سنن أبي داود حدیث نمبر: 1868
Sunan Abi Dawud 1868
کتاب #11: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
45: باب دُخُولِ مَكَّةَ
باب: مکہ میں داخل ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ وَدَخَلَ فِي الْعُمْرَةِ مِنْ كُدًى"، قَالَ: وَكَانَ عُرْوَةُ يَدْخُلُ مِنْهُمَا جَمِيعًا، وَكَانَ أَكْثَرُ مَا كَانَ يَدْخُلُ مِنْ كُدًى، وَكَانَ أَقْرَبَهُمَا إِلَى مَنْزِلِهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ کے بلند مقام کداء ۱؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عمرہ کے وقت کُدی ۲؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عروہ دونوں ہی جانب سے داخل ہوتے تھے، البتہ اکثر کدی کی جانب سے داخل ہوتے اس لیے کہ یہ ان کے گھر سے قریب تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1868]
💡 وضاحت:
۱؎: ”كداء“: مکہ مکرمہ کا وہ جانب جو مقبرۃ المعلی کی طرف ہے اور بلند ہے۔
۲؎: ”كدى“: وہ جانب ہے جو باب العمرہ کی طرف نشیب میں ہے۔
۲؎: ”كدى“: وہ جانب ہے جو باب العمرہ کی طرف نشیب میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (1578) صحيح مسلم (1258)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 41 (1578)، والمغازي 49 (4290)، صحیح مسلم/الحج 37 (1257)، (تحفة الأشراف: 16797)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 30 (853)، مسند احمد (6/58، 201) (صحیح)