📖 سنن ابن ماجه (Sunan Ibn Majah) • تمام کتب ↗

كتاب النكاح

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

کتاب #13 • کل احادیث: 175
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : مَا جَاءَ فِي فَضْلِ النِّكَاحِ
باب: نکاح (شادی بیاہ) کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًى، فَخَلَا بِهِ عُثْمَانُ، فَجَلَسْتُ قَرِيبًا مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: هَلْ لَكَ أَنْ أُزَوِّجَكَ جَارِيَةً بِكْرًا تُذَكِّرُكَ مِنْ نَفْسِكَ بَعْضَ مَا قَدْ مَضَى؟، فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنَّهُ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ سِوَى هَذِهِ، أَشَارَ إِلَيَّ بِيَدِهِ فَجِئْتُ وَهُوَ يَقُولُ: لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ، لَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ".
علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں تھا ، تو عثمان رضی اللہ عنہ انہیں لے کر تنہائی میں گئے ، میں ان کے قریب بیٹھا تھا ، عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : کیا آپ چاہتے ہیں آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے کرا دوں جو آپ کو ماضی کے حسین لمحات کی یاد دلا دے ؟ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ ان سے اس کے علاوہ کوئی راز کی بات نہیں کہنا چاہتے ، تو انہوں نے مجھ کو قریب آنے کا اشارہ کیا ، میں قریب آ گیا ، اس وقت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ ایسا کہتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے : ” اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو شخص نان و نفقہ کی طاقت رکھے تو وہ شادی کر لے ، اس لیے کہ اس سے نگاہیں زیادہ نیچی رہتی ہیں ، اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت ہوتی ہے ، اور جو نان و نفقہ کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے ، اس لیے کہ یہ شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1845]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصوم 10 (1905)، النکاح 2 (5065)، صحیح مسلم/النکاح 1 (1400)، سنن ابی داود/النکاح 1 (2046)، سنن الترمذی/النکاح 1 (1081تعلیقاً)، سنن النسائی/الصیام 43 (2241)، النکاح 3 (3209)، (تحفة الأشراف: 9417)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/58، 378، 424، 425، 432)، سنن الدارمی/النکاح 2 (2212) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي، وَتَزَوَّجُوا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ، وَمَنْ كَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْيَنْكِحْ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصِّيَامِ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نکاح میری سنت اور میرا طریقہ ہے ، تو جو میری سنت پہ عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ہے ، تم لوگ شادی کرو ، اس لیے کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر ( قیامت کے دن ) فخر کروں گا ، اور جو صاحب استطاعت ہوں شادی کریں ، اور جس کو شادی کی استطاعت نہ ہو وہ روزے رکھے ، اس لیے کہ روزہ اس کی شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1846]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں نکاح کا لفظ امر کے ساتھ وارد ہوا ہے، اور امر وجوب کے لیے آتا ہے، اسی لیے اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ جس کو نان و نفقہ اور مہر وغیرہ کی قدرت ہو اس کو نکاح کرنا سنت ہے، اور اگر اس کے ساتھ گناہ میں پڑنے کا ڈر ہو تو نکاح کرنا واجب ہے، صحیحین میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا میں نکاح نہیں کروں گا، بعض نے کہا میں ساری رات نماز پڑھوں گا سوؤں گا نہیں، بعض نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، کبھی افطار نہیں کروں گا، یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا حال ہے لوگوں کا ایسا ایسا کہتے ہیں، میں تو روزے بھی رکھتا ہوں، اور افطار بھی کرتا ہوں، سوتا بھی ہوں، عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، پھر جو کوئی میرے طریقے سے نفرت کرے وہ مجھ سے نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عيسي بن ميمون المدني ضعيف ¤ و قال البوصيري: ”إسناده ضعيف لاتفاقھم علي ضعف عيسي ابن ميمون المديني لكن له شاھد صحيح“ و حديث البخاري (5063) و مسلم (1401) يغني عنه ¤ و روي أبو داود: ((تزوجوا الودود الولود فإني مكاثر بكم)) (2050) و سنده حسن و روي البزار عن رسول اللّٰه ﷺ قال: ((يا معشر الشباب! من استطاع منكم الطول فلينكح أو ليتزوج و إلا فعليه بالصوم فإنه له وجاء۔)) ¤ (كشف الاستار 2/ 148 ح 1398) وسنده حسن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17549، ومصباح الزجاجة: 654) (حسن) (سند میں عیسیٰ بن میمون منکر الحدیث ہے، بلکہ بعض لوگوں نے متروک الحدیث بھی کہا ہے، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2383)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ نَرَ لِلْمُتَحَابَّيْنِ مِثْلَ النِّكَاحِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو شخص کے درمیان محبت کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1847]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اکثر دو قوموں میں یا دو شخص میں عداوت ہوتی ہے، جب نکاح کی وجہ سے باہمی رشتہ ہو جاتا ہے تو وہ عداوت جاتی رہتی ہے، اور کبھی محبت کم ہوتی ہے تو نکاح سے زیادہ ہو جاتی ہے، اور یہی سبب ہے کہ قرابت دو طرح کی ہو گئی ہے، ایک نسبی قرابت، دوسرے سببی قرابت، اور انسان کو اپنی بیوی کے بھائی بہن سے ایسی الفت ہوتی ہے جیسے اپنے سگے بھائی بہن سے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5695، ومصباح الزجاجة: 655) (صحیح)
2: بَابُ : النَّهْيِ عَنِ التَّبَتُّلِ
باب: کنوارا رہنا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ: " لَقَدْ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ، وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی شادی کے بغیر زندگی گزارنے کی درخواست رد کر دی ، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی ہوتی تو ہم خصی ہو جاتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1848]
💡 وضاحت:
۱؎: «تبتل» کے معنی عورتوں سے الگ رہنے، نکاح نہ کر نے اور ازدواجی تعلق سے الگ تھلگ رہنے کے ہیں، نصاری کی اصطلاح میں اسے رہبانیت کہتے ہیں، تجرد کی زندگی گزارنا اور شادی کے بغیر رہنا شریعت اسلامیہ میں جائز نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح 8 (5073، 5074)، صحیح مسلم/النکاح 1 (1402)، سنن الترمذی/النکاح 2 (1083)، سنن النسائی/النکاح 4 (3214)، (تحفة الأشراف: 3856)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/175، 176، 183)، سنن الدارمی/ النکاح 3 (2213) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ"، زَادَ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، وَقَرَأَ قَتَادَةُ، وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً سورة الرعد آية 38".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجرد والی زندگی ( بے شادی شدہ رہنے ) سے منع فرمایا ۔ زید بن اخزم نے یہ اضافہ کیا ہے : اور قتادہ نے یہ آیت پڑھی ، «ولقد أرسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم أزواجا وذرية» ( سورة الرعد : 38 ) ” ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیویاں اور اولاد بنائیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1849]
💡 وضاحت:
۱؎: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے یا کافروں کے اعتراض رد کرتا ہے کہ اگر آپ نے کئی شادیاں کیں تو اولاً یہ نبوت کے منافی نہیں ہے، اگلے بہت سے انبیاء ایسے گزرے ہیں جنہوں نے کئی کئی شادیاں کیں، ان کی اولاد بھی بہت تھی، بلکہ بنی اسرائیل تو سب یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہیں جن کے بارہ بیٹے تھے، اور کئی بیویاں تھیں، اور ابراہیم علیہ السلام کی دو بیویاں تھیں، ایک سارہ، دوسری ہاجرہ، اور سلیمان علیہ السلام کی (۹۹) بیویاں تھیں، الروضہ الندیہ میں ہے کہ مانویہ اور نصاری نکاح نہ کرنے کو عبادت سمجھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہمارے دین میں اس کو باطل کیا، فطرت اور عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان نکاح کرے، اور اپنے بنی نوع کی نسل کو قائم رکھے، اور بڑھائے، البتہ جس شخص کو بیوی رکھنے کی قدرت نہ ہو اس کو اکیلے رہنا درست ہے۔
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/النکاح 2 (1082)، سنن النسائی/النکاح 4 (3216)، (تحفة الأشراف: 4590)، مسند احمد (5/17) صحیح)
3: بَابُ : حَقِّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ
باب: شوہر پر بیوی کے حقوق کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي قَزْعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ؟، قَالَ: " أَنْ يُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمَ، وَأَنْ يَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَى، وَلَا يَضْرِبِ الْوَجْهَ، وَلَا يُقَبِّحْ، وَلَا يَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ".
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : بیوی کا شوہر پر کیا حق ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کھائے تو اس کو کھلائے ، جب خود پہنے تو اس کو بھی پہنائے ، اس کے چہرے پر نہ مارے ، اس کو برا بھلا نہ کہے ، اور اگر اس سے لاتعلقی اختیار کرے تو بھی اسے گھر ہی میں رکھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1850]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کسی بات پر ناراض ہو تو اسے گھر سے دوسری جگہ نہ بھگائے، گھر ہی میں رکھے، بطور تأدیب صرف بستر الگ کر دے، اس لئے کہ اس کو دوسرے گھر میں بھیج دینے سے اس کے پریشان اور آوارہ ہونے کا ڈر ہے، اور تعلقات بننے کی بجائے مزید بگڑنے کی راہ ہموار ہونے کا خطرہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/النکاح 42 (2142)، (تحفة الأشراف: 11396)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/447، 5/3) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ الْبَارِقِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ شَهِدَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَذَكَّرَ وَوَعَظَ، ثُمَّ قَالَ: " اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّهُنَّ عِنْدَكُمْ عَوَانٍ لَيْسَ تَمْلِكُونَ مِنْهُنَّ شَيْئًا غَيْرَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ، فَإِنْ فَعَلْنَ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ، وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا، إِنَّ لَكُمْ مِنْ نِسَائِكُمْ حَقًّا، وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا، فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ، فَلَا يُوَطِّئَنَّ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُونَ، وَلَا يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمُ لِمَنْ تَكْرَهُونَ، أَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ، أَنْ تُحْسِنُوا إِلَيْهِنَّ فِي كِسْوَتِهِنَّ، وَطَعَامِهِنَّ".
عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی ، پھر فرمایا : ” عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو ، اس لیے کہ عورتیں تمہاری ماتحت ہیں ، لہٰذا تم ان سے اس ( جماع ) کے علاوہ کسی اور چیز کے مالک نہیں ہو ، الا یہ کہ وہ کھلی بدکاری کریں ، اگر وہ ایسا کریں تو ان کو خواب گاہ سے جدا کر دو ، ان کو مارو لیکن سخت مار نہ مارو ، اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر ان پر زیادتی کے لیے کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو ، تمہارا عورتوں پر حق ہے ، اور ان کا حق تم پر ہے ، عورتوں پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارا بستر ایسے شخص کو روندنے نہ دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو ۱؎ اور وہ کسی ایسے شخص کو تمہارے گھروں میں آنے کی اجازت نہ دیں ، جسے تم ناپسند کرتے ہو ، سنو ! اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم اچھی طرح ان کو کھانا اور کپڑا دو “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1851]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کسی مرد کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ اندر آئے، اور اس کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرے، پہلے عربوں میں یہ چیز معیوب نہیں تھی لیکن جب آیت حجاب نازل ہوئی تو اس سے منع کر دیا گیا۔
۲؎: «لمن تكرهون» میں غیر محرم مرد تو یقینی طور پر داخل ہیں، نیز وہ محرم مرد اور عورتیں بھی اس میں داخل ہیں جن کے آنے جانے کو شوہر پسند نہ کرے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الرضاع 11 (1163)، تفسیر 10 (3087)، (تحفة الأشراف: 10692) (حسن)
4: بَابُ : حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ
باب: بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا أَمَرَ امْرَأَتَهُ أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَحْمَرَ إِلَى جَبَلٍ أَسْوَدَ، وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ إِلَى جَبَلٍ أَحْمَرَ، لَكَانَ نَوْلُهَا أَنْ تَفْعَلَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ، اور اگر شوہر عورت کو جبل احمر سے جبل اسود تک ، اور جبل اسود سے جبل احمر تک پتھر ڈھونے کا حکم دے تو عورت پر حق ہے کہ اس کو بجا لائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1852]
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن الشطر الأول منه صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ علي بن زيد بن جدعان: ضعيف ¤ ولبعض حديثه شواهد ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16120، ومصباح الزجاجة: 656)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/47، 76، 97، 112، 135) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، صرف حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے، الإرواء: 1998، 7/58، صحیح أبی داود: 1877)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ مِنَ الشَّامِ، سَجَدَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟، قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ فَوَافَقْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ، وَبَطَارِقَتِهِمْ، فَوَدِدْتُ فِي نَفْسِي أَنْ نَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَا تَفْعَلُوا، فَإِنِّي لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِغَيْرِ اللَّهِ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ رَبِّهَا حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا، وَلَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى قَتَبٍ لَمْ تَمْنَعْهُ".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب معاذ رضی اللہ عنہ شام سے واپس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ ( سجدہ تحیہ ) کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” اے معاذ ! یہ کیا ہے ؟ “ انہوں نے کہا : میں شام گیا تو دیکھا کہ وہ لوگ اپنے پادریوں اور سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں ، تو میری دلی تمنا ہوئی کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ایسا ہی کریں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، ایسا نہ کرنا ، اس لیے کہ اگر میں اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، عورت اپنے رب کا حق ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ اپنے شوہر کا حق ادا نہ کر لے ، اور اگر شوہر عورت سے جماع کی خواہش کرے ، اور وہ کجاوے پر سوار ہو تو بھی وہ شوہر کو منع نہ کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1853]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ نیک اور دیندار عورت دنیاوی عیش و عشرت کا عنوان ہوتی ہے، اس کی صحبت سے آدمی کو خوشی ہوتی ہے، باہر سے کتنے ہی رنج میں آئے جب اپنی پاک سیرت عورت کے پاس بیٹھتا ہے تو سارا رنج و غم بھول جاتا ہے برخلاف اس کے اگر عورت خراب اور بدخلق ہو تو دنیا کی زندگی جہنم بن جاتی ہے، کتنا ہی مال اور دولت ہو سب بیکار اور لغو ہو جاتا ہے، کچھ مزا نہیں آتا، علی رضی اللہ عنہ نے «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً» (سورة البقرة: 201) سے دنیا کی نیکی سے نیک اور دیندار عورت اور آخرت کی نیکی سے جنت کی حور، اور آگ کے عذاب سے خراب اور بدزبان عورت مراد لی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5180، ومصباح الزجاجة: 657)، وقد أخرجہ: مسند احمد (/3814) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الْجَنَّةَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو عورت اس حال میں مرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1854]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الرضاع 10 (1161)، (تحفة الأشراف: 18294) (ضعیف) (مساور الحمیری اور ان کی ماں دونوں مبہم راوی ہیں)
5: بَابُ : فَضْلِ النِّسَاءِ
باب: بہترین عورت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا الدُّنْيَا مَتَاعٌ، وَلَيْسَ مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَا شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنَ الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دنیا متاع ( سامان ) ہے ، اور دنیا کے سامانوں میں سے کوئی بھی چیز نیک اور صالح عورت سے بہتر نہیں ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1855]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد الرحمٰن بن زياد بن أنعم الإفريقي ضعيف ¤ و روي مسلم (1467): ((الدنيا متاع و خير متاع الدنيا المرأة الصالحة)) و ھو يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الرضاع 17 (1467)، سنن النسائی/النکاح 15 (3234)، (تحفة الأشراف: 8849)، مسند احمد (2/168) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ فِي الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ مَا نَزَلَ، قَالُوا: فَأَيَّ الْمَالِ نَتَّخِذُ؟، قَالَ عُمَرُ: فَأَنَا أَعْلَمُ لَكُمْ ذَلِكَ، فَأَوْضَعَ عَلَى بَعِيرِهِ، فَأَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا فِي أَثَرِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَّ الْمَالِ نَتَّخِذُ؟، فَقَالَ: " لِيَتَّخِذْ أَحَدُكُمْ قَلْبًا شَاكِرًا، وَلِسَانًا ذَاكِرًا، وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةً تُعِينُ أَحَدَكُمْ عَلَى أَمْرِ الْآخِرَةِ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سونے اور چاندی کے بارے میں آیت اتری تو لوگ کہنے لگے کہ اب کون سا مال ہم اپنے لیے رکھیں ؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اسے تمہارے لیے معلوم کر کے کر آتا ہوں ، اور اپنے اونٹ پر سوار ہو کر اسے تیز دوڑایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے ، میں بھی آپ کے پیچھے تھا ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم کون سا مال رکھیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں ہر کوئی شکر کرنے والا دل ، ذکر کرنے والی زبان ، اور ایمان والی بیوی رکھے جو اس کی آخرت کے کاموں میں مدد کرے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1856]
💡 وضاحت:
۱؎: عورت کی مدد آخرت کے کام میں یہ ہے کی آدمی اس کی وجہ سے گناہوں اور بدنظری سے بچتا ہے، اور گھر کے تمام کام عورت کر لیتی ہے مرد کو عبادت کی فرصت ملتی ہے، اگر عورت نہ ہو اور یہ کام خود کرے تو عبادت کی فرصت مشکل سے ملے گی، بعض عورتیں خود نیک اور دیندار ہوتی ہیں، ان کی صحبت کے اثر سے مرد بھی زاہد اور عابد ہو جاتا ہے، بعض عورتیں اپنے شوہر کو تہجد کی نماز کے لئے جگاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3094) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2084، ومصباح الزجاجة: 658)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیرالقرآن 10 (3094)، مسند احمد (5/278، 282) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " مَا اسْتَفَادَ الْمُؤْمِنُ بَعْدَ تَقْوَى اللَّهِ خَيْرًا لَهُ مِنْ زَوْجَةٍ صَالِحَةٍ، إِنْ أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ، وَإِنْ نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ، وَإِنْ أَقْسَمَ عَلَيْهَا أَبَرَّتْهُ، وَإِنْ غَابَ عَنْهَا نَصَحَتْهُ فِي نَفْسِهَا، وَمَالِهِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : ” تقویٰ کے بعد مومن نے جو سب سے اچھی چیز حاصل کی وہ ایسی نیک بیوی ہے کہ اگر شوہر اسے حکم دے تو اسے مانے ، اور اگر اس کی جانب دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے ، اور اگر وہ اس ( کے بھروسے ) پر قسم کھا لے تو اسے سچا کر دکھائے ، اور اگر وہ موجود نہ ہو تو عورت اپنی ذات اور اس کے مال میں اس کی خیر خواہی کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1857]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ علي بن يزيد وعثمان بن أبي العاتكة: ضعيفان ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4919، ومصباح الزجاجة: 659) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہے)
6: بَابُ : تَزْوِيجِ ذَوَاتِ الدِّينِ
باب: نیک اور دیندار عورت سے شادی کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں سے چار چیزوں کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے ، ان کے مال و دولت کی وجہ سے ، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے ، ان کے حسن و جمال اور خوبصورتی کی وجہ سے ، اور ان کی دین داری کی وجہ سے ، لہٰذا تم دیندار عورت کا انتخاب کر کے کامیاب بنو ، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1858]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح 15 (5090)، صحیح مسلم/الرضاع 15 (1466)، سنن ابی داود/النکاح 2 (2047)، سنن النسائی/النکاح 13 (3232)، (تحفة الأشراف: 13305)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/428)، سنن الدارمی/النکاح 4 (2216) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبيُّ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الْإِفْرِيقِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَزَوَّجُوا النِّسَاءَ لِحُسْنِهِنَّ، فَعَسَى حُسْنُهُنَّ أَنْ يُرْدِيَهُنَّ، وَلَا تَزَوَّجُوهُنَّ لِأَمْوَالِهِنَّ، فَعَسَى أَمْوَالُهُنَّ أَنْ تُطْغِيَهُنَّ، وَلَكِنْ تَزَوَّجُوهُنَّ عَلَى الدِّينِ، وَلَأَمَةٌ خَرْمَاءُ سَوْدَاءُ ذَاتُ دِينٍ أَفْضَلُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں سے صرف ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر شادی نہ کرو ، ہو سکتا ہے حسن و جمال ہی ان کو تباہ و برباد کر دے ، اور عورتوں سے ان کے مال و دولت کو دیکھ کر شادی نہ کرو ، ہو سکتا ہے ان کے مال ان کو سرکش بنا دیں ، بلکہ ان کی دین داری کی وجہ سے ان سے شادی کرو ، ایک کان کٹی کالی لونڈی جو دیندار ہو زیادہ بہتر ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1859]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الإفريقي: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8868، ومصباح الزجاجة: 660) (ضعیف جدا) (سند میں عبد الرحمن بن زیاد بن انعم افریقی ضعیف ہیں، نیزملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1060)
7: بَابُ : تَزْوِيجِ الأَبْكَارِ
باب: کنواری لڑکیوں سے شادی کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " أَبِكْرًا، أَوْ ثَيِّبًا؟"، قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: " فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا"، قُلْتُ: كُنَّ لِي أَخَوَاتٌ، فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ، قَالَ: " فَذَاكَ إِذًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی ، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ، تو آپ نے فرمایا : ” جابر ! کیا تم نے شادی کر لی “ ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کنواری سے یا غیر کنواری سے “ ؟ میں نے کہا : غیر کنواری سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شادی کنواری سے کیوں نہیں کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے کودتے “ ؟ میں نے کہا : میری کچھ بہنیں ہیں ، تو میں ڈرا کہ کہیں کنواری لڑکی آ کر ان میں اور مجھ میں دوری کا سبب نہ بن جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1860]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الرضاع 16 (715)، سنن النسائی/النکاح 6 (3221)، 10 (3236)، (تحفة الأشراف: 2436)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 34 (2097)، الوکالة 8 (2409)، الجہاد 113 (2967)، المغازي 18 (4052)، النکاح 10 (5079)، 121 (5245)، 122 (5247)، النفقات 12 (5367)، الدعوات 53 (6387)، سنن ابی داود/النکاح 3 (2048)، سنن الترمذی/النکاح 13 (1100)، مسند احمد (3/294، 302، 308، 314، 362، 369، 374، 376)، سنن الدارمی/النکاح 32 (2262) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالْأَبْكَارِ، فَإِنَّهُنَّ أَعْذَبُ أَفْوَاهًا، وَأَنْتَقُ أَرْحَامًا، وَأَرْضَى بِالْيَسِيرِ".
عویم بن ساعدہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کنواری لڑکیوں سے شادی کیا کرو ، کیونکہ وہ شیریں دہن ہوتی ہیں اور زیادہ بچے جننے والی ہوتی ہیں ، اور تھوڑے پہ راضی رہتی ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1861]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ السند مرسل (انظر السنن الكبري للبيهقي 7/ 87) ¤ وللحديث شواهد ضعيفة،راجع التلخيص الحبير (145/3) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9756)، ومصباح الزجاجة: 661) (حسن) (سند میں عبد الرحمن بن سالم مجہول ہے، لیکن جابر رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے)
8: بَابُ : تَزْوِيجِ الْحَرَائِرِ وَالْوَلُودِ
باب: آزاد اور جننے والی عورتوں سے شادی کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ طَاهِرًا مُطَهَّرًا فَلْيَتَزَوَّجِ الْحَرَائِرَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس کو اللہ تعالیٰ سے پاک صاف ہو کر ملنے کا ارادہ ہے تو چاہئیے کہ وہ آزاد عورتوں سے شادی کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1862]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ آزاد عورتیں بہ نسبت لونڈیوں کے زیادہ لطیف اور پاکیزہ ہوتی ہیں، اور ممکن ہے کہ مطلب یہ ہو جو کوئی آزاد عورتوں سے نکاح کرے گا، اس کی نگاہ اجنبی عورتوں کے طرف نہ اٹھے گی، پس وہ اکثر گناہوں سے بچا رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ سلام بن سوار: ضعيف (تقريب: 2704) وشيخه كثير بن سليم: ضعيف (تقريب: 5613) ¤ وأورده ابن الجوزي في الموضوعات (261/2) ¤ وللحديث شاهد عند البخاري في التاريخ (404/8) بدون سند واﷲ أعلم بحاله ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 921، ومصباح الزجاجة: 662)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/225، 493) (ضعیف) (سند میں کثیر بن سلیم اور سلام بن سوار ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْكِحُوا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم شادی کرو ، اس لیے کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروں گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1863]
💡 وضاحت:
۱؎: جب نکاح کرو گے تو اولاد ہو گی اور میری امت زیادہ ہو گی، مؤلف نے انس رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان نہیں کی جس کو احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے کہ شوہر سے محبت کرنے والی عورت سے نکاح کرو، جو بہت جننے والی ہو اس لئے کہ میں دوسرے انبیاء پر قیامت کے دن تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14181، ومصباح الزجاجة: 663) (صحیح) (سند میں طلحہ بن عمرو مکی ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1784 وسلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2960، صحیح أبی داود: 1789)
9: بَابُ : النَّظَرِ إِلَى الْمَرْأَةِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا
باب: جس عورت سے شادی کرنی ہو اس کو دیکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمِّهِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ ، قَالَ: خَطَبْتُ امْرَأَةً، فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّأُ لَهَا، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهَا فِي نَخْلٍ لَهَا، فَقِيلَ لَهُ: أَتَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا أَلْقَى اللَّهُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةَ امْرَأَةٍ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا".
