سنن أبي داود حدیث نمبر: 1942
Sunan Abi Dawud 1942
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
66: باب التَّعْجِيلِ مِنْ جَمْعٍ
باب: مزدلفہ سے منیٰ جلدی واپس لوٹ جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمِّ سَلَمَةَ لَيْلَةَ النَّحْرِ فَرَمَتِ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ مَضَتْ فَأَفَاضَتْ وَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ الْيَوْمَ الَّذِي يَكُونُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي عِنْدَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ کو نحر کی رات (دسویں رات) کو (منیٰ کی طرف) روانہ فرما دیا انہوں نے فجر سے پہلے کنکریاں مار لیں پھر مکہ جا کر طواف افاضہ کیا، اور یہ وہ دن تھا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس رہا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1942]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن تھا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2614)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:16961) (ضعیف) (اس میں ضحاک ضعیف الحفظ ہیں، اور سند ومتن میں اضطراب ہے، ثقات کے روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود 2؍ 177)