سنن أبي داود حدیث نمبر: 1923
Sunan Abi Dawud 1923
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا جَالِسٌ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ؟ قَالَ:" كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ"، قَالَ هِشَامٌ: النَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ.
عروہ کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں عرفات سے لوٹتے وقت کیسے چلتے تھے؟ فرمایا: تیز چال چلتے تھے، اور جب راستہ پا جاتے تو دوڑتے۔ ہشام کہتے ہیں: نص ، عنق سے بھی زیادہ تیز چال کو کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1923]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (1666) صحيح مسلم (1286)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 93 (1666)، والجہاد 136 (2999)، والمغازي 77 (4413)، صحیح مسلم/الحج 47 (1286)، سنن النسائی/الحج 205 (3026)، 214 (3054)، سنن ابن ماجہ/المناسک 58 (3017)، (تحفة الأشراف: 104)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 57(176)، مسند احمد (5/205، 210)، سنن الدارمی/المناسک 51 (1922) (صحیح)