سنن أبي داود حدیث نمبر: 1858
Sunan Abi Dawud 1858
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
43: باب فِي الْفِدْيَةِ
باب: محرم کے فدیہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ. ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: " أَمَعَكَ دَمٌ؟" قَالَ: لَا، قَالَ: " فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ تَصَدَّقْ بِثَلَاثَةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے، پھر انہوں نے یہی قصہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے ساتھ دم دینے کا جانور ہے؟“، انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تو تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ، اس طرح کہ ہر دو مسکین کو ایک صاع مل جائے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1858]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ انظر الحديث السابق (1856)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11111)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/241، 243) (صحیح)