سنن أبي داود حدیث نمبر: 1929
Sunan Abi Dawud 1929
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
65: باب الصَّلاَةِ بِجَمْعٍ
باب: مزدلفہ میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَالِكُ بْنُ الْحَارِثِ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: صَلَّيْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مغرب تین رکعت اور عشاء دو رکعت پڑھی، تو مالک بن حارث نے ان سے کہا: یہ کون سی نماز ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ دونوں اسی جگہ ایک تکبیر سے پڑھیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1929]
قال الشيخ الألباني:
صحيح بزيادة لكل صلاة
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (887) ¤ أبو إسحاق مدلس وعنعن ¤ والحديث السابق (الأصل: 1927) يغني عنه ¤ وانظر الحديث الآتي (الأصل: 1930) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/ الحج 56 (887)، (تحفة الأشراف: 7285)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/18، 33، 78، 152) (صحیح) (ہر صلاة کے لئے الگ الگ اقامت کی زیادتی کے ساتھ یہ روایت صحیح ہے)