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو میں اسے دیکھنے کے لیے چھپنے لگا ، یہاں تک کہ میں نے اسے اسی کے باغ میں دیکھ لیا ، لوگوں نے ان سے کہا : آپ ایسا کرتے ہیں جب کہ آپ صحابی رسول ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جب اللہ کسی مرد کے دل میں کسی عورت کو نکاح کا پیغام دینے کا خیال پیدا کرے ، تو اس عورت کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1864]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہ ضرورت کے وقت دیکھنا ہے، اور ضرورت کے وقت ایسا کرنا جائز ہے جیسے قاضی اور گواہ کا عورت کو دیکھنا صحیح اور جائز ہے، اسی طرح طبیب کو علاج کے لئے اس مقام کو دیکھنا درست ہے جہاں دیکھنے کی ضرورت ہو، اہل حدیث، شافعی، ابوحنیفہ، احمد اور اکثر اہل علم کا مذہب یہی ہے کہ جس عورت سے نکاح کرنا مقصود ہو اس کا دیکھنا جائز ہے، اور امام مالک کہتے ہیں کہ یہ عورت کی اجازت سے صحیح ہے، بغیر اس کی اجازت کے صحیح نہیں، اور ایک روایت ان سے یہ ہے کہ صحیح نہیں ہے، اس باب میں ایک یہ حدیث ہے، دوسری مغیرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو آگے آ رہی ہے، تیسری ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جو صحیح مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کا ارادہ کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کو دیکھا تھا؟ وہ بولا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اس کو دیکھ لو، اس لئے کہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ویسا ہی ہوا، اور اس عورت سے خوب موافقت رہی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الحجاج بن أرطاة: ضعيف ¤ وسقط ذكره من صحيح ابن حبان (الموارد: 1235) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11228، ومصباح الزجاجة: 664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/493، 4/225) (صحیح) (سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 98)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا" فَفَعَلَ، فَتَزَوَّجَهَا، فَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے نکاح کرنا چاہا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” جاؤ اور اس کو دیکھ لو ایسا کرنے سے زیادہ امید ہے کہ تم دونوں کے درمیان الفت و محبت ہو “ ، مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا ، اور پھر شادی کی ، پھر انہوں نے اس سے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا ذکر کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1865]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ حَدَّثَنِي
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 490، ومصباح الزجاجة: 665)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح 5 (1087)، سنن النسائی/النکاح 17 (3237)، مسند احمد (4/245، 246)، سنن الدارمی/النکاح 5 (2218) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ امْرَأَةً أَخْطُبُهَا، فَقَالَ: " اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا"، فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، فَخَطَبْتُهَا إِلَى أَبَوَيْهَا، وَأَخْبَرْتُهُمَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَأَنَّهُمَا كَرِهَا ذَلِكَ، قَالَ: فَسَمِعَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ وَهِيَ فِي خِدْرِهَا، فَقَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تَنْظُرَ فَانْظُرْ، وَإِلَّا فَإِنِّي أَنْشُدُكَ كَأَنَّهَا أَعْظَمَتْ ذَلِكَ، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا، فَتَزَوَّجْتُهَا، فَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ سے ذکر کیا کہ میں ایک عورت کو پیغام دے رہا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ اسے دیکھ لو ، اس سے تم دونوں میں محبت زیادہ ہونے کی امید ہے “ ، چنانچہ میں ایک انصاری عورت کے پاس آیا ، اور اس کے ماں باپ کے ذریعہ سے اسے پیغام دیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا ، لیکن ایسا معلوم ہوا کہ ان کو یہ بات پسند نہیں آئی ، اس عورت نے پردہ سے یہ بات سنی تو کہا : اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھنے کا حکم دیا ہے ، تو تم دیکھ لو ، ورنہ میں تم کو اللہ کا واسطہ دلاتی ہوں ، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا ، مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اس عورت کو دیکھا ، اور اس سے شادی کر لی ، پھر انہوں نے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا حال بتایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1866]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/النکاح 5 (1087)، سنن النسائی/النکاح 17 (3237)، (تحفة الأشراف: 11489)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/244، سنن الدارمی/النکاح 5 (2218) (صحیح)
10: بَابُ : لاَ يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ
باب: مسلمان بھائی کے شادی کے پیغام پر پیغام نہ دے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1867]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایک مسلمان کی جب کسی جگہ نسبت طے ہونے لگے اور دونوں طرف سے رغبت کا اظہار ہونے لگ جائے تو کسی اور کے لیے شادی کا پیغام دینا جائز نہیں کیونکہ اس سے دوسرے مسلمان کی حق تلفی ہوتی ہے، اور اگر ابھی دونوں طرف سے رغبت کا اظہار نہیں ہوا ہے تو پیغام دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 58 (2140)، الشروط 8 (2723)، النکاح 45 (5142)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1413)، سنن ابی داود/النکاح 18 (2080)، سنن الترمذی/النکاح 38 (1134)، سنن النسائی/النکاح 20 (3241)، (تحفة الأشراف: 13123)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 1 (1)، حم (2/238، 274، 311، 318، 394، 411، 427، 457، 462، 463، 487، 489، 558، سنن الدارمی/النکاح 7 (2221) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1868]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح 6 (1412)، البیوع 8 (1412)، (تحفة الأشراف: 8185)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 45 (5142)، سنن ابی داود/النکاح 18 (2081)، سنن الترمذی/البیوع 57 (1134)، سنن النسائی/النکاح 20 (3238)، موطا امام مالک/النکاح 1 (2)، البیوع 45 (45)، مسند احمد (2/122، 124، 126، 130، 142، 153)، سنن الدارمی/النکاح 7 (2222)، البیوع 33 (2609) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، تَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي"، فَآذَنَتْهُ فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ، وَأَبُو الْجَهْمِ بْنُ صُخَيْرٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ، وَلَكِنْ أُسَامَةُ"، فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا: أُسَامَةُ، أُسَامَةُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَاعَةُ اللَّهِ، وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَكِ"، قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُهُ فَاغْتَبَطْتُ بِهِ.
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے خبر دینا “ ، آخر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی ، تو انہیں معاویہ ابولجہم بن صخیر اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے شادی کا پیغام دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رہے معاویہ تو وہ مفلس آدمی ہیں ان کے پاس مال نہیں ہے ، اور رہے ابوجہم تو وہ عورتوں کو بہت مارتے پیٹتے ہیں ، لیکن اسامہ بہتر ہیں “ یہ سن کر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ہاتھ سے اشارہ کیا : اور کہا : اسامہ اسامہ ( یعنی اپنی بے رغبتی ظاہر کی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ” اللہ اور اس کے رسول کی بات ماننا تمہارے لیے بہتر ہے “ ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : آخر میں نے اسامہ سے شادی کر لی ، تو دوسری عورتیں مجھ پر رشک کرنے لگیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1869]
💡 وضاحت:
۱؎: اس روایت سے معلوم ہوا کہ جسے پیغام دیا گیا اگر اس کی طرف سے ابھی موافقت کا اظہار نہیں ہوا ہے تو دوسرے کے لیے پیغام دینا جائز ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صلاح و مشورہ دینے میں کسی کا حقیقی اور واقعی عیب بیان کرنا جائز ہے تاکہ مشورہ لینے والا دھوکہ نہ کھائے، یہ غیبت میں داخل نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الطلاق 6 (1480)، سنن الترمذی/النکاح 37 (1135) سنن النسائی/النکاح 8 (3224)، الطلاق 73 (3582)، (تحفة الأشراف: 18037)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق 39 (2884)، موطا امام مالک/الطلاق 23 (67)، مسند احمد (6/414، 415)، سنن الدارمی/النکاح 7 (2223) (صحیح)
11: بَابُ : اسْتِئْمَارِ الْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ
باب: کنواری اور غیر کنواری دونوں سے شادی کی اجازت لینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَن ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا"، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي أَنْ تَتَكَلَّمَ، قَالَ: " إِذْنُهَا سُكُوتُهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” غیر کنواری عورت اپنے آپ پر اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے ، اور کنواری عورت سے نکاح کے سلسلے میں اجازت طلب کی جائے گی “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کنواری بولنے سے شرم کرے گی تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1870]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح 9 (1421)، سنن ابی داود/النکاح 26 (2098)، سنن الترمذی/النکاح 17 (1108)، سنن النسائی/النکاح 31 (3262)، (تحفة الأشراف: 6517)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 2 (3)، مسند احمد (1/219، 242، 274، 354، 362)، سنن الدارمی/النکاح 13 (2234) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، وَإِذْنُهَا الصُّمُوتُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” غیر کنواری عورت کا نکاح اس کی واضح اجازت کے بغیر نہ کیا جائے ، اور کنواری کا نکاح بھی اس سے اجازت لے کر کیا جائے ، اور کنواری کی اجازت اس کی خاموشی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1871]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح 9 (1419)، سنن الترمذی/النکاح 17 (1107)، (تحفة الأشراف: 15384)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 42 (5136)، الحیل 11 (6968، 6970)، سنن النسائی/النکاح 33 (3267)، مسند احمد (2/221، 250، 425، 434، سنن الدارمی/النکاح 13 (2232) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الثَّيِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِهَا، وَالْبِكْرُ رِضَاهَا صَمْتُهَا".
عدی کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” غیر کنواری عورت اپنی رضا مندی صراحۃً ظاہر کرے ، اور کنواری کی رضا مندی اس کی خاموشی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1872]
💡 وضاحت:
۱؎: ثیّبہ کا چپ ہو جانا کافی نہیں بلکہ زبان سے ہوں یا ہاں کہنا چاہئے، مراد یہاں کنواری اور ثیبہ سے وہ لڑکی ہے جو جوان اور بالغ ہو گئی ہو، لیکن جو نابالغ ہو اس سے اجازت لینا ضروری نہیں بلکہ ولی کی اجازت کافی ہے، جیسے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کر دیا تھا، اس وقت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر صرف چھ برس کی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عدي بن عدي لم يسمع من أبيه كما قال أبو حاتم الرازي (كتاب المراسيل ص 152) ¤ و الحديث السابق (1870) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9882، ومصباح الزجاجة: 667)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/192) (صحیح) (عدی کندی کا اپنے والد عدی بن عمرہ سے سماع نہیں ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے)
12: بَابُ : مَنْ زَوَّجَ ابْنَتَهُ وَهِيَ كَارِهَةٌ
باب: باپ بیٹی کا نکاح اس کی رضا مندی کے بغیر کر دے تو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، وَمُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّيْنِ، أَخْبَرَاهُ: " أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ يُدْعَى خِذَامًا أَنْكَحَ ابْنَةً لَهُ، فَكَرِهَتْ نِكَاحَ أَبِيهَا، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ، فَرَدَّ عَلَيْهَا نِكَاحَ أَبِيهَا، فَنَكَحَتْ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، وَذَكَرَ يَحْيَى أَنَّهَا كَانَتْ ثَيِّبًا".
عبدالرحمٰن بن یزید انصاری اور مجمع بن یزید انصاری رضی اللہ عنہما خبر دیتے ہیں کہ خذام نامی ایک شخص نے اپنی بیٹی ( خنساء ) کا نکاح کر دیا ، اس نے اپنے باپ کا کیا ہوا نکاح ناپسند کیا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ نے اس کے والد کا کیا ہوا نکاح فسخ کر دیا ، پھر اس نے ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ سے شادی کی ۔ یحییٰ بن سعید نے ذکر کیا کہ وہ ثیبہ ( غیر کنواری ) تھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1873]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح 42 (5138، 5139)، الإکراہ 3 (1945)، الحیل 11 (6969)، سنن ابی داود/النکاح 26 (2101)، سنن النسائی/النکاح 35 (3270)، (تحفة الأشراف: 15824)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 14 (25)، مسند احمد (6/328)، سنن الدارمی/النکاح 4 1 (3237) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ بِي خَسِيسَتَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ الْأَمْرَ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ: قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ، أَنْ لَيْسَ إِلَى الْآبَاءِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نوجوان عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی عرض کیا : میرے والد نے میرا نکاح اپنے بھتیجے سے کر دیا ہے ، تاکہ میری وجہ سے اس کی ذلت ختم ہو جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو اختیار دے دیا ، تو اس نے کہا : میرے والد نے جو کیا میں نے اسے مان لیا ، لیکن میرا مقصد یہ تھا کہ عورتوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان کے باپوں کو ان پر ( جبراً نکاح کر دینے کا ) اختیار نہیں پہنچتا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1874]
قال الشيخ الألباني: ضعيف شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1997، ومصباح الزجاجة: 668) (ضعیف شاذ) (غایة المرام: 217)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اور اس نے عرض کیا : اس کے والد نے اس کا نکاح کر دیا حالانکہ وہ راضی نہیں ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1875]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1875M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
13: بَابُ : نِكَاحِ الصِّغَارِ يُزَوِّجُهُنَّ الآبَاءُ
باب: باپ نابالغ بچیوں کا نکاح کر سکتا ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، فَوُعِكْتُ فَتَمَرَّقَ شَعَرِي حَتَّى وَفَى لَهُ جُمَيْمَةٌ، فَأَتَتْنِي أُمِّي أُمُّ رُومَانَ وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبَاتٌ لِي، فَصَرَخَتْ بِي، فَأَتَيْتُهَا وَمَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ، فَأَخَذَتْ بِيَدِي، فَأَوْقَفَتْنِي عَلَى بَابِ الدَّارِ، وَإِنِّي لَأَنْهَجُ حَتَّى سَكَنَ بَعْضُ نَفَسِي، ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ فَمَسَحَتْ بِهِ عَلَى وَجْهِي وَرَأْسِي، ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ، فَقُلْنَ: عَلَى الْخَيْرِ، وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ضُحًى فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تو اس وقت میری عمر چھ سال کی تھی ، پھر ہم مدینہ آئے تو بنو حارث بن خزرج کے محلہ میں اترے ، مجھے بخار آ گیا اور میرے بال جھڑ گئے ، پھر بال بڑھ کر مونڈھوں تک پہنچ گئے ، تو میری ماں ام رومان میرے پاس آئیں ، میں ایک جھولے میں تھی ، میرے ساتھ میری کئی سہیلیاں تھیں ، ماں نے مجھے آواز دی ، میں ان کے پاس گئی ، مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا چاہتی ہیں ؟ آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے دروازہ پر لا کھڑا کیا ، اس وقت میرا سانس پھول رہا تھا ، یہاں تک کہ میں کچھ پرسکون ہو گئی ، پھر میری ماں نے تھوڑا سا پانی لے کر اس سے میرا منہ دھویا اور سر پونچھا ، پھر مجھے گھر میں لے گئیں ، وہاں ایک کمرہ میں انصار کی کچھ عورتیں تھیں ، انہوں نے دعا دیتے ہوئے کہا : ” تم خیر و برکت اور بہتر نصیب کے ساتھ جیو “ ، میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کر دیا ، انہوں نے مجھے آراستہ کیا ، میں کسی بات سے خوف زدہ نہیں ہوئی مگر اس وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت اچانک تشریف لائے ، اور ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالہ کر دیا ، اس وقت میری عمر نو سال تھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1876]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح 38 (5133)، 39 (5134)، 59 (5158)، (تحفة الأشراف: 17106)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 10 (1422)، سنن ابی داود/النکاح 34 (2121)، سنن النسائی/النکاح 29 (3257)، مسند احمد (6/118)، سنن الدارمی/النکاح 56 (2307) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ وَهِيَ بِنْتُ سَبْعٍ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ، وَتُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِي عَشْرَةَ سَنَةً".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا ، اس وقت ان کی عمر سات برس تھی ، اور ان کے ساتھ خلوت کی تو ان کی عمر نو سال تھی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1877]
💡 وضاحت:
۱؎: ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں، اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں میں خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کے بعد سب سے افضل ہیں، اور بعضوں نے خدیجہ الکبری سے بھی ان کو افضل کہا ہے، غرض وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص چہیتی تھیں اور آپ کی بیویوں میں صرف وہی کنواری تھیں، اور اس کم سنی میں آپ رضی اللہ عنہا کا یہ حال تھا کہ علم و فضل،قوت حافظہ اور عقل و دانش میں بڑی بوڑھی عورتوں سے سبقت لے گئی تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9620، ومصباح الزجاجة: 669)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/130) (صحیح) (سند میں ابو عبیدہ اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے، نیزملاحظہ ہو: الإرواء: 6 /230)
14: بَابُ : نِكَاحِ الصِّغَارِ يُزَوِّجُهُنَّ غَيْرُ الآبَاءِ
باب: نابالغ لڑکی کا نکاح باپ کے علاوہ کوئی اور کرائے تو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ حِينَ هَلَكَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ تَرَكَ ابْنَةً لَهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " فَزَوَّجَنِيهَا خَالِي قُدَامَةُ وَهُوَ عَمُّهَا، وَلَمْ يُشَاوِرْهَا وَذَلِكَ بَعْدَ مَا هَلَكَ أَبُوهَا، فَكَرِهَتْ نِكَاحَهُ، وَأَحَبَّتِ الْجَارِيَةُ أَنْ يُزَوِّجَهَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، تو انہوں نے ایک بیٹی چھوڑی ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری شادی اس لڑکی سے میرے ماموں قدامہ رضی اللہ عنہ نے کرا دی جو اس لڑکی کے چچا تھے ، اور اس سے مشورہ نہیں لیا ، یہ اس وقت کا ذکر ہے جب اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا ، اس لڑکی نے یہ نکاح ناپسند کیا ، اور اس نے چاہا کہ اس کا نکاح مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا جائے ، آخر قدامہ رضی اللہ عنہ نے اس کا نکاح مغیرہ ہی سے کر دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1878]
💡 وضاحت:
۱؎: شاید عثمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی جوان ہو گی، اور جوان لڑکی کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے نافذ نہیں ہوتا، حنفیہ کا یہ مذہب ہے کہ نابالغ لڑکی کا نکاح اگر باپ دادا کے سوا اور کوئی ولی کر دے تو وہ درست اور جائز ہو گا، لیکن لڑکی کو بلوغت کے بعد فسخ نکاح کا اختیار ہے، اگر وہ اس نکاح سے ناراض ہو تو وہ فسخ نکاح کر سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7752، ومصباح الزجاجة: 670)، ورواہ أحمد (2/130، والدار قطنی فيسننہ و البیہقی في سننہ 7/113، من طریق عمربن حسین، عن نافع عن ابن عمر، وأخرجہ: الحاکم2/16و البیہقی 7/121) (حسن) (اس کی سند میں عبد اللہ بن نافع ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث حسن ہے، کما فی التخریج )
15: بَابُ : لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ
باب: بغیر ولی کے نکاح جائز نہ ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ لَمْ يُنْكِحْهَا الْوَلِيُّ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس عورت کا نکاح اس کے ولی نے نہ کیا ہو ، تو اس کا نکاح باطل ہے ، باطل ہے ، باطل ہے ، اگر مرد نے ایسی عورت سے جماع کر لیا تو اس جماع کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے ، اور اگر ولی اختلاف کریں تو حاکم اس کا ولی ہو گا جس کا کوئی ولی نہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1879]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/النکاح 20 (2083، 20848)، سنن الترمذی/النکاح 14 (1102)، (تحفة الأشراف: 16462)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/66، 166، 260)، سنن الدارمی/النکاح 11 (2230) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وعَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ"، وَفِي حَدِيثِ عَائِشَةَ: " وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے “ ۔ اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے : ” جس کا کوئی ولی نہ ہو ، اس کا ولی حاکم ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1880]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16462، ومصباح الزجاجة: 671)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح 20 (2083)، سنن الترمذی/النکاح 14 (1102)، مسند احمد (6/66، 166، 260، سنن الدارمی/النکاح 11 (2230) (صحیح) (حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز حجاج کا عکرمہ سے سماع نہیں بھی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 6/ 238- 247)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1881]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/النکاح 20 (2085)، سنن الترمذی/النکاح 14 (1101)، (تحفة الأشراف: 9115)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/413، 418، 394)، سنن الدارمی/النکاح 11 (2229) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ، وَلَا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا، فَإِنَّ الزَّانِيَةَ هِيَ الَّتِي تُزَوِّجُ نَفْسَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت عورت کا نکاح نہ کرائے ، اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے ، پس بدکار وہی عورت ہے جو اپنا نکاح خود کرتی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1882]
قال الشيخ الألباني: صحيح دون جملة الزانية
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1454، ومصباح الزجاجة: 672) (صحیح) ( الزانیہ کے جملہ کے علاوہ حدیث صحیح ہے، نیز ملا حظہ ہو: الإروا ء: 1841)
16: بَابُ : النَّهْيِ عَنِ الشِّغَارِ
باب: نکاح شغار کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنَ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ، أَوْ زوجني أُخْتَكَ عَلَى أَنْ أُزَوِّجَكَ ابْنَتِي، أَوْ أُخْتِي، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے ۔ اور شغار یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی سے کہے : آپ اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح مجھ سے اس شرط پر کر دیں کہ میں اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح تجھ سے کر دوں گا ، اور ان دونوں کے درمیان کوئی مہر نہ ہو ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1883]
💡 وضاحت:
۱؎: بلکہ ہر ایک جانب مہر یہی ہو کہ دوسرے کی بیٹی یا بہن یہ حاصل کرے، ابن عبدالبر نے کہا یہ نکاح باجماع علماء ناجائز ہے لیکن اختلاف ہے کہ یہ نکاح صحیح ہے یا نہیں، جمہور اس کو باطل کہتے ہیں، اور شافعی نے کہا یہ نکاح مثل نکاح متعہ کے باطل ہے، اور ابوحنیفہ نے کہا نکاح صحیح ہو جائے گا، اور ہر ایک پر مہر مثل لازم ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح 28 (5109)، الحیل 4 (6960)، صحیح مسلم/النکاح 7 (1415)، سنن ابی داود/النکاح 15 (2074)، سنن الترمذی/النکاح 30 (1164)، سنن النسائی/النکاح 61 (3339)، (تحفة الأشراف: 8323)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 11 (24)، مسند احمد (2/7، 19، 62)، سنن الدارمی/النکاح 9 (2226) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1884]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح 7 (1416)، سنن النسائی/النکاح 61 (3340)، (تحفة الأشراف: 13796)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/286، 439، 496) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام میں شغار نہیں ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1885]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 498، ومصباح الزجاجة: 673)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/162) (صحیح)
17: بَابُ : صَدَاقِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کے مہر کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ صَدَاقُ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: " كَانَ صَدَاقُهُ فِي أَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَنَشًّا هَلْ تَدْرِي مَا النَّشُّ؟ هُوَ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ، وَذَلِكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ".
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر کیا تھا ؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا ، تم جانتے ہو نش کیا ہے ؟ یہ آدھا اوقیہ ہے ، یہ کل پانچ سو درہم ہوئے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1886]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، ساڑھے بارہ اوقیہ کے کل پانچ سو درہم ہوئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح 13 (1426)، سنن ابی داود/النکاح 29 (2105)، سنن النسائی/النکاح 66 (3347)، (تحفة الأشراف: 17739)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/94)، سنن الدارمی/النکاح 18 (2245) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " لَا تُغَالُوا صَدَاقَ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا، أَوْ تَقْوًى عِنْدَ اللَّهِ، كَانَ أَوْلَاكُمْ وَأَحَقَّكُمْ بِهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَصْدَقَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُثَقِّلُ صَدَقَةَ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَكُونَ لَهَا عَدَاوَةٌ فِي نَفْسِهِ، وَيَقُولُ: قَدْ كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ، أَوْ عَرَقَ الْقِرْبَةِ، وَكُنْتُ رَجُلًا عَرَبِيًّا مَوْلِدًا، مَا أَدْرِي مَا عَلَقُ الْقِرْبَةِ، أَوْ عَرَقُ الْقِرْبَةِ".
ابوعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : عورتوں کے مہر مہنگے نہ کرو ، اس لیے کہ اگر یہ دنیا میں عزت کی بات ہوتی یا اللہ تعالیٰ کے یہاں تقویٰ کی چیز ہوتی تو اس کے زیادہ حقدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور بیٹیوں میں سے کسی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں فرمایا ، اور مرد اپنی بیوی کے بھاری مہر سے بوجھل رہتا ہے یہاں تک کہ وہ مہر اس کے دل میں بیوی سے دشمنی کا سبب بن جاتا ہے ، وہ کہتا ہے کہ میں نے تیرے لیے تکلیف اٹھائی یہاں تک کہ مشک کی رسی بھی اٹھائی ، یا مجھے مشک کے پانی کی طرح پسینہ آیا ۔ ابوعجفاء کہتے ہیں : میں پیدائش کے اعتبار سے عربی تھا ۱؎ ، عمر رضی اللہ عنہ نے جو لفظ «علق القربۃ» یا «عرق القربۃ» کہا : میں اسے نہیں سمجھ سکا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1887]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اصلاً عرب کا رہنے والا نہ تھا بلکہ دوسرے ملک سے آ کر عرب میں پیدا ہوا تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/النکاح 29 (2106)، سنن الترمذی/النکاح 23 (1114)، سنن النسائی/النکاح 66 (3349)، (تحفة الأشراف: 10655)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/41، 48) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَ عَلَى نَعْلَيْنِ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُ".
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ کے ایک شخص نے ( مہر میں ) دو جوتیوں کے بدلے شادی کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح جائز رکھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1888]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1113) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/النکاح 21 (1113)، (تحفة الأشراف: 5036)، وقد أخرجہ: (3/445، 446) (ضعیف) (سند میں عاصم بن عبید اللہ ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ يَتَزَوَّجُهَا"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ"، فَقَالَ: لَيْسَ مَعِي، قَالَ: " قَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو آپ نے فرمایا : ” اس سے کون نکاح کرے گا “ ؟ ایک شخص نے کہا : میں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” اسے کچھ دو چاہے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو “ ، وہ بولا : میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے اس کا نکاح تمہارے ساتھ اس قرآن کے بدلے کر دیا جو تمہیں یاد ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1889]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہر میں مال کی کوئی تحدید نہیں، خواہ کم ہو یا زیادہ، اسی طرح محنت مزدوری یا تعلیم قرآن پر بھی نکاح درست ہے، جمہور علماء کی یہی رائے ہے، اور بعض نے دس درہم کی تحدید کی ہے، ان کے نزدیک اس سے کم میں مہر درست نہیں، لیکن ان کے دلائل اس قابل نہیں کہ ان صحیح احادیث کا معارضہ کر سکیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوکالة 9 (2310)، فضائل القرآن 21 (5029)، 22 (530)، النکاح 14 (5087)، 32 (5121)، 35 (5126)، 37 (5132)، 40 (5135)، 44 (5141)، 50 (5149)، 51 (5150)، اللباس 49 (7117)، (تحفة الأشراف: 4684)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 13 (1425)، سنن ابی داود/النکاح 31 (2111)، سنن الترمذی/النکاح 23 (1114)، سنن النسائی/النکاح 1 (3202)، موطا امام مالک/النکاح 3 (8)، مسند احمد (5/336)، سنن الدارمی/النکاح 19 (2247) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، حَدَّثَنَا الْأَغَرُّ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَزَوَّجَ عَائِشَةَ عَلَى مَتَاعِ بَيْتٍ قِيمَتُهُ خَمْسُونَ دِرْهَمًا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے گھر میں موجود سامان پر نکاح کیا جس کی قیمت پچاس درہم تھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1890]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الأغر الرقاشي:مجهول (تقريب: 545) وشيخه عطية العوفي ضعيف مدلس ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4191، ومصباح الزجاجة: 674) (ضعیف) (سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہے)
18: بَابُ : الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ وَلاَ يَفْرِضُ لَهَا فَيَمُوتُ عَلَى ذَلِكَ
باب: ایک شخص نے شادی کی لیکن عورت کا مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی مر گیا تو اس عورت کا حکم کیا ہو گا؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، مِثْلَهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی ، اور مہر کی تعین اور دخول سے پہلے ہی اس کا انتقال ہو گیا ، تو انہوں نے کہا : اس عورت کو مہر ملے گا ، اور میراث سے حصہ ملے گا ، اور اس پہ عدت بھی لازم ہو گی ، تو معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، جب آپ نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے سلسلہ میں ایسے ہی فیصلہ کیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1891]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ روایت مختصر ہے، بعض حدیثوں میں یوں ہے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس عورت کو مہر مثل ملے گا، یعنی اس کے کنبے کی عورتوں کا جو مہر ہو گا وہی اس کو دلایا جائے گا، نہ کم اور نہ زیادہ، پھر معقل رضی اللہ عنہ نے گواہی دی تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نہایت خوش ہوئے کہ ان کا فیصلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ہوا، علامہ ابن القیم نے کہا کہ اس فتوے کے معارض کوئی فتوی نہیں تو اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1891M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
19: بَابُ : خُطْبَةِ النِّكَاحِ
باب: خطبہ نکاح کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " أُوتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَوَامِعَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ، أَوْ قَالَ: فَوَاتِحَ الْخَيْرِ، فَعَلَّمَنَا خُطْبَةَ الصَّلَاةِ، وَخُطْبَةَ الْحَاجَةِ، خُطْبَةُ الصَّلَاةِ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَخُطْبَةُ الْحَاجَةِ، أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ، وَنَسْتَعِينُهُ، وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ تَصِلُ خُطْبَتَكَ بِثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1، اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا {70} يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا {71} سورة الأحزاب آية 70-71.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیر کے جامع کلمات دیئے گئے تھے ۱؎ خواہ وہ اخیر کے ہوں ، یا کہا : شروع کے ، آپ نے ہمیں صلاۃ کا خطبہ سکھایا اور حاجت کا خطبہ بھی ، صلاۃ کا خطبہ یہ ہے : «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ” آداب بندگیاں ، صلاتیں اور پاکیزہ خیراتیں ، اللہ ہی کے لیے ہیں ، اے نبی ! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بند ے اور رسول ہیں “ اور حاجت کا خطبہ یہ ہے : «إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ” بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں ، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں ، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں ، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں ، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جیسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، وہ تنہا ہے ، اس کا کوئی ساجھی نہیں ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں “ اس کے بعد اپنے خطبہ کے ساتھ قرآن کی تین آیتیں پڑھو : «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته» ” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ، اور مسلمان ہی رہ کر مرو “ اخیر آیت تک «واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام» ” اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو ، اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو ، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے “ اخیر آیت تک «اتقوا الله وقولوا قولا سديدا يصلح لكم أعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم» ” اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور نپی تلی بات کہو اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوارے دے گا ، اور تمہارے گناہ معاف کرے گا ، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی “ اخیر آیت تک ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1892]
💡 وضاحت:
۱؎: «جوامع الخیر» یعنی آپ کی باتیں مختصر لیکن جامع اور مبنی برخیر ہوتی ہیں۔
۲؎: سنن دارمی کی روایت میں ہے کہ اس خطبہ کے بعد پھر نکاح پڑھایا جائے یعنی ایجاب و قبول کرایا جائے، سنن ترمذی میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس خطبے میں تشہد نہیں وہ کوڑھ والے ہاتھ کی طرح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2118) ترمذي (1105) نسائي (1405،3279) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/النکاح 33 (2118)، سنن الترمذی/النکاح 17 (1105)، سنن النسائی/الجمعة 24 (1405)، النکاح 39 (3279)، (تحفة الأشراف: 9506)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/392، 408، 413، 418، 423، 437)، سنن الدارمی/النکاح 20 (2248) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خطبہ میں ) فرمایا : «الحمد لله نحمده ونستعينه ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله. أما بعد» ” بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں ، ہم اسی سے مدد طلب کرتے ہیں ، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں ، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں ، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جیسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، وہ تنہا ہے ، اس کا کوئی ساجھی نہیں ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1893]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجمعة 13 (868)، سنن النسائی/النکاح 39 (3280)، (تحفة الأشراف: 5586) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ قُرَّةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَا يُبْدَأُ فِيهِ بِالْحَمْدِ أَقْطَعُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بھی اہم کام اللہ کی حمد و ثنا سے نہ شروع کیا جائے ، وہ برکت سے خالی ہوتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1894]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (4840) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأدب 21 (4840)، (تحفة الأشراف: 15232)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/359) (ضعیف) (متصل مرفوع حدیث ضعیف ہے، قرة کی وجہ سے مرسل صحیح ہے)
20: بَابُ : إِعْلاَنِ النِّكَاحِ
باب: نکاح کے اعلان کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَالْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ إِلْيَاسَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالْغِرْبَالِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نکاح کا اعلان کرو اور اس پر دف بجاؤ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1895]
قال الشيخ الألباني: ضعيف دون الشطر الأول فهو حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ ترمذي (1089) ¤ خالد بن إياس: متروك ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17453، ومصباح الزجاجة: 675) (ضعیف) (اس کی سند میں خالد بن الیاس ضعیف و متروک الحدیث ہے، لیکن أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ کا جملہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1993، سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 982)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الدُّفُّ، وَالصَّوْتُ فِي النِّكَاحِ".
محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ نکاح میں دف بجایا جائے ، اور اس کا اعلان کیا جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1896]
💡 وضاحت:
۱؎: تاکہ سب لوگوں کو خبر ہو جائے کہ یہاں نکاح ہوا ہے، اب علماء کا اختلاف ہے کہ سوائے دف کے اور باجے بھی درست ہیں یا نہیں؟ جیسے طبلے سارنگی وغیرہ بعضوں نے دف کے سوا دوسرے سارے باجوں کو ناجائز رکھا ہے اور بعضوں نے شادی اور عید میں جائز رکھا ہے، اور وقتوں میں جائز نہیں رکھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/النکاح 6 (1088)، سنن النسائی/النکاح 72 (3371)، (تحفة الأشراف: 11221)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/418، 4/259) (حسن)
21: بَابُ : الْغِنَاءِ وَالدُّفِّ
باب: (شادی بیاہ میں) گانے اور دف بجانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ اسْمُهُ خَالِدٌ الْمَدَنِيُّ ، قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَالْجَوَارِي يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ، وَيَتَغَنَّيْنَ فَدَخَلْنَا عَلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ عُرْسِي، وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تَتَغَنَّيَانِ، وَتَنْدُبَانِ آبَائِي الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، وَتَقُولَانِ فِيمَا تَقُولَانِ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ، فَقَالَ: " أَمَّا هَذَا فَلَا تَقُولُوهُ مَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ".
ابوالحسین خالد مدنی کہتے ہیں کہ ہم عاشورہ کے دن مدینہ میں تھے ، لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور گا رہی تھیں ، پھر ہم ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، ان سے یہ بیان کیا تو انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری شادی کے دن صبح میں آئے ، اس وقت میرے پاس دو لڑکیاں گا رہی تھیں ، اور بدر کے دن شہید ہونے والے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کر رہی تھیں ، گانے میں جو باتیں وہ کہہ رہی تھیں ان میں یہ بات بھی تھی : «وفينا نبي يعلم ما في غد» ” ہم میں مستقبل کی خبر رکھنے والے نبی ہے “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا مت کہو ، اس لیے کہ کل کی بات اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1897]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 12 (4001)، النکاح 48 (5147)، سنن ابی داود/الأدب 51 (4922)، سنن الترمذی/النکاح 6 (1090)، (تحفة الأشراف: 15832)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/359، 360) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الْأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ فِي يَوْمِ بُعَاثٍ، قَالَتْ: وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبِمَزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدِ الْفِطْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے ، اس وقت میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں ایسے اشعار گا رہی تھیں جو انصار نے جنگ بعاث کے دن کہے تھے ، اور وہ لڑکیاں پیشہ ور گانے والیاں نہ تھیں ، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطان کا باجا ہو رہا ہے ، اور یہ عید الفطر کا دن تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوبکر ! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے ، اور یہ ہماری عید ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1898]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العیدین 2 (949)، 3 (952)، 25 (987)، الجہاد 81 (2907)، المناقب 15 (3520)، مناقب الأنصار 46 (3931)، صحیح مسلم/العیدین 4 (892)، (تحفة الأشراف: 16801)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العیدین 32 (1594)، 36 (1598)، مسند احمد (6/33، 84، 99، 127) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَرَّ بِبَعْضِ الْمَدِينَةِ، فَإِذَا هُوَ بِجَوَارٍ يَضْرِبْنَ بِدُفِّهِنَّ وَيَتَغَنَّيْنَ وَيَقُلْنَ: نَحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ يَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِنْ جَارِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَعْلَمُ اللَّهُ إِنِّي لَأُحِبُّكُنَّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک راستہ سے گزرے تو دیکھا کہ کچھ لڑکیاں دف بجاتے ہوئے گا رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں : «نحن جوار من بني النجار يا حبذا محمد من جار» ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں کیا ہی عمدہ پڑوسی ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں تم سے محبت رکھتا ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1899]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 511، ومصباح الزجاجة: 676) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَنْبَأَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَنْكَحَتْ عَائِشَةُ ذَاتَ قَرَابَةٍ لَهَا مِنْ الْأَنْصَارِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَهْدَيْتُمُ الْفَتَاةَ"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " أَرْسَلْتُمْ مَعَهَا مَنْ يُغَنِّي"، قَالَتْ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ، فَلَوْ بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يَقُولُ أَتَيْنَاكُمْ، أَتَيْنَاكُمْ، فَحَيَّانَا، وَحَيَّاكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار میں سے اپنی ایک قرابت دار خاتون کی شادی کرائی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے ، اور فرمایا : ” تم لوگوں نے دلہن کو رخصت کر دیا “ ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے ساتھ کوئی گانے والی بھی بھیجی “ ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انصار کے لوگ غزل پسند کرتے ہیں ، کاش تم لوگ دلہن کے ساتھ کسی کو بھیجتے جو یہ گاتا : «أتيناكم أتيناكم فحيانا وحياكم» ” ہم تمہارے پاس آئے ، ہم تمہارے پاس آئے ، اللہ تمہیں اور ہمیں سلامت رکھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1900]
💡 وضاحت:
۱؎: دوسری روایت میں ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے چل کر مدینہ پہنچے تو انصار کی لڑکیاں راستوں پر گاتی بجاتی نکلیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر کی خوشی میں کہا: «طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مٍنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا مَا دَعَا للهِ دَاع» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی تم سے محبت رکھتا ہے اصل یہ ہے کہ «الأعمال بالنیات» ، ان لڑکیوں کو گانے سے اور کوئی غرض نہ تھی سوا اس کے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی میں ایسا کرتی تھیں، اور یہ لڑکیاں پیشہ ور گانے والیاں نہ تھیں بلکہ کمسن اور نابالغ تھیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کی خوشی میں معمولی طور سے گانے بجانے لگیں، یہ مباح ہے اس کی اباحت میں کچھ شک نہیں۔ ابن القیم زاد المعاد میں لکھتے ہیں کہ لڑکیوں کے استقبال کا یہ واقع غزوہ تبوک سے واپسی کا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو الزبير عنعن ¤ وأصل الحديث في صحيح البخاري (5162) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6453، ومصباح الزجاجة: 677) (حسن) ( غزل کا جملہ منکر ہے، تراجع الألبانی: رقم: 465)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: " كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ ، فَسَمِعَ صَوْتَ طَبْلٍ فَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، ثُمَّ تَنَحَّى حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
مجاہد کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا انہوں نے طبلہ کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں ، اور وہاں سے ہٹ گئے یہاں تک کہ ایسا تین مرتبہ کیا ، پھر کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1901]
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ زمارة راع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ليث: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7407، ومصباح الزجاجة: 678) (صحیح) (یہ زمارة راع کے لفظ سے صحیح ہے، اور اس میں طبل کا ذکر منکر ہے)
22: بَابٌ في الْمُخَنَّثِينَ
باب: ہیجڑوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَمِعَ مُخَنَّثًا وَهُوَ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ: إِنْ يَفْتَحْ اللَّهُ الطَّائِفَ غَدًا، دَلَلْتُكَ عَلَى امْرَأَةٍ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ، وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَخْرِجُوهُ مِنْ بُيُوتِكُمْ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے ، وہاں ایک ہیجڑے کو سنا جو عبداللہ بن ابی امیہ سے کہہ رہا تھا : اگر اللہ کل طائف کو فتح کر دے گا تو میں تم کو ایک عورت بتاؤں گا جو سامنے آتی ہے چار سلوٹوں کے ساتھ اور پیچھے مڑتی ہے آٹھ سلوٹوں کے ساتھ ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اپنے گھروں سے باہر نکال دو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1902]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 56 (4324)، اللباس 62 (5887)، النکاح 113 (5235)، صحیح مسلم/السلام 13 (2180)، سنن ابی داود/الأدب 61 (4929)، (تحفة الأشراف: 18263)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/290، 318) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ الْمَرْأَةَ تَتَشَبَّهُ بِالرِّجَالِ، وَالرَّجُلَ يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت کی جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے ، اور اس مرد پر لعنت کی جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1903]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12694، ومصباح الزجاجة: 679) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَلَعَنَ الْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت کی ، اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1904]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 61 (5885)، سنن ابی داود/اللباس 31 (4097)، سنن الترمذی/الأدب 34 (2784)، (تحفة الأشراف: 6188)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/251، 254، 300، 339)، سنن الدارمی/الإستئذان 21 (2691) (صحیح)
23: بَابُ : تَهْنِئَةِ النِّكَاحِ
باب: نکاح پر مبارک باد دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا رَفَّأَ، قَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ، وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے : «بارك الله لكم وبارك عليكم وجمع بينكما في خير» ” اللہ تم کو برکت دے ، اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے ، اور تم دونوں میں خیر پر اتفاق رکھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1905]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/النکاح 37 (2130)، سنن الترمذی/النکاح 7 (1091)، (تحفة الأشراف: 12698)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 381)، سنن الدارمی/النکاح 6 (2219) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمَ، فَقَالُوا: بِالرَّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ: لَا تَقُولُوا هَكَذَا، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ، وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ".
عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے قبیلہ بنی جشم کی ایک عورت سے شادی کی ، تو لوگوں نے ( جاہلیت کے دستور کے مطابق ) یوں کہا : «بالرفاء والبنين» ” میاں بیوی میں اتفاق رہے اور لڑکے پیدا ہوں “ تو آپ نے کہا : اس طرح مت کہو ، بلکہ وہ کہو ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم بارك لهم وبارك عليهم» ” اے اللہ ! ان کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1906]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (3373) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10014)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/النکاح 73 (3373)، مسند احمد (1/201، 3/ 451) (صحیح)
24: بَابُ : الْوَلِيمَةِ
باب: ولیمہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِ?ُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا، أَوْ مَهْ؟، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ( کے جسم ) پر پیلے رنگ کے اثرات دیکھے ، تو پوچھا : ” یہ کیا ہے “ ؟ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے ایک عورت سے گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کر لی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «بارك الله لك أولم ولو بشاة» ” اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1907]
💡 وضاحت:
۱؎: واضح رہے کہ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مالی حیثیت کو دیکھ کر کہی تھی کہ ولیمہ میں کم سے کم ایک بکری ضرور ہو اس سے اس بات پر استدلال صحیح نہیں کہ ولیمہ میں گوشت ضروری ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ولیمہ میں ستو اور کھجور ہی پر اکتفا کیا تھا، ولیمہ اس کھانے کو کہتے ہیں جو شوہر کی طرف سے شب زفاف کے بعد ہوتا ہے اور یہ کھانا مسنون ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 1 (2049)، مناقب الأنصار3 (3781)، 50 (3937)، النکاح 7 (5072)، 49 (5138)، 54 (5153)، 56 (5155)، 68 (5167)، الأدب 67 (6082)، الدعوات 53 (6383)، صحیح مسلم/النکاح 13 (1427)، سنن الترمذی/النکاح 10 (1094)، سنن النسائی/النکاح 75 (3375)، (تحفة الأشراف: 288)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح 30 (2109)، موطا امام مالک/النکاح21 (47)، مسند احمد (3/165، 190، 205)، سنن الدارمی/الأطعمة 28 (2108)، النکاح 22 (2250) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ، فَإِنَّهُ ذَبَحَ شَاةً".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کسی کا اتنا بڑا ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا بڑا آپ نے اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کا کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ولیمہ میں ایک بکری ذبح کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1908]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح 68 (5168)، صحیح مسلم/النکاح 13 (1428)، سنن ابی داود/الأطعمة 2 (3743)، (تحفة الأشراف: 287)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/227) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، وَغِيَاثُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّحَبِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ ، عَنِ ابْنِهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ ستو اور کھجور سے کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1909]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأطعمة 2 (3744)، سنن الترمذی/النکاح 10 (1095)، (تحفة الأشراف: 1482)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 14 (1365)، الجہاد 43 (1365)، سنن النسائی/النکاح 79 (3384) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " شَهِدْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَةً مَا فِيهَا لَحْمٌ، وَلَا خُبْزٌ"، قَالَ ابْن مَاجَةَ: لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ إِلَّا ابْنُ عُيَيْنَةَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ولیمہ میں شریک ہوا ، اس میں نہ گوشت تھا نہ روٹی تھی ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف سفیان بن عیینہ ہی نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1910]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ علي بن زيد: ضعيف ¤ وللحديث شواھد ضعيفة عند أحمد (3/ 655،266) وغيره ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1105)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 61 (5159)، صحیح مسلم/النکاح 14 (1365)، مسند احمد (3/99) (صحیح) (اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، لیکن اصل حدیث صحیح ہے، کمافی التخریج )
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ ، قالتا: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ نُجَهِّزَ فَاطِمَةَ حَتَّى نُدْخِلَهَا عَلَى عَلِيٍّ، فَعَمَدْنَا إِلَى الْبَيْتِ، فَفَرَشْنَاهُ تُرَابًا لَيِّنًا مِنْ أَعْرَاضِ الْبَطْحَاءِ، ثُمَّ حَشَوْنَا مِرْفَقَتَيْنِ لِيفًا، فَنَفَشْنَاهُ بِأَيْدِينَا، ثُمَّ أَطْعَمْنَا تَمْرًا وَزَبِيبًا وَسَقَيْنَا مَاءً عَذْبًا، وَعَمَدْنَا إِلَى عُودٍ، فَعَرَضْنَاهُ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ لِيُلْقَى عَلَيْهِ الثَّوْبُ، وَيُعَلَّقَ عَلَيْهِ السِّقَاءُ، فَمَا رَأَيْنَا عُرْسًا أَحْسَنَ مِنْ عُرْسِ فَاطِمَةَ".
ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تیار کریں اور علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں ، چنانچہ ہم گھر میں گئے ، اور میدان بطحاء کے کناروں سے نرم مٹی لے کر اس گھر میں بطور فرش ہم نے بچھا دی ، پھر دو تکیوں میں کھجور کی چھال بھری ، اور ہم نے اسے اپنے ہاتھوں سے دھنا ، پھر ہم نے لوگوں کو کھجور اور انگور کھلایا ، اور میٹھا پانی پلایا ، اور ہم نے ایک لکڑی گھر کے ایک گوشہ میں لگا دی تاکہ اس پر کپڑا ڈالا جا سکے ، اور مشکیزے لٹکائے جا سکیں چنانچہ ہم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سے بہتر کوئی شادی نہیں دیکھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1911]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ جابر الجعفي: ضعيف رافضي ¤ والمفضل بن عبد اللّٰه: ضعيف (تقريب: 6855) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17631، 18212، ومصباح الزجاجة: 680) (ضعیف) (سند میں مفضل بن عبد اللہ اور جابر جعفی ضعیف راوی ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُرْسِهِ، فَكَانَتْ خَادِمَهُمُ الْعَرُوسُ، قَالَتْ: " تَدْرِي مَا سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: أَنْقَعْتُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ صَفَّيْتُهُنَّ فَأَسْقَيْتُهُنَّ إِيَّاهُ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی میں بلایا ، تو سب لوگوں کی خدمت دلہن ہی نے کی ، وہ دلہن کہتی ہیں : جانتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا ؟ میں نے چند کھجوریں رات کو بھگو دی تھیں ، صبح کو میں نے ان کو صاف کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا شربت پلایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1912]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح 71 (5176، 5177)، صحیح مسلم/الاشربة 27 (2006)، (تحفة الأشراف: 4709) (صحیح)
25: بَابُ : إِجَابَةِ الدَّاعِي
باب: (ولیمہ کی) دعوت قبول کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ، وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے ، اور جس نے دعوت قبول نہ کی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1913]
💡 وضاحت:
۱؎: ولیمہ کا کھانا سنت ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولیمہ کیا ہے، مگر اس ولیمہ کو برا کہا جس میں مالداروں کی ہی دعوت ہوتی ہے، اور محتاجوں کو کوئی نہیں پوچھتا، معلوم ہوا کہ عمدہ کھانا وہ ہے جس میں غریب و محتاج بھی شریک ہوں، سب سے عمدہ بات یہ ہے کہ محتاجوں اور فقیروں کو دعوت میں زیادہ بلایا جائے، اگر کچھ دوست و احباب اور متعارفین مالدار بھی ہوں تو مضائقہ نہیں، پھر جب یہ فقیر و محتاج آئیں تو ان کو بڑی خاطر داری کے ساتھ عمدہ عمدہ کھانے کھلائے اور اگر ممکن ہو تو خود بھی ان کے ساتھ شریک ہو کر کھائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح 73 (5177، 5178) موقوفًا، صحیح مسلم/النکاح 16 (1432) مرفوعاً، سنن ابی داود/الأطعمة 1 (3742)، (تحفة الأشراف: 13955)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 21 (50)، مسند احمد (2/240)، سنن الدارمی/الأطعمة 28 (2110) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةِ عُرْسٍ، فَلْيُجِبْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1914]
💡 وضاحت:
۱؎: بعضوں نے کہا: اس حدیث کی رو سے ولیمہ کی دعوت قبول کرنا واجب ہے، اور بعضوں نے کہا فرض کفایہ ہے، اور بعضوں نے کہا مستحب ہے، یہ جب ہے کہ دعوت متعین طور پر ہو، اگر دعوت عام ہو تو قبول کرنا واجب نہ ہو گا اس لئے کہ اس کے نہ جانے سے میزبان کی دل شکنی نہ ہو گی، اور دعوت قبول کرنا عذر کی وجہ سے ساقط ہو جاتا ہے، مثلاً دعوت کا کھانا مشتبہ ہو، یا وہاں صرف مالدار حاضر ہوتے ہوں، یا صاحب دعوت صحبت اور دوستی کے لائق نہ ہوں، یا دعوت سے مقصود حب جاہ اور کبر و غرور ہو، یا وہاں خلاف شرع کام ہوں جیسے فواحش کا ارتکاب، بے پردگی اور بے حیائی اور ناچ گانا وغیرہ منکر امور۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح 16 (1429)، النکاح 23 (2251)، (تحفة الأشراف: 7949)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 71 (5173)، سنن ابی داود/الأطعمة 1 (3736)، موطا امام مالک/النکاح 21 (49)، مسند احمد (2/20)، سنن الدارمی/الأطعمة 40 (2127) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُسَيْنٍ أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلِيمَةُ أَوَّلَ يَوْمٍ حَقٌّ، وَالثَّانِيَ مَعْرُوفٌ، وَالثَّالِثَ رِيَاءٌ وَسُمْعَةٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ولیمہ پہلے دن حق ہے ، دوسرے دن عرف اور دستور کے موافق ، اور تیسرے دن ریاکاری اور شہرت ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1915]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ أبو مالك النخعي اتفقوا علي ضعفه كما قال البوصيري ¤ وللحديث شواهد ضعيفة عند أبي داود (3745) وغيره ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13433، ومصباح الزجاجة: 681) (ضعیف) (ابو مالک نخعی ضعیف ہے)
26: بَابُ : الإِقَامَةِ عَلَى الْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ
باب: کنواری اور غیر کنواری کے پاس رہنے کی مدت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلثَّيِّبِ ثَلَاثًا، وَلِلْبِكْرِ سَبْعًا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” غیر کنواری ( شوہر دیدہ ) کے لیے تین دن ، اور کنواری کے لیے سات دن ہیں ، ( پھر باری تقسیم کر دیں ) “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1916]
💡 وضاحت:
۱؎: باب کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص کے پاس پہلے سے بیوی ہو، اب ایک نئی شادی اور کر لے تو اگر نئی بیوی کنواری ہو تو سات دن تک اس کے پاس رہے، اور اگر ثیبہ ہو تو تین دن تک، پھر دونوں بیویوں کے پاس باری باری ایک ایک روز رہا کرے، اور اس سے غرض یہ ہے کہ نئی دلہن کا دل ملانا ضروری ہے، اگر پہلے سے ہی باری باری رہے تو اس کو وحشت ہو جانے کا ڈر ہے، اور کنواری کا دل ذرا دیر میں ملتا ہے، اس لئے سات دن اس کے لئے رکھے، اور ثیبہ کا دل جلدی مل جاتا ہے، تین دن اس کے لئے رکھے، اور اس باب میں صحیح حدیثیں وارد ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح 100 (5214)، صحیح مسلم/الرضاع 12 (1461)، سنن ابی داود/النکاح 35 (2124)، سنن الترمذی/النکاح 40 (1139)، (تحفة الأشراف: 944)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 5 (15)، سنن الدارمی/النکاح 27 (2255) (حسن) (اصل حدیث دوسرے طرق سے ثابت ہے کمافی التخریج)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، وَقَالَ: " لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن رہے ، اور فرمایا : ” تم میرے نزدیک کم تر نہیں ہو اگر تم چاہتی ہو میں سات روز تک تمہارے پاس رہ سکتا ہوں ، اس صورت میں میں سب عورتوں کے پاس سات سات روز تک رہوں گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1917]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الرضاع 12 (1460)، سنن ابی داود/النکاح 35 (2122)، (تحفة الأشراف: 18229)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 5 (14)، مسند احمد (6/292، 295، 307)، سنن الدارمی/النکاح 27 (2256) (صحیح)
27: بَابُ : مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ أَهْلُهُ
باب: بیوی سے پہلی ملاقات پر کون سی دعا پڑھے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَفَادَ أَحَدُكْمُ امْرَأَةً، أَوْ خَادِمًا، أَوْ دَابَّةً فَلْيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا، وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا، وَخَيْرِ مَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص کوئی بیوی ، خادم یا جانور حاصل کرے ، تو اس کی پیشانی پکڑ کر یہ دعا پڑھے “ «اللهم إني أسألك من خيرها وخير ما جبلت عليه وأعوذ بك من شرها وشر ما جبلت عليه» ” اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کی خلقت اور طبیعت کی بھلائی مانگتا ہوں ، اور اس کے شر اور اس کی خلقت اور طبیعت کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1918]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/النکاح 46 (2160)، (تحفة الأشراف: 8799) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتَى امْرَأَتَهُ، قَالَ: اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي، ثُمَّ كَانَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ لَمْ يُسَلِّطْ اللَّهُ عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ، أَوْ لَمْ يَضُرَّهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے تو یہ دعا پڑھے «اللهم جنبني الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتني» ” اے اللہ ! تو مجھے شیطان سے بچا ، اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھ “ پھر اس ملاپ سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا ، یا شیطان اسے نقصان نہ پہنچ اس کے گا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1919]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: (صحیح)
28: بَابُ : التَّسَتُّرِ عِنْدَ الْجِمَاعِ
باب: جماع کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ، قَالَ: " احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ، أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ، قَالَ: " فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تُرِيَهَا أَحَدًا، فَلَا تُرِيَنَّهَا"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا، قَالَ: " فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ".
معاویہ بن حیدۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیوی یا لونڈی کے علاوہ ہمیشہ اپنی شرمگاہ چھپائے رکھو “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر لوگ ملے جلے رہتے ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم ایسا کر سکو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھے تو ایسا ہی کرو “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر ہم میں سے کوئی اکیلا ہو ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں سے اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم کی جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1920]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی طرح کشف ستر کی اجازت نہ دی، اب جو لوگ حمام میں نہلانے والوں یا حجام کے سامنے ننگے ہو جاتے ہیں، یا عورتیں ایک دوسری کے سامنے، یہ شرعی نقطہء نظر سے بالکل منع ہے، بوقت ضرورت تنہائی میں ننگے ہونا درست ہے،جیسے نہاتے وقت یہ نہیں کہ بلاضرورت ننگے ہو کر بیٹھے، اللہ تعالی سے اور فرشتوں سے شرم کرنا چاہئے، سبحان اللہ جیسا شرم و حیا کا اعتبار دین اسلام میں ہے ویسا کسی دین میں نہیں ہے، یہود اور نصاری ایک دوسرے کے سامنے ننگے نہاتے ہیں، اور مشرکین عہد جاہلیت میں جاہلیت کے وقت ننگے ہو کر طواف اور عبادت کیا کرتے تھے، اور اب بھی یہ رسم ہندوؤں میں موجود ہے، مگر اسلام نے ان سب ہی باتوں کو رد کر دیا، تہذیب، حیاء اور شرم سکھائی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الحمام 2 (4017)، سنن الترمذی/الأدب 26 (2769)، (تحفة الأشراف: 11380)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/3، 4) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ وَهْبٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَرَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، فَلْيَسْتَتِرْ، وَلَا يَتَجَرَّدْ تَجَرُّدَ الْعَيْرَيْنِ".
عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص اپنی بیوی سے صحبت کرے تو کپڑا اوڑھ لے ، اور گدھا گدھی کی طرح ننگا نہ ہو جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1921]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الأحوص بن حكيم: ضعيف الحفظ (تقريب: 290) و قال الھيثمي: و ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 42/3) ¤ وللحديث شواهد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9755، ومصباح الزجاجة: 682) (ضعیف) (الاحوص بن حکیم ضعیف ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مَوْلًى لِعَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا نَظَرْتُ، أَوْ مَا رَأَيْتُ فَرْجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: عَنْ مَوْلَاةٍ لِعَائِشَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرمگاہ کبھی نہیں دیکھی ۔ ابوبکر بن ابوشیبہ کہتے ہیں کہ ابونعیم کی روایت میں «عن مولیٰ لعائشۃ» کے بجائے «عن مولاۃ لعائشۃ» ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1922]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (662) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17816، ومصباح الزجاجة: 683)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/63، 190) (ضعیف) (ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی مولاة یا مولیٰ ضعیف ہے)
29: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ
باب: عورتوں سے دبر میں جماع کرنے کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ مُخَلَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى رَجُلٍ جَامَعَ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جو اپنی عورت سے اس کے دبر ( پچھلی شرمگاہ ) میں جماع کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1923]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت سے دبر میں جماع کرنا لواطت صغری ہے اور اس باب میں کئی حدیثیں ہیں جو ایک دوسرے کو قوی کرتی ہیں، اور ائمہ اربعہ اور تمام علماء حدیث نے اس کی حرمت پر اتفاق کیا، اس لئے کہ اللہ تعالی فرماتا: «فَأْتُواْ حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ» (سورة البقرة: 223) اور «حرث» کہتے ہیں کھیتی کو یعنی جہاں سے پیدا ہو وہ کھیتی ہے، اور وہ قبل ہے اور دبر «فرث» ہے یعنی نجاست۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12237، ومصباح الزجاجة: 684)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح 46 (2162)، مسند احمد (2/272، 344، 444، 479)، سنن الدارمی/الطہارة 113 (1176) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَرَمِيٍّ ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ".
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ حق بات سے شرم نہیں کرتا “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین بار فرمایا ، اور فرمایا : ” عورتوں کی دبر میں جماع نہ کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1924]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الاشراف: 3530، ومصباح الزجاجة: 685)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/213، 217)، سنن الدارمی/الطہارة 114 (1183) (صحیح) (اس کی سند میں حجاج بن أرطاہ مدلس و ضعیف ہیں، عنعنہ سے روایت کی ہے، اور عبداللہ بن ہرمی یا ہرمی بن عبد اللہ مستور ہیں، لیکن متابعت اور شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 2005)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، وَجَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " كَانَتْ يَهُودُ، تَقُولُ: مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي قُبُلِهَا مِنْ دُبُرِهَا كَانَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ جس نے بیوی کی اگلی شرمگاہ میں پیچھے سے جماع کیا تو لڑکا بھینگا ہو گا ، چنانچہ اللہ سبحانہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی : «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» ( سورة البقرة : 223 ) ” تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں ، لہٰذا تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1925]
💡 وضاحت:
۱؎: انصار بھی یہود کی پیروی کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ جو کوئی دبر کی طرف سے قبل میں جماع کرے تو لڑکا بھینگا (احول) ہو گا، اللہ تعالی نے اس کو باطل کیا، اور اگلی شرمگاہ میں ہر طرح سے جماع کو جائز رکھا، مسند احمد میں ہے کہ انصار کی ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: عورت سے اگلی شرمگاہ میں پیچھے سے کوئی جماع کرے تو کیا حکم ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی، اور عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں؟ انہوں نے کہا میں نے رات کو اپنے پالان (عورت) کو الٹا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا، تب یہ آیت اتری، یعنی اختیار ہے آگے سے جماع کرو یا پیچھے سے، لیکن دخول ضروری ہے کہ قبل (اگلی شرمگاہ) میں ہو، اور فرمایا: بچو حیض سے اور دبر سے لہذا آیت کا یہ مطلب نہیں کہ دبر (پاخانہ کا مقام) میں دخول کرنا جائز ہے، طیبی نے کہا: اجنبی عورت سے اگر دبر میں جماع کیا تو وہ زنا کے مثل ہے، اور جو اپنی عورت یا لونڈی سے کیا تو حرام کام کا مرتکب ہوا، لیکن اس پر حد نہ جاری ہو گی، اور امام نووی کہتے ہیں کہ مفعول (جس کے ساتھ غلط کام کیا گیا) اگر چھوٹا یا پاگل ہو یا اس کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو تو ایسا فعل کرنے والے پر حد جاری ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح 19 (1435)، سنن الترمذی/التفسیر 3 (2978)، (تحفة الأشراف: 3030)، وقد أخر جہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة البقرة 39 (4528)، سنن الدارمی/الطہارة 113 (1172)، النکاح 30 (2260) (صحیح)
30: بَابُ : الْعَزْلِ
باب: عزل کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ؟، فَقَالَ: " أَوَ تَفْعَلُونَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَسَمَةٍ قَضَى اللَّهُ لَهَا، أَنْ تَكُونَ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم لوگ ایسا کرتے ہو ؟ ایسا نہ کرنے میں تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے ، اس لیے کہ جس جان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہونا مقدر کیا ہے وہ ضرور پیدا ہو گی “ ۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1926]
💡 وضاحت:
۱؎: عزل: شرمگاہ سے باہر منی نکالنے کو عزل کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4141)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 109 (2229)، العتق 13 (2542)، المغازي 32 (4138)، النکاح 96 (5210)، القدر 6 (6603)، التوحید 18 (7409)، صحیح مسلم/النکاح 22 (1438)، سنن ابی داود/النکاح 49 (2170)، سنن الترمذی/النکاح 40 (1138)، سنن النسائی/النکاح 55 (3329)، موطا امام مالک/الطلاق 34 (95)، مسند احمد (2/22، 26، 47، 49، 51، 53، 59، 68، 72، 78، 88، 93)، سنن الدارمی/النکاح 36 (226) (صحیح) 192
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے ، اور قرآن اترا کرتا تھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1927]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر عزل منع ہوتا تو اللہ تعالی اس کی ممانعت نازل کر دیتا، البتہ لونڈی سے اس کی اجازت کے بغیر بھی عزل درست ہے، اہل حدیث کا مذہب یہ ہے کہ عزل مکروہ ہے، لیکن حرام نہیں ہے، اور بہت صحابہ اور تابعین سے اس کی اجازت منقول ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح 96 (5208)، صحیح مسلم/النکاح 22 (1440)، سنن الترمذی/النکاح 38 (1137)، (تحفة الأشراف: 2468) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الِمُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُعْزَلَ عَنِ الْحُرَّةِ إِلَّا بِإِذْنِهَا".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد عورت سے اس کی اجازت کے بغیر عزل کرنے سے منع فرمایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1928]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،لضعف ابن لهيعة“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10671، ومصباح الزجاجة: 686) (ضعیف) (ابن لہیعہ ضعیف راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 2007)
31: بَابُ : لاَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلاَ عَلَى خَالَتِهَا
باب: بھتیجی اور پھوپھی یا بھانجی اور خالہ کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی مرد اس عورت سے نکاح نہ کرے جس کی پھوپھی یا خالہ اس کے نکاح میں ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1929]
💡 وضاحت:
۱؎: البتہ اگر ایک مر جائے یا اسے طلاق دے دے تو دوسری سے شادی کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح 4 (1408)، (تحفة الأشراف: 14562)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 27 (5109)، سنن ابی داود/النکاح 13 (2065)، سنن الترمذی/النکاح 31 (1126)، سنن النسائی/النکاح 48 (3298)، موطا امام مالک/النکاح 8 (20)، مسند احمد (2/229، 255، 394، 401، 423، 426، 432، 452، 462، 465، 474، 489، 508، 516، 518، 529، 532) سنن الدارمی/النکاح 8 (2225) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْهَى عَنْ نِكَاحَيْنِ، أَنْ يَجْمَعَ الرَّجُلُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو نکاحوں سے منع فرماتے ہوئے سنا ، ایک یہ کہ کوئی شخص بھتیجی اور پھوپھی دونوں کو نکاح میں جمع کرے ، دوسرے یہ کہ خالہ اور بھانجی کو جمع کرے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1930]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4070، ومصباح الزجاجة: 687)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/67) (صحیح) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہے، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن حدیث دوسرے طرق سے صحیح ہے، کما تقدم)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت سے اس کی پھوپھی کے عقد میں ہوتے ہوئے نکاح نہ کیا جائے ، اور نہ ہی اس کی خالہ کے عقد میں ہوتے ہوئے اس سے نکاح کیا جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1931]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9143، ومصباح الزجاجة: 688) (صحیح) (جبارہ بن مغلس ضعیف ہے، لیکن سابقہ احادیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
32: بَابُ : الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا فَتَزَوَّجُ فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَتَرْجِعُ إِلَى الأَوَّلِ
باب: ایک آدمی نے اپنی عورت کو تین طلاق دی، اس نے دوسرے سے شادی کر لی پھر دوسرے شوہر نے جماع سے پہلے اسے طلاق دیدی تو کیا اب وہ پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی ( رضی اللہ عنہا ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا کہ میں رفاعہ کے پاس تھی ، انہوں نے مجھے تین طلاق دے دی ، تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی ، اور ان کے پاس جو ہے وہ ایسا ہے جیسے کپڑے کا جھالر ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے ، اور فرمایا : ” کیا تم پھر رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو ؟ نہیں ، یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم عبدالرحمٰن کا مزہ نہ چکھو ، اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھیں “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1932]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی انہیں جماع کی قدرت نہیں ہے۔
۲؎: «حتى تذوقي عسيلته» سے کنایہ جماع کی طرف ہے، اور جماع کو شہد سے تشبیہ دینے سے مقصود یہ ہے کہ جس طرح شہد کے استعمال سے لذت و حلاوت حاصل ہوتی ہے اسی طرح جماع سے بھی لذت و حلاوت حاصل ہوتی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی اپنی بیوی کو تین طلاق دیدے تو وہ عورت دوسرے مرد سے نکاح کرے،اور شوہر اس سے جماع کر لے، اگر اس کے بعد یہ دوسرا اس کو طلاق دے دیتا ہے تو یہ عورت اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نیا نکاح کر سکتی ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ دوسرے شوہر کا یہ نکاح حلالہ کی نیت سے نہ ہو اور نہ حلالہ کی شرط لگائی جائے کہ اس حیلہ سے عورت اپنے شوہر کے پاس پہنچ جائے، آگے آ رہا ہے کہ حلالہ کا نکاح حرام اور ناجائز ہے، اور ایسا کرنے والا اور جس کے لیے کیا جائے دونوں ملعون ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشہادات 3 (2639)، الطلاق 4 (5260)، الطلاق 37 (5317)، اللباس 6 (5792)، الأدب 68 (6084)، صحیح مسلم/النکاح 17 (1433)، سنن الترمذی/النکاح 27 (1118)، سنن النسائی/النکاح 43 (3285)، الطلاق 9 (3437)، 10 (3438)، 12 (3440)، (تحفة الأشراف: 16436)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/34، 37، 192، 226، 229)، سنن الدارمی/الطلاق 4 (2313) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ رَزِينٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ، فَيُطَلِّقُهَا، فَيَتَزَوَّجُهَا رَجُلٌ، فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا"، أَتَرْجِعُ إِلَى الْأَوَّلِ، قَالَ: " لَا حَتَّى يَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں ، جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے ، پھر دوسرا شخص اس سے شادی کرے اور دخول سے پہلے اسے طلاق دے ، تو کیا وہ پہلے شوہر کے پاس لوٹ سکتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں جب تک کہ دوسرا شوہر اس کا مزہ نہ چکھ لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1933]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الطلاق 12 (3443)، (تحفة الأشراف: 7083)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/25، 62، 85) (صحیح)
33: بَابُ : الْمُحَلِّلِ وَالْمُحَلَّلِ لَهُ
باب: حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر وارد وعید کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر لعنت کی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1934]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6098، ومصباح الزجاجة: 689) (صحیح) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف ہے، لیکن دوسرے طریق سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1897)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، وَمُجالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر لعنت کی ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1935]
💡 وضاحت:
۱؎: «محلل» (حلالہ کرنے والا) وہ شخص ہے جو طلاق دینے کی نیت سے مطلقہ ثلاثہ سے نکاح و مباشرت کرے اور «محلل لہ» (جس کے لیے حلالہ کیا جائے) سے پہلا شوہر مراد ہے جس نے تین طلاقیں دیں، یہ حدیث دلیل ہے کہ حلالہ کی نیت سے نکاح باطل اور حرام ہے کیونکہ لعنت حرام فعل ہی پر کی جاتی ہے، جمہور اس کی حرمت کے قائل ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2076) ترمذي (1119) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/النکاح 15 (2076، 2077)، سنن الترمذی/النکاح 27 (1119)، (تحفة الأشراف: 10034)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/83، 87، 107، 121، 150، 158) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ: قَالَ لِي أَبُو مُصْعَبٍ مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " هُوَ الْمُحَلِّلُ، لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تم کو «مستعار» ( مانگے ہوئے ) بکرے کے بارے میں نہ بتاؤں “ ؟ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ضرور بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ حلالہ کرنے والا ہے ، اللہ نے حلالہ کرنے اور کرانے والے دونوں پر لعنت کی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1936]
💡 وضاحت:
۱؎: شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس باب میں «إقامة الدليل على إبطال التحليل» نامی کتاب تصنیف فرمائی ہے، علامہ ابن القیم فرماتے ہیں: نکاح حلالہ کسی ملت میں مباح نہیں ہوا، اور نہ اسے کسی صحابی نے کیا اور نہ اس کا فتوی دیا، افسوس ہے اس زمانہ میں لوگ حلالہ کا نکاح کرتے ہیں، اور وہ عورت جو حلالہ کراتی ہے گویا دو آدمیوں سے زنا کراتی ہے، ایک حلالہ کرنے والے سے، دوسرے پھر اپنے پہلے شوہر سے، اللہ تعالی اس آفت سے پناہ میں رکھے۔ آمین
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9968، ومصباح الزجاجة: 690) (حسن) (ابو مصعب میں کلام ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 6/ 309- 310)
34: بَابُ : يَحْرُمُ مِنَ الرِّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ
باب: رضاعت (دودھ پلانے) سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ الَحَجَّاجٍ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رضاعت سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1937]
💡 وضاحت:
۱؎: جیسے ماں بہن وغیرہ، لیکن رضاعت میں چار عورتیں حرام نہیں ہیں جو نسب میں حرام ہیں: ۱- ایک تو اپنے بھائی کی رضاعی ماں جب کہ بھائی کی نسبی ماں حرام ہے، اس لئے کہ وہ یا تو اپنی بھی ماں ہوگی یا باپ کی بیوی ہوگی، اس لئے کہ وہ بہو ہوگی، اور دونوں محرم ہیں، ۲- دوسرے پوتے یا نواسے کی رضاعی ماں جب کہ پوتے یا نواسے کی نسبی ماں حرام ہوگی اس لئے کہ وہ بہو ہوگی یا بیٹی،۳- تیسری اپنی اولاد کی رضاعی نانی یا دادی جب کہ اولاد کی نسبی نانی یا دادی حرام ہے، کیونکہ وہ اپنی ساس ہوگی یا ماں،۴- چوتھی اپنی اولاد کی رضاعی بہن جب کہ نسبی بہن اپنی اولاد کی حرام ہے کیونکہ وہ اپنی بیٹی ہوگی یا ربیبہ، اور بعض علماء نے مزید کچھ عورتوں کو بیان کیا ہے جو رضاع میں حرام نہیں ہیں جیسے چچا کی رضاعی ماں یا پھوپھی کی رضاعی ماں یا ماموں کی رضاعی ماں یا خالہ کی رضاعی ماں، مگر نسب میں یہ سب حرام ہیں، اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو رشتہ محرمات کی اس آیت میں مذکور ہے{حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ } [سورة النساء: 23] تک، وہ سب رضاع کی وجہ سے بھی محرم ہوجاتی ہیں،اور جن عورتوں کا اوپر بیان ہوا وہ اس آیت میں مذکور نہیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16369أ)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات 7 (6244) تفسیر سورة السجدة 9 (4792)، النکاح 22 (5103)، 117 (5239)، الأدب 93 (6156)، صحیح مسلم/الرضاع 2 (1445)، سنن ابی داود/النکاح 8 (2057)، سنن الترمذی/الرضاع 2 (1147)، سنن النسائی/النکاح 49 (3303)، موطا امام مالک/الرضاع 1 (3)، مسند احمد (6/194، 271)، سنن الدارمی/ النکاح 48 (2295) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى بِنْتِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ: " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کا مشورہ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ، اور رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1938]
💡 وضاحت:
۱؎: جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں سات ہیں۔ ۱- مائیں: ان میں ماں کی مائیں (نانیاں) اور ان کی دادیاں اور باپ کی مائیں (دادیاں پردادیاں) اور ان سے آگے تک) شامل ہیں۔ ۲- بیٹیاں: ان میں پوتیاں، نواسیاں، اور پوتیوں، اور نواسیوں کی بیٹیاں نیچے تک شامل ہیں، زنا سے پیدا ہونے والی لڑکی بیٹی میں شامل ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے، ائمہ ثلاثہ اسے بیٹی میں شامل کرتے ہیں، اور اس نکاح کو حرام سمجھتے ہیں، البتہ امام شافعی کہتے ہیں کہ وہ شرعی بیٹی نہیں ہے، پس جس طرح «يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ» (سورة النساء: 11) میں داخل نہیں ہے اور بالاجماع وہ وارث نہیں ہے اسی طرح وہ «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ» (سورة النساء: 23) والی آیت: «وَبَنَاتُكُمْ» میں داخل نہیں۔ ۳- بہنیں: حقیقی ہوں یا اخیافی (وہ بھائی بہن جن کے باپ الگ الگ اور ماں ایک ہو) یا علاتی (ماں کی طرف سے سوتیلا بھائی یا سوتیلی بہن)۔ ۴- پھوپھیاں: اس میں باپ کی سب مذکر اصول یعنی نانی دادی کی تینوں قسموں کی بہنیں شامل ہیں۔ ۵- خالائیں: اس میں ماں کی سب مونث اصول یعنی نانی دادی کی تینوں قسموں کی بہنیں شامل ہیں۔ ۶- بھتیجیاں: اس میں تینوں قسم کے بھائیوں کی اولاد بواسطہ اور بلاواسطہ (یا صلبی و فروعی) شامل ہیں۔ ۷- بھانجیاں اس میں تینوں قسموں کی بہنوں کی اولاد۔ مذکورہ بالا رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی یہ سارے رشتے حرام ہو جاتے ہیں۔ رضاعی محرمات کی بھی سات قسمیں ہیں: ۱- رضاعی مائیں ۲- رضاعی بیٹیاں ۳- رضاعی بہنیں ۴- رضاعی پھوپھیاں ۵- رضاعی خالائیں ۶- رضاعی بھتیجیاں ۷- رضاعی بھانجیاں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشہادات 7 (2645)، النکاح 20 (5100)، صحیح مسلم/الرضاع 3 (1447)، سنن النسائی/النکاح 50 (3307)، (تحفة الأشراف: 5378)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/275)، 290، 329، 339، 346) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوهُ.
