سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1953
Sunan Ibn Majah 1953
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ أَسْلَمَ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان میں سے چار کو رکھو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1953]
💡 وضاحت:
۱؎: اس باب کی دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے لیے چار سے زائد بیویاں ایک ہی وقت میں رکھنا حرام ہے، لیکن اس حکم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی مستثنیٰ ہے، آپ کے حرم میں بیک وقت نو بیویاں تھیں، یہ رعایت خاص آپ کے لیے تھی، اور اس میں بہت سی دینی اور سیاسی مصلحتیں کار فرما تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہیں، غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ ثقیف کے سرداروں میں سے تھے، فتح طائف کے بعد انھوں نے اسلام قبول کیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/النکاح 32 (1128)، (تحفة الأشراف: 6949)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 29 (76)، مسند احمد (2/13، 14، 44، 183) (صحیح)