب تک وہ طواف نہ کرلے وہ احرام ہی میں رہے (ملاحظہ ہو: «صحیح ابن خزیمہ (كتاب المناسك، باب النهي عن الطيب واللباس إذا أمسى الحاج يوم النحر قبل أن يفيض وكل ما زجر الحاج عنه قبل رمي الجمرة يوم النحر، حدیث نمبر: ۲۹۵۸» )
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ صححه ابن خزيمة (2958 وسنده حسن) أبو عبيدة بن عبد اللّٰه بن زمعة صدوق حسن الحديث، وثقه ابن خزيمة بتخريج حديثه وروي له مسلم في صحيحه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18186، 18175، 18275)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/295، 303) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخَّرَ طَوَافَ يَوْمِ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ".
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کا طواف رات تک مؤخر کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2000]
💡 وضاحت:
۱؎: دسویں تاریخ کے طواف کو طواف زیارہ یا طواف افاضہ کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (920) ابن ماجه (3059) ¤ أبو الزبير مدلس ولم أجد تصريح سماعه و تابعه محمد بن طارق ولكنه عن طاووس: مرسل ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الحج 129 (قبیل 1732) تعلیقًا، سنن الترمذی/الحج 80 (920)، سنن ابن ماجہ/المناسک 77 (3059)، (تحفة الأشراف: 6452، 17594)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (4169)، مسند احمد (1/288) (ضعیف) ابو الزبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز صحیح احادیث کے مطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ دن میں زوال کے بعد کیا تھا، (ملاحظہ ہو: زاد المعاد، وصحیح ابی داود 6؍ 185)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَرْمُلْ فِي السَّبْعِ الَّذِي أَفَاضَ فِيهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ کے سات پھیروں میں رمل نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2001]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ دوران طواف دلکی چال جسے رمل کہتے ہیں وہ صرف طواف قدوم میں مشروع ہے طواف افاضہ وغیرہ میں مشروع نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (2673) ¤ صححه ابن خزيمة (2943 وسنده حسن) حديث ابن جريج عن عطاء قوي وإن عنعن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 77 (3060)، (تحفة الأشراف: 5917)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (4170) (صحیح)
84: باب الْوَدَاعِ
باب: مکہ سے نکلنے سے پہلے خانہ کعبہ کا الوداعی طواف۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ ہر جانب سے (مکہ سے) لوٹتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مکہ سے کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف (طواف وداع) ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2002]
💡 وضاحت:
۱؎: اسے طواف صدر یا طواف وداع کہتے ہیں، بعض اہل علم کے نزدیک یہ سنت ہے، اور بعض کے نزدیک واجب، اگر عورت کو چلتے وقت حیض آ جائے تو وہ یہ طواف چھوڑ دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1327)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 67 (1327)، سنن ابن ماجہ/المناسک 82 (3070)، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (4184)، (تحفة الأشراف: 5703)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 144 (1755)، مسند احمد (1/222)، سنن الدارمی/المناسک 85 (1974) (صحیح)
85: باب الْحَائِضِ تَخْرُجُ بَعْدَ الإِفَاضَةِ
باب: حائضہ عورت طواف افاضہ کرنے کے بعد مکہ سے جا سکتی ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ، فَقِيلَ: إِنَّهَا قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّهَا حَابِسَتُنَا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، فَقَالَ: " فَلَا إِذًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیي رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تو لوگوں نے عرض کیا: انہیں حیض آ گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے وہ ہم کو روک لیں گی، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو کوئی بات نہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2003]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ أصله عند مسلم (1211)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17172)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 27 (328)، والحج 34 (1562)، والمغازي 77 (4408)، والطلاق 43 (5329)، والأدب 93 (6157)، صحیح مسلم/الحیض 67 (1211)، سنن الترمذی/الحیض 99 (943)، سنن النسائی/الحیض 23 (391)، سنن ابن ماجہ/المناسک 83 (3012)، موطا امام مالک/الحج 75(225)، مسند احمد (6/38، 39، 82، 99، 122، 164، 175، 193، 202، 207)، سنن الدارمی/المناسک 73 (1958) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: " أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ تَحِيضُ، قَالَ: لِيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ، قَالَ: فَقَالَ الْحَارِثُ: كَذَلِكَ أَفْتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: أَرِبْتَ عَنْ يَدَيْكَ، سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ سَأَلْتَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكَيْ مَا أُخَالِفَ".
حارث بن عبداللہ بن اوس کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ سے اس عورت کے متعلق پوچھا جو یوم النحر کو بیت اللہ کا طواف (افاضہ) کر چکی ہو، پھر اسے حیض آ گیا ہو؟ انہوں نے کہا: وہ آخری طواف (طواف وداع) کر کے جائے (یعنی: طواف وداع کا انتظار کرے)، حارث نے کہا: اسی طرح مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بتایا تھا، اس پر عمر نے کہا تیرے دونوں ہاتھ گر جائیں ۱؎! تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی جسے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ چکے تھے تاکہ میں اس کے خلاف بیان کروں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2004]
💡 وضاحت:
۱؎: بظاہر یہ بددعا ہے لیکن حقیقت میں بددعا مقصود نہیں بلکہ مقصود یہ بتانا ہے کہ ایسا کرکے تم نے غلط کام کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ولكنه منسوخ بما قبله
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ حسنه ابن الملقن في تحفة المحتاج (1146)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 101 (946)، (تحفة الأشراف: 3278)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ الحج (4185)، مسند احمد (3/416) (صحیح) (صحیح تو ہے مگر پچھلی حدیث سے منسوخ ہے، پہلے یہ حکم تھا بعد میں منسوخ ہو گیا جو ان دونوں صحابی رضی اللہ عنہما سے مخفی رہ گیا)
86: باب طَوَافِ الْوَدَاعِ
باب: طواف وداع کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَفْلَحَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَحْرَمْتُ مِنْ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ حَتَّى فَرَغْتُ وَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ، قَالَتْ: وَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ ثُمَّ خَرَجَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا پھر میں (مکہ) گئی اور اپنا عمرہ پورا کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابطح ۱؎ میں میرا انتظار کیا یہاں تک کہ میں فارغ ہو کر (آپ کے پاس واپس آ گئی) تو آپ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ آئے اور اس کا طواف کیا پھر روانہ ہوئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2005]
💡 وضاحت:
۱؎: وہ میدان جو مکہ اور منیٰ کے درمیان ہے اسے وادی محصب بھی کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، صحيح بخاري (1560) صحيح مسلم (1211) ¤ مشكوة المصابيح (2667) ¤ انظر الحديث الآتي (2006)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، (تحفة الأشراف:17443،17440)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/124) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " خَرَجْتُ مَعَهُ، تَعْنِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي النَّفْرِ الْآخِرِ، فَنَزَلَ الْمُحَصَّبَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ بَشَّارٍ قِصَّةَ بَعْثِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَتْ: ثُمَّ جِئْتُهُ بِسَحَرٍ، فَأَذَّنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ، فَارْتَحَلَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَطَافَ بِهِ حِينَ خَرَجَ ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخری دن کی روانگی میں نکلی تو آپ وادی محصب میں اترے، (ابوداؤد کہتے ہیں: ابن بشار نے اس حدیث میں ان کے تنعیم بھیجے جانے کا واقعہ ذکر نہیں کیا) پھر میں صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، تو آپ نے لوگوں میں روانگی کی منادی کرا دی، پھر خود روانہ ہوئے تو فجر سے پہلے بیت اللہ سے گزرے اور نکلتے وقت اس کا طواف کیا، پھر مدینہ کا رخ کر کے چل پڑے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2006]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1560) صحيح مسلم (1211)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17434، 17441) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أُمِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا جَازَ مَكَانًا مِنْ دَارِ يَعْلَى نَسِيَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ اسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ فَدَعَا".
