سنن أبي داود حدیث نمبر: 1907
Sunan Abi Dawud 1907
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
57: باب صِفَةِ حَجَّةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا طریقہ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ نَحَرْتُ هَا هُنَا وَ مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ" وَوَقَفَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ: " قَدْ وَقَفْتُ هَا هُنَا وَ عَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ" وَوَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقَالَ: " قَدْ وَقَفْتُ هَا هُنَا وَ مُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تو یہاں (منیٰ میں) نحر کیا ہے اور منیٰ پورا کا پورا نحر کرنے کی جگہ ہے“، اور عرفات میں وقوف کیا تو فرمایا: ”میں نے یہاں وقوف کیا ہے لیکن پورا میدان عرفات وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ ہے“، اور مزدلفہ میں وقوف تو فرمایا: ”میں یہاں ٹھہرا ہوں لیکن پورا مزدلفہ وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1907]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1218)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/ الحج 19 (1218)، سنن النسائی/ الحج 51 (2741)، (تحفة الأشراف: 2596) (صحیح)