سنن أبي داود حدیث نمبر: 1817
Sunan Abi Dawud 1817
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
29: باب مَتَى يَقْطَعُ الْمُعْتَمِرُ التَّلْبِيَةَ
باب: عمرہ کرنے والا تلبیہ کب بند کرے؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُلَبِّي الْمُعْتَمِرُ حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَ هَمَّامٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، مَوْقُوفًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرہ کرنے والا حجر اسود کا استلام کرنے تک لبیک پکارے“ ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالملک بن ابی سلیمان اور ہمام نے عطاء سے، عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1817]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث سندا ضعیف ہے، مگر بہت سارے علماء کا یہی قول ہے، بعض لوگ کہتے ہیں: مکہ کے مکانات پر نظر پڑتے ہی تلبیہ بند کر دے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ خانہ کعبہ پر نظر پڑتے ہی تلبیہ بند کر دے، اور یہ دعا پڑھے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام الخ» ۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (919) ¤ محمد بن أبي ليلي ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 71
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الحج 79 (919)، (تحفة الأشراف: 5912) موقوفًا، و (5958) (ضعیف) (اس کے راوی’’محمد بن أبی لیلی‘‘ ضعیف ہیں)