سنن أبي داود حدیث نمبر: 1904
Sunan Abi Dawud 1904
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
56: باب أَمْرِ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
باب: صفا اور مروہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي أَرَاكَ تَمْشِي وَالنَّاسُ يَسْعَوْنَ، قَالَ: " إِنْ أَمْشِ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَإِنْ أَسْعَ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ".
کثیر بن جمہان سے روایت ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! میں آپ کو (عام چال چلتے) دیکھتا ہوں جب کہ لوگ دوڑتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اگر میں عام چال چلتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے دیکھا ہے اور اگر میں دوڑ کر کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سعی (دوڑتے) کرتے دیکھا ہے اور میں بہت بوڑھا شخص ہوں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1904]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ زھير بن معاوية سمع من عطاء بن السائب قبل اختلاطه وكثير بن جمھان حسن الحديث وثقه الجمھور
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الحج 39 (864)، سنن النسائی/الحج 174 (2979)، سنن ابن ماجہ/المناسک 43 (2988)، (تحفة الأشراف: 7373، 7379)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/53) (صحیح)