سنن أبي داود حدیث نمبر: 1760
Sunan Abi Dawud 1760
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
18: باب فِي رُكُوبِ الْبُدْنِ
باب: ہدی کے اونٹوں پر سوار ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ: " ارْكَبْهَا"، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، فَقَالَ: " ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہدی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“، وہ بولا: یہ ہدی کا اونٹ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ، تمہارا برا ہو ۱؎“، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری یا تیسری بار میں فرمایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1760]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور زجر و توبیخ کے فرمایا، کیوں کہ سواری کی اجازت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے دے چکے تھے، اور آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ یہ ہدی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہدی کے جانور پر سواری درست ہے، بعض لوگوں نے کہا کہ بوقت ضرورت و حاجت جائز ہے، اور بعض لوگوں نے کہا کہ جب جی چاہے سوار ہو سکتا ہے، خواہ حاجت ہو یا نہ ہو، اور بعض نے سوار ہونے کو واجب کہا ہے، کیوں کہ اس میں زمانہ جاہلیت کے طریقہ کی مخالفت ہے، وہ لوگ ایسے جانوروں کی ان کے درجہ سے زیادہ قدر و منزلت کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (1689) صحيح مسلم (1322)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 103 (1689)، والوصایا 12 (2755)، والأدب 95 (6160)، صحیح مسلم/الحج 65 (1322)، سنن النسائی/الحج 74 (2801)، (تحفة الأشراف: 13801)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 100 (3103)، موطا امام مالک/الحج 45 (139)، مسند احمد (2/254، 278، 312، 464، 474، 478) (صحیح)