سنن أبي داود حدیث نمبر: 1947
Sunan Abi Dawud 1947
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
68: باب الأَشْهُرِ الْحُرُمِ
باب: حرمت والے مہینوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فِي حَجَّتِهِ، فَقَالَ: " إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ: ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقِعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج میں خطبہ دیا تو فرمایا: ”زمانہ پلٹ کر ویسے ہی ہو گیا جیسے اس دن تھا جب اللہ نے آسمان اور زمین کی تخلیق فرمائی تھی، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار مہینے حرام ہیں: تین لگاتار ہیں، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب ہے ۱؎ جو جمادی الآخرہ اور شعبان کے بیچ میں ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1947]
💡 وضاحت:
۱؎: رجب کی نسبت قبیلہ مضر کی طرف اس لئے کی گئی ہے کہ یہ رجب کی حرمت کے سلسلہ میں زیادہ سخت تھے، اور دیگر عرب قبائل کے مقابلہ میں اس کی حرمت کا پاس و لحاظ زیادہ رکھتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح، صحيح بخاري (4406) صحيح مسلم (1679) ¤ انظر الحديث الآتي (1948)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11700)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 132(1742)، وبدء الخلق 2 (3197)، والمغازي 77 (4403)، وتفسیر سورة التوبة 8 (4662)، والأضاحي 5 (5550)، والتوحید 24 (7447)، صحیح مسلم/القسامة 10 (1679)، سنن النسائی/ الکبری/ المحاربہ/ (3595)، مسند احمد (5/37)، سنن الدارمی/المناسک 72 (1957) (صحیح)