سنن أبي داود حدیث نمبر: 1973
Sunan Abi Dawud 1973
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
78: باب فِي رَمْىِ الْجِمَارِ
باب: رمی جمرات کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، كُلُّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یوم النحر) کے آخری حصہ میں جس وقت ظہر پڑھ لی طواف افاضہ کیا، پھر منیٰ لوٹے اور تشریق کے دنوں تک وہاں ٹھہرے رہے، جب سورج ڈھل جاتا تو ہر جمرے کو سات سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، اور پہلے اور دوسرے جمرے پر دیر تک ٹھہرتے، روتے، گڑگڑاتے اور دعا کرتے اور تیسرے جمرے کو کنکریاں مار کر اس کے پاس نہیں ٹھہرتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1973]
قال الشيخ الألباني:
صحيح إلا قوله حين صلى الظهر فهو منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ مشكوة المصابيح (2676) ¤ محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند ابن حبان (1013)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17523)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/90) (صحیح) (لیکن صلی الظہر - ظہر پڑھی- کا جملہ صحیح نہیں ہے)