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ میری بہن عزہ سے نکاح کر لیجئیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم اس کو پسند کرتی ہو “ ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، میں آپ کے پاس اکیلی نہیں ہوں ( کہ سوکن کا ہونا پسند نہ کروں ) خیر میں میرے ساتھ شریک ہونے کی سب سے زیادہ حقدار میری بہن ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ میرے لیے حلال نہیں ہے “ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم میں باتیں ہو رہی تھیں کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ام سلمہ کی بیٹی سے “ ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر وہ میری ربیبہ بھی نہ ہوتی تب بھی میرے لیے اس سے نکاح درست نہ ہوتا ، اس لیے کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ، مجھ کو اور اس کے والد ( ابوسلمہ ) کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا ، لہٰذا تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو مجھ پر نکاح کے لیے نہ پیش کیا کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1939]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ وہ میرے لئے جائز نہیں ہو سکتیں، اس لیے کہ دو بہنوں کو نکاح میں ایک ساتھ جمع کرنا جائز نہیں، اور بیٹیاں اس لئے کہ وہ میری ربیبہ ہوئیں، ربیبہ قرآن کی دلیل سے حرام ہے، ربیبہ وہ لڑکی ہے جو بیوی کے پہلے شوہر سے ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوهُ.
اس سند سے بھی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1939M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
35: بَابُ : لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلاَ الْمَصَّتَانِ
باب: ایک بار یا دو بار دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ حَدَّثَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَلَا الرَّضْعَتَانِ أَوِ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ".
ام الفضل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک یا دو بار دودھ پینے یا چوسنے سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت نہیں ہوتی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1940]
💡 وضاحت:
۱؎: جب بچہ ماں کی چھاتی کو منہ میں لے کر چوستا ہے پھر بغیر کسی عارضہ کے اپنی مرضی و خوشی سے چھاتی کو چھوڑ دیتا ہے تو اسے «رَضْعَۃٌ» کہتے ہیں، اور «مصّۃ» : «مصّ» سے ماخوذ ہے جس کے معنی چوسنے کے ہیں، «مصۃ» اور «رَضْعَۃٌ» دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ رضاعت کا حکم کتنا دودھ پینے سے ثابت ہوتا ہے اس میں اختلاف ہے، جمہور کا قول ہے کہ یہ حکم تھوڑا دودھ پیا ہو یا زیادہ دونوں صورتوں میں ثابت ہو جاتا ہے، داود ظاہری اور ایک قول کے مطابق احمد، اسحاق راہویہ، ابوعبید وغیرہم نے اس حدیث کے مفہوم مخالف (یعنی دو بار پینے یا چوسنے سے حرمت نہیں ثابت ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تین بار ایسا کرنے سے حرمت ثابت ہو جائیگی) سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ رضاعت کا حکم تین مرتبہ پینے سے ثابت ہوتا ہے دو دفعہ پینے سے نہیں، اور امام شافعی کہتے ہیں کہ پانچ مرتبہ پینے سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت ہوتی ہے ان کی دلیل ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے جو آگے آ رہی ہے، جمہور کی دلیل آیت کریمہ: «امهاتكم اللآتى ارضعنكم» ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الرضاع 5 (1451)، سنن النسائی/النکاح 51 (3310)، (تحفة الأشراف: 18051)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/339، 340)، سنن الدارمی/النکاح 49 (2298) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک یا دو بار دودھ چوسنے سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت نہیں ہوتی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1941]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الرضاع 5 (1450)، سنن ابی داود/النکاح 11 (2063)، سنن الترمذی/الرضاع 3 (1150)، سنن النسائی/النکاح 51 (3312)، (تحفة الأشراف: 16189)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/31، 96، 216، 247)، سنن الدارمی/النکاح 49 (2297) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ فِيمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ سَقَطَ لَا يُحَرِّمُ إِلَّا عَشْرُ رَضَعَاتٍ، أَوْ خَمْسٌ مَعْلُومَاتٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پہلے قرآن میں یہ آیت تھی ، پھر وہ ساقط و منسوخ ہو گئی ، وہ آیت یہ ہے «لا يحرم إلا عشر رضعات أو خمس معلومات» دس یا پانچ مقرر رضاعتوں کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت ہوتی ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1942]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ قرآن مجید میں یہ حکم نازل کیا گیا تھا کہ دس بار دودھ پینا حتی کہ اس کے پینے کا یقین ہو جائے، نکاح کو حرام قرار دیتا ہے، پھر پانچ بار دودھ پینے کے حکم سے یہ حکم منسوخ کر دیا گیا، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو خمس معلومات (یعنی پانچ بار دودھ پینے) والی آیت قرآن میں پڑھی جا رہی تھی، امام نووی کہتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ پانچ کی تعداد کا نسخ اتنی تاخیر سے ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا واقعہ پیش آ گیا اور بعض لوگ پھر بھی ان پانچ کی تعداد کو قرآن سمجھ کر اس کی تلاوت کرتے رہے کیونکہ آپ کی وفات کے بالکل ساتھ ہی ان کا منسوخ ہونا نازل ہوا تھا۔ مزید فرمایا کہ نسخ کی تین قسمیں ہیں، ایک جس کا حکم اور تلاوت دونوں منسوخ ہو جیسے دس مرتبہ دودھ پینے والی آیت، دوسری جس کی تلاوت تو منسوخ ہو مگر اس کا حکم باقی ہو جیسے پانچ مرتبہ دودھ پینے کی آیت، اور آیت رجم، اور تیسری یہ کہ جس کا حکم تو منسوخ ہو مگر اس کی تلاوت باقی ہو جیسے آیت وصیت وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17911)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الرضاع 6 (1452)، ولفظہ أصح، سنن ابی داود/النکاح 11 (2062)، سنن الترمذی/الرضاع 3 (1150)، سنن النسائی/النکاح 51 (3309)، موطا امام مالک/الرضاع 3 (17)، مسند احمد (6/269)، سنن الدارمی/النکاح 49 (2299) (صحیح)
36: بَابُ : رِضَاعِ الْكَبِيرِ
باب: بڑے آدمی کے دودھ پینے سے حرمت کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ الْكَرَاهِيَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْضِعِيهِ"، قَالَتْ: كَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ؟ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ" فَفَعَلَتْ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا أَكْرَهُهُ بَعْدُ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! سالم کے ہمارے پاس آنے جانے کی وجہ سے میں ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرہ پر ناگواری محسوس کرتی ہوں ، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سالم کو دودھ پلا دو “ ، انہوں نے کہا : میں انہیں دودھ کیسے پلاؤں گی وہ بڑی عمر کے ہیں ؟ ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا : ” مجھے معلوم ہے کہ وہ بڑی عمر کے ہیں “ ، آخر سہلہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا : میں نے ابوحذیفہ کے چہرے پر اس کے بعد کوئی ایسی بات محسوس نہیں کی جسے میں ناپسند کروں ، اور ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1943]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الرضاع 7 (1453)، سنن النسائی/النکاح 53 (3321)، (تحفة الأشراف: 17484)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح 10 (2061)، موطا امام مالک/الرضاع 2 (12)، مسند احمد (6/255، 271)، سنن الدارمی/النکاح 52 (2303) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَقَدْ نَزَلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ، وَرَضَاعَةُ الْكَبِيرِ عَشْرًا وَلَقَدْ كَانَ فِي صَحِيفَةٍ تَحْتَ سَرِيرِي، فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَشَاغَلْنَا بِمَوْتِهِ دَخَلَ دَاجِنٌ فَأَكَلَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رجم کی آیت اور بڑی عمر کے آدمی کو دس بار دودھ پلا دینے کی آیت اتری ، اور یہ دونوں آیتیں ایک کاغذ پہ لکھی ہوئی میرے تخت کے نیچے تھیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ، اور ہم آپ کی وفات میں مشغول تھے ایک بکری آئی اور وہ کاغذ کھا گئی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1944]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الرضاع 7 (1452)، سنن ابی داود/النکاح 11 (2062)، سنن الترمذی/الرضاع 3 (1150)، سنن النسائی/النکاح 51 (3309)، (تحفة الأشراف: 17897)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الرضاع 3 (17)، مسند احمد (6/269)، سنن الدارمی/النکاح 49 (2299) (حسن)
37: بَابُ : لاَ رِضَاعَ بَعْدَ فِصَالٍ
باب: دودھ چھٹنے کے بعد پھر رضاعت ثابت نہیں ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ، فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟"، قَالَتْ: هَذَا أَخِي، قَالَ: " انْظُرُوا مَنْ تُدْخِلْنَ عَلَيْكُنَّ، فَإِنَّ الرَّضَاعَةَ مِنَ الْمَجَاعَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے ، اور اس وقت ایک شخص ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ” یہ کون ہیں “ ؟ انہوں نے کہا : یہ میرے بھائی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیکھو جن لوگوں کو تم اپنے پاس آنے دیتی ہو انہیں اچھی طرح دیکھ لو ( کہ ان سے واقعی تمہارا رضاعی رشتہ ہے یا نہیں ) حرمت تو اسی رضاعت سے ثابت ہوتی ہے جو بچپن کی ہو جس وقت دودھ ہی غذا ہوتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1945]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشہادات 7 (2647)، الخمس 4 (3105)، النکاح 22 (5102)، صحیح مسلم/الرضاع 8 (1455)، سنن ابی داود/النکاح 9 (2058)، سنن النسائی/النکاح 51 (2314)، (تحفة الأشراف: 17658)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/94، 138، 174، 241)، سنن الدارمی/النکاح 52 (2302) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رضاعت معتبر نہیں ہے مگر وہ جو آنتوں کو پھاڑ دے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1946]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جو کم سنی میں دو برس کے اندر ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5282، ومصباح الزجاجة: 691) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں، لیکن حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 2150)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، وَعُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، عَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: " أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهُنَّ خَالَفْنَ عَائِشَةَ وَأَبَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ أَحَدٌ بِمِثْلِ رَضَاعَةِ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ"، وَقُلْنَ: وَمَا يُدْرِينَا لَعَلَّ ذَلِكَ كَانَتْ رُخْصَةً لِسَالِمٍ وَحْدَهُ.
زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری بیویوں نے اس مسئلہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی مخالفت کی ، اور انہوں نے انکار کیا کہ سالم مولی ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ جیسی رضاعت کوئی کر کے ان کے پاس آئے جائے ، اور انہوں نے کہا : ہمیں کیا معلوم شاید یہ صرف سالم کے لیے رخصت ہو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1947]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الرضاع 7 (1454)، سنن النسائی/النکاح 53 (3327)، (تحفة الأشراف: 18274) (صحیح)
38: بَابُ : لَبَنِ الْفَحْلِ
باب: دودھ مرد کی طرف سے ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَتَانِي عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي قُعَيْسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ بَعْدَ مَا ضُرِبَ الْحِجَابُ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّهُ عَمُّكِ، فَأْذَنِي لَهُ"، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: " تَرِبَتْ يَدَاكِ، أَوْ يَمِينُكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا افلح بن ابی قیس میرے پاس آئے اور اندر آنے کی اجازت چاہی ، یہ اس وقت کا ذکر ہے جب حجاب ( پردے ) کا حکم اتر چکا تھا ، میں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے ، اور فرمایا : ” یہ تمہارے چچا ہیں ان کو اجازت دو “ ، میں نے کہا : مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں ! ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے دونوں ہاتھ یا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1948]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ہر چند بچہ عورت کا دودھ پیتا ہے،مگر اس کا شوہر بچے کا باپ ہو جاتا ہے، کیونکہ عورت کا دودھ اسی مرد کی وجہ سے ہوتا ہے، اب اس مرد کا بھائی بچہ کا چچا ہو گا، اور نسبی چچا کی طرح وہ بھی محرم ہو گا۔
۲؎: جب کوئی شخص نادانی کی بات کہتا ہے تو یہ کلمہ اس موقعے پر اس پر افسوس کے اظہار کے لیے کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الرضاع 1 (1444)، سنن النسائی/النکاح 52 (3319)، (تحفة الأشراف: 16443، 16926)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات 7 (2644)، تفسیر سورة السجدة 9 (4796)، النکاح 23 (5103)، موطا امام مالک/الرضاع 1 (3)، مسند احمد (6/178) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ عَمُّكِ"، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: " إِنَّهُ عَمُّكِ، فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے ، تو میں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کر دیا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے چچا کو اپنے پاس آنے دو “ ، میں نے کہا : مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں ! ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تمہارے چچا ہیں انہیں اپنے پاس آنے دو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1949]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح 1 (1445)، سنن الترمذی/الرضاع 2 (1148)، (تحفة الأشراف: 16982) (صحیح)
39: بَابُ : الرَّجُلِ يُسْلِمُ وَعِنْدَهُ أُخْتَانِ
باب: آدمی اگر اسلام لائے اور اس کے نکاح میں دو سگی بہنیں ہوں تو کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِي خِرَاشٍ الرُّعَيْنِيِّ ، عَنْ الدَّيْلَمِيِّ ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي أُخْتَانِ تَزَوَّجْتُهُمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَال: " إِذَا رَجَعْتَ، فَطَلِّقْ إِحْدَاهُمَا".
دیلمی ( فیروز دیلمی ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں جن سے میں نے زمانہ جاہلیت میں شادی کی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم گھر واپس جاؤ تو ان میں سے ایک کو طلاق دے دو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1950]
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطلاق 25 (2243)، سنن الترمذی/النکاح 33 (1129)، (تحفة الأشراف: 11061)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/232) (حسن) (اسحاق بن عبد اللہ ضعیف و متروک الحدیث ہے، لیکن آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ الضَّحَّاكَ بْنَ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي: " طَلِّقْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ".
فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میرے نکاح میں دو سگی بہنیں ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1951]
💡 وضاحت:
۱؎: جمہور علماء کا یہی قول ہے، اس لئے کہ جاہلیت میں ان دونوں کا نکاح صحیح ہو گیا تھا۔ اب جب اسلام لایا تو گویا ایسا ہوا کہ دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کیا،نیز کفر کے نکاح قائم رہیں گے اگر شرع کے خلاف نہ ہوں، گو ان نکاحوں میں ہماری شرع کے موافق شرطیں نہ ہوں جیسے گواہ یا ولی وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (حسن) (سند میں ابن لہیعہ ہیں، اور ابن وہب کی ان سے روایت صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 6 /334- 335 و صحیح أبی داو د: 1940)
40: بَابُ : الرَّجُلِ يُسْلِمُ وَعِنْدَهُ أَكْثَرُ مِنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ
باب: آدمی اگر اسلام لائے اور اس کے نکاح میں چار سے زائد عورتیں ہوں تو کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُمَيْضَةَ بِنْتِ الشَّمَرْدَلِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي ثَمَانِ نِسْوَةٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا".