عبدالرحمٰن بن طارق اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یعلیٰ کے گھر کی جگہ سے آگے بڑھتے (اس جگہ کا نام عبیداللہ بھول گئے) تو بیت اللہ کی جانب رخ کرتے اور دعا مانگتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2007]
💡 وضاحت:
۱؎: نہ تو یہ حدیث صحیح ہے اور نہ ہی باب سے اس کا کوئی تعلق ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (2899) ¤ عبدالرحمان بن طارق: مجهول،انظر التحرير (3904) وثقه ابن حبان وحده ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الحج 123 (2899)، (تحفة الأشراف: 18374)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/436، 437) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمن لین الحدیث ہیں)
87: باب التَّحْصِيبِ
باب: وادی محصب میں اترنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " إِنَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ، وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ فَمَنْ شَاءَ نَزَلَهُ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَنْزِلْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محصب میں صرف اس لیے اترے تاکہ آپ کے (مکہ سے) نکلنے میں آسانی ہو، یہ کوئی سنت نہیں، لہٰذا جو چاہے وہاں اترے اور جو چاہے نہ اترے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2008]
💡 وضاحت:
۱؎: محصب، ابطح، بطحاء، خیف کنانہ سب ہم معنی ہیں اور اس سے مراد مکہ اور منٰی کے درمیان کا علاقہ ہے جو منٰی سے زیادۃ قریب ہے۔ محصب میں نزول و اقامت مناسک حج میں سے نہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد آرام فرمانے کے لئے یہاں اقامت کی تھی اور یہاں پر عصر، ظہر و عصر اور مغرب و عشاء ادا فرمائیں اور چودہویں رات گزاری، لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں نزول فرمایا، تو آپ کی اتباع میں یہاں کی اقامت مستحب ہے، خلفاء نے آپ کے بعد اس پر عمل کیا ہے، امام شافعی، امام مالک اور جمہور اہل علم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی اقتداء میں اسے مستحب قرار دیا ہے، اور اگر کسی نے وہاں نزول نہ کیا تو بالاجماع کوئی حرج کی بات نہیں، نیز ظہر، عصر اور مغرب و عشاء کی نماز پڑھنی، نیز رات کا ایک حصہ یا پوری رات سونا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ رواه البخاري (1765) ومسلم (1311)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16785، 17330)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 147 (1765)، صحیح مسلم/الحج 59 (1311)، سنن الترمذی/الحج 82 (923)، سنن ابن ماجہ/المناسک 81 (3067)، مسند احمد (6/190) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو رَافِعٍ: " لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنْزِلَهُ وَلَكِنْ ضَرَبْتُ قُبَّتَهُ فَنَزَلَهُ"، قَالَ مُسَدَّدٌ: وَكَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عُثْمَانُ: يَعْنِي فِي الْأَبْطَحِ.
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے آپ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں وہاں (محصب میں) اتروں، میں نے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ نصب کیا تھا، آپ وہاں اترے تھے۔ مسدد کی روایت میں ہے، وہ (ابورافع) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسباب کے محافظ تھے اور عثمان رضی اللہ عنہ کی روایت میں «يعني في الأبطح» کا اضافہ ہے (مطلب یہ ہے کہ وہ ابطح میں محافظ تھے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2009]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1313)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 59 (1313)، (تحفة الأشراف: 12016) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِي حَجَّتِهِ؟ قَالَ: " هَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا؟" ثُمَّ قَالَ: " نَحْنُ نَازِلُونَ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ، يَعْنِي الْمُحَصَّبَ، وَذَلِكَ أَنْ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ وَلَا يُؤْوُوهُمْ". قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْخَيْفُ الْوَادِي.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کل حج میں کہاں اتریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے کوئی گھر ہمارے لیے (مکہ میں) چھوڑا ہے؟، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم خیف بنو کنانہ میں اتریں گے جہاں قریش نے کفر پر عہد کیا تھا (یعنی وادی محصب میں) ۱؎، اور وہ یہ کہ بنو کنانہ نے قریش سے بنی ہاشم کے خلاف قسم کھائی تھی کہ وہ ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے، نہ خرید و فروخت، اور نہ انہیں پناہ دیں گے۔ زہری کہتے ہیں: خیف وادی کا نام ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2010]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وادی میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے اترے کہ جہاں پر کفر کا دور دورہ تھا، اب وہاں اسلام کا غلبہ ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3058) صحيح مسلم (1351)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 44 (1588)، والجھاد 180 (3058)، ومناقب الأنصار 39 (4282)، والمغازي 48 (4282)، والتوحید 31 (7479)، صحیح مسلم/الحج 80 (1351)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 6 (2730)، والمناسک 26 (2942)، (تحفة الأشراف: 114)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفرائض 15 (2107)، موطا امام مالک/الفرائض 13 (10)، مسند احمد (2/237)، سنن الدارمی/الفرائض 29 (3036) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَنْفِرَ مِنْ مِنًى: " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا"، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَهُ وَلَا ذَكَرَ الْخَيْفَ الْوَادِي.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب منیٰ سے کوچ کرنے کا قصد کیا تو فرمایا: ہم وہاں کل اتریں گے۔ پھر راوی نے ویسا ہی بیان کیا، اس روایت میں نہ تو حدیث کے شروع کے الفاظ ہیں، اور نہ ہی یہ ذکر ہے کہ خیف وادی کا نام ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2011]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1590) صحيح مسلم (1314)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الحج 45 (1590)، صحیح مسلم/الحج 59 (1314)، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (4202)، (تحفة الأشراف: 15199)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 237، 540) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ" يَهْجَعُ هَجْعَةً بِالْبَطْحَاءِ، ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ، وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بطحاء میں نیند کی ایک جھپکی لے لیتے پھر مکہ میں داخل ہوتے اور بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2012]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ رواه البخاري (1768 مطولًا)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6658، 7590)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 148(1767)، صحیح مسلم/الحج 59 (1275)، سنن الترمذی/الحج 81 (921)، سنن ابن ماجہ/المناسک 81 (3068)، مسند احمد (2/28، 138) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْبَطْحَاءِ، ثُمَّ هَجَعَ هَجْعَةً، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ"، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء بطحاء میں پڑھی پھر ایک نیند سوئے، پھر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2013]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (2012)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6658، 7590) (صحیح)
