سنن أبي داود حدیث نمبر: 1919
Sunan Abi Dawud 1919
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
63: باب مَوْضِعِ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفات میں وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ، قَالَ: " أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ وَنَحْنُ بِعَرَفَةَ فِي مَكَانٍ يُبَاعِدُهُ عَمْرُو عَنِ الْإِمَامِ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ، يَقُولُ لَكُمْ: قِفُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ، فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ".
یزید بن شیبان کہتے ہیں ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے ہم عرفات میں تھے (وہ ایسی جگہ تھی جسے عمرو (عمرو بن عبداللہ) امام سے دور سمجھتے تھے)، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، آپ کا فرمان ہے کہ اپنے مشاعر (نشانیوں کی جگہوں) پر ٹھہرو ۱؎ اس لیے کہ تم اپنے والد ابراہیم کے وارث ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1919]
💡 وضاحت:
۱؎: مشاعر سے مراد مناسک حج کے مقامات اور قدیم مواقف ہیں، یعنی ان جگہوں پر تم بھی ٹھہرو کیونکہ ان جگہوں پر وقوف تمہارے باپ ابراہیم کے زمانہ ہی سے بطور وراثت چلا آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2595) ¤ أخرجه الترمذي (883 وسنده صحيح) والنسائي (3017 وسنده حسن) وابن ماجه (3011 وسنده صحيح) سفيان بن عيينة صرح بالسماع عند الحميدي (577)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الحج 53 (883)، سنن ابن ماجہ/المناسک 55 (3011) سنن النسائی/ الحج 202 (3017)، (تحفة الأشراف: 15526)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/137) (صحیح)