سنن أبي داود حدیث نمبر: 1958
Sunan Abi Dawud 1958
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
75: باب يَبِيتُ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى
باب: منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي حَرِيزٌ، أَوْ أَبُو حَرِيزٍ الشَّكّ مِنْ يَحْيَى، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ فَرُّوخٍ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: " إِنَّا نَتَبَايَعُ بِأَمْوَالِ النَّاسِ فَيَأْتِي أَحَدُنَا مَكَّةَ فَيَبِيتُ عَلَى الْمَالِ؟ فَقَالَ: أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاتَ بِمِنًى وَظَلَّ".
حریز یا ابوحریز بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن فروخ کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم لوگوں کا مال بیچتے ہیں تو کیا ہم میں سے کوئی منیٰ کی راتوں میں مکہ میں جا کر مال کے پاس رہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو رات اور دن دونوں منیٰ میں رہا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1958]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لئے مکہ میں رات گزارنی خلاف سنت اور ناجائز ہے، بعض علماء کے یہاں صرف شدید ضرورت کے وقت اس کی اجازت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ حريز أو أبو حريز: مجهول (تق: 1185) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6687) (ضعیف) (اس کے راوی حریز، یا ابوحریز حجازی مجہول ہیں)