سنن أبي داود حدیث نمبر: 1935
Sunan Abi Dawud 1935
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
65: باب الصَّلاَةِ بِجَمْعٍ
باب: مزدلفہ میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " فَلَمَّا أَصْبَحَ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ، فَقَالَ: هَذَا قُزَحُ وَهُوَ الْمَوْقِفُ وَ جَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَنَحَرْتُ هَا هُنَا وَ مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (مزدلفہ میں) جب آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو آپ قزح میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”یہ قزح ہے اور یہ موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے، اور مزدلفہ پورا موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے، میں نے یہاں نحر کیا ہے اور منیٰ پورا نحر کرنے کی جگہ ہے لہٰذا تم اپنے اپنے ٹھکانوں میں نحر کر لو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1935]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (885) ابن ماجه (3010) ¤ سفيان الثوري عنعن ¤ وانظر الحديث السابق: 1922 ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الحج 54 (885)، سنن ابن ماجہ/المناسک 55 (3010)، (تحفة الأشراف: 10229) (حسن صحیح)