سنن أبي داود حدیث نمبر: 1953
Sunan Abi Dawud 1953
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
71: باب أَىِّ يَوْمٍ يَخْطُبُ بِمِنًى
باب: منیٰ میں خطبہ کس دن ہو؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُصَيْنٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْهَانَ وَكَانَتْ رَبَّةُ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الرُّءُوسِ، فَقَالَ: " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " أَلَيْسَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ؟". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ قَالَ عَمُّ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ: " إِنَّهُ خَطَبَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ".
ربیعہ بن عبدالرحمٰن بن حصین کہتے ہیں مجھ سے میری دادی سراء بنت نبہان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور وہ جاہلیت میں گھر کی مالکہ تھیں (جس میں اصنام ہوتے تھے)، وہ کہتی ہیں: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الروس ۱؎ (ایام تشریق کے دوسرے دن بارہویں ذی الحجہ) کو خطاب کیا اور پوچھا: ”یہ کون سا دن ہے؟“، ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا یہ ایام تشریق کا بیچ والا دن نہیں ہے“۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوحرہ رقاشی کے چچا سے بھی اسی طرح روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کے بیچ والے دن خطبہ دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1953]
💡 وضاحت:
۱؎: بارہویں ذی الحجہ کو یوم الرؤوس کہا جاتا تھا کیونکہ لوگ اپنی قربانی کے جانوروں کے سر اسی دن کھاتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ صححه ابن خزيمة (2973 وسنده حسن) ربيعة بن عبد الرحمن بن حصن وثقه ابن خزيمة وابن حبان فھو حسن الحديث
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو دواد، (تحفة الأشراف: 15891) (ضعیف) (اس کے راوی ربیع لین الحدیث ہیں)