88: باب فِيمَنْ قَدَّمَ شَيْئًا قَبْلَ شَىْءٍ فِي حَجِّهِ
باب: کسی نے حج میں کوئی کام آگے یا پیچھے کر لیا تو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى يَسْأَلُونَهُ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ"، وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ"، قَالَ: فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ أَوْ أُخِّرَ إِلَّا قَالَ: " اصْنَعْ وَلَا حَرَجَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں منیٰ میں ٹھہرے، لوگ آپ سے سوالات کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہ تھا میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذبح کر لو کوئی حرج نہیں، پھر ایک اور شخص آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہ تھا میں نے رمی کرنے سے پہلے نحر کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمی کر لو، کوئی حرج نہیں، اس طرح جتنی چیزوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا جو آگے پیچھے ہو گئیں تھیں آپ نے فرمایا: کر ڈالو، کوئی حرج نہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2014]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (83) صحيح مسلم (1306)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 23 (83)، الحج 131 (1736)، الأیمان والنذور 15 (6665)، صحیح مسلم/الحج 57 (1306)، سنن الترمذی/الحج 76 (916)، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (4106)، سنن ابن ماجہ/المناسک 74 (3051)، (تحفة الأشراف: 8906)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 81 (242)، مسند احمد (2/159، 160، 192، 202، 210، 217)، سنن الدارمی/المناسک 65 (1948) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ، فَمَنْ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ، أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا، فَكَانَ يَقُولُ: " لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ إِلَّا عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ، فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ".
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلا، لوگ آپ کے پاس آتے تھے جب کوئی کہتا: اللہ کے رسول! میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی یا میں نے ایک چیز کو مقدم کر دیا یا مؤخر کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں، حرج صرف اس پر ہے جس نے کسی مسلمان کی جان یا عزت و آبرو پامال کی اور وہ ظالم ہو، ایسا ہی شخص ہے جو حرج میں پڑ گیا اور ہلاک ہوا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2015]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2658) ¤ صححه ابن خزيمة (2774 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 128) (صحیح)
89: باب فِي مَكَّةَ
باب: مکہ میں نماز کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي مِمَّا يَلِي بَابَ بَنِي سَهْمٍ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا سُتْرَةٌ". قَالَ سُفْيَانُ: لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ سُتْرَةٌ. قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا كُثَيْرٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: لَيْسَ مِنْ أَبِي سَمِعْتُهُ، وَلَكِنْ مِنْ بَعْضِ أَهْلِي، عَنْ جَدِّي.
مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو باب بنی سہم کے پاس نماز پڑھتے دیکھا، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزر رہے تھے بیچ میں کوئی سترہ نہ تھا ۱؎۔ سفیان کے الفاظ یوں ہیں: ان کے اور کعبہ کے درمیان کوئی سترہ نہ تھا۔ سفیان کہتے ہیں: ابن جریج نے ان کے بارے میں ہمیں بتایا کہ کثیر نے اپنے والد سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا میں نے اسے اپنے والد سے نہیں سنا، بلکہ گھر کے کسی فرد سے سنا اور انہوں نے میرے دادا سے روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2016]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث ضعیف ہے، اس لئے اس سے استدلال نہیں کیا جا سکتا، سترہ کے بارے میں وارد تمام احادیث مطلق اور عام ہیں، ان میں کسی جگہ کی کوئی قید نہیں خواہ صحراء ہو،یا مسجد حتی کہ حرمین شریفین کی مساجد بھی اس حکم سے مستثنی نہیں ہیں، اس لئے ہر جگہ سترہ کا اہتمام کرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (759،2962) ابن ماجه (2958) ¤ كثير لم يسمع من أبيه بدليل رواية سفيان،بينھما: مجهول ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/القبلة 9 (759)، والحج 162 (2962)، سنن ابن ماجہ/المناسک 33 (2958)، (تحفة الأشراف: 11285)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/399) (ضعیف) (اس کے راوی بعض أہلہ مبہم مجہول ہیں)
90: باب تَحْرِيمِ حَرَمِ مَكَّةَ
