سنن أبي داود حدیث نمبر: 1815
Sunan Abi Dawud 1815
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
28: باب مَتَى يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ
باب: لبیک پکارنا کب بند کرے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ".
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1815]
💡 وضاحت:
۱؎: «حتى رمى جمرة العقبة» سے احمد اور اسحاق نے استدلال کیا ہے کہ تلبیہ کہنا جمرہ عقبہ کی رمی پوری کر لینے کے بعد موقوف کیا جائے گا، لیکن صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں «لم يزل يلبي حتى بلغ الجمرة» کے الفاظ آئے ہیں جس سے جمہور علماء نے استدلال کیا ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی کی پہلی کنکری کے ساتھ ہی تلبیہ بند کر دیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (1685) صحيح مسلم (1280)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 22 (1543)، 93(1670)، 101(1685)، صحیح مسلم/الحج 45 (1280)، سنن الترمذی/الحج 78 (918)، سنن النسائی/الحج 216 (3057)، 228 (3081)، 229 (3084)، (تحفة الأشراف: 11050)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 69 (3040)، مسند احمد (1/210، 211، 212، 213، 214)، سنن الدارمی/المناسک 60(1943) (صحیح)