سنن أبي داود حدیث نمبر: 2010
Sunan Abi Dawud 2010
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
87: باب التَّحْصِيبِ
باب: وادی محصب میں اترنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِي حَجَّتِهِ؟ قَالَ: " هَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا؟" ثُمَّ قَالَ: " نَحْنُ نَازِلُونَ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ، يَعْنِي الْمُحَصَّبَ، وَذَلِكَ أَنْ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ وَلَا يُؤْوُوهُمْ". قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْخَيْفُ الْوَادِي.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کل حج میں کہاں اتریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عقیل نے کوئی گھر ہمارے لیے (مکہ میں) چھوڑا ہے؟“، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم خیف بنو کنانہ میں اتریں گے جہاں قریش نے کفر پر عہد کیا تھا (یعنی وادی محصب میں) ۱؎“، اور وہ یہ کہ بنو کنانہ نے قریش سے بنی ہاشم کے خلاف قسم کھائی تھی کہ وہ ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے، نہ خرید و فروخت، اور نہ انہیں پناہ دیں گے۔ زہری کہتے ہیں: خیف وادی کا نام ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2010]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وادی میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے اترے کہ جہاں پر کفر کا دور دورہ تھا، اب وہاں اسلام کا غلبہ ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (3058) صحيح مسلم (1351)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 44 (1588)، والجھاد 180 (3058)، ومناقب الأنصار 39 (4282)، والمغازي 48 (4282)، والتوحید 31 (7479)، صحیح مسلم/الحج 80 (1351)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 6 (2730)، والمناسک 26 (2942)، (تحفة الأشراف: 114)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفرائض 15 (2107)، موطا امام مالک/الفرائض 13 (10)، مسند احمد (2/237)، سنن الدارمی/الفرائض 29 (3036) (صحیح)