باب: حرم مکہ کی حرمت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تَحِلُّ لُقْطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ". فَقَالَ عَبَّاسٌ: أَوْ قَالَ: قَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَإِنَّهُ لِقُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَزَادَنَا فِيهِ ابْنُ الْمُصَفَّى، عَنْ الْوَلِيدِ، فَقَامَ أَبُو شَاهٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْتُبُوا لِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ". قُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ: مَا قَوْلُهُ اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ؟ قَالَ: هَذِهِ الْخُطْبَةُ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ فتح کرا دیا، تو آپ لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: اللہ نے ہی مکہ سے ہاتھیوں کو روکا، اور اس پر اپنے رسول اور مومنین کا اقتدار قائم کیا، میرے لیے دن کی صرف ایک گھڑی حلال کی گئی اور پھر اب قیامت تک کے لیے حرام کر دی گئی، نہ وہاں (مکہ) کا درخت کاٹا جائے، نہ اس کا شکار بدکایا جائے، اور نہ وہاں کا لقطہٰ (پڑی ہوئی چیز) کسی کے لیے حلال ہے، بجز اس کے جو اس کی تشہیر کرے، اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! سوائے اذخر کے ۱؎ (یعنی اس کا کاٹنا درست ہونا چاہیئے) اس لیے کہ وہ ہماری قبروں اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوائے اذخر کے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن مصفٰی نے ولید سے اتنا اضافہ کیا ہے: تو اہل یمن کے ایک شخص ابوشاہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے لکھ کر دے دیجئیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کو لکھ کر دے دو، (ولید کہتے ہیں) میں نے اوزاعی سے پوچھا: «اكتبوا لأبي شاه» سے کیا مراد ہے، وہ بولے: یہی خطبہ ہے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2017]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ایک خوشبو دار گھاس ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2434) صحيح مسلم (1355)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللقطة 7 (2434)، صحیح مسلم/الحج 82 (1355)، سنن الترمذی/الدیات 13 (1405)، سنن النسائی/القسامة 24 (4789، 4790، 4791)، سنن ابن ماجہ/الدیات 3 (2624)، (تحفة الأشراف: 15383)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/238)، سنن الدارمی/البیوع 60 (2642)، ویأتی ہذا الحدیث فی العلم (3649، 3650) وفی الدیات (4505) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی واقعہ مروی ہے اس میں اتنا زائد ہے «لا يختلى خلاها» (اور اس کے پودے نہ کاٹے جائیں)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2018]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1834) صحيح مسلم (1353)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ جزاء الصید 9 (1834)، الجہاد 1(2783) صحیح مسلم/الحج 82 (1353)، سنن الترمذی/ السیر 33 (1590)، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (3857)، (تحفة الأشراف: 5748)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/226، 259، 315، 355) ویأتی ہذا الحدیث فی الجہاد (2480) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا أَوْ بِنَاءً يُظِلُّكَ مِنَ الشَّمْسِ؟ فَقَالَ: " لَا، إِنَّمَا هُوَ مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں ایک گھر یا عمارت نہ بنا دیں جو آپ کو دھوپ سے سایہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ (منیٰ) اس کی جائے قیام ہے جو یہاں پہلے پہنچ جائے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2019]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی منیٰ کا میدان وقف ہے حاجیوں کے لئے وہ کسی کی خاص ملکیت نہیں ہے اگر کوئی وہاں پہلے پہنچے اور کسی جگہ اتر جائے تو دوسرا اس کو اٹھا نہیں سکتا چونکہ مکان بنانے میں ایک جگہ پر اپنا قبضہ اور حق جما لینا ہے اس لئے آپ نے اس سے منع فرمایا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2625) ¤ أخرجه الترمذي (881 وسنده حسن) وابن ماجه (3006 وسنده حسن) وشك ابن خزيمة (2891) في صحته وحسنه الترمذي وصححه الحاكم (1/466، 467) ووافقه الذهبي، أم يوسف مسيكة وثقھا الترمذي والحاكم والذھبي بتصحيح حديثھا وإبراهيم بن المھاجر بن جابر البجلي وثقه الجمھور وھو حسن الحديث فالسند حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 51 (881)، سنن ابن ماجہ/المناسک 52 (3006)، (تحفة الأشراف: 17963)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/187، 206)، سنن الدارمی/المناسک 87 (1980) (ضعیف) (یوسف کی والدہ مسیکہ مجہول ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، أَخْبَرَنِي عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ بَاذَانَ، قَالَ: " أَتَيْتُ يَعْلَى بْنَ أُمَيَّةَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " احْتِكَارُ الطَّعَامِ فِي الْحَرَمِ إِلْحَادٌ فِيهِ".
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حرم میں غلہ روک کر رکھنا اس میں الحاد (کج روی) ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2020]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ موسي بن باذان مجهول(تق: 6949) ¤ وجعفر بن يحيي:مقبول(أي مجهول الحال) ¤ وعمارة بن ثوبان مستور (تقريب التهذيب: 962،4839) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11848) (ضعیف) (اس کے رواة جعفر، عمارة اور موسی سب ضعیف ہیں)
91: باب فِي نَبِيذِ السِّقَايَةِ
باب: حاجیوں کے لیے نبیذ کی سبیل لگانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا بَالُ أَهْلِ هَذَا الْبَيْتِ يَسْقُونَ النَّبِيذَ وَبَنُو عَمِّهِمْ يَسْقُونَ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ وَالسَّوِيقَ، أَبُخْلٌ بِهِمْ أَمْ حَاجَةٌ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا بِنَا مِنْ بُخْلٍ وَلَا بِنَا مِنْ حَاجَةٍ، وَلَكِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ، فَشَرِبَ مِنْهُ وَدَفَعَ فَضْلَهُ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ"، كَذَلِكَ فَافْعَلُوا، فَنَحْنُ هَكَذَا لَا نُرِيدُ أَنْ نُغَيِّرَ مَا قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ اس گھر کے لوگ نبیذ (کھجور کا شربت) پلاتے ہیں اور آپ کے چچا کے بیٹے (قریش) دودھ، شہد اور ستو پلاتے ہیں؟ کیا یہ لوگ بخیل یا محتاج ہیں؟ ابن عباس نے کہا: نہ ہم بخیل ہیں اور نہ محتاج، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز اپنی سواری پر بیٹھ کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کو کچھ مانگا تو نبیذ پیش کیا گیا، آپ نے اس میں سے پیا اور باقی ماندہ اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا، تو انہوں نے بھی اس میں سے پیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا اور خوب کیا ایسے ہی کیا کرو، تو ہم اسی کو اختیار کئے ہوئے ہیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا، اسے ہم بدلنا نہیں چاہتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2021]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1316)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 60 (1316)، (تحفة الأشراف: 5373)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/245، 292، 336، 369، 373) (صحیح)
92: باب الإِقَامَةِ بِمَكَّةَ
باب: مکہ میں اقامت کی مدت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ: هَلْ سَمِعْتَ فِي الْإِقَامَةِ بِمَكَّةَ شَيْئًا؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِلْمُهَاجِرِينَ: " إِقَامَةٌ بَعْدَ الصَّدْرِ ثَلَاثًا فِي الْكَعْبَة".
