سنن أبي داود حدیث نمبر: 1928
Sunan Abi Dawud 1928
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
65: باب الصَّلاَةِ بِجَمْعٍ
باب: مزدلفہ میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ. ح وحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنَى، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ ابْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ حَمَّادٍ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: " بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَلَمْ يُنَادِ فِي الْأُولَى وَلَمْ يُسَبِّحْ عَلَى إِثْرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا"، قَالَ مَخْلَدٌ: " لَمْ يُنَادِ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا".
اس سند سے بھی زہری سے ابن حنبل کی سند سے انہوں نے حماد سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: ہر نماز کے لیے ایک الگ اقامت کہی اور پہلی نماز کے لیے اذان نہیں دی اور نہ ان دونوں میں سے کسی کے بعد نفل پڑھی۔ مخلد کہتے ہیں: ان دونوں میں سے کسی نماز کے لیے اذان نہیں دی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1928]
قال الشيخ الألباني:
صحيح خ دون قوله لم يناد وهو الصواب
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ انظر الحديث السابق (1927)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6923) (صحیح) (اذان والا جملہ صحیحین میں نہیں ہے، اور صحیح مسلم میں جابر کی روایت کے مطابق ایک اذان ثابت ہے، نیز ابن عمر رضی اللہ عنہ کی آنے والی حدیث نمبر (1933) میں اذان واقامت کی تصریح ہے)