سنن أبي داود حدیث نمبر: 2029
Sunan Abi Dawud 2029
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
95: باب فِي دُخُولِ الْكَعْبَةِ
باب: کعبہ میں داخل ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا وَهُوَ مَسْرُورٌ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَهُوَ كَئِيبٌ، فَقَالَ: " إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا دَخَلْتُهَا، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ قَدْ شَقَقْتُ عَلَى أُمَّتِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے نکلے اور آپ خوش تھے پھر میرے پاس آئے اور آپ غمگین تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کعبے کے اندر گیا اگر مجھے وہ بات پہلے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی ۱؎ تو میں اس میں داخل نہ ہوتا، مجھے اندیشہ ہے کہ میں نے اپنی امت کو زحمت میں ڈال دیا ہے ۲؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2029]
💡 وضاحت:
۱؎: کہ لوگوں کو کعبہ کے اندر داخل ہونے میں بڑی پریشانیاں اٹھانا پڑیں گی۔
۲؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اندیشہ صحیح ثابت ہوا عوام نے کعبہ کے اندر جانے کو ضروری سمجھ لیا چنانچہ اس کے لئے انہیں بڑی دھکم پیل کرنی پڑتی تھی، اللہ بھلا کرے سعودی حکومت کا جس نے کعبہ کے اندر عام لوگوں کا داخلہ بند کر دیا۔
۲؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اندیشہ صحیح ثابت ہوا عوام نے کعبہ کے اندر جانے کو ضروری سمجھ لیا چنانچہ اس کے لئے انہیں بڑی دھکم پیل کرنی پڑتی تھی، اللہ بھلا کرے سعودی حکومت کا جس نے کعبہ کے اندر عام لوگوں کا داخلہ بند کر دیا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (873) ابن ماجه (3064) ¤ إسماعيل بن عبدالملك ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الحج 45 (873)، سنن ابن ماجہ/المناسک 79 (3064)، (تحفة الأشراف: 16230)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/137) (ضعیف) (اس کے راوی اسماعیل کثیرالوہم ہیں)