عبدالرحمٰن بن حمید سے روایت ہے کہ انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو سائب بن یزید سے پوچھتے سنا: کیا آپ نے مکہ میں رہائش اختیار کرنے کے سلسلے میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے ابن حضرمی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مہاجرین کے لیے حج کے احکام سے فراغت کے بعد تین دن تک مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2022]
💡 وضاحت:
۱؎: تاکہ وہ اس دوران اپنی ضرورتیں پوری کر لیں اس سے زیادہ انہیں رکنے کی اجازت نہیں کیونکہ وہ اللہ کے لئے اس شہر کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3933) صحيح مسلم (1352)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/مناقب الأنصار 47 (3933)، صحیح مسلم/الحج 81 (1352)، سنن الترمذی/الحج 103 (949)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة 3 (1455)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 76 (1073)، (تحفة الأشراف: 11008)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/339، 5/52)، سنن الدارمی/الصلاة 18 (1247) (صحیح)
93: باب الصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ
باب: کعبہ کے اندر نماز کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ وَ بِلَالٌ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ فَمَكَثَ فِيهَا"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ: مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ، ثُمَّ صَلَّى.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ حجبی اور بلال رضی اللہ عنہم کعبہ میں داخل ہوئے، پھر ان لوگوں نے اسے بند کر لیا، اور اس میں رکے رہے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے جب وہ باہر آئے تو پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ وہ بولے: آپ نے ایک ستون اپنے بائیں طرف اور دو ستون دائیں طرف اور تین ستون اپنے پیچھے کیا (اس وقت بیت اللہ چھ ستونوں پر قائم تھا) پھر آپ نے نماز پڑھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2023]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (505) صحيح مسلم (1329)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 30 (397)، 81 (486)، 96 (504)، التھجد 25 (1167)، الحج 51 (1598)، الجھاد 127 (2988)، المغازي 49 (4289)، 77 (4400)، صحیح مسلم/الحج 68 (1329)، سنن النسائی/المساجد 5 (693)، القبلة 6 (750)، الحج 126 (2908)، 127 (2909)، سنن ابن ماجہ/المناسک 79 (3063)، (تحفة الأشراف: 2037، 8331)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 46 (874)، موطا امام مالک/الحج 63 (193)، مسند احمد (2/33، 55، 113، 120، 138، 6/12، 13، 14، 15)، سنن الدارمی/المناسک 43 (1908) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَذْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، لَمْ يَذْكُرِ السَّوَارِيَ، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ.
اس سند سے بھی مالک سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ستونوں کا ذکر نہیں، البتہ اتنا اضافہ ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، آپ کے اور قبلے کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2024]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (2023)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2037، 8331) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ، قَالَ: وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قعنبی کی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے اس میں اس طرح ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں؟۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2025]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ تقدم طرفه (1959) وھو متفق عليه وانظر الحديث السابق (2023)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم (2023)، (تحفة الأشراف: 2037) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ؟ قَالَ: " صَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
عبدالرحمٰن بن صفوان کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2026]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ وللمتن شواھد عند البخاري (397) وغيره، فالحديث صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10590)، وقد أخرجہ: (حم 3/430، 431) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الْآلِهَةُ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ، قَالَ: فَأُخْرِجَ صُورَةُ إِبْرَاهِيمَ وَ إِسْمَاعِيلَ وَفِي أَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَاتَلَهُمُ اللَّهُ، وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمُوا مَا اسْتَقْسَمَا بِهَا قَطُّ"، قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ وَفِي زَوَايَاهُ، ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ آئے تو آپ نے کعبہ میں داخل ہونے سے انکار کیا کیونکہ اس میں بت رکھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ نکال دیئے گئے، اس میں ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی تصویریں بھی تھیں، وہ اپنے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیر لیے ہوئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ انہیں ہلاک کرے، اللہ کی قسم انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان دونوں (ابراہیم اور اسماعیل) نے کبھی بھی فال نہیں نکالا، وہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کے گوشوں اور کونوں میں تکبیرات بلند کیں، پھر بغیر نماز پڑھے نکل آئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2027]
💡 وضاحت:
۱؎: فال کے ان تیروں پر «افعل،لا تفعل،لا شيء» لکھا ہوتا تھا، ان کی عادت تھی جب وہ سفر پر نکلتے تو اس کو ایک تھیلی میں ڈال کر اس میں سے ایک کو نکالتے، اگر حسن اتفاق سے اس تیر پر «افعل» لکھا ہوتا تو سفر پر نکلتے، اور «لا تفعل» لکھا ہوتا تو سفر کو ملتوی کر دیتے اور اگر «لا شيء» لکھا رہتا تو پھر دوبارہ سب کو ڈال کر نکالتے، یہاں تک کہ «افعل» یا «لا تفعل» نکل آئے، رہی یہ بات کہ آپ نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی تو یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے علم کی بنیاد پر کہا ہے، ترجیح بلال رضی اللہ عنہ کے بیان کو ہے جنہوں نے قریب سے دیکھا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1601)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 30 (397)، وأحادیث الأنبیاء 8 (3351)، والحج 54 (1601)، والمغازي 48 (4288)، (تحفة الأشراف: 5995)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 68 (1329)، سنن النسائی/المناسک 130 (2916)، مسند احمد (1/334، 365) (صحیح)
94: باب الصَّلَاةِ فِي الْحِجْرِ
باب: حطیم میں نماز پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ فَأُصَلِّيَ فِيهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَأَدْخَلَنِي فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ: " صَلِّي فِي الْحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ، فَإِنَّمَا هُوَ قَطْعَةٌ مِنْ الْبَيْتِ، فَإِنَّ قَوْمَكِ اقْتَصَرُوا حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ فَأَخْرَجُوهُ مِنْ الْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری خواہش تھی کہ میں بیت اللہ میں داخل ہو کر اس میں نماز پڑھوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم میں داخل کر دیا، اور فرمایا: جب تم بیت اللہ میں داخل ہونا چاہو تو حطیم کے اندر نماز پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ بھی بیت اللہ ہی کا ایک ٹکڑا ہے، تمہاری قوم کے لوگوں نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسی پر اکتفا کیا تو لوگوں نے اسے بیت اللہ سے خارج ہی کر دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2028]
