سنن أبي داود حدیث نمبر: 1939
Sunan Abi Dawud 1939
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
66: باب التَّعْجِيلِ مِنْ جَمْعٍ
باب: مزدلفہ سے منیٰ جلدی واپس لوٹ جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: " أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعْفَةِ أَهْلِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے لوگوں میں سے کمزور جان کر مزدلفہ کی رات کو پہلے بھیج دیا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1939]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ سے رات ہی میں منیٰ روانہ کر دینا جائز ہے، تا کہ وہ بھیڑ بھاڑ سے پہلے کنکریاں مار کر فارغ ہو جائیں، لیکن سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ ماریں، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (1678) صحيح مسلم (1293)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 98 (1678)، وجزاء الصید 25 (1856)، صحیح مسلم/الحج 49 (1293)، سنن النسائی/الحج 208 (3032)، (تحفة الأشراف: 5864)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 58 (292، 893)، سنن ابن ماجہ/المناسک 62 (3025)، مسند احمد (1/221، 222، 245، 272، 334، 346) (صحیح)