سنن أبي داود حدیث نمبر: 2036
Sunan Abi Dawud 2036
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
98: باب فِي تَحْرِيمِ الْمَدِينَةِ
باب: مدینہ کے حرم ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كِنَانَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: " حَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ نَاحِيَةٍ مِنْ الْمَدِينَةِ بَرِيدًا بَرِيدًا، لَا يُخْبَطُ شَجَرُهُ وَلَا يُعْضَدُ إِلَّا مَا يُسَاقُ بِهِ الْجَمَلُ".
عدی بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے ہر جانب ایک ایک برید محفوظ کر دیا ہے ۱؎ نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے گا اور نہ پتے توڑے جائیں گے مگر اونٹ کے چارے کے لیے (بہ قدر ضرورت)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2036]
💡 وضاحت:
۱؎: چاروں اطراف مشرق، مغرب اور شمال جنوب کو ملا کر کل چار برید ہوئے اور ایک برید چار فرسخ کا ہوتا ہے اور ایک فرسخ تین میل کا اس طرح اس حدیث کی رو سے کل (۴۸) میل بنتا ہے جبکہ صحیح مسلم کی روایت میں (۱۲) میل کی صراحت آئی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سليمان بن كنانة: مجھول الحال (تق: 2603) ¤ ولأصل الحديث شواهد كثيرة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9879) (حسن) (اس کے راوی سلیمان مجہول اور عبداللہ لین الحدیث ہیں، لیکن یہ حدیث شواہد کی بنا پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود6/275، والصحیحة: 3243)