سنن أبي داود حدیث نمبر: 1934
Sunan Abi Dawud 1934
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
65: باب الصَّلاَةِ بِجَمْعٍ
باب: مزدلفہ میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنَ زَيَادٍ، وَأَبَا عَوَانَةَ، وَأَبَا مُعَاوِيَةَ حَدَّثُوهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِوَقْتِهَا، إِلَّا بِجَمْعٍ فَإِنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ مِنَ الْغَدِ قَبْلَ وَقْتِهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ وقت پر ہی نماز پڑھتے دیکھا سوائے مزدلفہ کے، مزدلفہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کو جمع کیا اور دوسرے دن فجر وقت معمول سے کچھ پہلے پڑھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1934]
💡 وضاحت:
۱؎: ترجمہ سے اس حدیث کا صحیح معنی واضح ہو گیا، بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ” اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ غلس کے بعد اسفار میں نماز پڑھتے تھے صرف اس دن غلس میں پڑھی“، لیکن دیگر صحیح روایات کی روشنی میں اس حدیث کا صحیح مطلب یہ ہے کہ: غلس ہی میں فوراً پڑھ لی، عام حالات کی طرح تھوڑا انتظار نہیں کیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (1682) صحيح مسلم (1289)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 99 (1682)، صحیح مسلم/الحج 48 (1289)، سنن النسائی/المواقیت 49 (606)، والحج 207 (3030)، 210 (3041)، (تحفة الأشراف: 9384)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/384، 426، 434) (صحیح)