قیس بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کیا ، اور میرے پاس آٹھ عورتیں تھیں ، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان میں سے چار کا انتخاب کر لو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1952]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمانہ کفر کا نکاح معتبر ہو گا اگر میاں بیوی دونوں اسلام قبول کر لیں تو ان کا سابقہ نکاح برقرار رہے گا، تجدید نکاح کی ضرورت نہیں ہو گی، یہی امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کا مذہب ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جدائی کے وقت ترتیب نکاح غیر موثر ہے، مرد کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ پہلی بیوی کو روک رکھے بلکہ اسے اختیار ہے جسے چاہے روک لے اور جسے چاہے جدا کر دے، یہ حدیث اور اس کے بعد والی حدیثیں حنفیہ کے خلاف حجت ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2241،2242) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطلاق 25 (2241، 2242)، (تحفة الأشراف: 11089) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ أَسْلَمَ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان میں سے چار کو رکھو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1953]
💡 وضاحت:
۱؎: اس باب کی دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے لیے چار سے زائد بیویاں ایک ہی وقت میں رکھنا حرام ہے، لیکن اس حکم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی مستثنیٰ ہے، آپ کے حرم میں بیک وقت نو بیویاں تھیں، یہ رعایت خاص آپ کے لیے تھی، اور اس میں بہت سی دینی اور سیاسی مصلحتیں کار فرما تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہیں، غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ ثقیف کے سرداروں میں سے تھے، فتح طائف کے بعد انھوں نے اسلام قبول کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/النکاح 32 (1128)، (تحفة الأشراف: 6949)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 29 (76)، مسند احمد (2/13، 14، 44، 183) (صحیح)
41: بَابُ : الشَّرْطِ فِي النِّكَاحِ
باب: نکاح میں شرط کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَحَقَّ الشَّرْطِ أَنْ يُوفَى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے زیادہ پوری کی جانے کی مستحق شرط وہ ہے جس کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1954]
💡 وضاحت:
۱؎: شرط سے مراد وہ شرط ہے جس پر عورت سے نکاح کیا، اس حدیث کی روشنی میں مرد نکاح کے وقت جو شرطیں مقرر کرے ان کو پورا کرنا واجب ہے، گو وہ شرطیں کسی قسم کی ہوں، اور بعضوں نے کہا: مراد وہ شرطیں ہیں جو مہر کے متعلق ہوں، یا نکاح سے، اور جو دوسری شرطیں ہوں جیسے یہ کہ عورت کو اس کے گھر سے نہ نکالے گا، یا اس کے ملک سے نہ لے جائے گا، یا اس کے اوپر دوسرا نکاح نہ کرے گا، تو ایسی شرطوں کا پورا کرنا شوہر پر واجب نہیں ہے، لیکن اگر اس نے ان شرطوں پر قسم کھائی ہو، اور ان کے خلاف کرے، تو قسم کا کفارہ لازم ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشروط 6 (2721)، النکاح 53 (5151)، صحیح مسلم/النکاح 8 (1418)، سنن ابی داود/النکاح 40 (2139)، سنن الترمذی/النکاح 22 (1127)، سنن النسائی/النکاح 42 (3283)، (تحفة الأشراف: 9953)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/144، 150، 152)، سنن الدارمی/النکاح 21 (2249) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا كَانَ مِنْ صَدَاقٍ، أَوْ حِبَاءٍ، أَوْ هِبَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ، أَوْ حُبِيَ وَأَحَقُّ مَا يُكْرَمُ الرَّجُلُ بِهِ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہر یا عطیہ یا ہبہ میں سے جو نکاح ہونے سے پہلے ہو وہ عورت کا حق ہے ، اور جو نکاح کے بعد ہو تو وہ اس کا حق ہے ، جس کو دیا جائے یا عطا کیا جائے ، اور مرد سب سے زیادہ جس چیز کی وجہ سے اپنے اعزاز و اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1955]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/النکاح 36 (2129)، سنن النسائی/النکاح 67 (3355)، (تحفة الأشراف: 8745)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/182) (ضعیف) (سند میں ابن جریج مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
42: بَابُ : الرَّجُلِ يَعْتِقُ أَمَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا
باب: آدمی لونڈی کو آزاد کرے پھر اس سے شادی کر لے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ، فَأَدَّبَهَا، فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا وَعَلَّمَهَا، فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ، وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ مَمْلُوكٍ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ عَلَيْهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ، فَلَهُ أَجْرَانِ"، قَالَ صَالِحٌ، قَالَ الشَّعْبِيُّ: قَدْ أَعْطَيْتُكَهَا بِغَيْرِ شَيْءٍ إِنْ كَانَ الرَّاكِبُ لَيَرْكَبُ فِيمَا دُونَهَا إِلَى الْمَدِينَةِ.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس لونڈی ہو وہ اس کو اچھی طرح ادب سکھائے ، اور اچھی طرح تعلیم دے ، پھر اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے ، تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے ، اور اہل کتاب میں سے جو شخص اپنے نبی پر ایمان لایا ، پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا ، تو اسے دوہرا اجر ملے گا ، اور جو غلام اللہ کا حق ادا کرے ، اور اپنے مالک کا حق بھی ادا کرے ، تو اس کو دوہرا اجر ہے “ ۱؎ ۔ شعبی نے صالح سے کہا : ہم نے یہ حدیث تم کو مفت سنا دی ، اس سے معمولی حدیث کے لیے آدمی مدینہ تک سوار ہو کر جایا کرتا تھا ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1956]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایک اجر اس کے آزاد کرنے کا، اور دوسرا اجر اس کی تعلیم یا نکاح کا، اب اہل حدیث کا قول یہ ہے کہ اپنی لونڈی کو آزاد کرے اور اسی آزادی کو مہر مقرر کر کے اس سے نکاح کر لے تو جائز ہے۔
۲؎: امام شعبی (عامر بن شراحیل) کوفہ میں تھے، ان کے عہد میں کوفہ سے مدینہ تک دو ماہ کا سفر تھا، مطلب یہ ہے کہ ایک ایک حدیث سننے کے لئے محدثین کرام دو دو مہینے کا سفر کرتے تھے، سبحان اللہ، اگلے لوگوں کو اللہ بخشے اگر وہ ایسی محنتیں نہ کرتے تو ہم تک دین کیوں کر پہنچتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 31 (97)، العتق 14 (2544)، 16 (2547)، الجہاد 154 (3011)، الأنبیاء 47 (3446)، النکاح 13 (5083)، صحیح مسلم/الإیمان 70 (154)، سنن الترمذی/النکاح 24 (1116)، سنن النسائی/النکاح 65 (3346)، (تحفة الأشراف: 9107)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح 6 (2053)، حم (4/395، 398، 414، 415)، سنن الدارمی/النکاح46 (2290) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ، فَتَزَوَّجَهَا، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا"، قَالَ حَمَّادٌ، فَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ لِثَابِتٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْهَرَهَا؟، قَالَ: أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پہلے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئیں ، تو آپ نے ان سے شادی کی ، اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر بنایا ۱؎ ۔ حماد کہتے ہیں کہ عبدالعزیز نے ثابت سے پوچھا : اے ابومحمد ! کیا آپ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( صفیہ ) کا مہر کیا مقرر کیا تھا ؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا تھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1957]
💡 وضاحت:
۱؎: صفیہ رضی اللہ عنہا ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے تھیں، اور یہودیوں کے بادشاہ حی بن اخطب کی بیٹی تھیں، اس لئے مسلمانوں کے سردار کے پاس ان کا رہنا مناسب تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الخوف 6 (947)، النکاح 14 (5086)، صحیح مسلم/النکاح 14 (1365)، الجہاد 43 (1365)، سنن ابی داود/الخراج 21 (2996)، سنن النسائی/النکاح 79 (3344)، (تحفة الأشراف: 291، 1017، 1018)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/99، 138، 165، 170، 181)، سنن الدارمی/النکاح 45 (2288، 2289) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حُبَيْشُ بْنُ مُبَشِّرٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا وَتَزَوَّجَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا ، اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر مقرر کر کے ان سے شادی کر لی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1958]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17405، ومصباح الزجاجة: 690) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
43: بَابُ : تَزْوِيجِ الْعَبْدِ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ
باب: غلام کا نکاح مالک کی اجازت کے بغیر ناجائز ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ كَانَ عَاهِرًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو وہ زانی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1959]
💡 وضاحت:
۱؎: جابر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ نکاح باطل ہے، اسی وجہ سے اس حدیث میں اسے زانی کہا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن عقيل: ضعيف ¤ وللحديث شواهد ضعيفة عند ابن ماجه(1960) وأبي داود (2078) وغيرھما ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7286، ومصباح الزجاجة: 693)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح 17 (2078)، سنن الترمذی/النکاح 20 (1111)، مسند احمد (3/301، 377، 383)، سنن الدارمی/النکاح 40 (2279) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا مَنْدَلٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَهُوَ زَانٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس غلام نے اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا ، تو وہ زانی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1960]
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ مندل: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8508، ومصباح الزجاجة: 694) (حسن) (سند میں مندل ضعیف راوی ہے، سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے)
44: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ
باب: نکاح متعہ منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْحَسَنِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے سے ، اور پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1961]
💡 وضاحت:
۱؎: متعہ: کسی عورت سے ایک متعین مدت تک کے لیے نکاح کرنے کو متعہ کہتے ہیں، جب مقررہ مدت پوری ہو جاتی ہے تو ان کے درمیان خودبخود جدائی ہو جاتی ہے، متعہ دو مرتبہ حرام ہوا اور دو ہی مرتبہ مباح و جائز ہوا، چنانچہ یہ غزوہ خیبر سے پہلے حلال تھا پھر اسے غزوہ خیبر کے موقع پر حرام کیا گیا، پھر اسے فتح مکہ کے موقع پر مباح کیا گیا اور عام اوطاس بھی اسی کو کہتے ہیں اس کے بعد یہ ہمیشہ ہمیش کے لیے حرام کر دیا گیا جیسا کہ امام نووی نے بیان فرمایا ہے۔ لیکن علامہ ابن القیم کی رائے یہ ہے کہ متعہ غزوہ خیبر کے موقع پر حرام نہیں کیا گیا بلکہ اس کی حرمت فتح مکہ کے سال ہوئی، اور یہی رائے صحیح ہے، اس سے پہلے مباح و جائز تھا، اور علی رضی اللہ عنہ نے متعہ کی حرمت اور گھریلو گدھے کی حرمت کو جو ایک ساتھ جمع کر دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ان دونوں کو مباح و جائز سمجھتے تھے تو علی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں کی تحریم ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تردید میں بیان کی ہے، اور پالتو گدھے کی حرمت غزوہ خیبر میں ہوئی تھی، اور اس کی تحریم کے لیے غزوہ خیبر کے دن کو بطور ظرف ذکر کیا ہے، اور تحریم متعہ کو مطلق بیان کیا ہے، صحیح سند سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھے کو حرام قرار دیا، نیز عورتوں سے متعہ کو بھی حرام کیا، اور ایک روایت میں «حرم متعة النساء وحرم لحوم الحمر الأهلية» کے الفاظ بھی ہیں جس سے بعض راویوں نے یہ سمجھا کہ ان دونوں کو خیبر کے روز ہی حرام کیا گیا تھا، تو انھوں نے دونوں کو خیبر کے روز ہی سے مقید کر دیا، اور بعض راویوں نے ایک کی تحریم پر اقتصار کیا اور وہ ہے گھریلو گدھے کی تحریم، یہیں سے وہم ہوا کہ دونوں کی تحریم غزوہ خیبر کے موقع پر ہوئی، رہا خیبر کا قصہ تو اس روز نہ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہودی عورتوں سے متعہ کیا، اور نہ ہی اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انھوں نے اجازت طلب کی اور نہ ہی کسی نے کبھی اس غزوہ میں اس کو نقل کیا ہے اور نہ اس متعہ کے فعل یا اس کی تحریم کا حتمی ذکر ہے بخلاف فتح مکہ کے، فتح مکہ کے موقع پر متعہ کے فعل اور اس کی تحریم کا ذکر مشہور ہے اور اس کی روایت صحیح ترین روایت ہے۔ (ملاحظہ ہو: زاد المعاد)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 38 (4216)، النکاح 31 (5115)، الذبائح 28 (5523)، الحیل 4 (6961)، صحیح مسلم/النکاح 3 (1407)، الصید 5 (1407)، سنن الترمذی/النکاح 28 (1121)، الأطعمة 6 (1794)، سنن النسائی/النکاح 71 (3367)، الصید 31 (4339)، (تحفة الأشراف: 10263)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 18 (41)، مسند احمد (1/79، 103، 142)، سنن الدارمی/النکاح 16 (2243) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْعُزْبَةَ قَدِ اشْتَدَّتْ عَلَيْنَا، قَالَ: فَاسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ فَأَتَيْنَاهُنَّ فَأَبَيْنَ أَنْ يَنْكِحْنَنَا، إِلَّا أَنْ نَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا"، فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي مَعَهُ بُرْدٌ وَمَعِي بُرْدٌ وَبُرْدُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدِي، وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ، فَأَتَيْنَا عَلَى امْرَأَةٍ، فَقَالَتْ: بُرْدٌ كَبُرْدٍ، فَتَزَوَّجْتُهَا فَمَكَثْتُ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ غَدَوْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ، وَهُوَ يَقُولُ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ أَلَا، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ، فَلْيُخْلِ سَبِيلَهَا وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا".
سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے ، تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! عورت کے بغیر رہنا ہمیں گراں گزر رہا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان عورتوں سے متعہ کر لو “ ، ہم ان عورتوں کے پاس گئے وہ نہیں مانیں ، اور کہنے لگیں کہ ہم سے ایک معین مدت تک کے لیے نکاح کرو ، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے اور ان کے درمیان ایک مدت مقرر کر لو “ چنانچہ میں اور میرا ایک چچا زاد بھائی دونوں چلے ، اس کے پاس ایک چادر تھی ، اور میرے پاس بھی ایک چادر تھی ، لیکن اس کی چادر میری چادر سے اچھی تھی ، اور میں اس کی نسبت زیادہ جوان تھا ، پھر ہم دونوں ایک عورت کے پاس آئے تو اس نے کہا : چادر تو چادر کی ہی طرح ہے ( پھر وہ میری طرف مائل ہو گئی ) چنانچہ میں نے اس سے نکاح ( متعہ ) کر لیا ، اور اس رات اسی کے پاس رہا ، صبح کو میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن ( حجر اسود ) اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے فرما رہے تھے : ” اے لوگو ! میں نے تم کو متعہ کی اجازت دی تھی لیکن سن لو ! اللہ نے اس کو قیامت تک کے لیے حرام قرار دے دیا ہے ، اب جس کے پاس متعہ والی عورتوں میں سے کوئی عورت ہو تو اس کو چھوڑ دے ، اور جو کچھ اس کو دے چکا ہے اسے واپس نہ لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1962]
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله حجة الوداع والصواب يوم الفتح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح 3 (1406)، سنن ابی داود/النکاح 14 (2072)، سنن النسائی/النکاح 71 (3370)، (تحفة الأشراف: 3809)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/404، 405)، سنن الدارمی/النکاح 16 (2242) (صحیح) (حجة الوداع کا لفظ صحیح نہیں ہے، صحیح یوم الفتح ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَمَّا وَلِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا، ثُمَّ حَرَّمَهَا، وَاللَّهِ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَمَتَّعَ وَهُوَ مُحْصَنٌ إِلَّا رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ، إِلَّا أَنْ يَأْتِيَنِي بِأَرْبَعَةٍ يَشْهَدُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَحَلَّهَا بَعْدَ إِذْ حَرَّمَهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے ، تو انہوں نے خطبہ دیا اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو تین بار متعہ کی اجازت دی پھر اسے حرام قرار دیا ، قسم ہے اللہ کی اگر میں کسی کے بارے میں جانوں گا کہ وہ شادی شدہ ہوتے ہوئے متعہ کرتا ہے تو میں اسے پتھروں سے رجم کر دوں گا ، مگر یہ کہ وہ چار گواہ لائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دینے کے بعد حلال کیا تھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1963]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10576، ومصباح الزجاجة: 695) (حسن)
45: بَابُ : الْمُحْرِمِ يَتَزَوَّجُ
باب: حالت احرام میں نکاح کا حکم۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو فَزَارَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلَالٌ، قَالَ: " وَكَانَتْ خَالَتِي وَخَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ".
ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی ، اور آپ اس وقت حلال تھے ۔ یزید بن اصم کہتے ہیں کہ میمونہ رضی اللہ عنہا میری بھی خالہ تھیں ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1964]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح 5 (1411)، سنن ابی داود/المناسک 39 (1843)، سنن الترمذی/الحج 24 (1845)، (تحفة الأشراف: 18082)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/333، 335)، سنن الدارمی/المناسک 21 (1865) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيِّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ وَهُوَ مُحْرِمٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میمونہ رضی اللہ عنہا سے ) حالت احرام میں نکاح کیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1965]
💡 وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی سابقہ حدیث کی معارض ہے، اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کو وہم ہوا ہے کیونکہ یہ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی روایت کی مخالف ہے، فرد واحد کی طرف وہم کی نسبت جماعت کی طرف وہم کی نسبت سے زیادہ قریب ہے، خود صاحب قصہ ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کا اور ان کے وکیل ابورافع رضی اللہ عنہ جو ان کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان سفارت کے فرائض انجام دے رہے تھے کا بیان اس کے خلاف ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول: «وهو محرم» کی ایک تاویل یہ بھی کی جاتی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدود حرم میں تھے، اور اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، تو پھر اسے آپ کی خصوصیت پر محمول کیا جائے گا، عثمان رضی اللہ عنہ کی آگے آنے والی حدیث میں ایک کلی قانون کا بیان ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کی حکایت ہے جس میں بہت سارے احتمالات موجود ہیں۔
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 12 (1837)، المغازي 43 (4258)، النکاح 30 (5114)، صحیح مسلم/النکاح 5 (1410)، سنن ابی داود/الحج 39 (1844)، سنن الترمذی/الحج 24 (843)، سنن النسائی/الحج 90 (2843)، النکاح 37 (3273)، (تحفة الأشراف: 5376)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/22، 245، 266، 270، 283، 285، 286، 324، 330، 333، 336، 346، 351، 354، 360، 361)، سنن الدارمی/المناسک 21 (1863) (صحیح) (لیکن یہ شاذ ہے، اس لیے کہ اوپر کی میمونہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ یہ شادی احرام سے باہر حلت کے ایام میں ہوئی تھی، اور یہ صاحب معاملہ کا بیان ہے، تو ان کی بات زیادہ لائق اعتماد ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے علم کی بناء پر ایسا کہا تھا، جو خلاف واقعہ بات ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْه بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُحْرِمُ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكِحُ وَلَا يَخْطُبُ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” محرم نہ تو اپنا نکاح کرے ، اور نہ دوسرے کا نکاح کرائے ، اور نہ ہی شادی کا پیغام دے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1966]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح 5 (1409)، سنن ابی داود/الحج 39 (1841، 1842)، سنن الترمذی/الحج 23 (840)، سنن النسائی/الحج 91 (2845)، النکاح 38 (3277)، (تحفة الأشراف: 9776)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 22 (70)، حم1/57، 64، 69، 73، سنن الدارمی/المناسک 21 (1864)، النکاح 17 (2244) (صحیح)
46: بَابُ : الأَكْفَاءِ
باب: (شادی میں) کفو کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابُورَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْصَارِيُّ أَخُو فُلَيْحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ ابْنِ وَثِيمَةَ النَّصْرِيّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ خُلُقَهُ وَدِينَهُ، فَزَوِّجُوهُ إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کا پیغام آئے جس کے دین اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس سے شادی کر دو ، اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ پھیلے گا اور بڑی خرابی ہو گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1967]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ «کفو» کا اعتبار صرف دین اور اخلاق میں کیا جائے گا، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ چار چیزوں (دین، نسب آزادی اور پیشہ و صنعت میں) معتبر ہے، لیکن پہلا قول راجح ہے،اور اس کے قابل ترجیح ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1084) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/النکاح 3 (1084)، (تحفة الأشراف: 15485) (حسن) (سند میں عبد الحمید ضعیف راوی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1868، لیکن متابعت کی وجہ سے حسن ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَعْفَرِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَخَيَّرُوا لِنُطَفِكُمْ، وَانْكِحُوا الْأَكْفَاءَ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے نطفوں کے لیے نیک عورت کا انتخاب کرو ، اور اپنے برابر والوں سے نکاح کرو ، اور انہیں کو اپنی بیٹیوں کے نکاح کا پیغام دو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1968]
💡 وضاحت:
۱؎: «اکفاء» «کفو» کی جمع ہے، کاف کے ضمہ اور خاء کے سکون کے ساتھ اس کے معنی مثل، نظیر اور ہمسر کے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدا منكر ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16784، ومصباح الزجاجة: 696) (حسن) (سند میں الحارث الجعفری ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: 1067)
47: بَابُ : الْقِسْمَةِ بَيْنَ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ مَعَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور ایک کو چھوڑ کر دوسری کی طرف مائل رہے ، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک دھڑ گرا ہوا ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1969]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف سنن أبي داود (2133) ترمذي (1141) نسائي (3394) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/النکاح 39 (2133)، سنن الترمذی/النکاح 41 (1141)، سنن النسائی/عشرةالنساء 2 (3394)، (تحفة الأشراف: 12213)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/347، 471)، سنن الدارمی/النکاح 24 (2252) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1970]
💡 وضاحت:
۱؎: جس عورت کا نام قرعہ میں نکلتا اس کو سفر میں اپنے ساتھ لے جاتے، باقی عورتوں کو مدینہ میں چھوڑ جاتے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال انصاف تھا، ورنہ علماء نے کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیویوں کے درمیان تقسیم ایام واجب نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار دے دیا تھا کہ جس عورت کے پاس چاہیں رہیں: «تُرْجِي مَن تَشَاء مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاء» (سورة الأحزاب: 51) ان میں سے جسے چاہیں دور رکھیں اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16678)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الھبة 15 (2593)، النکاح 97 (5092)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2445)، سنن ابی داود/النکاح 39 (2138)، مسند احمد (6/117، 151، 197، 269)، سنن الدارمی/الجہاد 31 (2467) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَيَعْدِلُ ثُمَّ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان باری مقرر کرتے ، اور باری میں انصاف کرتے ، پھر فرماتے تھے : ” اے اللہ ! یہ میرا کام ہے جس کا میں مالک ہوں ، لہٰذا تو مجھے اس معاملہ ( محبت کے معاملہ ) میں ملامت نہ کر جس کا تو مالک ہے ، اور میں مالک نہیں ہوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1971]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق مرد کا اختیار جہاں تک ہے، وہاں تک بیویوں کے درمیان عدل کرے، ہر ایک عورت کے پاس باری باری رہنا یہ اختیاری معاملہ ہے جو ہو سکتا ہے، لیکن دل کی محبت اور جماع کی خواہش یہ اختیاری نہیں ہے، کسی عورت سے رغبت ہوتی ہے، کسی سے نہیں ہوتی، تو اس میں برابری کرنا یہ مرد سے نہیں ہو سکتا، بس اللہ تعالی اس کو معاف کر دے گا، الروضہ الندیہ میں ہے کہ عورت کو اختیار ہے کہ اپنی باری کسی دوسری عورت کو ہبہ کر دے جیسے اس کا ذکر آگے آتا ہے، یا اپنی باری شوہر کو معاف کر دے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن الطرف الأول منه حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/النکاح 39 (2134)، سنن الترمذی/النکاح 41 (1140)، سنن النسائی/عشرة النکاح 2 (3395)، (تحفة الأشراف: 16290)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/144)، سنن الدارمی/النکاح 25 (2253) (ضعیف) (لیکن رسول اکرم ﷺ کا بیویوں کے درمیان ایام کی تقسیم ثابت ہے، تراجع الألبانی: رقم: 346)
48: بَابُ : الْمَرْأَةِ تَهَبُ يَوْمَهَا لِصَاحِبَتِهَا
باب: عورت کا اپنی باری سوکن کو ہبہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَمَّا كَبِرَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ بِيَوْمِ سَوْدَةَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئیں ، تو انہوں نے اپنی باری کا دن عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سودہ رضی اللہ عنہا کی باری والے دن عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1972]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: حدیث أبي بکر أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 14 (1463)، (تحفة الأشراف: 17101)، وحدیث محمد بن الصبَّاح تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17039)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الھبة 15 (2593)، النکاح 99 (5212)، سنن ابی داود/النکاح 39 (2135)، مسند احمد (6/ 107) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ سُمَيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ فِي شَيْءٍ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ: يَا عَائِشَةُ، هَلْ لَكِ أَنْ تُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي وَلَكِ يَوْمِي؟، قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ، فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ، ثُمَّ قَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَائِشَةُ إِلَيْكِ عَنِّي إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ"، فَقَالَتْ: ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ، فَأَخْبَرَتْهُ بِالْأَمْرِ فَرَضِيَ عَنْهَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا پر کسی وجہ سے ناراض ہو گئے ، تو صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا : عائشہ ! کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے راضی کر سکتی ہو ، اور میں اپنی باری تم کو ہبہ کر دوں گی ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، چنانچہ انہوں نے زعفران سے رنگا ہوا اپنا دوپٹہ لیا ، اور اس پہ پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو پھوٹے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ مجھ سے دور ہو جاؤ ، آج تمہاری باری نہیں ہے “ ، تو انہوں نے کہا : یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، اور پورا قصہ بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ رضی اللہ عنہا سے راضی ہو گئے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1973]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17844، ومصباح الزجاجة: 697)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/95، 145) (ضعیف) (سند میں سمیہ بصریہ غیر معروف ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَمْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ سورة النساء آية 128 فِي رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ قَدْ طَالَتْ صُحْبَتُهَا، وَوَلَدَتْ مِنْهُ أَوْلَادًا، فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَبْدِلَ بِهَا، فَرَاضَتْهُ عَلَى أَنْ تُقِيمَ عِنْدَهُ وَلَا يَقْسِمَ لَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ یہ آیت : «والصلح خير» اس شخص کے بارے میں اتری جس کی ایک بیوی تھی اور مدت سے اس کے ساتھ رہی تھی ، اس سے کئی بچے ہوئے ، اب مرد نے ارادہ کیا کہ اس کے بدلے دوسری عورت سے نکاح کرے ( اور اسے طلاق دیدے ) چنانچہ اس عورت نے مرد کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اس کے پاس رہے گی ، اور وہ اس کے لیے باری نہیں رکھے گا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1974]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17128) (حسن) (سند میں اختلاف ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے)
49: بَابُ : الشَّفَاعَةِ فِي التَّزْوِيجِ
باب: نکاح کرانے کے لیے سفارش کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ أَفْضَلِ الشَّفَاعَةِ، أَنْ يُشَفَّعَ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ فِي النِّكَاحِ".
ابورہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے بہتر سفارش یہ ہے کہ مرد اور عورت کے نکاح کی سفارش کی جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1975]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ معاوية بن يحيي الصدفي ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12038، ومصباح الزجاجة: 699) (ضعیف) (ابو رہم سمعی مخضرم اور ثقہ ہیں، اس لئے ارسال کی وجہ سے یہ ضعیف ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذُرَيْحٍ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: عَثَرَ أُسَامَةُ بِعَتَبَةِ الْبَابِ فَشُجَّ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمِيطِي عَنْهُ الْأَذَى فَتَقَذَّرْتُهُ، فَجَعَلَ يَمُصُّ عَنْهُ الدَّمَ وَيَمُجُّهُ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً لَحَلَّيْتُهُ، وَكَسَوْتُهُ حَتَّى أُنَفِّقَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسامہ رضی اللہ عنہ دروازہ کی چوکھٹ پر گر پڑے ، جس سے ان کے چہرے پہ زخم ہو گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” ان سے خون صاف کرو “ ، میں نے اسے ناپسند کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے زخم سے خون نچوڑنے اور ان کے منہ سے صاف کرنے لگے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اسامہ لڑکی ہوتا تو میں اسے زیورات اور کپڑوں سے اس طرح سنوارتا کہ اس کا چرچا ہونے لگتا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1976]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کو زیور اور لباس سے آراستہ کرنا جائز ہے بلکہ نکاح کے وقت مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ شريك عنعن ¤ وتابعه مجالد وھو ضعيف ¤ وفي سماع البهي من عائشة رضي اﷲ عنها كلام وللحديث شاهد مرسل عند ابن سعد (62/4) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16296، ومصباح الزجاجة: 700)، وقد أخرجہ: 6/139، 222) (صحیح)
50: بَابُ : حُسْنِ مُعَاشَرَةِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں سے اچھے سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَمِّهِ عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو ، اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1977]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی عمدہ سلوک اور اخلاق کے ساتھ اگرچہ تمام لوگوں سے معاشرت عمدہ طور سے لازم ہے، تاکہ سب خاص و عام اپنے سے خوش رہیں، اور مرتے وقت تعریف کریں، اور دعا دیں لیکن سب لوگوں سے زیادہ حق اپنی بیوی اور بال بچوں کا ہے، اس کے بعد دوسرے عزیزوں اور ناتے والوں کا، اس کے بعد دوستوں کا اس کے بعد اور لوگوں کا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5937، ومصباح الزجاجة: 701) (صحیح) (سند میں عمارہ بن ثوبان مستور ہے، لیکن دوسری سند سے یہ صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1978]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8934، ومصباح الزجاجة: 702) (صحیح) (سند میں اعمش مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " سَابَقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکل گئی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1979]
💡 وضاحت:
۱؎: دوسری روایت میں ہے کہ جب میرا بدن بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوڑ میں مجھ سے آگے نکل گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! یہ پہلی دوڑ کا بدلہ ہے اس حدیث کے یہاں لانے کا مقصد یہ ہے کہ شوہر کی حسن معاشرت اپنی بیویوں کے ساتھ معلوم ہو باوجود یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سن مبارک زیادہ تھا، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کم سن تھیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو خوش کرنے کے لئے ان کے ساتھ ایسا کرتے اور دوڑنا مباح ہے کچھ برا کھیل نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16927)، سنن ابی داود/الجہاد 68 (2578)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/182) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَهُوَ عَرُوسٌ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ جِئْنَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ، فَأَخْبَرْنَ عَنْهَا، قَالَتْ: فَتَنَكَّرْتُ وَتَنَقَّبْتُ، فَذَهَبْتُ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَيْنِي فَعَرَفَنِي، قَالَتْ: فَالْتَفَتَ، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ فَأَدْرَكَنِي فَاحْتَضَنَنِي، فَقَالَ: " كَيْفَ رَأَيْتِ؟"، قَالَتْ: قُلْتُ: أَرْسِلْ يَهُودِيَّةٌ وَسْطَ يَهُودِيَّاتٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( خیبر سے واپس ) مدینہ آئے ، اور صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے آپ دولہا ہوئے ، تو انصار کی عورتیں آئیں ، اور انہوں نے صفیہ رضی اللہ عنہا کا حال بیان کیا ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنی صورت بدلی ، منہ پر نقاب ڈالا ، اور صفیہ رضی اللہ عنہا کو دیکھنے چلی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھ دیکھ کر مجھے پہچان لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری طرف متوجہ ہوئے تو میں اور تیزی سے چلی ، لیکن آپ نے مجھ کو پکڑ کر گود میں اٹھا لیا ، اور پوچھا : ” تو نے کیسا دیکھا “ ؟ میں نے کہا : بس چھوڑ دیجئیے ، یہودی عورتوں میں سے ایک یہودی عورت ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1980]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ فيه علل منها ضعف علي بن زيد بن جدعان ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17822، ومصباح الزجاجة: 703) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : مَا عَلِمْتُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَيَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذْنٍ وَهِيَ غَضْبَى، ثُمّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَسْبُكَ إِذَا قَلَبَتْ بُنَيَّةُ أَبِي بَكْرٍ ذُرَيْعَتَيْهَا، ثُمَّ أَقَبَلَتْ عَلَيَّ فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا، حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دُونَكِ فَانْتَصِرِي، فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا وَقَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فِيهَا مَا تَرُدُّ عَلَيَّ شَيْئًا"، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ.