💡 وضاحت:
۱؎: حطیم کے حصہ کو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنے دور خلافت میں کعبے کے اندر شامل کر دیا تھا، لیکن حجاج بن یوسف نے جب ان پر چڑھائی کی اور کعبہ کی عمارت کو نقصان پہنچا تو اس نے پھر نئے سرے سے اس کی تعمیر کروائی اور حطیم کو چھوڑ دیا اور آج تک ویسے ہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ أخرجه الترمذي (876 وسنده صحيح) والنسائي (2915 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الحج 129 (2915)، سنن الترمذی/الحج 48 (876)، (تحفة الأشراف: 17961)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 42 (1583)، وأحادیث الأنبیاء 10 (3368)، وتفسیر سورة البقرة 10 (4484)، والتمنی 9 (7243)، صحیح مسلم/الحج 69 (398)، سنن ابن ماجہ/المناسک 31 (2955)، موطا امام مالک/الحج 33(104)، مسند احمد (6/67، 92، 93)، سنن الدارمی/المناسک 44 (1911) (حسن صحیح)
95: باب فِي دُخُولِ الْكَعْبَةِ
باب: کعبہ میں داخل ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا وَهُوَ مَسْرُورٌ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَهُوَ كَئِيبٌ، فَقَالَ: " إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا دَخَلْتُهَا، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ قَدْ شَقَقْتُ عَلَى أُمَّتِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے نکلے اور آپ خوش تھے پھر میرے پاس آئے اور آپ غمگین تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کعبے کے اندر گیا اگر مجھے وہ بات پہلے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی ۱؎ تو میں اس میں داخل نہ ہوتا، مجھے اندیشہ ہے کہ میں نے اپنی امت کو زحمت میں ڈال دیا ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2029]
💡 وضاحت:
۱؎: کہ لوگوں کو کعبہ کے اندر داخل ہونے میں بڑی پریشانیاں اٹھانا پڑیں گی۔
۲؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اندیشہ صحیح ثابت ہوا عوام نے کعبہ کے اندر جانے کو ضروری سمجھ لیا چنانچہ اس کے لئے انہیں بڑی دھکم پیل کرنی پڑتی تھی، اللہ بھلا کرے سعودی حکومت کا جس نے کعبہ کے اندر عام لوگوں کا داخلہ بند کر دیا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (873) ابن ماجه (3064) ¤ إسماعيل بن عبدالملك ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 45 (873)، سنن ابن ماجہ/المناسک 79 (3064)، (تحفة الأشراف: 16230)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/137) (ضعیف) (اس کے راوی اسماعیل کثیرالوہم ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ الْحَجَبِيِّ، حَدَّثَنِي خَالِي، عَنْ أُمِّي صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ الَأسْلَمِيَّةَ، تَقُولُ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ: مَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَعَاكَ؟ قَالَ: قَالَ: " إِنِّي نَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَ الْقَرْنَيْنِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّيَ"، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: خَالِي مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ.
اسلمیہ کہتی ہیں کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا ۱؎: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بلایا تو آپ سے کیا کہا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں یہ بتانا بھول گیا کہ مینڈھے ۲؎ کی دونوں سینگوں کو چھپا دو اس لیے کہ کعبہ میں کوئی چیز ایسی رہنی مناسب نہیں ہے جو نماز پڑھنے والے کو غافل کر دے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2030]
💡 وضاحت:
۱؎: عثمان سے مراد عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہ ہیں۔
۲؎: اس دنبہ کی سینگیں جس کو اسماعیل علیہ السلام کی جگہ پر ذبح کرنے کے لئے جبریل علیہ السلام لے آئے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ انظر مسند الحميدي بتحقيقي (565 وسنده حسن) الأسلمية أراھا صحابية بدليل رواية صفية بنت شيبة وھي صحابية عنھا والله أعلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9762)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/380) (صحیح)
96: باب فِي مَالِ الْكَعْبَةِ
باب: کعبہ میں مدفون مال کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ شَيْبَةَ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، قَالَ: " قَعَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي مَقْعَدِكَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ، فَقَالَ: لَا أَخْرُجُ حَتَّى أَقْسِمَ مَالَ الْكَعْبَةِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ، قَالَ: بَلَى، لَأَفْعَلَنَّ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ، قَالَ: لِمَ قُلْتُ؟ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَأَى مَكَانَهُ وَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُمَا أَحْوَجُ مِنْكَ إِلَى الْمَالِ فَلَمْ يُخْرِجَاهُ، فَقَامَ فَخَرَجَ".
شیبہ بن عثمان کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس جگہ بیٹھے جہاں تم بیٹھے ہو اور کہا: میں باہر نہیں نکلوں گا جب تک کہ کعبہ کا مال ۱؎ (محتاج مسلمانوں میں) تقسیم نہ کر دوں، میں نے کہا: آپ ایسا نہیں کر سکتے، فرمایا: کیوں نہیں، میں ضرور کروں گا، میں نے کہا: آپ ایسا نہیں کر سکتے، وہ بولے: کیوں؟ میں نے کہا: اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کی جگہ دیکھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی دیکھ رکھی تھی، اور وہ دونوں اس مال کے آپ سے زیادہ حاجت مند تھے لیکن انہوں نے اسے نہیں نکالا، یہ سن کر عمر کھڑے ہوئے اور باہر نکل آئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2031]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض علماء کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے یہ مال امام مہدی کے لئے رکھ چھوڑا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3116) ¤ عبد الرحمٰن بن محمد المحاربي مدلس(طبقات المدلسين: 8/ 3) وعنعن ¤ وحديث البخاري (1594،7375) يغني عن ھذا الحديث ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 48 (1594)، والاعتصام 2 (7275)، سنن ابن ماجہ/المناسک 105 (3116)، (تحفة الأشراف: 4849)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/410) (صحیح)
---: باب
باب:۔۔۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِنْسَانٍ الطَّائِفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، قَالَ: لَمَّا أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لِيَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ السِّدْرَةِ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرَفِ الْقَرْنِ الْأَسْوَدِ حَذْوَهَا، فَاسْتَقْبَلَ نَخِبًا بِبَصَرِهِ، وقَالَ مَرَّةً: وَادِيَهُ، وَوَقَفَ حَتَّى اتَّقَفَ النَّاسُ كُلُّهُمْ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعِضَاهَهُ حَرَامٌ مُحَرَّمٌ لِلَّهِ"، وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِهِ الطَّائِفَ وَحِصَارِهِ لِثَقِيفٍ.
زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیّۃ ۱؎ سے لوٹے اور بیری کے درخت کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرن اسود ۲؎ کے دامن میں اس کے بالمقابل کھڑے ہوئے پھر اپنی نگاہ سے نخب ۳؎ کا استقبال کیا (اور راوی نے کبھی ( «نخبا» کے بجائے «واديه» کا لفظ کہا) اور ٹھہر گئے تو سارے لوگ ٹھہر گئے تو فرمایا: صیدوج ۴؎ اور اس کے درخت محترم ہیں، اللہ کی طرف سے محترم قرار دیئے گئے ہیں، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طائف میں اترنے اور ثقیف کا محاصرہ کرنے سے پہلے کی بات ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2032]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک پہاڑ کا نام ہے جو طائف سے قریب ہے۔
۲؎: حجاز میں ایک پہاڑ کا نام ہے۔
۳؎: ایک جگہ کا نام ہے۔
۴؎: طائف میں ایک وادی کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد اللّٰه بن إنسان: لين الحديث (تق: 3215) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3640)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/165) (ضعیف) (اس کے راوی محمد اور عبداللہ دونوں ضعیف ہیں)
97: باب فِي إِتْيَانِ الْمَدِينَةِ
باب: مدینہ میں آنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کجاوے صرف تین ہی مسجدوں کے لیے کسے جائیں: مسجد الحرام، میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) اور مسجد اقصی کے لیے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2033]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1189) صحيح مسلم (1397)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل الصلاة 1 (1189)، صحیح مسلم/الحج 95 (1397)، سنن النسائی/المساجد 10 (699)، (تحفة الأشراف: 13130)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 196 (1409)، موطا امام مالک/ الجمعة 7 (16)، مسند احمد (2/234، 238، 278)، سنن الدارمی/الصلاة 132 (1461) (صحیح)
98: باب فِي تَحْرِيمِ الْمَدِينَةِ
باب: مدینہ کے حرم ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرَ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ، وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوائے قرآن کے اور اس کے جو اس صحیفے ۱؎ میں ہے کچھ نہیں لکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ حرام ہے عائر سے ثور تک (عائر اور ثور دو پہاڑ ہیں)، جو شخص مدینہ میں کوئی بدعت (نئی بات) نکالے، یا نئی بات نکالنے والے کو پناہ اور ٹھکانا دے تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ کوئی نفل، مسلمانوں کا ذمہ (عہد) ایک ہے (مسلمان سب ایک ہیں اگر کوئی کسی کو امان دیدے تو وہ سب کی طرف سے ہو گی) اس (کو نبھانے) کی ادنی سے ادنی شخص بھی کوشش کرے گا، لہٰذا جو کسی مسلمان کی دی ہوئی امان کو توڑے تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ نفل، اور جو اپنے مولی کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے ولاء کرے ۲؎ اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ نفل۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2034]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ صحیفہ ایک ورق تھا جس میں دیت کے احکام تھے،علی رضی اللہ عنہ اسے اپنی تلوار کی نیام میں رکھتے تھے۔
۲؎: یعنی کوئی اپنی آزادی کی نسبت کسی دوسرے کی طرف نہ کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1870) صحيح مسلم (1370)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 39 (111)، وفضائل المدینة 1 (1867)، والجھاد 171 (3047)، والجزیة 10 (3172، 3179)، والفرائض 21 (6755)، والدیات 24 (6903)، والاعتصام 5 (7300)، صحیح مسلم/الحج 85 (1370)، سنن الترمذی/الدیات 16 (1412)، والولاء والھبة 3 (2127)، سنن النسائی/القسامة 9، 10 (4749)، (تحفة الأشراف: 10317)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات 21 (2658)، مسند احمد (1/81، 122، 126، 151، 2/398)، سنن الدارمی/الدیات 5 (2401) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمَنْ أَشَادَ بِهَا، وَلَا يَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ يَحْمِلَ فِيهَا السِّلَاحَ لِقِتَالٍ وَلَا يَصْلُحُ أَنْ يُقْطَعَ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ".
علی رضی اللہ عنہ سے اس قصے میں روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس (یعنی مدینہ) کی نہ گھاس کاٹی جائے، نہ اس کا شکار بھگایا جائے، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیزوں کو اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے، کسی شخص کے لیے درست نہیں کہ وہ وہاں لڑائی کے لیے ہتھیار لے جائے، اور نہ یہ درست ہے کہ وہاں کا کوئی درخت کاٹا جائے سوائے اس کے کہ کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ کھلائے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2035]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قتادة مدلس وعنعن ¤ وللحديث طرف آخر عندالنسائي (4750) وسنده ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10278)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/119) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كِنَانَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: " حَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ نَاحِيَةٍ مِنْ الْمَدِينَةِ بَرِيدًا بَرِيدًا، لَا يُخْبَطُ شَجَرُهُ وَلَا يُعْضَدُ إِلَّا مَا يُسَاقُ بِهِ الْجَمَلُ".
عدی بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے ہر جانب ایک ایک برید محفوظ کر دیا ہے ۱؎ نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے گا اور نہ پتے توڑے جائیں گے مگر اونٹ کے چارے کے لیے (بہ قدر ضرورت)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2036]
💡 وضاحت:
۱؎: چاروں اطراف مشرق، مغرب اور شمال جنوب کو ملا کر کل چار برید ہوئے اور ایک برید چار فرسخ کا ہوتا ہے اور ایک فرسخ تین میل کا اس طرح اس حدیث کی رو سے کل (۴۸) میل بنتا ہے جبکہ صحیح مسلم کی روایت میں (۱۲) میل کی صراحت آئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سليمان بن كنانة: مجھول الحال (تق: 2603) ¤ ولأصل الحديث شواهد كثيرة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9879) (حسن) (اس کے راوی سلیمان مجہول اور عبداللہ لین الحدیث ہیں، لیکن یہ حدیث شواہد کی بنا پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود6/275، والصحیحة: 3243)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ، فَجَاءَ مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ، وَقَالَ: " مَنْ وَجَدَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ ثِيَابَهُ"، فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَيْكُمْ ثَمَنَهُ.
سلیمان بن ابی عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک شخص کو پکڑا جو مدینہ کے حرم میں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے شکار کر رہا تھا، سعد نے اس سے اس کے کپڑے چھین لیے تو اس کے سات (۷) لوگوں نے آ کر ان سے اس کے بارے میں گفتگو کی، آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے: جو کسی کو اس میں شکار کرتے پکڑے تو چاہیئے کہ وہ اس کے کپڑے چھین لے، لہٰذا میں تمہیں وہ سامان نہیں دوں گا جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دلایا ہے البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی قیمت دے دوں گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2037]
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن قوله يصيد منكر والمحفوظ ما في الحديث التالي يقطعون
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سليمان بن أبي عبد اللّٰه: مقبول (تق: 2582) أي: ’’مجهول الحال“ ¤ ولم يوثقه غير ابن حبان ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3863)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 85 (4060)، مسند احمد (1/168، 170) (صحیح) (لیکن شکار کی بات منکر ہے، صحیح بات درخت کاٹنے کی ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے اور صحیح مسلم میں بھی یہی بات ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ مَوْلًى لِسَعْدٍ، أَنَّ سَعْدًا وَجَدَ عَبِيدًا مِنْ عَبِيدِ الْمَدِينَةِ يَقْطَعُونَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ، فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ، وَقَالَ يَعْنِي لِمَوَالِيهِمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يُقْطَعَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ شَيْءٌ، وَقَالَ: " مَنْ قَطَعَ مِنْهُ شَيْئًا فَلِمَنْ أَخَذَهُ سَلَبُهُ".
