سنن أبي داود حدیث نمبر: 1744
Sunan Abi Dawud 1744
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
10: باب الْحَائِضِ تُهِلُّ بِالْحَجِّ
باب: حائضہ عورت حج کا تلبیہ پکارے اور احرام باندھ لے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْحَائِضُ وَالنُّفَسَاءُ إِذَا أَتَتَا عَلَى الْوَقْتِ تَغْتَسِلَانِ وَتُحْرِمَانِ وَتَقْضِيَانِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ". قَالَ أَبُو مَعْمَرٍ فِي حَدِيثِهِ: " حَتَّى تَطْهُرَ"، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ عِيسَى عِكْرِمَةَ وَمُجَاهِدًا، قَالَ: عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَمْ يَقُلْ: ابْنُ عِيسَى كُلَّهَا، قَالَ: " الْمَنَاسِكَ إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حائضہ اور نفاس والی عورتیں جب میقات پر آ جائیں تو غسل کریں، احرام باندھیں اور حج کے تمام مناسک ادا کریں سوائے بیت اللہ کے طواف کے ۱؎“۔ ابومعمر نے اپنی حدیث میں «حتى تطهر» ”یہاں تک کہ پاک ہو جائیں“ کا اضافہ کیا۔ ابن عیسیٰ نے عکرمہ اور مجاہد کا ذکر نہیں کیا، بلکہ یوں کہا: «عن عطاء عن ابن عباس» اور ابن عیسیٰ نے «كلها» کا لفظ بھی نقل نہیں کیا بلکہ صرف «المناسك إلا الطواف بالبيت» ”مناسک پورے کریں بجز خانہ کعبہ کے طواف کے“ کہا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1744]
💡 وضاحت:
۱؎: حیض اور نفاس والی عورت حیض یا نفاس سے پاک ہونے کے بعد طواف قدوم اور طواف عمرہ کرے گی، طواف میں جو تاخیر ہوگی اس سے اس کے حج میں کوئی نقض واقع نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (945) ¤ خصيف ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الحج 100 (945)، (تحفة الأشراف: 5893)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/363) (صحیح)