سنن أبي داود حدیث نمبر: 2030
Sunan Abi Dawud 2030
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
95: باب فِي دُخُولِ الْكَعْبَةِ
باب: کعبہ میں داخل ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ الْحَجَبِيِّ، حَدَّثَنِي خَالِي، عَنْ أُمِّي صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ الَأسْلَمِيَّةَ، تَقُولُ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ: مَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَعَاكَ؟ قَالَ: قَالَ: " إِنِّي نَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَ الْقَرْنَيْنِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّيَ"، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: خَالِي مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ.
اسلمیہ کہتی ہیں کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا ۱؎: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بلایا تو آپ سے کیا کہا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں یہ بتانا بھول گیا کہ مینڈھے ۲؎ کی دونوں سینگوں کو چھپا دو اس لیے کہ کعبہ میں کوئی چیز ایسی رہنی مناسب نہیں ہے جو نماز پڑھنے والے کو غافل کر دے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2030]
💡 وضاحت:
۱؎: عثمان سے مراد عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہ ہیں۔
۲؎: اس دنبہ کی سینگیں جس کو اسماعیل علیہ السلام کی جگہ پر ذبح کرنے کے لئے جبریل علیہ السلام لے آئے تھے۔
۲؎: اس دنبہ کی سینگیں جس کو اسماعیل علیہ السلام کی جگہ پر ذبح کرنے کے لئے جبریل علیہ السلام لے آئے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ انظر مسند الحميدي بتحقيقي (565 وسنده حسن) الأسلمية أراھا صحابية بدليل رواية صفية بنت شيبة وھي صحابية عنھا والله أعلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9762)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/380) (صحیح)