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : مجھے معلوم ہونے سے پہلے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا میرے گھر میں بغیر اجازت کے آ گئیں ، وہ غصہ میں تھیں ، کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! کیا آپ کے لیے بس یہی کافی ہے کہ ابوبکر کی بیٹی اپنی آغوش آپ کے لیے وا کر دے ؟ اس کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئیں ، میں نے ان سے منہ موڑ لیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” تو بھی اس کی خبر لے اور اس پر اپنی برتری دکھا “ تو میں ان کی طرف پلٹی ، اور میں نے ان کا جواب دیا ، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ ان کا تھوک ان کے منہ میں سوکھ گیا ، اور مجھے کوئی جواب نہ دے سکیں ، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ کا چہرہ کھل اٹھا تھا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1981]
💡 وضاحت:
۱؎: زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا خاندان قریش کی حسین و جمیل اور صاحب حسب و نسب خاتون تھیں، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں انہی کو عائشہ رضی اللہ عنہا کی برابری کا دعوی تھا، وہ کہتی تھیں: میرا نکاح اللہ تعالی نے سات آسمانوں کے اوپر کیا اور تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا، وہ غصہ میں اس وجہ سے تھیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ زیادہ تھی، اور وہ آپ سے شکایت کر رہی تھیں، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو انہوں نے حقارتاً «بُنَيَّةُ» (جو تصغیر ہے بنت کی) کہا یعنی چھوٹی لڑکی، چھوکری، آپ تو عائشہ کے شیدائی اور ان پر فریفتہ ہیں، دوسری بیویوں کی آپ کو فکر ہی نہیں ہے، نہ کسی کا آپ کو خیال ہے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی قمیص الٹی اور بانہہ کھولی، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا جواب دینا اور ام المومنین زینب رضی اللہ عنہا کا ہار جانا جو ناحق شکایت کرتی تھیں، اس سے آپ کو خوشی ہوئی اور اس کے نتیجے میں آپ کا چہرہ کھل اٹھا، دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم نہیں جانتی ہو یہ ابوبکر کی بیٹی ہے۔ سوکنوں کی یہ وقتی غیرت والی لڑائی عائلی زندگی کا ایک خوش کن لازمہ ہے، اس میں شوہر کی عقلمندی اور اس کے حلم و صبر کا امتحان بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16362، ومصباح الزجاجة: 704)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/93) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ، وَأَنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يُسَرِّبُ إِلَيَّ صَوَاحِبَاتِي يُلَاعِبْنَنِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی ، تو آپ میری سہیلیوں کو میرے پاس کھیلنے کے لیے بھیج دیا کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1982]
💡 وضاحت:
۱؎: گڑیاں کپڑے کی مورتیں جو بچیاں بناتی ہیں ان کی شادی کرتی ہیں یہ بچوں کا کھیل ہے، اور ان میں پوری مورت نہیں ہوتی اس لئے تصویر کا حکم نہیں دیا گیا، اور لڑکیوں کو اس کا کھیل جائز رکھا گیا، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کم سن تھیں، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال اخلاق تھا کہ بچوں پر شفقت کرتے اور کھیل کود سے ان کو منع نہ کرتے، نہ زیادہ غصہ ہوتے، اس باب کی تمام حدیثوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ عمدہ سلوک کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 17125)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 81 (6130)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2440)، سنن ابی داود/الأدب 62 (4931) (صحیح) (سند میں عمر بن حبیب ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے)
51: بَابُ : ضَرْبِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کو مارنے پیٹنے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ، فَوَعَظَهُمْ فِيهِنَّ، ثُمَّ قَالَ: " إِلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْأَمَةِ وَلَعَلَّهُ أَنْ يُضَاجِعَهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ".
عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا ، پھر عورتوں کا ذکر کیا ، اور مردوں کو ان کے سلسلے میں نصیحت فرمائی ، پھر فرمایا : ” کوئی شخص اپنی عورت کو لونڈی کی طرح کب تک مارے گا ؟ ہو سکتا ہے اسی دن شام میں اسے اپنی بیوی سے صحبت کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1983]
💡 وضاحت:
۱؎: تو پہلے ایسی سخت مار پھر اس کے بعد اتنا پیار بالکل نامناسب ہو گا، اور دل شرمائے گا، مناسب یہ ہے کہ امکانی حد تک عورت پر ہاتھ ہی نہ اٹھائے، اگر ایسا ہی سخت قصور کرے تو زبان سے خفا ہو، بستر الگ کر دے، اگر اس پر بھی نہ مانے تو ہلکی مار مارے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة الشمس (4942)، النکاح 93 (5204)، صحیح مسلم/صفة الجنة ونعیمہا 3 (2855)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن 79 (3343)، (تحفة الأشراف: 5294)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/17)، سنن الدارمی/النکاح 34 (2266) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَادِمًا لَهُ، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کسی خادم کو اپنے ہاتھ سے مارا ، نہ کسی عورت کو ، اور نہ کسی بھی چیز کو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1984]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الفضائل 20 (2328)، (تحفة الأشراف: 17262)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 5 (4786)، مسند احمد (6/206)، سنن الدارمی/النکاح 34 (2264) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ"، فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ ذَئِرَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ" فَأْمُرْ بِضَرْبِهِنَّ، فَضُرِبْنَ فَطَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَائِفُ نِسَاءٍ كَثِيرٍ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: لَقَدْ طَافَ اللَّيْلَةَ بِآلِ مُحَمَّدٍ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّ امْرَأَةٍ تَشْتَكِي زَوْجَهَا، فَلَا تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارَكُمْ".
ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی بندیوں کو نہ مارو “ ، تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! عورتیں اپنے شوہروں پہ دلیر ہو گئی ہیں ، لہٰذا انہیں مارنے کی اجازت دیجئیے ( چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی ) تو ان کو مار پڑی ، اب بہت ساری عورتیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کا چکر کاٹنے لگیں ، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آل محمد کے گھر آج رات ستر عورتیں آئیں ، ہر عورت اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھی ، تو تم انہیں ( زیادہ مارنے والے مردوں کو ) بہتر لوگ نہ پاؤ گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1985]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/النکاح 43 (2146)، (تحفة الأشراف: 1746)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/النکاح 34 (2665) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 234)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات عمر رضی اللہ عنہ کا مہمان ہوا ، جب آدھی رات ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو مارنے لگے ، تو میں ان دونوں کے بیچ حائل ہو گیا ، جب وہ اپنے بستر پہ جانے لگے تو مجھ سے کہا : اشعث ! وہ بات جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تم اسے یاد کر لو : ” شوہر اپنی بیوی کو مارے تو قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال نہیں کیا جائے گا ، اور وتر پڑھے بغیر نہ سوؤ “ اور تیسری چیز آپ نے کیا کہی میں بھول گیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1986]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1986M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
تخریج دارالدعوہ: t
52: بَابُ : الْوَاصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ
باب: بالوں کو جوڑنے اور گودنا گودنے والی عورتوں پر وارد وعید کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو جوڑنے اور جڑوانے والی ، گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1987]
💡 وضاحت:
۱؎: بال جوڑنے سے مراد یہ ہے کہ پرانے بال لے کر اپنے سر کے بالوں میں لگائے، جیسا بعض عورتوں کی عادت ہوتی ہے، اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سر کے بال زیادہ معلوم ہوں، امام نووی کہتے ہیں: ظاہر احادیث سے اس کی حرمت نکلتی ہے، اور بعضوں نے اس کو مکروہ کہا ہے، بعضوں نے شوہر کی اجازت سے جائز رکھا ہے اور گودنا بالاتفاق حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: حدیث أبي أسامہ تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7874)، وحدیث عبد اللہ بن نمیر أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 33 (2124)، (تحفة الأشراف: 7953)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 83 (5937)، 85 (5940)، 87 (5947)، سنن ابی داود/الترجل 5 (4168)، سنن الترمذی/اللباس 25 (1759)، الأدب 33 (2784)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 17 (5253)، مسند احمد (2/21) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَتِي عُرَيِّسٌ، وَقَدْ أَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ، فَتَمَرَّقَ شَعْرُهَا فَأَصِلُ لَهَا فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ".
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی : میری بیٹی دلہن ہے ، اور اسے چیچک کا عارضہ ہوا جس سے اس کے بال جھڑ گئے ، کیا میں اس کے بال میں جوڑ لگا دوں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے بالوں کو جوڑنے والی اور جوڑوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1988]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 83 (5941)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2122)، سنن النسائی/الزینة 22 (5097)، (تحفة الأشراف: 15747)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/111، 345، 346، 353) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ لِخَلْقِ اللَّهِ"، فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ، يُقَالُ لَهَا: أُمُّ يَعْقُوبَ، فَجَاءَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: بَلَغَنِي عَنْكَ، أَنَّكَ قُلْتَ: كَيْتَ وَكَيْتَ، قَالَ: وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَالَتْ: إِنِّي لَأَقْرَأُ مَا بَيْنَ لَوْحَيْهِ، فَمَا وَجَدْتُهُ، قَالَ: إِنْ كُنْتِ قَرَأْتِهِ فَقَدْ وَجَدْتِهِ أَمَا قَرَأْتِ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7، قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْهُ، قَالَتْ: فَإِنِّي لَأَظُنُّ أَهْلَكَ يَفْعَلُونَ، قَالَ: اذْهَبِي فَانْظُرِي، فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ، فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولِينَ مَا جَامَعَتْنَا.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں ، بال اکھیڑنے والیوں ، خوبصورتی کے لیے دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں ، اور اللہ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر لعنت فرمائی ہے ، قبیلہ بنو اسد کی ام یعقوب نامی ایک عورت کو یہ حدیث پہنچی تو وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی : مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ ایسا ایسا کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں مجھے کیا ہوا کہ میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے ، اور یہ بات تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے ، وہ کہنے لگی : میں پورا قرآن پڑھتی ہوں ، لیکن اس میں مجھے یہ نہ ملا ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر تم پڑھتی ہوتی تو ضرور پاتی ، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی : «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» ” رسول تمہیں جو دیں اسے لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے باز آ جاؤ “ اس عورت نے کہا : ضرور پڑھی ہے تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے ، وہ عورت بولی : میرا خیال ہے کہ تمہاری بیوی بھی ایسا کرتی ہو گی ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : جاؤ دیکھو ، چنانچہ وہ اسے دیکھنے کے لیے گئی تو اس نے کوئی بات اپنے خیال کے مطابق نہیں پائی ، تب کہنے لگی : میں نے تمہاری بیوی کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر ایسا ہوتا جیسا تم کہہ رہی تھیں تو وہ کبھی میرے ساتھ نہ رہتی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1989]
💡 وضاحت:
۱؎: تو وہ کبھی میرے ساتھ نہ رہتی کا مطلب ہے کہ میں اسے طلاق دے دیتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر سورةالحشر 4 (4886)، اللباس 82 (5931)، 84 (5939)، 85 (5943)، 86 (5944)، 87 (5948)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2125)، سنن ابی داود/الترجل 5 (4169)، سنن الترمذی/الادب 33 (2782)، سنن النسائی/الزینة 24 (5102)، (تحفة الأشراف: 9450)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/409، 415، 424، 448، 454، 462، 465)، سنن الدارمی/الاستذان 19 (2689) (صحیح)
53: بَابُ : مَتَى يُسْتَحَبُّ الْبِنَاءُ بِالنِّسَاءِ
باب: دلہن کی رخصتی کا بہتر وقت کون سا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ، وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ، فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي، وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال میں شادی کی اور شوال ہی میں ملن بھی کیا ، پھر کون سی بیوی آپ کے پاس مجھ سے زیادہ نصیب والی تھی ، اور عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے یہاں کی عورتوں کو شوال میں ( ان کے شوہروں کے پاس ) بھیجنا پسند کرتی تھیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1990]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح 11 (1423)، سنن الترمذی/النکاح 9 (1093)، سنن النسائی/النکاح 18 (3238)، 77 (3379)، (تحفة الأشراف: 16355)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/54، 206)، سنن الدارمی/النکاح 28 (2257) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ فِي شَوَّالٍ وَجَمَعَهَا إِلَيْهِ فِي شَوَّالٍ".
ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شوال میں شادی کی اور ان سے شوال ہی میں ملن بھی کیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1991]
💡 وضاحت:
۱؎: شوال کا مہینہ عید اور خوشی کا مہینہ ہے، اس وجہ سے اس میں نکاح کرنا بہتر ہے، عہد جاہلیت میں لوگ اس مہینہ کو منحوس سمجھتے تھے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خیال کو غلط ٹھہرایا اور اس مہینہ میں نکاح کیا، اور دخول بھی اسی مہینے میں کیا، گو ہر ماہ میں نکاح جائز ہے مگر جس مہینہ کو عوام بغیر دلیل شرعی کے عورتوں کی تقلید سے یا کافروں اور فاسقوں کی تقلید سے منحوس سمجھیں اس میں نکاح کرنا چاہئے، تاکہ عوام کے دل سے یہ غلط عقیدہ نکل جائے، شرع کی رو سے شوال، محرم یا صفر کا مہینہ کوئی منحوس نہیں ہے، اس لیے بے کھٹکے ان مہینوں میں نکاح کرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: مرسل
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبدالملك ھو ابن أبي بكر بن عبد الرحمٰن بن الحارث المخزومي،وأبوه ثقة تابعي فالحديث مرسل وانظرالضعيفة (9/ 336-347 ح 4350) وأما ابن إسحاق فصرح بالسماع عند ابن سعد (8/ 95) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3282، 18230، ومصباح الزجاجة: 706) (صحیح) (متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ سند میں ارسال ہے، عبدالملک بن الحارث بن ہشام یہ عبدالملک بن ابی بکر بن الحارث بن ہشام المخزومی ہیں جیسا کہ طبقات ابن سعد میں ہے، 8/94-95، اور یہ ثقہ تابعی ہیں، اسی طرح ابوبکر ثقہ تابعی ہیں، اور یہ حدیث ابوبکر کی ہے، نہ کہ ان کے دادا حارث بن ہشام کی، اور عبداللہ بن ابی بکر یہ ابن محمد عمرو بن حزم الانصاری ہیں، جو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، اور ان سے ابن اسحاق روایت کرتے ہیں، ابوبکر کی وفات 120 ھ میں ہوئی، اور ان کے شیخ عبدالملک کی وفات 125 ھ میں ہوئی، اس لیے یہ حدیث ابوبکر عبدالرحمٰن بن الحارث بن ہشام سے مرسلاً روایت ہے، ان کے دادا حارث بن ہشام سے نہیں، اس میں امام مزی وغیرہ کو وہم ہوا ہے، نیز سند میں ابن اسحاق مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن ابن سعد کی روایت میں تحدیث کی تصریح ہے، اور موطا امام مالک میں (2/ 650) میں ثابت ہے کہ ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے اس حدیث کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے لیا ہے، اس لیے یہ حدیث صحیح ہے، اسی وجہ سے شیخ البانی نے تفصیلی تحقیق کے بعد اس حدیث کو الضعیفہ (4350) سے منتقل کرنے کی بات کہی ہے،، فالحدیث صحیح ینقل الی الکتاب الأخر“۔ 199
54: بَابُ : الرَّجُلِ يَدْخُلُ بِأَهْلِهِ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا
باب: مرد اپنی بیوی کے پاس جائے اور اس کو کوئی چیز ہدیہ نہ کی ہو اس کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ أًظَنَّهُ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تُدْخِلَ عَلَى رَجُلٍ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ شوہر کے پاس اس کی بیوی کو بھیج دیں اس سے پہلے کہ شوہر نے اس کو کوئی چیز دی ہو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1992]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2128) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/النکاح 36 (2128)، (تحفة الأشراف: 16069) (ضعیف) (سند میں شریک بن عبد اللہ القاضی ضعیف ہیں، اور خیثمہ کا ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع بھی محل نظر ہے، ملاحظہ ہو: تہذیب التہذیب 3/ 179)
55: بَابُ : مَا يَكُونُ فِيهِ الْيُمْنُ وَالشُّؤْمُ
باب: جن چیزوں میں برکت اور نحوست کی بات کہی جاتی ہے ان کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ الْكَلْبِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَمِّهِ مِخْمَرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا شُؤْمَ وَقَدْ يَكُونُ الْيُمْنُ فِي ثَلَاثَةٍ فِي الْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ".
مخمر بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” نحوست کوئی چیز نہیں ، تین چیزوں میں برکت ہوتی ہے : عورت ، گھوڑا اور گھر میں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1993]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11243، ومصباح الزجاجة: 707) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنْ كَانَ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالْمَسْكَنِ يَعْنِي الشُّؤْمَ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر وہ ( یعنی نحوست ) ہوتی تو گھوڑے ، عورت اور گھر میں ہوتی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1994]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 47 (2860)، النکاح 18 (5095)، صحیح مسلم/السلام 34 (2226)، (تحفة الأشراف: 4745)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الإستئذان 8 (21)، مسند احمد (5/335، 338) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ فِي الْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ"، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَحَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّ جَدَّتَهُ زَيْنَبَ حَدَّثَتْهُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَعُدُّ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ، وَتَزِيدُ مَعَهُنَّ السَّيْف.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نحوست تین چیزوں میں ہے : گھوڑے ، عورت اور گھر میں “ ۱؎ ۔ زہری کہتے ہیں : مجھ سے ابوعبیدہ نے بیان کیا کہ ان کی دادی زینب نے ان سے بیان کیا ، اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ ان تین چیزوں کو گن کر بتاتی تھیں اور ان کے ساتھ تلوار کا اضافہ کرتی تھیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1995]
💡 وضاحت:
۱؎: «الشوم فى ثلاث» (نحوست کے تین چیزوں میں متحقق ہونے) سے متعلق احادیث کے مقابلہ میں «إن كان الشؤم» (اگر نحوست ہوتی تو تین چیزوں میں ہوتی) کا لفظ کثرت روایت اور معنی کے اعتبار سے زیادہ قوی ہے، اس لئے کہ اسلام میں کوئی چیز «شؤم ونحوست» کی نہیں، اس لئے البانی صاحب نے «الشؤم فى ثلاثة» والی احادیث کو شاذ قرار دیا ہے، اور شرط کے ساتھ وارد متعدد احادیث کو روایت اور معنی کے اعتبار سے صحیح قرار دیا ہے: (ملاحظہ ہو: الصحیحۃ: ۴/۴۵۰-۴۵۱)
قال الشيخ الألباني: شاذ ق وفي لفظ لهما إن كان الشؤم ففي فذكر الثلاث دون السيف وهو المحفوظ
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: حدیث عبد اللہ بن عمر أخرجہ: صحیح مسلم/الطب 34 (2225)، (تحفة الأشراف: 6864)، وحدیث أم سلمةٰ، تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18276)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 47 (2858)، النکاح 17 (5093)، الطب 43 (5753)، سنن ابی داود/الطب 24 (3922)، سنن النسائی/الخیل 5 (3599)، سنن الترمذی/الادب 58 (2824)، موطا امام مالک/الإستئذان 8 (22)، مسند احمد (2/8، 36، 115، 126) (صحیح)
56: بَابُ : الْغَيْرَةِ
باب: غیرت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَيْبَانَ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَهْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ، وَمِنْهَا مَا يَكْرَهُ اللَّهُ، فَأَمَّا مَا يُحِبُّ، فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ، وَأَمَّا مَا يَكْرَهُ، فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بعض غیرت اللہ کو پسند ہے اور بعض ناپسند ، جو غیرت اللہ کو پسند ہے وہ یہ ہے کہ شک و تہمت کے مقام میں غیرت کرے ، اور جو غیرت ناپسند ہے وہ غیر تہمت و شک کے مقام میں غیرت کرنا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1996]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ وقت ایسا ہے کہ اللہ کی پناہ، بدمعاش لوگ کسی نیک بخت عورت کی نسبت ایک جھوٹی تہمت لگا دیتے ہیں تاکہ اس کا شوہر غیرت میں آ کر کوئی کام کر بیٹھے، اس کا گھر تباہ و برباد ہو، حسد کرنے والوں کو اس میں خوشی ہوتی ہے، یہ وقت بڑے تحمل اور استقلال کا ہے، انسان کو اس میں سوچ سمجھ کر کام کرنا چاہئے، جلدی ہرگز نہ کرنی چاہئے، اور شریعت کے مطابق گواہی لینی چاہئے، اگر ایسے سچے اور نیک گواہوں کی گواہی نہ ملے تو سمجھ لے کہ یہ حاسدوں اور دشمنوں کا فریب ہے، جو اس کا گھر تباہ کرنا چاہتے تھے، اللہ پاک حاسدوں اور دشمنوں کے شر سے بچائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایذادہی سے نہ چھوڑا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹی تہمت باندھی، طوفان اٹھایا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلایا اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت ان کے سامنے نازل کی جس کی تلاوت قیامت تک کی جاتی رہے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15438، ومصباح الزجاجة: 709) (صحیح) (اس کی سند میں أبی سھم مجہول ہے لیکن یہ حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: ابوداود: 2659 و نسائی و احمد: 5 /445 - 446 و الإرواء: 1999)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ قَطُّ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ مِمَّا رَأَيْتُ مِنْ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ، أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ يَعْنِي مِنْ ذَهَبٍ"، قَالَهُ ابْن مَاجَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے جتنی غیرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر کی اتنی کسی عورت پر نہیں کی کیونکہ میں دیکھتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان کا ذکر کیا کرتے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے آپ کو حکم دیا کہ انہیں جنت میں موتیوں کے ایک مکان کی بشارت دے دیں ، یعنی سونے کے مکان کی ، یہ تشریح ابن ماجہ نے کی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1997]
💡 وضاحت:
۱؎: نہ اس میں غل ہے نہ شور، جیسے دوسری روایت میں ہے کہ ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی بیوی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد سوائے ابراہیم کے انہی کے مبارک بطن سے ہوئی، اور انہوں نے اپنا سارا مال و اسباب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نثار کیا، اور سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں، ان کے فضائل بہت ہیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری بیویوں میں سب سے افضل ہیں، اور سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 17096)، وقد أخر جہ: صحیح البخاری/المناقب 20 (3816)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 12 (2434)، سنن الترمذی/البروالصلة 70 (2017)، المناقب 62 (3875) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: " إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي، أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَلَا آذَنُ لَهُمْ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ إِلَّا، أَنْ يُرِيدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، فَإِنَّمَا هِيَ بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا، وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا".
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پہ فرماتے سنا کہ ” ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کر دیں تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا ، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا ، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا ، سوائے اس کے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے شادی کرنا چاہیں ، اس لیے کہ وہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے ، جو بات اس کو بری لگتی ہے وہ مجھ کو بھی بری لگتی ہے ، اور جس بات سے اس کو تکلیف ہوتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1998]
💡 وضاحت:
۱؎: علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے موجود ہوتے ہوئے،ابوجہل کی بیٹی سے شادی کرنی چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا، دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ نہیں رہ سکتیں یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ نے یہ شادی نہیں کی، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی تک کسی اور عورت سے شادی نہیں کی، ان کی وفات کے بعد ابوجہل کی بیٹی سے اور دوسری کئی عورتوں سے شادی کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فرض الخمس 5 (3111)، المناقب 12 (3714)، النکاح 109 (5230)، الطلاق 13 (5278) صحیح مسلم/فضائل الصحابة 17 (2449)، سنن ابی داود/النکاح 13 (2071)، سنن الترمذی/المناقب 61 (3867)، (تحفة الأشراف: 11267)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/323، 328) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ، أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحًا ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي قَدْ أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ، فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ بَضْعَةٌ مِنِّي وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَفْتِنُوهَا، وَإِنَّهَا وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ، وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا، قَالَ: فَنَزَلَ عَلِيٌّ عَنِ الْخِطْبَةِ".
