سنن أبي داود حدیث نمبر: 1931
Sunan Abi Dawud 1931
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
65: باب الصَّلاَةِ بِجَمْعٍ
باب: مزدلفہ میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: " أَفَضْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ، فَلَمَّا بَلَغْنَا جَمْعًا صَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ثَلَاثًا وَاثْنَتَيْنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لَنَا ابْنُ عُمَرَ: هَكَذَا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ".
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم (عرفات سے) ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ لوٹے، جب ہم جمع یعنی مزدلفہ پہنچے تو آپ نے ہمیں مغرب اور عشاء، تین رکعت مغرب کی اور دو رکعت عشاء کی ایک اقامت ۱؎ سے پڑھائی، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ہم سے کہا: اسی طرح ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ پڑھائی تھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1931]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کے برخلاف جابر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اذان اور دو تکبیر سے دونوں نمازیں ادا کیں اور یہی راجح ہے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح م لكن قوله بإقامة واحدة شاذ إلا أن يزاد لكل صلاة
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1288)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم (1930)، (تحفة الأشراف: 7052) (صحیح) (’’ایک اقامت‘‘ والی روایت شاذ ہے، ہر صلاة کے لئے الگ الگ اقامت ثابت ہے)