سعد رضی اللہ عنہ کے غلام سے روایت ہے کہ سعد نے مدینہ کے غلاموں میں سے کچھ غلاموں کو مدینہ کے درخت کاٹتے پایا تو ان کے اسباب چھین لیے اور ان کے مالکوں سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع کرتے سنا ہے کہ مدینہ کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو کوئی اس میں کچھ کاٹے تو جو اسے پکڑے اس کا اسباب چھین لے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2038]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ جھڑکی اور ملامت کے طور پر ہے، پھر اسے واپس دیدے، اکثر علماء کی یہی رائے ہے، اور بعض علماء نے کہا ہے کہ نہ دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ مولي لسعد مجھول (وانظر فتح الملك المعبود 2/ 247) ولم أجد من وثقه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 78
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3951) (صحیح) (متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، مؤلف کی سند میں دو علتیں ہیں: صالح کا اختلاط اور مولی لسعد کا مبہم ہونا)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ الْجُهَنِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُخْبَطُ وَلَا يُعْضَدُ حِمَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ يُهَشُّ هَشًّا رَفِيقًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم سے نہ درخت کاٹے جائیں اور نہ پتے توڑے جائیں البتہ نرمی سے جھاڑ لیے جائیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2039]
💡 وضاحت:
۱؎: اکثر علماء کے نزدیک حرم مدینہ کے درخت کاٹنے یا شکار مارنے میں کوئی سزا نہیں ہے، بعض علماء کے نزدیک سزا کا مستحق ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 78
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2218) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَأْتِي قِبَاءَ مَاشِيًا وَرَاكِبًا، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء پیدل اور سوار (دونوں طرح سے) آتے تھے ابن نمیر کی روایت میں اور دو رکعت پڑھتے تھے (کا اضافہ ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2040]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1194) صحيح مسلم (1399)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة 3 (1194)تعلیقًا، والاعتصام 16 (7323)، صحیح مسلم/الحج 97 (1399)، سنن النسائی/المساجد 9 (699)، (تحفة الأشراف: 7941، 8148)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصرالصلاة 23 (71)، مسند احمد (2/5، 30، 57، 58، 65) (صحیح)
99: باب زِيَارَةِ الْقُبُورِ
باب: قبروں کی زیارت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ حُمَيْدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ، إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر جب بھی کوئی سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2041]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (925) ¤ يزيد بن عبد الله بن قسيط ثبت سماعه من أبي ھريرة عند البيھقي (1/ 122)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14839)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/527) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا، وَصَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۱؎ اور میری قبر کو میلا نہ بناؤ (کہ سب لوگ وہاں اکٹھا ہوں)، اور میرے اوپر درود بھیجا کرو کیونکہ تم جہاں بھی رہو گے تمہارا درود مجھے پہنچایا جائے گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2042]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس میں نماز پڑھنا اور عبادت کرنا نہ چھوڑو کہ تم اس میں مردوں کی طرح ہو جاؤ اس سے معلوم ہوا کہ جس گھر میں نماز اور عبادت نہیں ہوتی وہ قبرستان کے مانند ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (926)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13032)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/367) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْمَدَنِيُّ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ الْهُدَيْرِ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَ حَدِيثٍ وَاحِدٍ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ قُبُورَ الشُّهَدَاءِ، حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى حَرَّةِ وَاقِمٍ، فَلَمَّا تَدَلَّيْنَا مِنْهَا وَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِيَّةٍ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُبُورُ إِخْوَانِنَا هَذِهِ؟ قَالَ: " قُبُورُ أَصْحَابِنَا" فَلَمَّا جِئْنَا قُبُورَ الشُّهَدَاءِ، قَالَ: " هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا".
ربیعہ بن ہدیر کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو سوائے اس ایک حدیث کے کوئی اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے نہیں سنا، میں نے عرض کیا: وہ کون سی حدیث ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، آپ شہداء کی قبروں کا ارادہ رکھتے تھے جب ہم حرۂ واقم (ایک ٹیلے کا نام ہے) پر چڑھے اور اس پر سے اترے تو دیکھا کہ وادی کے موڑ پر کئی قبریں ہیں، ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہمارے بھائیوں کی قبریں یہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے صحابہ کی قبریں ہیں ۱؎، جب ہم شہداء کی قبروں کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2043]
💡 وضاحت:
۱؎: جن کی موت اسلام پر ہوئی ہے اور وہ شہداء کا مقام نہیں پا سکے ہیں۔
۲؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوت کی نسبت ان کی طرف کی یہ ان کے لئے بڑے شرف کی بات ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4997)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/161) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَصَلَّى بِهَا"، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں جو ذی الحلیفہ میں ہے اونٹ بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی، چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2044]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1532) صحيح مسلم (1257 بعد ح 1345)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 89 (484)، والحج 14 (1532)، 15 (1533)، 16 (1535)، والعمرة 14 (1799)، والمزارعة 16 (2336)، صحیح مسلم/الحج 6 (1188)، 77 (1275)، سنن النسائی/المناسک 24 (2660)، (تحفة الأشراف: 8338)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 69(206)، مسند احمد (2/28، 87، 112، 138) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: " لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُجَاوِزَ الْمُعَرَّسِ إِذَا قَفَلَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُ، لِأَنَّهُ بَلَغَنِي أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَّسَ بِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ، قَالَ: الْمُعَرَّسُ عَلَى سِتَّةِ أَمْيَالٍ مِنْ الْمَدِينَةِ.
مالک کہتے ہیں جب کوئی مدینہ واپس لوٹے اور معرس پہنچے تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ آگے بڑھے جب تک کہ نماز نہ پڑھ لے جتنا اس کا جی چاہے اس لیے کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں رات کو قیام کیا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسحاق مدنی کو کہتے سنا: معرس مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2045]
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ الف: انظر الحديث السابق (2044)، ب: رواية عبدالله العمري عن نافع قوية
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، موطا امام مالک/الحج/ عقب حدیث (206) (صحیح)
← پچھلی کتاب #17 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #19 →