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو پیغام دیا جب کہ ان کے عقد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی فاطمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں ، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ خبر سنی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : آپ کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیٹیوں کے لیے غصہ نہیں آتا ، اب علی رضی اللہ عنہ ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں ۔ مسور کہتے ہیں : یہ خبر سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( منبر پر ) کھڑے ہوئے ، جس وقت آپ نے خطبہ پڑھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” امابعد ، میں نے اپنی بیٹی زینب کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے کیا ، انہوں نے جو بات کہی تھی اس کو سچ کر دکھایا ۱؎ میری بیٹی فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے ، اور مجھے ناپسند ہے کہ تم لوگ اسے فتنے میں ڈالو ، قسم اللہ کی ، اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی دونوں ایک شخص کے نکاح میں کبھی اکٹھی نہ ہوں گی ، یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ شادی کے پیغام سے باز آ گئے ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1999]
💡 وضاحت:
۱؎: کفر کے باوجود انہوں نے زینب رضی اللہ عنہا کو بھیجنے کا وعدہ کیا تھا پھر بھیج دیا۔
۲؎: یعنی علی رضی اللہ عنہ نے یہ شادی نہیں کی، اور شادی کیوں کرتے آپ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار اور آپ کی مرضی کے تابع تھے، اس واقعہ کی وجہ سے علی رضی اللہ عنہ پر کوئی طعن نہیں ہو سکتا جیسے خوارج کیا کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے لاعلمی میں یہ خیال کر کے کہ ہر مرد کو چار شادی کا حق ہے، یہ پیغام دیا تھا، جب ان کو یہ معلوم ہوا کہ یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے خلاف ہے تو فوراً اس سے رک گئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11278) (صحیح)
57: بَابُ : الَّتِي وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: جس عورت نے اپنے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کیا اس کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ، تَقُولُ: " أَمَا تَسْتَحِي الْمَرْأَةُ أَنْ تَهَبَ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ سورة الأحزاب آية 51، قَالَتْ: فَقُلْتُ: إِنَّ رَبَّكَ لَيُسَارِعُ فِي هَوَاكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کیا عورت اس بات سے نہیں شرماتی کہ وہ اپنے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کر دے ؟ ! تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» جس کو تو چاہے اپنی عورتوں میں سے ” اپنے سے جدا کر دے اور جس کو چاہے اپنے پاس رکھے “ ( سورة الأحزاب : 51 ) تب میں نے کہا : آپ کا رب آپ کی خواہش پر حکم نازل کرنے میں جلدی کرتا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2000]
💡 وضاحت:
۱؎: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ عورتیں شرم کریں، اور اپنے آپ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ نہ کریں اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بہت ہو جائیں گی تو باری ہر ایک کی دیر میں آئے گی، اب اختلاف ہے کہ جس عورت نے اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہبہ کر دیا تھا، اس کا نام کیا تھا، بعض کہتے ہیں میمونہ، بعض ام شریک، بعض زینب بنت خزیمہ، بعض خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہن «واللہ اعلم»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة الأحزاب (4788)، النکاح 29 (5113) تعلیقاً، صحیح مسلم/الرضاع 14 (1464)، (تحفة الأشراف: 17049)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/النکاح 69 (3361)، مسند احمد (6/158) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ، فَقَالَ أَنَسٌ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِيَّ حَاجَةٌ؟، فَقَالَتِ ابْنَتُهُ: مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا، قَالَ: " هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ".
ثابت کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے ، ان کے پاس ان کی ایک بیٹی تھی ، انس رضی اللہ عنہ نے کہا : ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور خود کو آپ پر پیش کیا اور بولی : کیا آپ کو میری حاجت ہے ؟ یہ سن کر انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی بولی : اس کو کتنی کم حیاء ہے ! اس پر انس رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ تجھ سے بہتر ہے ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں رغبت کی ، اس لیے خود کو آپ پر پیش کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2001]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح 32 (5120)، الأدب 79 (6123)، سنن النسائی/النکاح 25 (3251)، (تحفة الأشراف: 468) (صحیح)
58: بَابُ : الرَّجُلِ يَشُكُّ فِي وَلَدِهِ
باب: آدمی کا اپنے لڑکے میں شک کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَمَا أَلْوَانُهَا؟"، قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: " هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ"، قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: " فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ"، قَالَ: عَسَى عِرْقٌ نَزَعَهَا، قَالَ: وَهَذَا لَعَلَّ عِرْقًا نَزَعَهُ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الصَّبَّاحِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میری بیوی نے ایک کالا کلوٹا بچہ جنا ہے ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں “ ؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کے رنگ کیا ہیں “ ؟ اس نے کہا : سرخ ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے “ ؟ اس نے کہا : ہاں ، ان میں خاکی رنگ کے بھی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان میں خاکی رنگ کہاں سے آیا “ ؟ اس نے کہا : کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہاں بھی ( تیرے لڑکے میں ) کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا “ ۱؎ ۔ یہ الفاظ محمد بن صباح کے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2002]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ اونٹوں کی قدیم نسل میں کوئی دوسرے رنگ کا ہو گا، پھر یہی رنگ کئی پشت کے بعد ان کی نئی نسل میں ظاہر ہوا، اب موجودہ اونٹ جو پرانی نسل کے ہیں وہ خالص سرخ تھے، چت کبرے نہ تھے، پس اسی طرح ہو سکتا ہے کہ انسان کی اولاد میں بھی ماں باپ کے خلاف دوسرا رنگ ظاہر ہو، اور اس کی وجہ یہ ہو کہ ماں باپ کے دادا پردادا میں کوئی کالا بھی ہو اور وہ رنگ اب ظاہر ہوا ہو، حاصل یہ ہے کہ بچے کے گورے یا کالے رنگ یا نقشے کے اختلاف کی وجہ سے یہ شبہ نہ کرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، سنن ابی داود/الطلاق 28 (2260)، سنن الترمذی/الولاء 4 (2129)، سنن النسائی/الطلاق 46 (3508)، (تحفة الأشراف: 13129)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطلاق 26 (5305)، الحدود 41 (6847)، الاعتصام 12 (7314)، مسند احمد (2/234، 239، 409) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ كُلَيْبٍ اللَّيْثِيُّ أَبُو غَسَّانَ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بْنِ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَر ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ عَلَى فِرَاشِي غُلَامًا أَسْوَدَ، وَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ لَمْ يَكُنْ فِينَا أَسْوَدُ قَطُّ، قَالَ: " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَمَا أَلْوَانُهَا"، قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: " هَلْ فِيهَا أَسْوَدُ"، قَالَ: لَا، قَالَ: " فِيهَا أَوْرَقُ"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ"، قَالَ: " عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ"، قَالَ: " فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بدوی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میری بیوی نے ایک کالا کلوٹا لڑکا جنا ہے ، اور ہم ایک ایسے گھرانے کے ہیں جس میں کبھی کوئی کالا نہیں ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں “ ؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” ان کے رنگ کیا ہیں “ ؟ اس نے کہا : سرخ ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان میں کوئی سیاہ بھی ہے “ ؟ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا ہے “ ؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ رنگ کہاں سے آیا “ ؟ اس نے کہا : ہو سکتا ہے کہ اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر شاید تمہارے اس بچے کا بھی یہی حال ہو کہ اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2003]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7643، ومصباح الزجاجة: 117) (حسن صحیح)
59: بَابُ : الْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ
باب: بچے کا حقدار بستر والا (شوہر) ہے اور پتھر کا مستحق زانی۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ وَسَعْدًا اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ أَنْظُرَ إِلَى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبِضَهُ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهَهُ بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: " هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي عَنْهُ يَا سَوْدَةُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عبد بن زمعہ اور سعد رضی اللہ عنہما دونوں زمعہ کی لونڈی کے بچے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے ، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے بھائی ( عتبہ بن ابی وقاص ) نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب میں مکہ جاؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بچے کو دیکھوں ، اور اس کو لے لوں ، اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ میرا بھائی اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے ، میرے باپ کے بستر پہ پیدا ہوا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچہ کی مشابہت عتبہ سے پائی تو فرمایا : ” عبد بن زمعہ ! وہ بچہ تمہارا بھائی ہے ( گرچہ مشابہت سے عتبہ کا معلوم ہوتا ہے ) بچہ صاحب فراش ( شوہر یا مالک ) کا ہوتا ہے ۱؎ ، سودہ تم اس سے پردہ کرو “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2004]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی زانی کا بچہ نہیں کہلائے گا، گو اس کے نطفہ سے پیدا ہو، بلکہ بچہ عورت کے شوہر یا مالک کا ہو گا اگر عورت لونڈی ہو۔
۲؎: ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا زمعہ کی بیٹی تھیں، تو یہ بچہ جب زمعہ کا ٹھہرا، تو سودہ کا بھائی ہوا، لیکن چونکہ اس کی مشابہت عتبہ سے پائی گئی، اس لیے احتیاطاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا کو اس سے پردہ کرنے کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 3 (2053)، 100 (2218)، الخصومات 6 (2421)، العتق 8 (2533)، الوصایا 4 (2745)، المغازي 53 (4303)، الفرائض 18 (6749)، 28 (6765)، الحدود 23 (6817)، الأحکام 29 (7182)، صحیح مسلم/الرضاع 10 (1457)، سنن ابی داود/الطلاق 34 (2273)، سنن النسائی/الطلاق 49 (3517)، (تحفة الأشراف: 16435)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 21 (20) مسند احمد (6/129، 200، 273)، سنن الدارمی/النکاح 41 (2281) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب فراش کے لیے بچے کا فیصلہ کیا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2005]
💡 وضاحت:
۱؎: «فراش» سے مراد صاحب فراش یعنی شوہر یا مولیٰ ہے کیونکہ یہ دونوں عورت کو بستر پر لٹاتے اور اس کے ساتھ سوتے ہیں «وللعاهرالحجر» یعنی زانی کے لیے ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ «حجر» (پتھر) سے مراد یہ ہے کہ اسے سنگسار کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ سنگسار صرف شادی شدہ زانی کو کیا جائے گا۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عورت جب بچے کو جنم دے گی تو وہ جس کی بیوی یا لونڈی ہو گی اسی کی طرف بچے کے نسب کا الحاق ہو گا اور وہ اسی کا بچہ شمار کیا جائے گا، میراث اور ولادت کے دیگر احکام ان کے درمیان جاری ہوں گے خواہ کوئی دوسرا اس عورت کے ساتھ ارتکاب زنا کا دعویٰ کرے، اور یہ بھی دعوی کرے کہ یہ بچہ اس کے زنا سے پیدا ہوا ہے، اس بچے کی مشابہت بھی اسی کے ساتھ ہو، اور صاحب فراش کے مشابہ نہ ہو، اس ساری صورتحال کے باوجود بچے کا الحاق صاحب فراش کے ساتھ کیا جائے گا، اس میں زانی کا کوئی حق نہیں ہو گا، اور یہ اس صورت میں ہے جب صاحب فراش اس کی نفی نہ کرے اور اگر اس نے اس کی نفی کر دی تو پھر بچے کا الحاق ماں کے ساتھ ہو گا، اور وہ بچہ ماں کے ساتھ منسوب ہو گا،زانی سے منسوب نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10672)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/25) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2006]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الرضاع 10 (1458)، سنن الترمذی/الرضاع 8 (1157)، سنن النسائی/الطلاق 48 (3512)، (تحفة الأشراف: 13134)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الفرائض 18 (6749)، مسند احمد (2/239، 280، 386، 409، 466، 475، 492)، سنن الدارمی/النکاح 41 (2281) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” بچہ صاحب فراش کا ہے ، اور زانی کے لیے پتھر ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2007]
💡 وضاحت:
۱؎: «وللعاهرالحجر» یعنی زانی کے لیے ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ «حجر» (پتھر) سے مراد یہ ہے کہ اسے سنگسار کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ سنگسار صرف شادی شدہ زانی کو کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4885، ومصباح الزجاجة: 713) (صحیح) (سند میں سابقہ شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس میں اسماعیل بن عیاش اور شرجیل بن مسلم کی وجہ سے کچھ کلام ہے)
60: بَابٌ في الزَّوْجَيْنِ يُسْلِمُ أَحَدُهُمَا قَبْلَ الآخَرِ
باب: میاں بیوی میں سے کوئی دوسرے سے پہلے مسلمان ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمَتْ فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ، قَالَ: فَجَاءَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَسْلَمْتُ مَعَهَا وَعَلِمَتْ بِإِسْلَامِي، قَالَ: " فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اسلام قبول کیا ، اور اس سے ایک شخص نے نکاح کر لیا ، پھر اس کا پہلا شوہر آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میں اپنی عورت کے ساتھ ہی مسلمان ہوا تھا ، اور اس کو میرا مسلمان ہونا معلوم تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو دوسرے شوہر سے چھین کر پہلے شوہر کے حوالے کر دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2008]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2238،2239) ترمذي (1144) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطلاق 23 (2238، 2239)، سنن الترمذی/النکاح 42 (1144)، (تحفة الأشراف: 6107)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232، 323) (ضعیف) (سند میں حفص بن جمیع ضعیف راوی ہیں، اور سماک کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بَعْدَ سَنَتَيْنِ بِنِكَاحِهَا الْأَوَّلِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس دو سال کے بعد اسی پہلے نکاح پر بھیج دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2009]
💡 وضاحت:
۱؎: چونکہ ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ (سن ۶ ہجری) سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا اس لیے زینب رضی اللہ عنہا کی واپسی کے لیے نئے نکاح کی ضرورت نہیں پڑی، مشرکین پر مسلمان عورتوں کو حرام قرار دینے کا ذکر صلح حدیبیہ کے مکمل ہونے کے بعد نازل ہونے والی آیت میں کیا گیا ہے، لہذا اس مدت کے دوران نکاح فسخ نہیں ہوا کیونکہ اس بارے میں کوئی شرعی حکم تھا ہی نہیں، اور جب نکاح فسخ نہیں ہوا تو نئے نکاح کی ضرورت پڑے گی ہی نہیں، رہی «عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ» والی روایت جو آگے آ رہی ہے تو وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کا معارضہ نہیں کر سکتی کیونکہ وہ حجاج بن أرطاۃ کی وجہ سے ضعیف ہے، یہاں یہ واضح رہے کہ زینب رضی اللہ عنہا نے ۲ ھ میں یا ۳ ھ کی ابتداء میں ہجرت کی، اور ان کی وفات ۸ ھ کے شروع میں ہوئی ہے، اس طرح ان کی ہجرت اور وفات کے درمیان کل پانچ برس چند ماہ کا وقفہ ہے، لہذا ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام اور زینب رضی اللہ عنہا کی ان کو واپسی اسی مدت کے دوران عمل میں آئی، اور صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قبول اسلام صلح حدیبیہ سے پہلے کا ہے، رہا یہ مسئلہ کہ زینب کی واپسی کتنے سال بعد ہوئی تو اس سلسلہ میں روایتیں مختلف ہیں، بعض میں دو سال، بعض میں تین سال اور بعض میں چھ سال کا ذکر ہے، لیکن صحیح ترین روایت یہ ہے کہ ان کی واپسی تین سال بعد ہوئی تھی، تین سال مکمل تھے اور کچھ مہینے مزید گزرے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2240) ترمذي (1143) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطلاق 24 (2240)، سنن الترمذی/النکاح 42 (1143)، (تحفة الأشراف: 6073)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/217، 261، 351) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس نئے نکاح پر بھیج دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2010]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو پہلے نکاح پر برقرار رکھا، اور دارقطنی نے کہا کہ یہ حدیث ثابت نہیں ہے، اور صواب ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص کے پاس پہلے نکاح ہی سے لوٹا دیا۔ اور امام ترمذی کتاب العلم میں کہتے ہیں کہ میں نے بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کہا کہ اس باب میں ابن عباس کی حدیث عمرو بن شعیب کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، علامہ ابن القیم فرماتے ہیں: تعجب ہے کہ اس ضعیف حدیث کو اصل بنا دیں اور اس سے صحیح حدیث کو رد کر دیں اور کہیں کہ وہ اصول کے خلاف ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کی طرف صحابہ کی ایک جماعت گئی ہے «ومن بعدہم» ، ابن القیم اعلام الموقعین میں کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسلام قبول کرنے والے آدمی اور اس کے ساتھ اس کی اسلام نہ لانے والی بیوی کے درمیان جدائی نہ کراتے، بلکہ جب دوسرا اسلام لاتا تو نکاح اپنے حال پر رہتا، جب تک وہ عورت دوسرا نکاح نہ کر لے، اور یہ سنت معلومہ اور مشہورہ ہے۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ ابوسفیان نے مرالظہران میں جو خزاعہ کا علاقہ ہے، اسلام قبول کیا، اور وہاں فتح مکہ سے پہلے مسلمان تھے، تو وہ دارالاسلام ٹھہرا، اور ابوسفیان مکہ واپس چلے گئے، اور ان کی بیوی ہندہ جو مسلمان نہیں ہوئی تھی، مکہ میں تھی، اس نے ابوسفیان کی داڑھی پکڑ کر کہا اس بوڑھے گمراہ کو قتل کر دو، پھر اس کے کافی دنوں بعد ہندہ نے اسلام قبول کیا، وہ دارالحرب میں مقیم تھی، اور کافر تھی، جب کہ ابوسفیان مسلمان تھے، اور عدت گزر جانے کے بعد ہندہ مسلمان ہوئی، لیکن دونوں کا نکاح قائم رہا، کیونکہ درحقیقت اس کی عدت نہیں گزری، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو گئی، اور اسی طرح حکیم بن حزام کا حال گزرا، صفوان بن امیہ اور عکرمہ بن ابوجہل دونوں کی بیویاں مکہ میں مسلمان ہوئیں اور مکہ دارالاسلام ہو گیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت وہاں قائم ہو گئی، اور عکرمہ یمن کی طرف بھاگے وہ دارالحرب تھا، اور صفوان بھی دارالحرب چل دیئے، پھر صفوان مکہ میں لوٹے تو وہ دارالاسلام تھا، اور جنگ حنین میں حاضر ہوئے، لیکن اس وقت تک کافر تھے، اس کے بعد مسلمان ہوئے اور ان کی بیوی پہلے ہی نکاح سے ان کے پاس رہیں، کیونکہ درحقیقت ان کی عدت نہیں گزری تھی، اور اہل مغازی نے لکھا ہے کہ ایک انصاری عورت مکہ میں ایک شخص کے پاس تھی، پھر وہ مسلمان ہو گئی اور اس نے مدینہ کی طرف ہجرت کی، اس کے بعد اس کا شوہر آیا وہ عدت میں تھی، تو اپنے پرانے نکاح ہی پر شوہر سے جا ملی۔ (الروضہ الندیہ)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1142) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/النکاح 42 (1142)، (تحفة الأشراف: 8672)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/207) (ضعیف) (سند میں حجاج بن ارطاة ضعیف اور مدلس راوی ہیں)
61: بَابُ : الْغَيْلِ
باب: مدت رضاعت میں بیوی سے جماع کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيَالِ فَإِذَا فَارِسُ وَالرُّومُ يُغِيلُونَ فَلَا يَقْتُلُونَ أَوْلَادَهُمْ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وَسُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: هُوَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ".
جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” میں نے ارادہ کیا کہ بچہ کو دودھ پلانے والی بیوی سے جماع کرنے کو منع کر دوں ، پھر میں نے دیکھا کہ فارس اور روم کے لوگ ایسا کر رہے ہیں ، اور ان کی اولاد نہیں مرتی “ اور جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے «عزل» کے متعلق پوچھا گیا تھا ، تو میں نے آپ کو فرماتے سنا : ” وہ تو «وأدخفی» ( خفیہ طور زندہ گاڑ دینا ) ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2011]
💡 وضاحت:
۱؎: زمانہ رضاعت میں بیوی سے جماع کرنے کا نام «غیل» ہے، عربوں کا عقیدہ تھا کہ یہ بچے کے لیے نقصان دہ ہے، اس سے اس کے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے، اور یہ نقص اس میں پوری زندگی رہتا ہے، جس کے نتیجہ میں بسا اوقات انسان گھوڑے سے نیچے گر پڑتا ہے، اور گھوڑے کی پیٹھ پر ثابت نہیں رہ پاتا، اس حدیث میں عربوں کے اسی عقیدے کا ابطال ہے۔ «عزل» یہ ہے مرد عورت سے جماع کرے اور جب انزال کے قریب پہنچے تو عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ سے باہر نکال کر انزال کرے۔ «وأدخفی» کا مطلب یہ ہے کہ یہ حقیقۃً تو قبر میں نہیں دفناتا لیکن اس کے مشابہ ہے کیونکہ اس میں بھی حمل کو روکنے اور ضائع کرنے کی کوشش ہوتی ہے، لیکن چونکہ یہ حقیقی زندہ بچے کو نہیں مارتا اس لیے یہ حقیقی طور پر زندہ گاڑنا نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح 24 (1442)، سنن ابی داود/الطب 16 (3882)، سنن الترمذی/الطب 27 (2076، 2077)، سنن النسائی/النکاح 54 (3328)، (تحفة الأشراف: 15786)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الرضاع 3 (16)، مسند احمد (/361، 434)، سنن الدارمی/النکاح 33 (2263) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حدثنا هشام بن عمار حدثنا يحيى بن حمزة عن عمرو بن مهاجر أنه سمع أباه المهاجر بن أبي مسلم يحدث عن أسماء بنت يزيد بن السكن وكانت مولاته أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا تقتلوا أولادكم سرا فوالذي نفسي بيده إن الغيل ليدرك الفارس على ظهر فرسه حتى يصرعه» .
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اپنی اولاد کو خفیہ طور پر قتل نہ کرو ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے «غیل» سوار کو گھوڑے کی پیٹھ پر سے گرا دیتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2012]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3881) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطب 16 (3881)، (تحفة الأشراف: 15777)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/453، 45، 458) (حسن) (المشکاة و تراجع الألبانی: رقم: 397 و صحیح ابن ماجہ: 1648)
62: بَابٌ في الْمَرْأَةِ تُؤْذِي زَوْجَهَا
باب: شوہر کو ستانے والی عورت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مَعَهَا صَبِيَّانِ لَهَا قَدْ حَمَلَتْ أَحَدَهُمَا وَهِيَ تَقُودُ الْآخَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ رَحِيمَاتٌ لَوْلَا مَا يَأْتِينَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ دَخَلَ مُصَلِّيَاتُهُنَّ الْجَنَّةَ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی ، اس کے ساتھ دو بچے تھے ، ایک کو وہ گود میں اٹھائے ہوئی تھی اور دوسرے کو کھینچ رہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بچوں کو اٹھانے والی ، انہیں جننے والی ، اور ان پر شفقت کرنے والی عورتیں اگر اپنے شوہروں کو تکلیف نہ دیتیں تو جو ان میں سے نماز کی پابند ہیں جنت میں جاتیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2013]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال سالم: ”ذكر لي عن أبي أمامة“ (مسند أحمد 252/5) ¤ فالسند ضعيف لجھالة الواسطة بينھما ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4865، ومصباح الزجاجة: 714)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/252، 257، 268) (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے کیونکہ سالم بن ابی جعد کا سماع أبی امامہ سے ثابت نہیں ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا، إِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ: مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لَا تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ، فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ أَوْشَكَ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو حورعین میں سے اس کی بیوی کہتی ہے : اللہ تجھے ہلاک کرے ، اسے تکلیف نہ دے ، وہ تیرے پاس چند روز کا مہمان ہے ، عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2014]
💡 وضاحت:
۱؎: سچ ہے دنیا کی قرابت اور رشتہ داری سب چند روزہ ہے، حقیقت میں ہماری بیوی وہی ہے جو اللہ تعالی نے جنت میں ہمارے لئے رکھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الرضاع 19 (1174)، (تحفة الأشراف: 11356)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/242) (صحیح)
63: بَابُ : لاَ يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلاَلَ
باب: حرام کام حلال کو حرام نہیں کرتا۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلَالَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حرام کام حلال کو حرام نہیں کرتا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2015]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الفروي: ضعيف يعتبر به (التحرير: 381) ضعفه الجمهور ¤ وباقي السند حسن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7736، ومصباح الزجاجة: 715) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ا لضعیفہ: 385 - 388)
← پچھلی کتاب #12 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #14 →