سنن أبي داود حدیث نمبر: 1784
Sunan Abi Dawud 1784
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
23: باب فِي إِفْرَادِ الْحَجِّ
باب: حج افراد کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهَلِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمَّا سُقْتُ الْهَدْيَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: وَلَحَلَلْتُ مَعَ الَّذِينَ أَحَلُّوا مِنَ الْعُمْرَةِ"، قَالَ: أَرَادَ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ النَّاسِ وَاحِدًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے پہلے یہ بات معلوم ہو گئی ہوتی جواب معلوم ہوئی ہے تو میں ہدی نہ لاتا“، محمد بن یحییٰ ذہلی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اور میں ان لوگوں کے ساتھ حلال ہو جاتا جو عمرہ کے بعد حلال ہو گئے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ سب لوگوں کا معاملہ یکساں ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1784]
💡 وضاحت:
۱؎: کہ جو حج کا احرام باندھ کر آئے اور ہدی ساتھ نہ لائے تو وہ طواف اور سعی کرکے احرام کھول دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں لوگوں کی آسانی کے لئے ایسا حکم فرمایا تاکہ اس سے مشرکین کی مخالفت ہو، بعض لوگوں کو اس میں تردد ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض ہوئے، اس حدیث کی بنا پر بعض ائمہ کے یہاں حج تمتع ہی واجب اور افضل ہے، (ملاحظہ ہو: زاد المعاد)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق دون قوله
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ رواه البخاري (7229)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16742)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/247) (صحیح)