سنن أبي داود حدیث نمبر: 2015
Sunan Abi Dawud 2015
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
88: باب فِيمَنْ قَدَّمَ شَيْئًا قَبْلَ شَىْءٍ فِي حَجِّهِ
باب: کسی نے حج میں کوئی کام آگے یا پیچھے کر لیا تو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ، فَمَنْ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ، أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا، فَكَانَ يَقُولُ: " لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ إِلَّا عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ، فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ".
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلا، لوگ آپ کے پاس آتے تھے جب کوئی کہتا: اللہ کے رسول! میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی یا میں نے ایک چیز کو مقدم کر دیا یا مؤخر کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں، حرج صرف اس پر ہے جس نے کسی مسلمان کی جان یا عزت و آبرو پامال کی اور وہ ظالم ہو، ایسا ہی شخص ہے جو حرج میں پڑ گیا اور ہلاک ہوا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2015]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2658) ¤ صححه ابن خزيمة (2774 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 128) (صحیح)