سنن أبي داود حدیث نمبر: 2009
Sunan Abi Dawud 2009
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
87: باب التَّحْصِيبِ
باب: وادی محصب میں اترنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو رَافِعٍ: " لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنْزِلَهُ وَلَكِنْ ضَرَبْتُ قُبَّتَهُ فَنَزَلَهُ"، قَالَ مُسَدَّدٌ: وَكَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عُثْمَانُ: يَعْنِي فِي الْأَبْطَحِ.
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے آپ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں وہاں (محصب میں) اتروں، میں نے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ نصب کیا تھا، آپ وہاں اترے تھے۔ مسدد کی روایت میں ہے، وہ (ابورافع) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسباب کے محافظ تھے اور عثمان رضی اللہ عنہ کی روایت میں «يعني في الأبطح» کا اضافہ ہے (مطلب یہ ہے کہ وہ ابطح میں محافظ تھے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2009]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1313)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحج 59 (1313)، (تحفة الأشراف: 12016) (صحیح)